عید گاہ کی طرف پیدل اور سوار ہو کر دونوں طرح جانا مشروع ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔

عید گاہ کی طرف پیدل اور سوار ہو کر دونوں طرح جانا مشروع ہے :۔

نماز عید کی ادائیگی کے لیے عید گاہ کی طرف پیدل اور سوار ہو کر روانہ ہونا جائز و مباح ہے، کیونکہ ان میں سے کسی ایک طریقہ کی تخصیص ثابت نہیں بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری، کتاب العیدین میں یہ باب (باب المشي والركوب إلى العيد) (نماز عید کے لیے عید گاہ کی طرف سوار ہونے اور پیدل چلنے کا بیان) باندھ کر دونوں صورتوں کی اباحت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ نیز عید گاہ کی طرف پیدل چلنے کے استحباب پر جتنی روایات دال ہیں، وہ نا قابل حجت ہیں جس کی توضیح آئندہ سطور میں پیش خدمت ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إن من السنة أن تخرج إلى العيد ماشيا
”بلاشبہ نماز عید کے لیے عید گاہ کی طرف پیدل جانا مسنون ہے۔“
ترمذی : 530 ، ابن ماجہ 1296 ، مصنف عبدالرزاق: 5667- سنن بیہقی: 281/3 – إسناده ضعيف جداً
اس حدیث کی سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس راوی ہیں اور عن سے روایت کرتے ہیں اور حارث بن عبد اللہ اعور کذاب راوی ہے۔
سعد قرظ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يخرج إلى العيد ماشيا و يرجع ماشيا
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف پیدل آتے اور (عید گاہ سے) پیدل ہی واپس لوٹتے تھے۔“
سنن ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الخروج إلی العید ماشیا : 1294
یہ حدیث مسلسل بالضعفاء ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج إلى العيد ماشيا ويرجع ما شيا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے تھے۔“
سنن ابن ماجہ کتاب إقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الخروج إلی العید ماشیا : 1295 – إسناده ضعيف جداً
عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عمر بن حفص العمری متروک راوی ہے۔
ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأتى العيد ماشيا
”بالتحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں پیدل آتے تھے۔“
سنن ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الخروج إلی العید ماشیا : 1297 – إسناده ضعيف
اس حدیث کی سند میں مندل بن علی اور محمد بن عبداللہ بن ابی رافع ضعیف راوی ہیں۔
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں :
سنة الفطر ثلاث : المشي إلى المصلى، والأكل قبل الخروج إلى المصلى، والاغتسال
عید الفطر کی تین سنتیں ہیں :
(1) عید گاہ کی طرف پیدل جانا۔
(2) عید گاہ کی طرف جانے سے قبل کھانا۔
(3) غسل کرنا۔
أحکام العیدین للفریابی، إسناده ضعیف
اس حدیث کے ضعیف ہونے کی دو علتیں ہیں۔
➊ امام زہری رحمہ اللہ مدلس راوی ہیں اور اس حدیث میں ان کی تدلیس ہے۔
➋ سعید بن مسیب رحمہ اللہ تابعی ہیں اور تابعی کا کسی فعل کو سنت قرار دینے سے روایت مرفوع ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا زہری رحمہ اللہ کی تدلیس اور مرفوع روایت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت بہر حال ضعیف ہے۔
امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يركب فى جنازة قط، ولا فى خروج أضحى، ولا فطر
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کبھی کسی جنازہ میں سوار ہوئے اور نہ عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سوار ہو کر عید گاہ کا رخ کیا۔“
أحکام العیدین للفریابی
(1) زہری رحمہ اللہ کی تدلیس ہے۔
(2) زہری رحمہ اللہ تبع تابعی ہیں اور تابعی اور صحابی کا واسطہ موجود نہیں ہے، لہذا یہ سند معضل ہونے کی وجہ سے مردود و نا قابل حجت ہے۔