عیدگاہ میں اسلحہ لے جانا نا پسندیدہ عمل ہے :۔
چونکہ عید اہل اسلام کا مذہبی تہوار ہے اور اس مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لیے لوگ جوش و خروش سے عید گاہ میں حاضر ہو کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ نیز لوگوں کی اتنی زیادہ بھیڑ میں اسلحہ بردار کی معمولی بے احتیاطی سے حاضرین کو نقصان پہنچ سکتا ہے، چنانچہ اس نقصان سے بچاؤ کی خاطر شریعت نے عید گاہ میں اسلحہ لے جانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ جس کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کتاب العیدین میں یہ باب (باب مايكره من حمل السلاح فى العيد والحرم) (عیدگاہ اور حرم میں اسلحہ اٹھانے کی کراہت کا بیان) باندھ کر عید گاہ میں اسلحہ لے جانے کی کراہت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كنت مع ابن عمر حين أصابه سنان الرمح فى أخمص قدمه. فلزقت قدمه بالركاب، فنزلت فنزعتها، وذلك بمني، فبلغ الحجاج فجعل يعوده فقال: لو نعلم من أصابك، فقال ابن عمر: أنت أصبتني، قال: وكيف؟ قال: حملت السلاح فى يوم لم يكن يحمل فيه، وأدخلت السلاح الحرم، ولم يكن السلاح يدخل الحرم
”میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب ان کے پاؤں کے تلوے میں انھیں نیزے کی انی لگی اور ان کا پاؤں رکاب میں چپک گیا، میں نے سواری سے نیچے اتر کر ان کا پاؤں رکاب سے کھینچا، یہ منٰی کا واقعہ ہے: پھر حجاج بن یوسف کو یہ اطلاع پہنچی تو وہ ان کی عیادت کرنے لگے اور کہا: اگر ہمیں علم ہو جائے کہ تمہیں کسی نے زخمی کیا ہے؟ (تو ہم اسے سخت سزا دیں)، (یہ سن کر) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو نے مجھے زخمی کیا ہے۔ حجاج نے کہا، وہ کیسے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو نے اس دن (عید کے روز) اسلحہ اٹھایا ہے جس دن اسلحہ اٹھایا نہیں جاتا تھا اور تو نے حرم میں اسلحہ داخل کیا حالانکہ حرم میں اسلحہ داخل نہیں کیا جاتا تھا۔“
صحيح بخاری کتاب العيدين، باب ما يكره من حمل السلاح في العيد و الحرم : 966 – بیہقی : 155/8
سعید بن عمرو رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
دخل الحجاج على ابن عمر وأنا عنده، فقال: كيف هو؟ فقال: صالح قال: من أصابك؟ قال: أصابني من أمر بحمل السلاح فى يوم لا يحل فيه حمله (يعني الحجاج)
”حجاج بن یوسف ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا حالانکہ میں بھی وہاں موجود تھا اور پوچھا کہ وہ کیسے ہیں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ٹھیک ہوں، اس (حجاج) نے سوال کیا کہ انھیں کس نے زخمی کیا ہے؟ اس پر انھوں نے کہا: مجھے اس شخص (یعنی حجاج) نے زخمی کیا ہے جس نے اس (عید کے) دن اسلحہ اٹھانے کا حکم دیا۔ جس دن اسلحہ اٹھانا حلال نہیں ہے۔“
بخاری کتاب العيدين، باب مايكره من حمل السلاح في العيد و الحرم : 967
فوائد :۔
”ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں : ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کلام اس بات کا مقتضی ہے کہ حل وحرم میں عید قربان کے دن اسلحہ اٹھانا ناجائز ہے اور اسی طرح حرم میں بھی اسلحہ اٹھانا درست نہیں۔“
فتح الباري لابن رجب: 45/7
ابن بطال رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول : (حملت السلاح فى يوم لم يكن يحمل فيه) دلیل ہے کہ عید گاہ میں اسلحہ اٹھانا عید کے شایان شان نہیں اور ایسی اجتماع گاہوں (عیدین کے اجتماع میں) اسلحہ لے جانا مکروہ ہے، جہاں اسلحے کی ضرورت نہ ہو۔ کیونکہ ایسے مواقع پر لوگوں کے ازدحام کی وجہ سے لوگوں کے زخمی اور ہلاک ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
شرح ابن بطال: 184/4
شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : حدیث کے یہ الفاظ (اس دن اسلحہ نہیں اٹھایا جاتا تھا) دلیل ہیں کہ عید کے دن (عیدگاہ میں) اسلحہ لے جانا مکروہ فعل ہے اور صحابی کا كان يفعل كذا (عہد رسالت میں ایسے کیا جاتا تھا) کہنا مرفوع حدیث کا حکم رکھتا ہے۔
نيل الأوطار : 302/3
کیا عید گاہ میں اسلحہ لے جانا حرام ہے :۔
عیدین میں عید گاہ کی طرف مسلح ہو کر نکلنا مکروہ فعل ہے اور کراہت کے باوجود عید گاہ میں کسی شرعی ضرورت کے تحت اسلحہ لے جانا جائز ہے۔ جواز کے دلائل درج ذیل ہیں :
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا خرج يوم العيد أمر بالحربة فتوضع بين يديه فيصلى إليها، والناس وراءه، وكان يفعل ذلك فى السفر
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن (نماز عید کے لیے) روانہ ہوتے (خادم کو) نیزہ (لے جانے) کا حکم دیتے ، پھر وہ نیزہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے نیز سفر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔“
صحيح بخاری، أبواب سترة المصلى، باب سترة الامام سترة من خلفه: 494 – صحيح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب سترۃ المصلی والندب إلی الصلاۃ إلی سترۃ : 501 – سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ باب ما یستر المصلی : 687
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يخرج بالعنزة معه يوم الفطر والأضحى ليركزها فيصلي إليها
”بالتحقیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن اپنے ساتھ نیزہ لے کر نکلتے تھے تاکہ اسے گاڑ کر اس کی طرف نماز پڑھیں۔“
مسند أحمد : 145/2 – مصنف عبد الرزاق : 2281 – إسناده صحیح
نیز آئندہ احادیث جو عید گاہ میں اسلحہ لے جانے کی ممانعت پر دال ہیں، وہ ضعیف و نا قابل احتجاج ہیں۔
ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ :
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يخرج بالسلاح يوم عيد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن مسلح ہو کر نکلنے سے منع فرمایا ہے۔“
مصنف عبد الرزاق: 5668 ـ إسناده ضعیف جداً
اس حدیث میں عبدالرزاق بن حمام رحمہ اللہ کی تدلیس ہے اور جویبر سخت ضعیف راوی ہے اور ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ غیر صحابی ہیں جس کی روایت صحابی کے عدم ذکر کی وجہ سے مرسل ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم نهى أن يلبس السلاح فى بلاد الإسلام فى العيدين إلا أن يكونوا بحضرة العدو
یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین میں اسلامی ممالک میں اسلحہ زیب تن کرنے سے منع کیا ہے۔ الا کہ وہ دشمن کے مقابل ہوں (تو عیدین میں مسلح ہونے کی رخصت ہے)۔
سنن ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی لبس السلاح فی یوم العید : 1314 – طبرانی اوسط : 7622- إسناده ضعیف جداً
اس حدیث کی سند میں نائل بن نجیح ضعیف، اسماعیل بن زیاد حنفی متروک اور ابن جریج کا عنعنہ ہے۔