مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عید کے لیے اذان یا اقامت کا کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

عید کے لیے اذان یا اقامت کا کیا حکم ہے؟

جواب:

عید کے لیے اذان یا اقامت کہنا ثابت نہیں۔
❀ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی مرتبہ عیدین ادا کیں، اس کے لیے نہ اذان کہی گئی اور نہ اقامت۔“
(صحيح مسلم: 887)
❀ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”عید کے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (نماز عید) میں شرکت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے بجائے نماز سے ابتدا کی، اس میں نہ کوئی اذان تھی اور نہ اقامت۔“
(صحيح مسلم: 885)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔