مضمون کے اہم نکات
عیدین کی تیاری میں قابل التفات امور:۔
نماز عیدین کی تیاری میں آئندہ امور کو ملحوظ رکھنا مستحب اور افضل ہے۔
غسل عیدین:۔
عید کے دن غسل کرنا مستحب عمل ہے، اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
زاذان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: چاہو تو روزانہ غسل کر لو۔ اس شخص نے عرض کیا: یہ مقصود نہیں بلکہ ضروری غسل کے بارے بتائیں ، اس پر انھوں نے کہا: جمعہ، عرفہ، عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن کا غسل ضروری ہے۔
سنن بیهقی: 278/3 – أرواء الغلیل: 1177/1 – إسناده حسن ، زاذان حسن درجے کا راوی ہے
فائدہ: ۔
علامہ الالبانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت عیدین کے غسل کے مستحب ہونے کی بہترین دلیل ہے۔
أرواء الغلیل: 176/1
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن ابن عمر كان يغتسل للعيدين
بلاشبہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی عیدین کا غسل کرتے تھے۔
مصنف ابن ابی شیبہ، إسناده صحيح
غسل جمعہ پر قیاس: ۔
چونکہ جمعہ اہل اسلام کا اجتماع اور عید ہے اور اس مناسبت کی وجہ سے غسل جمعہ واجب ہے۔ سو عیدین میں بھی یہ اسباب موجود ہیں۔ لہذا عیدین کے غسل کا التزام کرنا بھی بہتر ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل ، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك
”بلاشبہ اس دن (جمعہ) کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عید قرار دیا ہے چنانچہ جو شخص جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے اور اگر خوشبو دستیاب ہو تو اسے استعمال کرے نیز (جمعہ کے دن) مسواک کا التزام کرو۔“
سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الزينة يوم الجمعة: 1098 – مصنف ابن ابی شیبه 5016 – إسناده حسن، بیهقی: 243/3۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں زھری کے سماع کی تصریح موجود ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم، وسواك ويمس من الطيب ما قدر عليه
ہر بالغ شخص پر جمعہ کے دن غسل واجب، مسواک لازم ہے اور وہ بقدر استطاعت خوشبو استعمال کرے۔
صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب وجوب غسل الجمعة على كل بالغ من الرجال: 846 – صحيح ابن حبان: 1233 – صحيح ابن خزیمہ: 1743 – مسند أحمد: 69/3 – سنن نسائی: 384
فوائد: ۔
➊ جمعہ کے دن غسل کرنا واجب لیکن عیدین کا غسل کم از کم مستحب ضرور ہے۔
➋ جمعہ اور عیدین کی نماز کے لیے مسواک کرنا اور خوشبو استعمال کرنا مستحب عمل ہے۔
غسل عیدین کے متعلق مرفوع روایات ضعیف ہیں: ۔
➊ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل يوم الفطر و يوم الأضحى
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے۔“
سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الاغتسال في العيدين: 1315 – سنن بیهقی: 678/3 – إسناده ضعيف
اس حدیث کی سند میں جبارہ بن مفلس اور حجاج بن تمیم جزری ضعیف راوی ہیں۔
➋ فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل يوم الفطر، ويوم النحر ويوم عرفة، وكان الفاكه يأمر أهله بالغسل فى هذه الأيام
”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن، عید الاضحی کے دن اور عرفہ کے دن غسل کرتے تھے اور فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے اہل خانہ کو ان دنوں کے غسل کا حکم دیتے تھے۔“
سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الاغتسال في العيدين: 1316 – مسند أحمد: 78/4- موضوع
اس حدیث کی سند میں یوسف بن خالد سمتی کذاب اور وضاع ہے اور عبدالرحمن بن عقبہ بن فاکہ مجہول راوی ہے۔
➌ ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم إغتسل للعيدين
”بالتحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کا غسل کیا۔“
مسند بزار: 292/5 – البحر الزخار: 242/9، إسناده ضعيف
اس حدیث میں محمد بن عبید اللہ بن ابو رافع اور مندل بن علی ضعیف راوی ہیں۔
روز عید بہترین لباس زیب تن کرنا: ۔
عید کے دن عمدہ ترین لباس پہننا مستحب عمل ہے اس کے دلائل درج ذیل ہیں۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أخذ عمر جبة من إستبرق تباع فى السوق، فأخذها فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم – فقال: يا رسول الله ! إبتع هذه، تحمل بها للعيد والوفود، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما هذه لباس من لا خلاق له
”عمر رضی اللہ عنہ نے موٹے ریشم کا جبہ لیا جو بازار میں فروخت ہو رہا تھا وہ یہ کپڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ آپ اسے خرید لیجیے اور اس سے عید اور وفود کے لیے زینت کا سامان کیجیے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کہا: یہ تو ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“
صحيح بخاری: 948 – صحيح مسلم، کتاب اللباس والزینة، باب تحریم لبس الحریر: 2068 – سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب اللبس للجمعة: 1077 – سنن نسائی: 1561
فقہ الحدیث: ۔
جمعہ اور عید کے دن اور وفود سے ملاقات کے وقت نفیس ترین لباس پہننا مستحب فعل ہے۔
شرح النووی: 37/14
جو شخص عمدہ ترین لباس پہننے کے لیے استطاعت رکھتا ہے اس کے لیے عیدین میں بہترین لباس زیب تن کرنا مستحسن عمل ہے۔ اسی طرح اجتماعات میں شرکت اور وفود سے ملاقات کے وقت زینت و زیبائش کا سامان کرنا جائز ومندوب ہے۔
شرح ابن بطال: 166/4
یہ حدیث دلیل ہے کہ عیدین میں اور وفود سے ملاقات کے وقت خوبصورتی کا سامان کرنا معروف و مشہور تھا اور امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اہل علم سے سنا، وہ عیدین میں خوشبو اور زیب و زینت پسند کرتے تھے، نیز بالخصوص امام زینت اختیار کرنے کا زیادہ مستحق ہے، کیونکہ وہ تمام لوگوں کا منظور نظر ہوتا ہے۔
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الكبير: 228/2
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن ابن عمر كان يلبس فى العيدين أحسن ثيابه
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عیدین میں اپنا بہترین لباس زیب تن کرتے تھے۔
سنن بیهقی: 281/3 – إسناده صحيح
خوبصورت لباس پہننے کی تاکید کے متعلق ضعیف روایات: ۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كانت للنبي صلى الله عليه وسلم جبة، يلبسها فى العيدين ويوم الجمعة
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جبہ تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن زیب تن کرتے تھے۔“
صحيح ابن خزیمة: 766 – سنن بیهقی: 247/3 – طبقات ابن سعد: 451/1 – الضعيفة: 2455 ـ إسناده ضعيف
حجاج بن ارطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہے اور اس سند میں وہ عن سے روایت کر رہا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس يوم العيد بردة حمراء
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن سرخ چادر پہنتے تھے۔“
المعجم الأوسط للطبرانی: 7609 ، الصحيحة: 1279 – إسناده ضعيف اس حدیث کی سند میں سعد بن صلت مجہول راوی ہے۔
جعفر رحمہ اللہ اپنے والد، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يلبس برد حبرة فى كل عيد
”بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر عید میں دھاری دار یمنی چادر پہنتے تھے۔“
كتاب الام للشافعی: 152/1 – إسناده ضعيف جداً
اس حدیث کی سند میں ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ متروک ہے اور علی بن حسین رحمہ اللہ کا اپنے دادا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فى العيدين أن نلبس أجود ما نجد، وأن نتطيب بأجود مانجد، وان نضحي بأسمن مانحد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین میں جو میسر لباس ہو اس میں سے عمدہ ترین لباس پہنیں جو خوشبو دستیاب ہو اس میں سے بہترین خوشبو استعمال کریں اور حتی الوسع فربہ ترین جانور کی قربانی کریں۔“
مستدرک حاکم: 230/4 – 231 – طبرانی کبیر: 2756 ـ إسناده ضعيف، اسحاق بن بزرج ضعیف راوی ہے۔