عید اور جمعہ اکٹھے ہوں تو جمعہ میں رخصت صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

جمعہ المبارک کے دن عید ہو تو نماز جمعہ چھوڑنے کی رخصت ہے:

اگر عید جمعہ المبارک کے دن واقع ہو تو عید میں حاضر ہونے والے شخص کے لیے رخصت ہے کہ وہ نماز جمعہ میں شامل ہو یا نماز جمعہ ترک کر دے۔

دلائل:

❀ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے استفسار کیا:
أشهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عيدين اجتمعا فى يوم؟ قال: نعم، قال: فكيف صنع؟ قال: صلى العيد ثم رخص فى الجمعة فقال: من شاء أن يصلي فليصل
”کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایسی دو عیدوں (جمعہ اور عید) میں شریک ہوئے ہو جو ایک دن جمع ہوئی ہوں؟“ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ”ہاں!“ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟“ انہوں نے (زید) کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید ادا کی پھر جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا: جو شخص نماز جمعہ پڑھنا چاہے پڑھ لے۔“
[سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد: 1070 – سنن نسائی، کتاب صلاة العيدين باب الرخصة فى التخلف عن الجمعة لمن شهد العيد: 1592 – سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء فيما إذا اجتمع العيدان في يوم: 1310 – مسند أحمد: 371/4 – ابن خزيمة: 1464 – مستدرك حاكم: 288/1 – إسناد حسن۔ ایاس بن ابی رملہ شامی صدوق راوی ہے ابن حبان نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے اور حاکم نے اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے لہذا اس سے ان کی جہالت کا ازالہ ہو جاتا ہے]
❀ ابو عبید مولی ابن ازہر بیان کرتے ہیں:
ثم شهدت العيد مع عثمان بن عفان، وكان ذلك يوم الجمعة، فصلى قبل الخطبة، ثم خطب فقال: يا أيها الناس إن هذا يوم قد اجتمع لكم فيه عيدان، فمن أحب أن ينتظر الجمعة من أهل العوالي فلينتظر، ومن أحب أن يرجع فقد أذنت له
پھر میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عید میں حاضر ہوا اور وہ جمعہ کا دن تھا چنانچہ انہوں نے خطبہ سے قبل نماز پڑھی، پھر خطبہ ارشاد کیا اور فرمایا: ”لوگو! بلاشبہ اس دن تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں، سو جو شخص اہل العوالی میں سے جمعہ کا انتظار کرنا پسند کرے تو انتظار کرے اور جو واپس جانا چاہے تو میں نے اسے اجازت دے دی ہے۔“
[صحيح بخاري، كتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي ويتزود منه: 5572 – مسند أبو يعلى: 152 – صحيح ابن حبان: 3600]

بروز جمعہ عید ہونے کی صورت میں خطیب کے لیے جمعہ کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے:

اگر عید جمعہ المبارک کے دن واقع ہو تو امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ جمعہ کا انعقاد کرے تاکہ جو لوگ جمعہ میں شریک ہونا چاہیں شریک ہو جائیں، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا روز عید جمعہ کا اہتمام کرنا بھی اس کے استحباب کی دلیل ہے۔

دلائل:

1۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قد اجتمع فى يومكم هذا عيدان، فمن شاء أجزأه من الجمعة، وإنا مجمعون
”تحقیق تمہارے اس دن دو عیدیں (جمعہ اور عید) جمع ہو گئی ہیں سو جو شخص چاہے کہ اس کا عید میں شریک ہونا جمعہ سے کافی ہو تو یہ عمل (اسے جمعہ میں شریک نہ ہونے سے) کفایت کرے گا لیکن یقیناً ہم جمعہ منعقد کرنے والے ہیں۔“
[سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد: 1073 – سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات باب ما جاء فيما إذا اجتمع العيدان في يوم: 1311 – سنن بیهقی: 318/3 – إسناده صحیح]
2۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اجتمع عيدان فى يومكم هذا، فمن شاء أجزاه من الجمعة وإنا مجمعون إن شاء الله
”تمہارے اس دن دو عیدیں جمع ہو گئی ہیں سو جو شخص پسند کرے کہ اسے یہ عید میں شامل ہونا جمعہ سے کافی ہو گا (تو اسے جمعہ چھوڑنے کا اختیار ہے) لیکن بلاشبہ ہم ان شاء اللہ جمعہ پڑھانے والے ہیں۔“
[سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات باب ما جاء فيما إذا اجتمع العيدان في يوم: 1311 – إسناده حسن]
3۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ فى العيدين وفي الجمعة بسبح اسم ربك الأعلى وهل أتاك حديث الغاشية، قال: وإذا اجتمع العيد والجمعة فى يوم واحد يقرأ بهما أيضا فى الصلاتين
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدین اور نماز جمعہ میں سبح اسم ربك الأعلى اور هل أتاك حديث الغاشية کی تلاوت کرتے تھے، راوی بیان کرتے ہیں: اور جب عید اور جمعہ ایک دن جمع ہوتے تو دونوں نمازوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی دو سورتوں کی تلاوت کرتے تھے۔
[صحيح مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقرأ في صلاة الجمعة: 878 – أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب ما يقرأ في الجمعة: 1122 – ترمذی، كتاب الصلاة باب ما جاء في القراءة في العيدين: 533 – نسائی، كتاب صلاة العيدين، باب القراءة في العيدين "سبح اسم ربك الأعلى و هل أتاك حديث الغاشية”: 1569 – ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في القراءة في صلاة العيدين: 1281]

فوائد:

1۔ جب عید اور جمعہ ایک دن جمع ہوں تو عید میں حاضر ہونے والوں سے جمعہ ساقط ہو جاتا ہے۔
2۔ جمعہ المبارک کے دن عید ہونے کی صورت میں امام کے لیے جمعہ کا انعقاد کرنا مستحب فعل ہے۔

جمعہ المبارک کے دن عید ہو تو جمعہ کا اہتمام نہ کرنا بھی جائز ہے:

اگر جمعہ اور عید ایک دن جمع ہوں تو نماز جمعہ کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے لیکن اگر بالکل جمعہ ترک کر دیا جائے تو بھی جائز ہے، لیکن اس صورت میں نماز ظہر ادا کرنا لازم ہے چنانچہ وہب بن کیسان بیان کرتے ہیں:
اجتمع عيدان فى عهد ابن الزبير فأخر الخروج، ثم خرج فخطب، فأطال الخطبة، ثم صلى ولم يخرج إلى الجمعة، فعاب ذلك أناس عليه، فبلغ ذلك عند ابن عباس فقال: أصاب السنة، فبلغ ابن الزبير فقال: شهدت العيد مع عمر فصنع كما صنعت
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں دو عیدیں (ایک دن) جمع ہوئیں تو انہوں نے (عید گاہ پہنچنے میں) تاخیر کی، پھر (عید گاہ کی طرف) روانہ ہوئے، خطبہ دیا اور لمبا خطبہ ارشاد کیا، بعد ازاں نماز ادا کی اور جمعہ کے لیے نہ نکلے (نماز جمعہ کے لیے حاضر نہ ہونے پر) لوگوں نے انہیں معیوب ٹھہرایا، اور یہ بات ابن عباس رضی اللہ عنہما تک پہنچی تو انہوں نے کہا: ”اس نے سنت پر عمل کیا۔“ پھر ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا: ”میں عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ عید میں حاضر ہوا تو جیسے میں نے کیا انہوں نے بھی یہی کیا تھا۔“
[سنن نسائی، كتاب صلاة العيدين باب الرخصة في التخلف عن الجمعة لمن شهدها: 1593 – مصنف ابن أبي شيبة: 5835 – مستدرك حاكم: 435/1 – صحیح ابن خزيمة: 1465 – إسناده حسن]

فقه الحدیث:

جمعہ المبارک کے دن عید ہو تو امام کا جمعہ نہ پڑھانا بھی جائز ہے جیسا کہ ”أصاب السنة“ (انہوں نے سنت طریقہ اختیار کیا) کے الفاظ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا فعل اس کے جواز کی دلیل ہے۔

روز عید جمعہ نہ پڑھنے والے نماز ظہر ادا کریں گے:

اگر جمعہ المبارک اور عید ایک دن یکجا ہوں تو نماز جمعہ پڑھنے اور ترک کرنے کی رخصت ہے البتہ جمعہ ترک کرنے والے نماز ظہر کا اہتمام کریں گے، دلائل حسب ذیل ہیں۔
1۔ عورت، غلام، مسافر اور نابالغ بچے پر جمعہ واجب نہیں لیکن جمعہ ادا نہ کر سکنے کی صورت میں راجح قول کے مطابق نماز ظہر ادا کریں گے۔
سید سابق بیان کرتے ہیں: مذکورہ افراد پر جمعہ واجب نہیں بلکہ ان پر محض نماز ظہر واجب ہے اور ان میں سے جو شخص نماز جمعہ ادا کرے، اس کی نماز صحیح اور اس سے ظہر کی فرضیت ساقط ہو جاتی ہے۔ [فقه السنة: 287/1]
جب ان افراد پر جمعہ ساقط ہونے کی صورت میں نماز ظہر پڑھنا واجب ہے تو عید کے روز جمعہ کی فرضیت ساقط ہونے کی صورت میں بھی نماز ظہر پڑھنا واجب ہے کیونکہ جمعہ ظہر کا بدل ہے اور بدل ساقط ہونے کی صورت میں لامحالہ اصل فرض ظہر باقی رہتا ہے جسے ادا کرنا بہرحال ضروری ہے۔
2۔ امیر صنعانی کہتے ہیں: یہ قول کہ جمعہ المبارک کے دن نماز جمعہ اصل اور نماز ظہر جمعہ کا بدل ہے۔ مرجوح قول ہے بلکہ ظہر فرض اصلی ہے، جو معراج کی رات فرض ٹھہری تھی اور جمعہ کی فرضیت اس سے متأخر ہے پھر جب جمعہ فوت ہو جائے تو بالا جماع نماز ظہر
واجب ٹھہرتی ہے۔
[أسبل السلام 468/2]

الشیخ ابن باز کا فتویٰ:

فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جو شخص نماز عید میں شریک ہو اس کے لیے جمعہ ترک کرنا اور گھر پر یا ان ساتھیوں کے ساتھ باجماعت نماز ظہر ادا کرنا مباح ہے جو عید میں حاضر ہوئے ہوں، البتہ اس کے لیے لوگوں کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرنا افضل اور مکمل ہے۔ پھر اگر وہ عید میں حاضر ہونے اور نماز عید ادا کرنے کے سبب نماز جمعہ چھوڑ دے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، لیکن اس پر اکیلے یا باجماعت نماز ظہر پڑھنا لازم ہے۔
[مجموع فتاوی ابن باز: 283/12]

الشیخ ابن عثیمین کا فتویٰ:

فضیلۃ الشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ جو شخص نماز عید میں حاضر ہو اسے نماز جمعہ میں حاضر نہ ہونے کی رخصت ہے لیکن اس پر نماز ظہر پڑھنا لازم ہے کیونکہ نماز ظہر فرض وقتی ہے، جسے ترک کرنا ممکن نہیں۔
[مجموع فتاوى و رسائل ابن عثيمين: 109/16]
وہ روایات جن سے استدلال کیا جاتا ہے کہ جمعہ کے روز عید ہو تو نماز ظہر ترک کی جا سکتی ہے

دلیل 1:

❀ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
اجتمع يوم جمعة ويوم فطر على عهد ابن الزبير فقال: عيدان اجتمعا فى يوم واحد فجمعهما جميعا، فصلاهما ركعتين بكرة لم يزد عليهما حتى صلى العصر
”ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں جمعہ اور عید الفطر ایک دن جمع ہوئے تو انہوں نے کہا: ایک دن دو عیدیں اکٹھی ہوئی ہیں لہذا انہوں نے دونوں (نماز عید اور نماز جمعہ) نمازیں جمع کیں اور بوقت صبح یہ دو رکعت ادا کیں اور انہوں نے ان دو رکعت سے اضافی نماز نہ پڑھی حتیٰ کہ (اس کے بعد) نماز عصر (ہی) پڑھی۔“
[سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد: 1072 – إسناده حسن۔ یحییٰ بن خلف صدوق اور باقی راوی ثقہ ہیں]
اس سند میں ابن جریج کا عنعنہ ہے، ابن جریج مدلس راوی ہیں اور یہ مسلم اصول ہے کہ مدلس کا عنعنہ صحت حدیث کے لیے قادح ہے، لیکن اس حدیث میں ابن جریج کا عنعنہ قادح نہیں، کیونکہ ابن جریج کا عطاء بن ابی رباح سے عنعنہ سماع پر محمول ہے۔
[ ديكهيے: التاريخ الكبير لابن أبى خيثمة ص: 152، 157، بحواله الفتح المبين فى تحقيق طبقات المدلسين ص: 56]

شوکانی کا استدلال:

شوکانی کہتے ہیں: اس حدیث کے ظاہری معنی سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نماز ظہر ادا نہیں کی تھی نیز یہ حدیث دلیل ہے کہ جب کسی جائز رخصت کی وجہ سے کسی سے جمعہ ساقط ہو جائے تو اس پر نماز ظہر پڑھنا واجب نہیں اور عطاء کا بھی یہی مذہب ہے لیکن یہ استدلال کئی وجوہ سے باطل ہے۔
❀ امیر صنعانی لکھتے ہیں:
اس روایت میں کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نماز جمعہ کے لیے تشریف نہیں لائے تھے قطعی نص نہیں ہے کہ انہوں نے گھر پر نماز ظہر ادا نہیں کی تھی، لہذا بالجزم کہنا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا بھی یہی مذہب تھا کہ عید کے دن نماز عید ادا کرنے والے سے نماز ظہر ساقط ہو جاتی ہے درست نہیں کیونکہ یہ احتمال موجود ہے کہ انہوں نے نماز ظہر گھر پر ادا کی ہو۔
[عون المعبود: 269/3]
اور صاحب عون المعبود بیان کرتے ہیں شوکانی کا استدلال باطل ہے اور اس بارے امیر صنعانی کا قول راجح ہے۔
[عون المعبود: 270/3]
فجمعهما جميعا فصلاهما ركعتين
ان الفاظ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ذاتی اجتہاد کی وجہ سے نماز عید کو موخر اور نماز جمعہ کو مقدم کیا اور دونوں نمازوں میں کئی چیزیں (خطبہ اور نماز) قدر مشترک ہونے کی وجہ سے دونوں نمازوں کو ایک قرار دیا اور دو رکعت نماز ہی کو دونوں نمازوں کی ادائیگی کے لیے کافی سمجھا۔ اس اجتہاد کی وجہ سے نماز ظہر کا ترک کرنا ثابت نہیں ہوتا، بلکہ انہوں نے ذاتی رائے کی بدولت نماز جمعہ ادا کی تھی، لہذا اس کے بدل نماز ظہر ادا کرنے کی کیا ضرورت تھی، نماز ظہر تو وہ ادا کرے گا جو نماز جمعہ ترک کرے گا۔ الفاظ حدیث اس مفہوم کی تائید کرتے ہیں۔

دلیل 2:

❀ حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
اجتمع عيدان على عهد على فصلى أحدهما ولم يصل الآخر
علی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں دو عیدیں جمع ہوئیں تو انہوں نے ایک نماز (عید) پڑھی اور دوسری نماز (جمعہ) ادا نہ کی۔
[أحكام العيدين للفريابي: 9 – إسناده ضعیف]
اس حدیث میں قتادہ بن دعامہ السدوسي کا عنعنہ ہے اور قتادہ مدلس راوی ہیں۔

اگر ہلال عید کی اطلاع رمضان کو زوال کے بعد موصول ہو تو؟

اگر عید الفطر کے چاند کی اطلاع رمضان کو زوال آفتاب کے بعد موصول ہو تو اس دن کا روزہ ترک کر دیا جائے گا اور نماز عید اس سے اگلے دن ادا کی جائے گی کیونکہ نماز عید کا وقت طلوع آفتاب کے خوب روشن ہونے کے بعد سے لے کر زوال آفتاب تک ہے۔
شوکانی بیان کرتے ہیں کہ بحر میں ہے کہ نماز عید کا وقت طلوع آفتاب کے بعد سے لے کر زوال آفتاب تک ہے اور اس بارے علماء کا کوئی اختلاف نہیں۔
[نيل الأوطار: 310/3]
❀ ابن قدامہ حنبلی کہتے ہیں:
إذا لم يعلم بيوم العيد إلا بعد زوال الشمس خرج من الغد، وهو قول الأوزاعي، والثوري، وإسحاق وابن المنذر وصوبه الخطابي
جب امام کو روز عید کا علم رمضان کو زوال آفتاب کے بعد ہو تو وہ اگلے دن نماز عید کے لیے عید گاہ کا رخ کرے۔ اوزاعی، ثوری، اسحاق بن راہویہ اور ابن منذر کا یہی موقف ہے اور خطابی نے اسے راجح قرار دیا ہے۔
اس موقف کی دلیل آئندہ روایات ہیں۔
1۔ ربعی بن حراش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی نے بیان کیا:
اختلف الناس فى آخر يوم من رمضان، فقدم أعرابيان فشهدا عند النبى صلى الله عليه وسلم بالله لقد رأينا الهلال أمس عشية، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس أن يفطروا وأن يغدوا إلى صلاتهم
رمضان المبارک کے آخری روز لوگوں میں (رویت ہلال کے بارے) اختلاف پیدا ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو دیہاتیوں نے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ گزشتہ کل شام کے وقت انہوں نے واقعی چاند دیکھا ہے (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور (کل) صبح سویرے اپنی عید گاہ کی طرف چل دیں۔
[سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب شهادة الرجلين على رؤية هلال شوال: 3339 – بیهقی: 4/250 – إسناده صحیح]
2۔ ابو عمیر بن انس رضی اللہ عنہ اپنے چچاؤں سے بیان کرتے ہیں، جو اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے کہ:
أن ركبا جاءوا إلى النبى صلى الله عليه وسلم يشهدون أنهم رأوا الهلال بالأمس فأمرهم أن يفطروا وإذا أصبحوا بغدوا إلى مصلاهم
ایک قافلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہوں نے گواہی دی کہ بلاشبہ انہوں نے گزشتہ کل (عید کا) چاند دیکھا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ ترک کر دیں اور جب صبح ہو تو علی الصبح اپنی عید گاہ کا رخ کریں۔
[أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب إذا لم يخرج الإمام للعيد من يومه يخرج من الغد: 1157 – نسائی، كتاب صلاة العيدين باب الخروج إلى العيدين من الغد: 1558 – ابن ماجه كتاب الصيام، باب ما جاء في الشهادة على رؤية الهلال: 1653 – مسند أحمد: 58/5 – سنن بیهقی: 316/3 – إسناده صحیح]
ان روایات میں اگرچہ یہ وضاحت نہیں کہ ہلال عید دیکھنے والوں نے زوال آفتاب سے قبل گواہی دی تھی یا بعد میں، لیکن آئندہ روایت میں صراحت ہے کہ انہوں نے چاند دیکھنے کی اطلاع دن کے آخری حصے میں کی تھی۔
ابو عمیر بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے چچاؤں نے بیان کیا، جو اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے:
غم علينا هلال شوال فأصبحنا صياما، فجاء ركب من آخر النهار فشهدوا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم أنهم رأوا الهلال بالأمس، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يفطروا من يومهم، وأن يخرجوا لعيدهم من الغد
بادل یا کہر کی وجہ سے ہمیں انتیس رمضان کی رات ہلال عید دکھائی نہ دیا تو (اگلے دن) صبح ہم حالت روزہ سے تھے، پھر دن کے آخری حصہ میں مسافروں کی ایک جماعت آئی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گواہی دی کہ بالیقین انہوں نے گزشتہ کل ہلال عید دیکھا ہے (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس دن کا روزہ توڑ دیں اور آئندہ کل نماز عید کے لیے روانہ ہوں۔
[مسند أحمد: 58/5 – ابن ماجه، كتاب الصيام، باب ما جاء في الشهادة على رؤية الهلال: 1653 – بيهقي: 316/3 – إسناده صحیح]
اگر عید کے دن زوال آفتاب سے قبل ہلال عید کے طلوع ہونے کی مصدقہ اطلاع موصول ہو تو نماز عید کا اہتمام اسی دن کیا جائے گا، کیونکہ نماز عید کا وقت زوال آفتاب تک ہے، سو بلا عذر وقت سے نماز کی تاخیر درست نہیں۔
اگر رویت ہلال عید کی اطلاع عید کے روز زوال آفتاب کے بعد موصول ہو تو نماز عید اس سے اگلے روز ادا کی جائے گی۔
ہلال عید دیکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ رویت ہلال کی اطلاع حاکم وقت تک پہنچائیں۔