عید الفطر کی حقیقی خوشی: قبولیتِ رمضان، استقامت اور عید کے منکرات سے بچاؤ

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

عید الفطر خوشی، شکر اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر مسرت کے اظہار کا دن ہے، مگر یہ خوشی صرف ظاہری لباس و کھانے تک محدود نہیں بلکہ اصل خوشی اُس شخص کے لیے ہے جس کے رمضان کے روزے، قیام، تلاوت، دعا اور دیگر عبادات اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جائیں۔ اس مضمون میں عید الفطر کی حقیقی خوشی کی بنیاد، رمضان کے بعد عبادت پر استقامت کی ضرورت، اور ایامِ عید میں جائز تفریح کی حدود کے ساتھ ساتھ اُن منکرات سے بھی آگاہی دی جائے گی جو عید کی خوشیوں کو گناہوں میں بدل دیتے ہیں۔ نیز ہر قرآنی آیت اور حدیث کا ترجمہ اور حوالہ بھی مکمل طور پر ذکر کیا جائے گا۔

عید الفطر: حقیقی خوشی کس کے لیے؟

آج عید الفطر کا دن ہے، خوشی اور مسرت کا دن۔ لیکن حقیقی طور پر یہ دن سب سے زیادہ خوشی کا ہے:

◄ اس شخص کے لیے جس نے رمضان کے روزے پورے رکھے

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَاِحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) (متفق علیہ)

ترجمہ: “جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”

◄ اس شخص کے لیے جس نے رمضان میں قیام (تراویح) کا اہتمام کیا

(مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه) (صحیح البخاري:37،2008، صحیح مسلم:759)

ترجمہ: “جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”

◄ اس شخص کے لیے جس نے لیلۃ القدر کی تلاش میں عبادت کی

(مَنْ قَامَ لَیْلَةَ الْقَدْرِ إِیْمَانًا وَّاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِه) (صحیح البخاري:2014، صحیح مسلم:760)

ترجمہ: “جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے لیلۃ القدر کا قیام کیا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”

پس صیامِ رمضان اور قیامِ رمضان کا اہتمام کرنے والوں کے لیے آج واقعی خوشی اور شادمانی کا دن—اللہ تعالیٰ شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔

اصل عید: قبولیت اور مغفرت

رمضان میں توبہ کرنے، اللہ کو راضی کر لینے اور گناہوں کی معافی حاصل کرنے والا آج حقیقی معنوں میں عید مناتا ہے۔ اور وہ شخص بد نصیب اور محروم ہے جس نے رمضان جیسا عظیم مہینہ پایا مگر مغفرت حاصل نہ کر سکا۔

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا قول (عید کے دن) نقل کیا گیا:

(یَا هَذَا لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِیْدَ وَأَکَلَ الثَّرِیْدَ… وَکُلُّ یَوْمٍ لَا نَعْصِی اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ فِیْهِ فَهُوَ عِیْدٌ)

ترجمہ: “عید اس کی نہیں جس نے نیا لباس پہنا اور عمدہ کھانا کھایا، بلکہ عید اس کی ہے جس کے روزے قبول ہوئے، جس کا قیام قبول ہوا، جس کے گناہ معاف ہوئے اور جس کی کوشش کی قدر کی گئی۔ اور ہر وہ دن جس میں ہم اللہ کی نافرمانی نہ کریں وہ ہمارے لیے عید ہے۔”

اسی طرح عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کہتے تھے:

لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِیْدَ وَلٰکِنِ الْعِیْدُ لِمَنْ خَافَ یَوْمَ الْوَعِیْدَ

ترجمہ: “عید اس کی نہیں جس نے نیا لباس پہنا، بلکہ عید اس کی ہے جو یومِ وعید (قیامت) سے ڈرتا رہے۔”

رمضان کی عبادت: توفیق بھی اللہ کی، شکر بھی لازم

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿يُرِيدُ ٱللَّهُ بِكُمُ ٱلْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ ٱلْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا۟ ٱلْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا۟ ٱللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَىٰكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ (البقرۃ 2:185)

ترجمہ: “اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا، تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اس ہدایت پر اللہ کی بڑائی بیان کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو۔”

سلف صالحین رحمہم اللہ رمضان سے پہلے بھی دعا کرتے اور رمضان کے بعد بھی قبولیت کی دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ ہمارے روزے، قیام اور عبادات قبول فرما لے۔

عبادت کے بعد خوف: قبولیت کی علامت

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿إِنَّ ٱلَّذِينَ هُم مِّنْ خَشْيَةِ رَبِّهِم مُّشْفِقُونَ۝٥٧ وَٱلَّذِينَ هُم بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ۝٥٨ وَٱلَّذِينَ هُم بِرَبِّهِمْ لَا يُشْرِكُونَ۝٥٩ وَٱلَّذِينَ يُؤْتُونَ مَآ ءَاتَوا۟ وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ أَنَّهُمْ إِلَىٰ رَبِّهِمْ رَٰجِعُونَ۝٦٠ أُو۟لَٰٓئِكَ يُسَٰرِعُونَ فِى ٱلْخَيْرَٰتِ وَهُمْ لَهَا سَٰبِقُونَ۝٦١﴾ (المؤمنون 23:57-61)

ترجمہ: “بے شک جو لوگ اپنے رب کے خوف سے ڈرنے والے ہیں، اور جو اپنے رب کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، اور جو کچھ وہ دیتے ہیں دیتے ہوئے ان کے دل ڈرتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں—یہی لوگ بھلائیوں میں جلدی کرتے ہیں اور اسی میں سبقت لے جاتے ہیں۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت ﴿وَٱلَّذِينَ يُؤْتُونَ مَآ ءَاتَوا۟ وَّقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ﴾ کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لَا یَا بِنْتَ الصِّدِّیْقِ وَلٰکِنَّهُمُ الَّذِیْنَ یَصُوْمُوْنَ وَیُصَلُّوْنَ وَیَتَصَدَّقُوْنَ، وَهُمْ یَخَافُوْنَ أَن لَّا یُقْبَلَ مِنْهُمْ) (سنن الترمذي:3175، سنن ابن ماجہ:4198 وصححہ الألباني)

ترجمہ: “اے صدیق کی بیٹی! نہیں، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو روزہ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، صدقہ کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی عبادت قبول نہ ہو۔”

رمضان کے بعد عبادت ترک کرنا غلط ہے

بعض لوگ رمضان میں عبادت کرتے ہیں مگر رمضان کے بعد بہت کچھ چھوڑ دیتے ہیں، حتیٰ کہ فرض نمازوں میں بھی سستی کرتے ہیں۔ یہ غلط ہے، کیونکہ رمضان کا رب ہی شوال اور باقی مہینوں کا رب ہے۔

اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:

﴿فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ ٱلسَّٰجِدِينَ۝٩٨ وَٱعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ ٱلْيَقِينُ۝٩٩﴾ (الحجر 15:98-99)

ترجمہ: “پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کیجیے اور سجدہ کرنے والوں میں سے رہیے، اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیے یہاں تک کہ آپ کو یقین (یعنی موت) آجائے۔”

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ عمل سب سے محبوب تھا جس پر دوام ہو:

(کَانَ أَحَبَّ الدِّیْنِ إِلَیْهِ مَا دَاوَمَ عَلَیهِ صَاحِبُهُ) (صحیح البخاري:43، صحیح مسلم:785)

ترجمہ: “آپ کو وہ عمل زیادہ محبوب تھا جس پر کرنے والا ہمیشہ قائم رہے۔”

استقامت کی وصیت اور نماز کی مرکزی حیثیت

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

(اِسْتَقِیْمُوْا وَلَنْ تُحْصُوْا، وَاعْلَمُوْا أَنَّ خَیْرَ أَعْمَالِکُمُ الصَّلَاۃُ، وَلَا یُحَافِظُ عَلَی الْوُضُوْئِ إِلَّا مُؤْمِنٌ) (سنن ابن ماجہ:277وصححہ الألباني)

ترجمہ: “تم استقامت اختیار کرو (دین پر ثابت قدم رہو)، تم پورا حق ادا نہ کر سکو گے، اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر عمل نماز ہے۔ اور وضو کی پابندی صرف مومن ہی کرتا ہے۔”

اللہ تعالیٰ عقیدۂ توحید اور عمل صالح پر استقامت اختیار کرنے والوں کو یوں خوشخبری دیتا ہے:

(إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْهِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلاَّ تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِیْ کُنتُمْ تُوعَدُونَ. نَحْنُ أَوْلِیَاؤُکُمْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْآخِرَۃِ وَلَکُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْ أَنفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُونَ. نُزُلاً مِّنْ غَفُورٍ رَّحِیْمٍ)

(سنن ابن ماجہ:277وصححہ الألباني)

ترجمہ: “بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے، پھر اس پر جم گئے، ان پر فرشتے اترتے ہیں اور کہتے ہیں: نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور اس جنت کی خوشخبری سن لو جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ ہم دنیا کی زندگی میں تمہارے دوست اور مددگار رہے اور آخرت میں بھی رہیں گے۔ اور وہاں تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جو تمہارے دل چاہیں گے اور جس کی تم تمنا کرو گے۔ یہ اس ذات کی طرف سے مہمانی ہے جو بہت بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔”

اسی استقامت کے لیے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے رہنا چاہیے:

﴿رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ ٱلْوَهَّابُ﴾ (آل عمران3:8)

ترجمہ: “اے ہمارے رب! ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرنا، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے۔”

اور یہ دعا بھی بکثرت کرنی چاہیے:

(یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِكَ)

ترجمہ: “اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔”

یہ دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی کثرت سے پڑھتے تھے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ہوتے تو یہ دعا بہت پڑھتے۔ میں نے وجہ پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(یَا أُمَّ سَلمَة، إِنَّهُ لَیْسَ آدَمِیٌّ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَیْنَ أُصْبُعَیْهِ مِنْ أَصَابِعِ اللّٰہِ، فَمَنْ شَائَ أَقَامَ وَمَنْ شَائَ أَزَاغَ) (سنن الترمذي:3522 وصححہ الألباني)

ترجمہ: “اے ام سلمہ! کوئی آدمی ایسا نہیں مگر اس کا دل اللہ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جسے چاہے سیدھا رکھ دے اور جسے چاہے ٹیڑھا کر دے۔”

عمل صالح پر ثبات: نماز سے آغاز

عمل صالح پر ثابت قدمی کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح رمضان میں فرائض کی پابندی اور نوافل میں سبقت تھی، وہی طریقہ رمضان کے بعد بھی جاری رہے۔

سب سے پہلے فرائض میں پانچ وقت کی نماز ہے۔ ان میں سستی اور غفلت نہ ہو، اور حتی الامکان مسجد میں باجماعت اہتمام رہے، کیونکہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(أَوَّلُ مَا یُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ: الصَّلَاۃُ، فَإِنْ صَلُحَتْ صَلُحَ سَائِرُ عَمَلِه، وَإِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرُ عَمَلِه)

ترجمہ: “قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا، اگر نماز درست ہوئی تو باقی اعمال بھی درست ہوں گے اور اگر نماز خراب ہوئی تو باقی اعمال بھی خراب ہوں گے۔”

اور دوسری روایت میں ہے:

(یُنْظَرُ فِیْ صَلَاتِه، فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ) (رواہ الطبراني فی الأوسط ۔ السلسلة الصحیحة :1358)

ترجمہ: “اس کی نماز کو دیکھا جائے گا، اگر وہ درست ہوئی تو وہ کامیاب ہوگیا، اور اگر درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ اٹھانے والا ہوگیا۔”

فرض نمازوں کے ساتھ نفل نمازوں کا اہتمام بھی جاری رکھیں، خاص طور پر:

❀ فرضوں سے پہلے اور بعد کی سنتیں
❀ چاشت کی نماز
❀ رات کی نفل نماز (جو رمضان میں تراویح کی شکل میں تھی)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام اللیل کے فوائد بیان کرتے ہوئے فرمایا:

(عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ، فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِیْنَ قَبْلَکُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلٰی رَبِّکُمْ، وَمُکَفِّرٌ لِلسَّیِّئَاتِ، وَمَنْهَاۃٌ لِلْآثَامِ، وَمَطْرَدَۃٌ لِلدَّائِ عَنِ الْجَسَدِ) (أحمد والترمذي،صحیح الجامع للألباني:4079)

ترجمہ: “تم رات کا قیام لازم پکڑ لو، کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا طریقہ تھا، اور یہ تمہیں تمہارے رب کے قریب کرتا ہے، گناہوں کو مٹا دیتا ہے، برائیوں سے روکتا ہے اور جسم سے بیماری کو دور کرتا ہے۔”

نفلی روزوں کا اہتمام اور شوال کے چھ روزے

جس طرح آپ رمضان المبارک میں فرض روزے رکھتے رہے، اسی طرح رمضان کے بعد بھی نفلی روزوں کا اہتمام جاری رکھنا چاہیے، کیونکہ قیامت کے دن فرض عبادات میں جو کمی رہ جائے گی، اسے نفلی عبادات سے پورا کیا جائے گا۔

خصوصاً شوال کے چھ روزوں کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ کَانَ کَصِیَامِ الدَّهْرِ) (صحیح مسلم:1164)

ترجمہ: “جس نے رمضان کے روزے رکھے، پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے بھی رکھے، تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے پورے سال کے روزے رکھے ہوں۔”

اس کی حکمت یہ ہے کہ ایک نیکی اللہ تعالیٰ کے ہاں دس گنا اجر رکھتی ہے۔ اس طرح رمضان کے تیس روزے دس مہینوں کے برابر اور شوال کے چھ روزے ساٹھ دن یعنی دو مہینوں کے برابر ہو جاتے ہیں، اور یوں پورا سال مکمل ہو جاتا ہے۔

اسی طرح:

❀ ہر ہفتے سوموار اور جمعرات کے روزے رکھنا سنت ہے۔
❀ ہر مہینے ایامِ بیض (13، 14، 15) کے روزے رکھنا مستحب ہے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ان دنوں کے روزوں کی خاص وصیت کی گئی تھی۔

تلاوتِ قرآن کی پابندی

جس طرح رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کا خاص اہتمام تھا، اسی طرح رمضان کے بعد بھی تلاوت، تدبر اور عمل کو جاری رکھنا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ مَهْجُورًا﴾ (الفرقان25:30)

ترجمہ: “اور رسول (قیامت کے دن) کہیں گے: اے میرے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔”

لہٰذا اس دن کی ندامت سے بچنے کے لیے قرآن کو اپنی زندگی کا دستور بنائیں، اس کی تلاوت کریں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔

گناہوں کی طرف واپسی سے اجتناب

بعض لوگ رمضان کے بعد نہ صرف عبادات چھوڑ دیتے ہیں بلکہ دوبارہ ان برائیوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں جن سے رمضان میں توبہ کی تھی۔ یہ رویہ نہایت خطرناک ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿فَٱسْتَقِمْ كَمَآ أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا۟ ۚ إِنَّهُۥ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ﴾ (ہود11:112)

ترجمہ: “پس آپ اسی طرح ثابت قدم رہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے، اور وہ بھی جو آپ کے ساتھ توبہ کر چکے ہیں، اور سرکشی نہ کرو، بے شک وہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔”

اور فرمایا:

﴿وَأَوْفُوا۟ بِعَهْدِ ٱللَّهِ إِذَا عَٰهَدتُّمْ وَلَا تَنقُضُوا۟ ٱلْأَيْمَٰنَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا﴾ (النحل16:91)

ترجمہ: “جب اللہ سے عہد کرو تو اسے پورا کرو، اور قسموں کو پختہ کرنے کے بعد نہ توڑو۔”

اسی طرح فرمایا:

﴿وَلَا تَكُونُوا۟ كَٱلَّتِى نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنۢ بَعْدِ قُوَّةٍ أَنكَٰثًا﴾ (النحل16:92)

ترجمہ: “اور اس عورت کی طرح نہ ہو جاؤ جس نے اپنا مضبوط کاتا ہوا دھاگہ ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔”

یعنی نیکیوں کے بعد برائیوں میں مبتلا ہو جانا اپنی محنت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔

ایامِ عید میں جائز تفریح

عید کے دن خوشی کا اظہار جائز ہے بشرطیکہ اس میں کوئی خلافِ شرع کام نہ ہو۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عید کے دن دو لڑکیاں اشعار پڑھ رہی تھیں تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

(أَمَزَامِیْرُ الشَّیْطَانِ فِی بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ؟)

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(یَا أَبَابَکْر، إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا وَهَذَا عِیْدُنَا) (صحیح البخاري:454،صحیح مسلم:892)

ترجمہ: “اے ابو بکر! ہر قوم کا ایک تہوار ہوتا ہے اور یہ ہمارا تہوار ہے۔”

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشیوں کے کھیل کو بھی دیکھا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی دیکھنے دیا (صحیح البخاري:454، صحیح مسلم:892)۔

اس سے معلوم ہوا کہ حدودِ شرع کے اندر رہتے ہوئے خوشی منانا جائز ہے۔

گانا اور موسیقی کی حرمت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ ٱلْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ﴾ (لقمان31:6)

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر فرمایا کہ “لهو الحدیث” سے مراد گانا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِی أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ، وَالْحَرِیْرَ، وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ) (صحیح البخاري:5590)

ترجمہ: “میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھیں گے۔”

اور فرمایا:

(صَوْتَانِ مَلْعُونَانِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ: مِزْمَارٌ عِنْدَ نِعْمَةٍ وَرَنَّةٌ عِنْدَ مُصِیْبَةٍ) (صحیح الجامع للألباني:3695)

ترجمہ: “دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں: خوشی کے وقت گانے بجانے کی آواز اور مصیبت کے وقت نوحہ کی آواز۔”

ایامِ عید میں پائے جانے والے چند اہم منکرات

عید کی خوشی اپنی جگہ، لیکن اس خوشی کے موقع پر بعض ایسے گناہ عام ہو جاتے ہیں جن سے بچنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ ذیل میں چند اہم امور کی نشاندہی کی جا رہی ہے:

① کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا (اسبال) اور تکبر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(ثَلَاثَةٌ لَا یُکَلِّمُهُمُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَلَا یَنْظُرُ إِلَیْهِمْ، وَلَا یُزَکِّیْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ… اَلْمُسْبِلُ إِزَارَہُ…) (صحیح مسلم:106)

ترجمہ: “تین آدمیوں سے اللہ قیامت کے دن نہ کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا… ان میں ایک وہ ہے جو اپنا کپڑا نیچے لٹکاتا ہے۔”

اور فرمایا:

(مَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِی النَّارِ) (صحیح البخاري:5787)

ترجمہ: “جو کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہو وہ آگ میں ہے۔”

لہٰذا شلوار، پاجامہ، پینٹ یا چادر—ہر لباس ٹخنوں سے اوپر ہونا چاہیے۔ اگر اس کے ساتھ تکبر بھی ہو تو گناہ اور زیادہ سنگین ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَلَا تَمْشِ فِى ٱلْأَرْضِ مَرَحًا ۖ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ (لقمان31:18)

ترجمہ: “زمین پر اکڑ کر مت چلو، بے شک اللہ تکبر اور فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لَا یَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِه مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ) (صحیح مسلم:91)

ترجمہ: “وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا۔”

② داڑھی منڈوانا یا کٹوانا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(خَالِفُوا الْمُشْرِکِیْنَ، وَفِّرُوا اللِّحٰی، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ) (صحیح البخاري:5892، صحیح مسلم:259)

ترجمہ: “مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو چھوٹا کرو۔”

دوسری روایت میں:

(جُزُّوا الشَّوَارِبَ، وَأَرْخُوا اللِّحٰی، خَالِفُوا الْمَجُوْسَ) (صحیح مسلم:260)

لہٰذا داڑھی منڈوانا یا اسے غیر شرعی حد تک چھوٹا کرنا سنتِ نبوی کے خلاف ہے۔

③ غیر محرم عورتوں سے مصافحہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لَأَنْ یُّطْعَنَ فِی رَأْسِ أَحَدِکُمْ بِمِخْیَطٍ مِنْ حَدِیْدٍ خَیْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ یَّمَسَّ امْرَأَۃً لَا تَحِلُّ لَهُ) (السلسلة الصحیحة:226)

ترجمہ: “تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چبھونا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو ہاتھ لگائے جو اس کے لیے حلال نہیں۔”

اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بیعت زبانی لی، مصافحہ نہیں کیا (صحیح مسلم:1866)۔

④ غیر محرم سے خلوت

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُوْ مَحْرَمٍ) (صحیح البخاري:5232، صحیح مسلم:1341)

ترجمہ: “کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ ہو، مگر اس کے ساتھ محرم ہو۔”

اور فرمایا:

(اَلْحَمْوُ الْمَوْتُ) (صحیح البخاري:5232، صحیح مسلم:2083)

ترجمہ: “دیور (شوہر کا بھائی) موت ہے۔”

⑤ عورتوں کا بے پردہ نکلنا

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿وَقَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ﴾ (الأحزاب33:33)

ترجمہ: “اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح بناؤ سنگھار ظاہر نہ کرو۔”

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(اَلْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ، فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّیْطَانُ…)

عورت سراپا پردہ ہے، پس جب وہ (گھر سے) نکلتی ہے تو شیطان اسے (لوگوں کی نظروں میں) نمایاں کر دیتا ہے۔

(ابن حبان:5599، الترمذي:1773)

اور فرمایا:

(نِسَاءٌ کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ… لَا یَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ)

“کچھ عورتیں ایسی ہوں گی جو بظاہر کپڑے پہنے ہوں گی مگر درحقیقت ننگی ہوں گی … وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی۔”

(صحیح مسلم:2128)

لہٰذا عید کی خوشی میں پردہ اور حیا کو ترک کرنا جائز نہیں۔

⑥ صلہ رحمی اور فقراء کا خیال

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْهِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِهِ)

“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔”

(صحیح البخاري:13، صحیح مسلم:45)

اور فرمایا:

(مَنْ أَحَبَّ أَن یُّبْسَطَ لَهُ فِیْ رِزْقِهِ… فَلْیَصِلْ رَحِمَهُ)

“جو شخص یہ پسند کرے کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر میں برکت دی جائے، تو اسے چاہیے کہ وہ صلۂ رحمی کرے۔”

(صحیح البخاري:5986، صحیح مسلم:2557)

لہٰذا عید کی خوشیوں میں اقرباء اور فقراء ومساکین کو بھی شامل کرنا چاہیے۔

عید کی سنتیں

❀ نمازِ عید کے بعد راستہ بدل کر واپس آنا:

(کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا خَرَجَ یَوْمَ الْعِیْدِ فِی طَرِیْقٍ رَجَعَ فِی طَرِیْقٍ آخَرَ)

“نبی کریم ﷺ جب عید کے دن (نماز کے لیے) ایک راستے سے تشریف لے جاتے تو واپسی دوسرے راستے سے فرماتے تھے۔”

(سنن الترمذي:541 وصححہ الألباني)

❀ ایک دوسرے کو مبارکباد دینا:

(کَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰہِ… یَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: تَقَبَّلَ اللّٰہُ مِنَّا وَمِنْكَ)

“رسول اللہ ﷺ کے صحابہ (رضی اللہ عنہم) جب عید کے دن آپس میں ملتے تو ایک دوسرے سے کہتے تھے: اللہ ہم سے اور تم سے (اعمال) قبول فرمائے۔”

(فتح الباري:446/2)

نتیجہ

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی عبادات کو قبولیت سے نوازے، ہمیں دین پر ثابت قدم رکھے اور عید کی خوشیوں کو شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے منانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔