مضمون کے اہم نکات
عید الفطر :۔
عید کا لفظ عود سے مشتق ہے جس کا معنی لوٹنا اور پھرنا ہے۔ عید کو یا تو عید اس لیے کہتے ہیں کہ یہ ہر سال لوٹ کر آتی ہے یا اس لیے کہ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت و بخشش اور فضل و مغفرت لوٹاتا ہے۔ عربوں کی اصطلاح میں ہر وہ اجتماع جو خوشی اور مسرت کا اجتماع ہو عید کہلاتا ہے۔ مدینہ میں لوگ جاہلیت کے دستور کے مطابق دو عیدیں مناتے تھے۔
ملاحظہ ہو مرعاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح 21/5
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قدم رسول الله المدينة ولهم يومان يلعبون فيهما فقال ما هذان اليومان؟ قالوا كنا نلعب فيهما فى الجاهلية فقال رسول الله إن الله قد أبدلكم بهما خيرا منهما يوم الأضحى ويوم الفطر
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو یہاں ان کے لیے کھیل کود کے دو دن تھے جن میں وہ کھیلتے کودتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ دو دن کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: ہم جاہلیت میں ان دونوں میں کھیلا کرتے تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ وحدہ لاشریک نے تمہارے لیے ان دونوں کا بہتر بدل عطا فرمایا ہے اور وہ یوم الاضحیٰ اور یوم الفطر ہیں۔“
(ابوداود : 1134 ، مستدرک حاکم : 1/294)
کفار و مشرکین مکہ زمانہ جاہلیت میں یوم نیروز اور یوم مہر جان بطور عید مناتے تھے۔
نیروز فارسی کے لفظ نوروز سے معرب ہے یعنی نیا دن۔ یہ شمسی سال کا پہلا دن ہے جس میں سورج برج حمل کی طرف پھرتا ہے اور مہر جان یوم المیزان کا پہلا دن ہے۔ یہ دونوں گرمی اور سردی کے لحاظ سے معتدل ہوتے ہیں اور اس میں دن رات برابر ہوتے ہیں۔ قدیم حکماء نے ان دو دنوں کو سیر و تفریح کے لیے منتخب کیا تھا اور ان کے زمانے کے لوگوں نے اپنے حکماء کی عقلوں کے کمال کا عقیدہ رکھتے ہوئے ان کی اس مسئلہ میں تقلید کی اور ان دنوں کو عید کے طور پر منانا شروع کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آکر اسے باطل قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ان دنوں کا بہتر بدل امت مسلمہ کو دے دیا گیا۔ عید الفطر سن دو ہجری میں شروع کی گئی۔
علامہ عبید اللہ رحمانی مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
واتفقوا على أن أول عيد صلاة النبى عيد الفطر فى السنة الثانية من الهجرة
اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی نماز عید، عید الفطر ہے جو 2 ہجری میں مشروع ہوئی۔ کیونکہ رمضان المبارک کے روزے 2ھ میں فرض ہوئے تو اس حساب سے عید الفطر 2ھ کو مقرر ہوئی اور عید الاضحی کا مہینہ شوال کے بعد ہے۔ پس پہلی عید عید الفطر ہے۔
(مرعاة المفاتیح : 5/21)
یہی بات تقریبا علامہ محمد بن اسماعیل یمانی رحمہ اللہ نے سبل السلام : 2/83 اور علامہ ابن اثیر جزری رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ الکامل : 2/43 میں درج کی ہے۔
لہذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ عید کے دن کو سنت نبوی کے مطابق گزاریں۔ عید کے دن کھیل کود، تماشہ، فلم بینی، لہو ولعب، کوتاہی و غفلت، عیش و عشرت، جنسی مذاق، ٹھٹھا و مسخرہ پن، فسق و فجور اور رنگ رلیاں منانے میں نہ گزاریں بلکہ اللہ غفور و رحیم کے آگے اپنے گناہوں کے جبل عظیم کو رکھ کر سجدہ ریزی کرتے ہوئے معافیاں مانگیں، جہاد کی تربیت و ٹریننگ کی خاطر کمر بستہ ہو جائیں کیونکہ عید کے دن لشکر روانہ کرنا بھی سنت نبوی میں داخل ہے خصوصاً نوجوان طبقہ اپنی جوانی کو کام میں لاتے ہوئے جہاد کی تربیت لے کر رزم گاہوں اور میدان کارزار میں شریک ہو تاکہ کفر کے ظلم و ستم، جبر و استبداد اور بربریت و تسلط سے مسلمانوں کو آزاد کرایا جائے اور علم اسلام کو دنیا کے ہر گوشے میں بلند کیا جائے۔ اصل عید مجاہد کی ہی ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لیے وادی کفر میں اتر کر کفر کی سطوت و حشمت کا خاتمہ کرتا ہے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے :
ليس العيد لمن لبس الجديد
إنما العيد لمن خاف الوعيد
عید اس شخص کی نہیں جس نے نیا لباس زیب تن کیا بلکہ عید صرف اس کی ہے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر گیا۔
مسلمانوں کو عید المبارک کی خوشیاں و مسرتیں مناتے ہوئے صدیاں بیت گئیں لیکن غلامانہ زندگی آج تک موجود ہے۔ مسلمان یہود و ہنود کے سامنے جھکے ہوئے ہیں۔ پچاس سے زائد اسلامی ممالک کے سربراہان یہود و نصاری کے ذہنی طور پر غلام ہیں۔ مسلمانوں کے ممالک میں کفریہ قوانین و دساتیر رائج ہیں۔ قبلہ اول یہود کے پنجہ استبداد کا مشق ستم بنا ہوا ہے۔ بابری مسجد کے خون کے چھینٹے مسلمانان عالم کو شب و روز دعوت جہاد دے رہے ہیں۔ چیچنیا، کوسوو، فلپائن، کشمیر، فلسطین، افغانستان و عراق وغیرہ جیسے ممالک مسلمانوں کی غیرت ایمانی کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ہزاروں مائیں، بہنیں، بیٹیاں اپنی عفت و عصمت کی چادریں تار تار کروا بیٹھی ہیں لیکن اسلامیان عالم خواب غفلت کی لمبی چادر تان کر سوئے ہوئے ہیں۔ عید کی خوشیاں اپنے حقیقی جوبن کے ساتھ اس دن منانے کا مزہ آئے گا جب ہر سو چہار دانگ عالم میں پرچم اسلام لہرائے گا۔ کفر کا تسلط، غرور، نخوت، تکبر، رعونت، آن بان شان اور تعلی و شیخی خاک میں مل جائیں گی اور یہ مسلمانوں کے غلام و نوکر ہوں گے۔ جزیئے کی تحصیلی بیت المال میں جمع ہوگی اور حدود اسلام کا نفاذ ہوگا۔ ان شاء الله
احکام عید :۔
جوں ہی ماہ رمضان اختتام پذیر ہوگا تو عید کا چاند مسلمانوں کے لیے فرحت و سرور، بخشش و مغفرت اور رضوان و رحمت کا پیغام لیے طلوع ہوگا تو اس کو دیکھ کر وہی دعا پڑھیں جو رمضان المبارک کا چاند دیکھ کر پڑھی ہوگی۔
➊ غسل کرنا : ایک آدمی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : اگر تم چاہو تو روزانہ غسل کرو۔ اس نے کہا : جس غسل کو غسل کہا جاتا ہے میں اس کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ غسل جمعہ، عرفہ، قربانی اور عید الفطر کے دن ہے۔ (بیہقی : 3/278 ، مسند شافعی : 385)
اسی طرح عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے موطا امام مالک 1/177 اور سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے احکام العیدین للفریابی (80) میں عید کے دن غسل کرنا بسند صحیح ثابت ہے۔
➋ اگر عید کے روز ہی جمعہ ہو تو عید کی نماز پڑھ لیں پھر جمعہ کی رخصت ہے۔ (ابوداؤد : 1070 ، نسائی : 1590)
➌ عید کے لیے نہ اذان ہے اور نہ ہی تکبیر۔ (مسلم : 885)
➍ عید کے روز عید گاہ میں عید کی نماز کے علاوہ کوئی نفلی نماز نہیں ہے۔ (بخاری : 964)
➎ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کی نماز سے پہلے کچھ کھا کر نکلتے اور عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد کھاتے تھے۔ (ابن خزیمہ : 1426 ، ابن حبان : 593)
➏ راستہ بدل کر آنا جانا مسنون ہے۔ (بخاری : 986)
➐ عید الفطر کے روز طاق کھجوریں کھانا مسنون ہے۔ (بخاری : 953)
➑ عید کی نماز کا وقت وہی ہے جو اشراق کی نماز کا ہے۔ (ابوداؤد : 1135)
➒ گھر سے لے کر عید گاہ تک تکبیرات کہنا۔ (بیہقی : 3/279)
➓ عید کی نماز بستی سے باہر نکل کر ادا کرنا۔ (بخاری : 956)
⓫ عید کے دن بچیوں کا اچھے اشعار کہنا بھی جائز ہے۔ (بخاری : 952)
⓬ عید گاہ میں منبر کا نہ ہونا۔ (بخاری : 189)
عید گاہ میں عورتوں کا جانا :۔
عیدین کی نماز میں عورتوں کو بھی لازمی شرکت کرنی چاہیے۔ جو عورتیں ایام ماہواری میں ہوں وہ بھی عید گاہ کی طرف جائیں تاکہ وہ مسلمانوں کی دعاؤں میں شریک ہو جائیں۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں :
أمرنا أن نخرج الحيض يوم العيدين وذوات الخدور فيشهدن جماعة المسلمين ودعوتهم وتعتزل الحيض عن مصلاهن قالت امرأة يا رسول الله إحدانا ليس لها جلباب؟ قال لتلبسها صاحبتها من جلبابها
ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم عیدین کے دن حیض والی اور پردہ دار دوشیزاؤں کو نکالیں تاکہ وہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعا میں شریک ہو جائیں اور حائضہ عورتیں نماز والی جگہ سے علیحدہ رہیں۔ ایک عورت نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کسی کے پاس بڑی چادر نہ ہو تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اس کی ساتھ والی چادر اوڑھا دے۔
(بخاری : 351 ، مسلم : 890)
عورتیں عید گاہ کی طرف زیور پہن کر جا سکتی ہیں۔ صحابیات رضی اللہ عنہن عید کے روز زیور پہن کر گئی تھیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں وعظ و نصیحت کی اور صدقے کا حکم دیا تو انہوں نے اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دیں۔
(بخاری : 98)
تکبیرات عید :۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ ذی الحجہ کی فجر سے لے کر 13 ذی الحجہ کی عصر تک تکبیرات کہتے تھے۔ بیہقی : 279/3
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عید الفطر کے دن گھر سے لے کر عید گاہ تک تکبیریں کہتے جاتے۔بیہقی : 279/3
تکبیرات کے الفاظ :۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یہ الفاظ کہتے :
الله أكبر كبيرا، الله أكبر كبيرا، الله أكبر وأجل، الله أكبر ولله الحمد
(ابن ابی شیبہ : 490)
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے اس طرح تکبیرات کے الفاظ آئے ہیں :
الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر كبيرا
(بیہقی : 3/316)
نماز عید ادا کرنے کا طریقہ :۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ پہنچ کر پہلے دو رکعت نماز کی امامت کراتے پھر خطبہ دیتے اور لوگ صفوں میں بیٹھے رہتے، خطبہ میں لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے اور حکم دیتے پھر واپس لوٹتے۔
(بخاری : 956 ، مسلم : 889)
اس کا طریقہ یہ ہے کہ باوضو ہو کر قبلہ رخ ہوں اور نماز عید کی نیت کے ساتھ دو رکعت نماز اس طرح ادا کریں کہ اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ کندھوں یا کانوں تک اٹھائیں پھر سینے پر باندھ لیں۔ دعائے استفتاح پڑھیں پھر قرآت سے پہلے سات تکبیریں کہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قال نبي الله التكبير فى الفطر سبع فى الأولى وخمس فى الآخرة والقراءة بعدهما كلتيهما
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عید الفطر کی پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیرات ہیں اور قرآت ان کے بعد ہے۔“
(ابوداؤد : 1151 ، دارقطنی : 2/48)
تمام تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین کریں اور ہاتھ باندھ لیں کیونکہ قیام میں بالاتفاق ہاتھ باندھے جاتے ہیں۔ تکبیرات کے بعد سورۃ فاتحہ پڑھیں۔ اس کے بعد امام پہلی رکعت میں سورة ق یا سورة الاعليٰ پڑھے۔
(مسلم : 878)
پھر رفع الیدین کے ساتھ تکبیر کہہ کر رکوع کریں۔ غرض پھر جیسے عام طور پر نماز پڑھتے ہیں پڑھیں۔ اس طرح رکعت مکمل کر کے اٹھیں۔ دوسری رکعت میں قرآت سے پہلے پانچ تکبیریں مع رفع الیدین کہیں اور اس رکعت میں امام فاتحہ کے بعد سورۃ قمر یا غاشیہ پڑھے۔
(مسلم : 891)
پھر حسب معمول رکعت مکمل کریں۔
نماز سے فارغ ہو کر خاموشی سے امام کا خطبہ سنیں۔ نماز عید کا صرف ایک خطبہ ہی مسنون ہے۔ جمعہ کی طرح دو خطبے کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔