عید الفطر کے دن نماز عید سے قبل طاق کھجوریں لینا:۔
عید الفطر کی نماز سے قبل طاق کھجوریں تناول کرنا مسنون و مستحب عمل ہے کیونکہ عید الفطر کی نماز سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طاق کھجوریں تناول کرنا دائمی معمول تھا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات وياكلهن وترا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (اس وقت تک گھر سے) نہ نکلتے جب تک کچھ کھجوریں تناول نہ فرما لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم طاق کھجوریں لیتے تھے۔“
صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب الأکل یوم الفطر قبل الخروج: 953 ۔ صحیح ابن خزیمہ: 1429 – مسند أحمد: 126/3
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفطر حتى يأكل تمرات ثلاثا أو خمسا، أو سبعا أو أقل من ذلك أو أكثر من ذلك وترا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز عید کے لیے) تین، پانچ ، سات، یا اس سے کم یا زیادہ طاق عدد میں کھجور کھائے بغیر کبھی نہ نکلے۔“
مسند أحمد: 232/3۔ صحیح ابن حبان: 3814- بیهقی: 283/3- حاكم: إسناده حسن
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھائے بغیر نماز کے لیے نہ نکلتے تھے اور عید الاضحیٰ کے دن اس وقت تک کچھ تناول نہ فرماتے جب تک نماز عید ادا نہ کر لیتے۔“
مسند أحمد: 360/5 – جامع ترمذی، أبواب العیدین، باب ما جاء فی الأکل یوم الفطر قبل الخروج: 542 – سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی الأکل یوم الفطر قبل الخروج: 1756 – حاکم: 295/1 ۔ إسناده حسن، ثواب بن عتبہ مہری صدوق راوی ہے۔
فوائد: ۔
امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اہل علم کے نزدیک عید الفطر کی نماز کے لیے روانگی سے قبل کچھ کھانا مستحب ہے لیکن کھجور تناول کرنا زیادہ پسندیدہ عمل ہے۔
ترمذی، تحت حديث: 542
نماز عید الفطر سے قبل کچھ کھانے کی حکمت: ۔
مہلب بن ابی صفرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عید الفطر کی نماز سے قبل کھانے میں حکمت یہ ہے کہ کوئی گمان کرنے والا یہ گمان نہ کرلے کہ نماز عید کے بعد تک روزہ رکھنا لازم ہے۔ گویا اس عمل سے اس بدگمانی کا مداوا کیا گیا ہے اور بعض علماء کا قول ہے کہ (عیدالفطر کے دن) چونکہ روزوں کی فرضیت کے بعد روزہ ترک کرنے کی فرضیت واقع ہوئی ہے، لہذا عید الفطر کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں نماز عید سے قبل جلدی کھانا مستحب عمل ہے اور کم مقدار میں کھانے پر اکتفا کرنے سے حکم الہی کی تعمیل ہی مقصود ہے، کیونکہ اگر حکم خداوندی کی اطاعت ملحوظ نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ مقدار میں کھاتے۔
فتح الباری: 576/2
نماز عید الفطر سے قبل کھجور کھانے کی حکمت: ۔
نماز عید الفطر سے قبل کھجوریں تناول کرنے کے استحباب میں یہ حکمت پنہاں ہے کہ شیرینی روزوں کی وجہ سے بصارت میں جو ضعف واقع ہو چکا ہوتا ہے اسے تقویت دیتی ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ شیرینی ایمان اور خواب کی تعبیر کے موافق ہے اور اس سے دل نرم ہوتا ہے اور یہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے اور بعض تابعین رحمہ اللہ نے تو مطلق میٹھی چیز کا استعمال مستحب قرار دیا ہے۔ جیسے شہد ہے۔ نیز جسے کھجور وغیرہ میسر نہ ہو۔ وہ بطور ناشتہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتا ہے، خواہ پانی ہی ہو اور مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: طاق عدد میں کھجوریں کھانے میں اللہ تعالی کی واحدنیت کی طرف اشارہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمیع امور میں طاق عدد کا استعمال بطور تبرک کیا کرتے تھے۔
فتح الباری: 577، 576/2 – تحفة الأحوذی: 68/3
ابن قدامہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ اکثر اہل علم مثلاً علی رضی اللہ عنہ ، ابن عباس رضی اللہ عنہما، مالک رحمہ اللہ اور شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ عید الفطر میں نماز عید سے قبل کھانا اور عید الاضحیٰ میں نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد کھانا مسنون عمل ہے اور اس مسنون عمل کے بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الكبير: 229/2
اس مسئلہ کے متعلق مروی ضعیف روایات کا بیان: ۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل سبع تمرات
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک سات کھجوریں کھا نہ لیتے نماز عید کے لیے نہیں نکلتے تھے۔“
طبرانی کبیر: 2039 – إسناده ضعيف جداً – اس کی سند میں ناصح بن عبد اللہ ، ابو عبد اللہ حائک متروک راوی ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے:
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يغدي أصحابه من صدقة الفطر
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن اپنے اصحاب کو صدقہ فطر کھلائے بغیر (نماز عید کے لیے) نہیں نکلتے تھے۔“
سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی الأکل یوم الفطر قبل أن یخرج: 1755 – إسناده ضعیف
اس کی سند میں تین راوی، جبارہ بن مفلس ، مندل بن علی اور عمر بن صہبان ضعیف ہیں۔