عید الاضحی کے دن نماز عید کے بعد قربانی کا گوشت کھانا افضل ہے :۔
عید الاضحی کے دن نماز عید سے فراغت کے بعد قربانی کا گوشت کھانا مسنون ومستحب عمل ہے۔
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز عید کے لیے) اس وقت تک نہ نکلتے جب تک کچھ کھا نہ لیتے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز ادا نہ کر لیتے کچھ نہ کھاتے تھے۔“
مسند أحمد: 360/5 – جامع ترمذی، أبواب العیدین، باب ما جاء فی الأکل یوم الفطر قبل الخروج: 542 ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی الأکل یوم الفطر قبل أن یخرج: 1756 – مستدرک حاکم: 295/1 ـ إسناده حسن ثواب بن عتبہ مہری صدوق حسن الحدیث ہے۔
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، وكان لا يأكل يوم النحر شيئا حتى يرجع فيأكل من أضحيته
”یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھائے بغیر نماز عید کے لیے نہیں نکلتے تھے اور عید الاضحی کے دن کچھ نہ کھاتے حتی کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد، گھر لوٹتے ، پھر اپنی قربانی کے گوشت سے کھاتے تھے۔“
دار قطنی : 1697 إسناده حسن
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أن ابن عمر كان يوم الأضحى يخرج إلى المصلى، ولا يطعم شيئا
”ابن عمر رضی اللہ عنہما عید الاضحی کے دن کچھ بھی کھائے بغیر عید گاہ کا رخ کرتے تھے۔“
[بیہقی : 283/3 – إسناده صحیح]
فوائد :۔
امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اہل علم نے عید الاضحی کے دن نماز عید سے لوٹنے کے بعد کھانے کو مستحب قرار دیا ہے۔
ترمذی تحت حدیث : 542
ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عید الاضحی کے دن کھانے میں تاخیر کی حکمت یہ ہے کہ اس دن قربانی کرنا اور قربانی کے گوشت سے کھانا مشروع عمل ہے لہذا اس دن قربانی کے گوشت سے افطار (ناشتہ کرنا) مشروع قرار دیا گیا ہے۔
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الكبير : 229/2 – نیل الأوطار : 307/3 – تحفة الأحوذی : 3/ 68
ایک ضعیف حدیث کی وضاحت :۔
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم الفطر يخرج حتى يأكل شيئا، و إذا كان الأضحى لم يأكل شيئا حتى يرجع، وكان إذا رجع أكل من كبد أضحيته
”جب عید الفطر کا دن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک کچھ تناول نہ کر لیتے گھر سے نہیں نکلتے تھے اور عید الاضحی کے دن کچھ نہ کھاتے تا وقتیکہ نماز پڑھ کر گھر نہ لوٹتے اور جب گھر پلٹتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی کے جگر سے (یعنی کباب) کھاتے تھے۔“
بیہقی : 283/3 ـ إسناده ضعیف، عقبہ بن عبد اللہ أصم، ضعیف اور مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اسی کی تدلیس بھی ہے۔
چونکہ یہ روایت ضعیف ہے اس لیے اس سے استدلال کرتے ہوئے نماز عید سے فراغت کے بعد قربانی کے جگر سے کھانے کی تخصیص کرنا درست نہیں، بلکہ قربانی کے گوشت کے کسی بھی حصے کا انتخاب کرنا مسنون ہے۔