عید الاضحیٰ کی نماز سے قبل کھانا مباح ہے :۔
اگر چہ عید الاضحیٰ کے روز نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد کھانا مستحب عمل ہے، لیکن نماز عید سے قبل کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا جواز ثابت ہے۔ جیسا کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
خطبنا النبى صلى الله عليه وسلم يوم الأضحى بعد الصلاة فقال: من صلى صلاتنا، ونسك نسكنا فقد أصاب النسك، و من نسك قبل الصلاة فإنه قبل الصلاة ولانسك له، فقال أبوبردة بن نيار خال البراء: يارسول الله ! فإنى نسكت شاتي قبل الصلاة وعرفت أن اليوم يوم أكل و شرب، وأحببت أن تكون شاتي أول شاة تذبح فى بيتي، فذ بحت شاتي و تغديت قبل أن آتي الصلاة، قال: شاتك شاه لحم
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن نماز عید کے بعد خطبہ ارشاد کیا اور فرمایا : جس نے ہمارے طریقے کے مطابق نماز پڑھی اور ہماری سنت کے مطابق قربانی کی تو بلاشبہ اس نے قربانی کا مقصد (یعنی اجر و ثواب) حاصل کر لیا اور جس نے نماز عید سے قبل قربانی کی تو وہ نماز سے پہلے (کا ذبیحہ) ہے اور اس کی قربانی (قبول) نہیں ہے۔ (یہ سن کر) براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اپنی بکری نماز عید سے قبل قربان کی ہے، اس لیے کہ میں بخوبی واقف تھا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے سو میں نے پسند کیا کہ میرے گھر میں سب سے پہلے میری بکری ذبح ہو۔ چنانچہ (نماز عید سے قبل) میں نے اپنی بکری ذبح کی اور نماز میں حاضر ہونے سے قبل میں نے کھانا کھالیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری بکری گوشت کی بکری ہے (یعنی اس کی قربانی نہیں ہوئی بلکہ یہ عام گوشت کی بکری کی طرح ہے)۔ “
صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب الأکل یوم النحر : 955 – سنن بیہقی : 274/3 – مسند ابو یعلی : 1662 – صحیح ابن خزیمہ : 1427
فوائد :۔
عید الاضحیٰ کا دن کھانے پینے کا دن ہے اور اس میں نماز عید سے پہلے یا بعد میں کھانے پینے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ اس دن نماز عید کے بعد کھانا افضل ہے، لیکن نماز عید سے قبل کھانے کا جواز بہر حال موجود ہے اور ایسا شخص گناہ گار نہیں ہو گا۔
عید الاضحی کی نماز سے قبل کھانا مباح ہے کیونکہ اگر یہ عمل ممنوع اور ناجائز ہوتا تو جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بردہ رضی اللہ عنہ کی نماز عید سے قبل قربانی کرنے پر سرزنش کی اور قربانی کے اعادہ کا حکم دیا اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے قبل کھانے پر ضرور ڈانٹتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی اس عمل کے جواز کی دلیل ہے۔
ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں : عید الاضحی کے دن نماز عید سے قبل کھانا تناول کرنا نہ مستحب عمل ہے اور نہ ممنوع (بلکہ مباح عمل ہے) تم دیکھتے نہیں کہ مذکورہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز عید سے قبل کھانے پر) نہ تو صحابی کی تعریف و ستائش کی اور نہ ہی اس کام پر ان کی سرزنش فرمائی (سو یہ خاموشی اس عمل کے جواز کا ثبوت ہے)۔
(شرح ابن بطال: 174/4)
ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کا عنوان یوں باندھا ہے : اگر چہ عید قربان کے دن عید گاہ کی طرف روانہ ہونے سے قبل کھانا مباح ہے اور نماز عید سے قبل کھانا تناول کرنے والا گناہ گار نہیں لیکن قربانی ذبح کرنے سے قبل نہ کھانا افضل ہے۔