عید الاضحیٰ کا دن اور اس کی اہمیت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔

عید الاضحی کا دن:۔

عید الاضحی، عید البقر، یوم النحر یا عید قربان دس ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے اسے عید الاضحی اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دن اللہ کی رضا کی خاطر جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ نیز فضیلت و عظمت کے لحاظ سے بھی دس ذوالحجہ کا دن باقی ایام سے افضل ہے عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أعظم الأيام عند الله تبارك و تعالى يوم النحر، ثم يوم القر
”بلاشبہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک عظیم ترین دن یوم نحر (دس ذوالحجہ) پھر یوم قر (گیارہ ذوالحجہ) ہے۔“
سنن أبو داؤد، كتاب المناسك، باب فى الهدى إذا عطب قبل أن يبلغ: 1765 – مسند أحمد: 350/4 – صحیح ابن خزیمه: 2866 – سنن بیهقی: 237/5 – إسناده صحيح
آئندہ حدیث سے بھی تعیین ہوتی ہے کہ عید الاضحیٰ کا دن دس ذوالحجہ ہے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمرت بيوم الأضحى عيدا جعله الله لهذه الأمة
”مجھے اضحی (دس ذوالحجہ ) کے دن عید منانے کا حکم دیا گیا ہے (اور ) اس دن کو اللہ تعالیٰ نے میری امت کی عید قرار دیا ہے۔“
مستدرك حاكم: 223/4 – سنن أبو داؤد، كتاب الضحايا، باب ما جاء في ايجاب الأضاحي: 2789 ۔ سنن نسائی: 4370 ۔ صحیح ابن حبان: 5914۔ سنن دار قطني – إسناده حسن، عیسی بن ہلال صدفی رحمہ اللہ صدوق راوی ہے
نیز امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کتاب الاضاحی میں یہ عنوان باندھ کر (باب من قال الأضحى يوم النحر) اس شخص کے موقف کا بیان جو کہتا ہے کہ اضحی یوم النحر (دس ذوالحجہ کا دن) ہے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ عید الاضحی کا دن دس ذوالحجہ ہے اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اضحی (عید قربان کا دن) دس ذوالحجہ ہے۔ فتح الباری: 11/10

عید الفطر اور عید الاضحیٰ اجتماعی تہوار ہیں: ۔

عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں اجتماعیت مقصود ہے اور ان میں انفرادیت اختیار کرنا یا اجتماعیت کی مخالفت کرنا قطعی نا جائز ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الصوم يوم تصومون، والفطر يوم تفطرون، والأضحى يوم تضحون
”روزہ اس دن ہے، جس دن لوگ روزہ رکھیں ، جس دن لوگ روزہ چھوڑیں وہ عید الفطر ہے اور جس دن لوگ قربانی کریں وہ عید الاضحیٰ ہے۔“
جامع ترمذى كتاب الصوم، باب ما جاء الصوم يوم تصومون: 697 – إسناده صحيح

فقہ الحدیث: ۔

امام صنعانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں یہ حدیث دلیل ہے کہ عید کے ثبوت کے لیے لوگوں کی موافقت ضروری ہے اور منفرد شخص کو چاند دیکھنے سے عید کا علم ہونے کی صورت میں بھی باقی لوگوں کی موافقت لازم ہے اور وہ نماز عید ، عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں باقی لوگوں کی مطاوعت کے حکم میں شامل ہے۔ تحفة الأحوذي: 356/3
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الفطر يوم تفطرون، والأضحى يوم تضحون
”جس دن تم روزہ چھوڑو وہ عید الفطر ہے اور جس دن تم قربانی کرو وہ عید الاضحیٰ ہے۔“
سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب إذا أخطاء القوم الهلال: 2324 – سنن ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ما جاء فى شهرى العيد: 1660 ـ إسناده صحيح

فقہ الحدیث: ۔

علامہ سندھی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ان امور (عیدین) کی تعیین میں انفرادیت کو عمل دخل نہیں ہے بلکہ ان امور میں امام اور جماعت کی اتباع و موافقت ملحوظ ہے اور ان مسائل میں منفرد رائے رکھنے والوں پر امام اور جماعت کی اتباع فرض ہے چنانچہ اگر کوئی اکیلا شخص عیدین کا چاند دیکھ لے اور حاکم اس کی شہادت رد کر دے تو وہ اپنے تئیں کوئی چیز ثابت نہیں کر سکے گا بلکہ ان امور کے ثبوت میں اس پر عوام الناس کی متابعت لازم ہے۔
(حاشیہ سندھی علی ابن ماجہ: 431/3)