عید الاضحیٰ اور سنتِ ابراہیمی کا احیاء: قربانی کی حقیقت، اخلاص اور شرعی رہنمائی

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

عید الاضحیٰ اور سنتِ ابراہیمی کا احیاء

عید الاضحیٰ وہ عظیم دن ہے جس میں دنیا بھر کے مسلمان حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرتے ہوئے، اور نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے نام پر جانور قربان کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر نبی تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے “خلیل” بنایا۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَاتَّخَذَ اللّٰہُ إِبْرَاهِیْمَ خَلِیْلاً (النساء4:125)
ترجمہ: “اور اللہ نے ابراہیم کو اپنا دوست (خلیل) بنا لیا۔”

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایسا بلند مقام عطا فرمایا کہ آپ کے بعد آنے والے انبیاء علیہم السلام آپ ہی کی نسل سے ہوئے، اور بعد کی آسمانی کتابیں بھی آپ کی اولاد میں سے انبیاء پر نازل ہوئیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا متعدد مرتبہ ذکر فرمایا اور ان کی صفات و واقعات کو بار بار بیان کیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم صفات اور ملتِ ابراہیمی کی پیروی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ إِبْرَٰهِيمَ كَانَ أُمَّةً قَانِتًا لِّلَّهِ حَنِيفًا وَلَمْ يَكُ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ‎﴿١٢٠﴾‏ شَاكِرًا لِّأَنْعُمِهِ ۚ ٱجْتَبَىٰهُ وَهَدَىٰهُ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ ‎﴿١٢١﴾‏ وَءَاتَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا حَسَنَةً ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ‎﴿١٢٢﴾‏ ثُمَّ أَوْحَيْنَآ إِلَيْكَ أَنِ ٱتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَٰهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ‎﴿١٢٣﴾ (النحل16:123-120)

ترجمہ: “بے شک ابراہیم (علیہ السلام) ایک پیشوا تھے، اللہ کے فرمانبردار تھے، یکسو ہو کر اللہ ہی کے ہو گئے تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ وہ اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اللہ نے انہیں چن لیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت دی۔ اور ہم نے انہیں دنیا میں بھلائی عطا کی، اور یقیناً وہ آخرت میں بھی صالحین میں سے ہوں گے۔ پھر ہم نے آپ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف وحی کی کہ آپ ملتِ ابراہیمی کی پیروی کریں، جو یکسو ہو کر اللہ کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔”

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَٰهِـۧمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُۥ ۚ وَلَقَدِ ٱصْطَفَيْنَٰهُ فِى ٱلدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُۥ فِى ٱلْـَٔاخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ‎﴿١٣٠﴾‏ إِذْ قَالَ لَهُۥ رَبُّهُۥٓ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ‎﴿١٣١﴾ (البقرۃ2 :131-130)

ترجمہ: “اور ملتِ ابراہیمی سے کون منہ موڑے گا سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو احمق بنا لیا؟ اور ہم نے یقیناً انہیں دنیا میں چن لیا، اور بے شک وہ آخرت میں بھی صالحین میں سے ہوں گے۔ (یاد کرو) جب اس کے رب نے اس سے کہا: فرمانبردار ہو جا، تو اس نے کہا: میں رب العالمین کا فرمانبردار ہو گیا۔”

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
مَا كَانَ إِبْرَٰهِيمُ يَهُودِيًّا وَلَا نَصْرَانِيًّا وَلَٰكِن كَانَ حَنِيفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ ‎﴿٦٧﴾ (آل عمران3 :67)

ترجمہ: “ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی، بلکہ وہ یکسو مسلمان تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔”

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمائشیں اور “وفا” کا مقام

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مختلف آزمائشوں میں ڈالا، اور آپ ہر آزمائش میں کامل طور پر کامیاب رہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِذِ ٱبْتَلَىٰٓ إِبْرَٰهِـۧمَ رَبُّهُۥ بِكَلِمَٰتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ۖ قَالَ إِنِّى جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ۖ قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِى ۖ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِى ٱلظَّٰلِمِينَ ‎﴿١٢٤﴾ (البقرۃ 2:124)

ترجمہ: “اور (یاد کرو) جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ذریعے آزمایا تو اس نے انہیں پورا کر دکھایا۔ اللہ نے فرمایا: میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ ابراہیم نے عرض کیا: اور میری اولاد میں سے بھی؟ اللہ نے فرمایا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔”

یہاں (بِکَلِمَاتٍ) سے مراد تمام اوامر و نواہی ہیں، خصوصاً ہجرت اور بیٹے کی قربانی جیسے بڑے احکام۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کی وفاداری کی تعریف یوں فرمائی:
وَإِبْرَٰهِيمَ ٱلَّذِى وَفَّىٰٓ (النجم53 :37)
ترجمہ: “اور ابراہیم، جنہوں نے وفا کر دکھائی۔”

حضرت اسماعیل علیہ السلام کے معاملے میں عظیم آزمائش

اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جگرگوشے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذریعے بھی عظیم امتحان لیا، جسے قرآن مجید میں تفصیل سے بیان کیا گیا:

(الصافات37 :107-99) والی آیات:

وَقَالَ إِنِّى ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّى سَيَهْدِينِ ‎﴿٩٩﴾‏ رَبِّ هَبْ لِى مِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ ‎﴿١٠٠﴾‏ فَبَشَّرْنَٰهُ بِغُلَٰمٍ حَلِيمٍ ‎﴿١٠١﴾‏ فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ ٱلسَّعْىَ قَالَ يَٰبُنَىَّ إِنِّىٓ أَرَىٰ فِى ٱلْمَنَامِ أَنِّىٓ أَذْبَحُكَ فَٱنظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰبِرِينَ ‎﴿١٠٢﴾‏ فَلَمَّآ أَسْلَمَا وَتَلَّهُۥ لِلْجَبِينِ ‎﴿١٠٣﴾‏ وَنَٰدَيْنَٰهُ أَن يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ ‎﴿١٠٤﴾‏ قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّءْيَآ ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ ‎﴿١٠٥﴾‏ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْبَلَٰٓؤُا۟ ٱلْمُبِينُ ‎﴿١٠٦﴾‏ وَفَدَيْنَٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ‎﴿١٠٧﴾

ترجمہ: “اور ابراہیم نے کہا: میں اپنے رب کی طرف جانے والا ہوں، وہ مجھے راستہ دکھائے گا۔ اے میرے رب! مجھے نیک لوگوں میں سے (اولاد) عطا فرما۔ تو ہم نے اسے ایک بردبار لڑکے کی خوشخبری دی۔ پھر جب وہ اس کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا: اے ابا جان! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ پھر جب دونوں نے (اللہ کے حکم کے سامنے) سر تسلیم خم کر دیا، اور ابراہیم نے اسے پیشانی کے بل لٹا دیا، تو ہم نے پکارا: اے ابراہیم! تم نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ بے شک یہ کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اسے ایک عظیم قربانی کے بدلے چھڑا لیا۔”

حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کو مکہ کی وادی میں چھوڑنے کا واقعہ

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے متعلق پہلی بڑی آزمائش یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ حضرت ہاجرہ اور ننھے اسماعیل علیہما السلام کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئیں؛ ایسی وادی جہاں نہ آبادی تھی، نہ پھل دار درخت، نہ پانی کا کوئی انتظام۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محض اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے یہ حکم پورا کیا، اور یوں اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹے سے گھرانے پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت (زمزم اور سعی کا پس منظر)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عورتوں میں سب سے پہلے حضرت ہاجرہ نے کمر پٹہ باندھا تاکہ حضرت سارہ ان کا سراغ نہ پائیں۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ہاجرہ اور ان کے بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر نکلے۔ اس وقت حضرت ہاجرہ حضرت اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں بیت اللہ کے پاس مسجد الحرام کی بلند جانب—جہاں آج آبِ زمزم ہے—ایک بڑے درخت کے نیچے بٹھا دیا۔ اُس وقت وہاں نہ کوئی آدمی تھا اور نہ پانی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ کو کھجوروں کا ایک تھیلا اور پانی کا ایک مشکیزہ دے کر واپس ہونے لگے۔ حضرت ہاجرہ پیچھے آئیں اور کہا:
ابراہیم! ہمیں ایسی وادی میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو جہاں نہ کوئی آدمی ہے اور نہ پانی؟
حضرت ہاجرہ نے کئی بار یہ سوال کیا مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ آخر انہوں نے پوچھا:

آللّٰہُ أَمَرَكَ بِهذَا؟
ترجمہ: “کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا حکم دیا ہے؟”

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا: ہاں۔
تو حضرت ہاجرہ نے کہا:

إِذَنْ َلا یُضَیِّعَنَا
ترجمہ: “اچھا، پھر اللہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔”

پھر حضرت ہاجرہ واپس آ گئیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام جب ایک ٹیلے پر پہنچے جہاں سے وہ انہیں دیکھ نہ سکتے تھے تو انہوں نے بیت اللہ کی طرف منہ کر کے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی:

رَّبَّنَا إِنِّیْ أَسْکَنتُ مِن ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِندَ بَیْْتِكَ الْمُحَرَّمِ۔۔۔۔
ترجمہ: “اے ہمارے رب! میں نے اپنی اولاد کے کچھ لوگوں کو تیرے محترم گھر کے پاس ایسی وادی میں آباد کیا ہے جو کھیتی والی نہیں۔۔۔”

پانی ختم ہوا، سعی شروع ہوئی

حضرت ہاجرہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دودھ اور پانی پلاتی رہیں، یہاں تک کہ پانی ختم ہو گیا۔ اب خود بھی پیاسی تھیں اور بچہ بھی پیاس سے تڑپنے لگا۔ بچے کی بے قراری ان سے دیکھی نہ گئی۔ وہ نکلیں اور قریب ترین پہاڑی صفا پر چڑھیں، وادی کی طرف دیکھیں کہ شاید کوئی آدمی نظر آ جائے، مگر کوئی نظر نہ آیا۔ پھر صفا سے اتر کر وادی میں آئیں، کپڑے کا دامن سمیٹا اور ایک مصیبت زدہ کی طرح دوڑیں یہاں تک کہ وادی پار کر کے مروہ پر پہنچیں۔ وہاں بھی کوئی نظر نہ آیا۔ اسی طرح انہوں نے سات چکر لگائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَذَلِكَ سَعْیُ النَّاسِ بَیْنَهُمَا
ترجمہ: “لوگ صفا و مروہ کے درمیان جو سعی کرتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے۔”

زمزم کا ظہور

جب حضرت ہاجرہ ساتویں چکر میں مروہ پر پہنچیں تو انہوں نے ایک آواز سنی۔ انہوں نے اپنے آپ سے کہا: خاموش رہو، بات سنو! پھر کان لگایا تو وہی آواز دوبارہ سنائی دی۔ انہوں نے کہا: میں نے تیری آواز سن لی، کیا تو ہماری مدد کر سکتا ہے؟

پھر انہوں نے زمزم کے مقام پر ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنی ایڑی یا پر زمین پر مارا تو پانی نکل آیا۔ حضرت ہاجرہ اسے حوض کی طرح بنانے لگیں، منڈیر باندھنے لگیں اور چلوؤں سے پانی مشکیزے میں بھرنے لگیں۔ پانی جتنا نکالتیں، اتنا ہی جوش سے نکلتا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَرْحَمُ اللّٰہُ أُمَّ إِسْمَاعِیْلَ لَوْ تَرَکَتْ زَمْزَمَ۔ أَوْ قَالَ: لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنَ الْمَائِ لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَیْنًا مَعِیْنًا
ترجمہ: “اللہ امِ اسماعیل پر رحم فرمائے! اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں (یا فرمایا) اگر وہ چلو چلو پانی نہ لیتیں تو زمزم ایک بہتا ہوا چشمہ بن جاتا۔”

حضرت ہاجرہ نے پانی پیا اور اپنے بچے کو دودھ پلایا۔ فرشتے نے کہا: گھبراؤ نہیں، یہاں اللہ کا گھر ہے، یہ بچہ اور اس کا باپ اس کو تعمیر کریں گے۔ اس وقت کعبہ گر کر زمین سے اونچا ٹیلہ بن چکا تھا اور بارش کا پانی دائیں بائیں سے گزر جاتا تھا۔

جرہم قبیلہ کی آمد اور مکہ کی آبادی

کچھ عرصہ بعد جرہم قبیلہ کے لوگ—یا ان کے گھر والے—کداء کے راستے سے آ رہے تھے۔ انہوں نے مکہ کے نشیب میں اتر کر ایک پرندہ گھومتا دیکھا تو کہنے لگے: یہ پرندہ ضرور پانی پر گردش کر رہا ہے، حالانکہ ہم اس میدان کو جانتے ہیں، یہاں کبھی پانی نہیں دیکھا۔ انہوں نے چند آدمی بھیجے، پانی ملا، پھر سب آ گئے۔

حضرت ہاجرہ پانی کے پاس بیٹھی تھیں۔ انہوں نے پوچھا: کیا ہمیں یہاں رہنے کی اجازت دے دیں گی؟ حضرت ہاجرہ نے کہا: ہاں، لیکن پانی میں تمہارا حق نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ام اسماعیل خود بھی یہ چاہتی تھیں کہ انسان یہاں آباد ہوں۔”

پھر وہ وہاں رہنے لگے، اپنے گھر والوں کو بھی بلا لیا۔ جب وہاں کئی گھر آباد ہو گئے، حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوئے، انہی سے عربی سیکھی، اور لوگ انہیں پسند کرنے لگے۔ انہوں نے ان کی شادی بھی اپنے خاندان میں کر دی۔ پھر حضرت ہاجرہ فوت ہو گئیں۔
(صحیح البخاري:3364)

خوابِ ذبح اور اطاعت کی انتہا

ان آیات کے حوالے سے یہ بات واضح کی گئی کہ جب حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہو گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ چونکہ انبیاء علیہم السلام کے خواب بھی وحی ہوتے ہیں اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس حکم کو پورا کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ لیکن عملی اقدام سے پہلے بیٹے کے سامنے معاملہ رکھا اور رائے پوچھی۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام نے فوراً کہا:
قَالَ يَٰٓأَبَتِ ٱفْعَلْ مَا تُؤْمَرُ
ترجمہ: “اے ابا جان! آپ وہی کر گزریں جس کا آپ کو حکم دیا گیا ہے۔”

پھر مزید کہا:
سَتَجِدُنِىٓ إِن شَآءَ ٱللَّهُ مِنَ ٱلصَّٰبِرِينَ
ترجمہ: “اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔”

یہ باپ بیٹے کی ایسی بے مثال اطاعت تھی کہ دونوں اللہ کے حکم کے لیے ہر طرح آمادہ تھے: باپ قربان کرنے کے لیے اور بیٹا قربان ہونے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے یوں فرمایا:
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ ٱلْبَلَٰٓؤُا۟ ٱلْمُبِينُ
ترجمہ: “بے شک یہ تو کھلی آزمائش تھی۔”

پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے کر منیٰ گئے، جمرات کے قریب پیشانی کے بل لٹایا، اور ذبح کے لیے چھری رکھ دی۔ عین اسی لمحے ندا آئی:
يَٰٓإِبْرَٰهِيمُ ‎﴿١٠٤﴾‏ قَدْ صَدَّقْتَ ٱلرُّءْيَآ
ترجمہ: “اے ابراہیم! تم نے خواب سچ کر دکھایا۔”

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَفَدَيْنَٰهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
ترجمہ: “اور ہم نے اسے ایک عظیم قربانی کے بدلے چھڑا لیا۔”

اللہ تعالیٰ نے ایک مینڈھا بھیجا جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربان کیا، اور یہی وہ عظیم سنت ہے جس پر ہر سال مسلمان قربانی کر کے اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں۔

قربانی کی مشروعیت اور اس کی تاکید

یہ عظیم واقعہ صرف ایک تاریخی قصہ نہیں بلکہ ایک دائمی سنت ہے جسے ہر سال مسلمان زندہ کرتے ہیں۔ قربانی کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں قیام کے دوران ہر سال قربانی کی اور امت کو اس کی تاکید فرمائی۔

قربانی ترک کرنے پر وعید

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرنے والے شخص کے بارے میں سخت تنبیہ فرمائی:

مَنْ وَجَدَ سَعَةً لِأَن یَّضَحِّیَ فَلَمْ یُضَحِّ فَلَا یَحْضُرْ مُصَلَّانَا
(رواہ الحاکم وحسنہ الألباني فی صحیح الترغیب والترہیب:1087)

ترجمہ: “جو شخص استطاعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔”

اسی طرح عرفات کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَا أَیُّهَا النَّاسُ إِنَّ عَلٰی کُلِّ أَهْلِ بَیْتٍ فِیْ کُلِّ عَامٍ أُضْحِیَةِ…
(سنن أبي داؤد:2788، سنن الترمذي:1518، سنن ابن ماجہ:3125۔ وصححہ الألباني)

ترجمہ: “اے لوگو! ہر گھر والوں پر ہر سال ایک قربانی لازم ہے۔”

لہٰذا جو شخص قربانی کی طاقت رکھتا ہو اسے یہ عبادت ہرگز ترک نہیں کرنی چاہئے۔

قربانی میں اخلاص کی اہمیت

تمام عبادات کی طرح قربانی میں بھی اخلاصِ نیت بنیادی شرط ہے۔ قربانی صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونی چاہئے، نہ کہ دکھاوے، شہرت یا لوگوں کی تعریف حاصل کرنے کے لیے۔

قرآن مجید کی رہنمائی

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنْحَرْ (الکوثر108:2)
ترجمہ: “پس اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔”

اور فرمایا:

قُلْ إِنَّ صَلَاتِى وَنُسُكِى وَمَحْيَاىَ وَمَمَاتِى لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ‎﴿١٦٢﴾‏ لَا شَرِيكَ لَهُۥ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا۠ أَوَّلُ ٱلْمُسْلِمِينَ ‎﴿١٦٣﴾ (الأنعام6:163-162)
ترجمہ: “کہہ دیجئے: بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔”

اگر قربانی میں ریاکاری یا نام و نمود شامل ہو جائے تو اس کا ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔

غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنا حرام ہے

ہر جانور، چاہے قربانی کا ہو یا عام ذبح کا، صرف اللہ کے نام پر ہی ذبح کیا جانا چاہئے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ بِهِۦ لِغَيْرِ ٱللَّهِ (البقرۃ2:173)
ترجمہ: “اس (اللہ) نے تم پر مردار، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت اور وہ جانور حرام کر دیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو۔”

اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَعَنَ اللّٰہُ مَنْ ذَبَحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ
(صحیح مسلم:1978)

ترجمہ: “اللہ کی لعنت ہو اس شخص پر جس نے غیر اللہ کے لیے جانور ذبح کیا۔”

لہٰذا قربانی کے وقت دو باتوں کا خصوصی خیال رکھا جائے:
➊ نیت خالص اللہ کے لیے ہو۔
➋ جانور کو صرف اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے۔

قربانی کا وقت

قربانی کا وقت نمازِ عید کے بعد شروع ہوتا ہے۔ اگر کسی نے نمازِ عید سے پہلے قربانی کر لی تو وہ کافی نہیں ہوگی، اسے دوبارہ قربانی کرنا ہوگی۔

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

مَنْ کَانَ ذَبَحَ أُضْحِیَتَهُ قَبْلَ أَنْ یُّصَلِّیَ۔ أَوْ نُصَلِّیَ۔ فَلْیَذْبَحْ مَکَانَهَا أُخْرَی، وَمَنْ کَانَ لَمْ یَذْبَحْ فَلْیَذْبَحْ بِاسْمِ اللّٰہِ
(صحیح البخاري:985، صحیح مسلم:1960)

ترجمہ: “جس شخص نے نمازِ عید سے پہلے قربانی کر لی وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے، اور جس نے ابھی ذبح نہیں کیا وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔”

قربانی کے جانور کے اوصاف

قربانی کا جانور موٹا تازہ اور بے عیب ہونا چاہئے۔

حضرت ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کُنَّا نُسَمِّنُ الْأضْحِیَةَ بِالْمَدِیْنَةِ، وَکَانَ الْمُسْلِمُوْنَ یُسَمِّنُوْنَ
(صحیح البخاري: کتاب الأضاحی)

ترجمہ: “ہم مدینہ میں قربانی کے جانوروں کو خوب کھلا پلا کر موٹا کرتے تھے، اور مسلمان بھی ایسا ہی کرتے تھے۔”

چار عیب دار جانور ناجائز ہیں

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَرْبَعٌ لَا تَجُوْزُ فِی الْأضَاحِیْ: اَلْعَوْرَاءُ بَیِّنٌ عَوَرُهَا، وَالْمَرِیْضَةُ بَیِّنٌ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ بَیِّنٌ ظَلْعُهَا، وَالْکَسِیْرُ الَّتِی َلا تُنْقِیْ
(سنن أبي داؤد:2802، سنن الترمذي:1497 وصححہ الألباني)

ترجمہ: “چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں:
➊ وہ کانا جس کا کانا پن واضح ہو۔
➋ وہ بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو۔
➌ وہ لنگڑا جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو۔
➍ وہ انتہائی کمزور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔”

اسی طرح نہ کان کٹا ہو اور نہ سینگ ٹوٹا ہو۔ البتہ جانور کا خصّی ہونا عیب نہیں۔

قربانی کے آداب

➊ چھری کو تیز کرنا

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلیٰ کُلِّ شَیْیٍٔ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْیُحِدَّ أَحَدُکُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْیُرِحْ ذَبِیْحَتَهُ
(صحیح مسلم:1955)

ترجمہ: “اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان لازم کیا ہے۔ جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ تم میں سے ہر شخص اپنی چھری تیز کرے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو راحت پہنچائے۔”

البتہ جانور کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو بکری کی گردن پر پاؤں رکھ کر چھری تیز کر رہا تھا جبکہ بکری اسے دیکھ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

أَفَلَا قَبْلَ هَذَا؟ أَوَ تُرِیْدُ أَنْ تُمِیْتَهَا مَوْتَاتٍ
(رواہ الطبراني وصححہ الألباني فی صحیح الترغیب والترہیب:1090)

ترجمہ: “کیا تم نے یہ کام پہلے نہ کیا؟ کیا تم اسے کئی بار مارنا چاہتے ہو؟”

➋ اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا

مسنون طریقہ یہ ہے کہ جانور کو بائیں کروٹ لٹایا جائے، گردن پر پاؤں رکھا جائے، اور “بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُ أَکْبَر” کہہ کر ذبح کیا جائے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

ضَحَّی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِکَبْشَیْنِ أَمْلَحَیْنِ، فَرَأَیْتُهُ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلیٰ صِفَاحِهِمَا، یُسَمِّیْ وَیُکَبِّرُ، فَذَبَحَهُمَا بِیَدِہٖ
(صحیح البخاري:5558، صحیح مسلم:1966)

ترجمہ: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سفید سیاہی مائل مینڈھوں کی قربانی کی۔ میں نے دیکھا کہ آپ نے ان کی گردنوں پر پاؤں رکھا، اللہ کا نام لیا اور تکبیر کہی، پھر انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔”

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کرتے وقت فرمایا:

بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰهُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَمِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ
(صحیح مسلم:1967)

ترجمہ: “اللہ کے نام کے ساتھ، اے اللہ! محمد، آلِ محمد اور امتِ محمد کی طرف سے قبول فرما۔”

قربانی کے گوشت کی تقسیم

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَكُلُوا۟ مِنْهَا وَأَطْعِمُوا۟ ٱلْبَآئِسَ ٱلْفَقِيرَ (الحج22:28)
ترجمہ: “پس تم خود بھی اس میں سے کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔”

فَكُلُوا۟ مِنْهَا وَأَطْعِمُوا۟ ٱلْقَانِعَ وَٱلْمُعْتَرَّ (الحج22:36)
ترجمہ: “اس میں سے خود بھی کھاؤ اور سوال نہ کرنے والے اور سوال کرنے والے دونوں کو کھلاؤ۔”

علمائے کرام ان آیات سے استدلال کرتے ہوئے گوشت کے تین حصے کرتے ہیں:
➊ ایک حصہ اپنے لیے
➋ ایک رشتہ داروں کے لیے
➌ ایک فقراء ومساکین کے لیے

ذخیرہ کرنا بھی جائز ہے:

کُلُوْا وَتَزَوَّدُوْا وَادَّخِرُوْا
(صحیح مسلم:1972)

ترجمہ: “کھاؤ، زادِ راہ بھی بناؤ اور ذخیرہ بھی کرو۔”

قربانی کی کھالوں کا حکم

جس طرح قربانی کے گوشت کو فروخت کرنا جائز نہیں، اسی طرح قربانی کی کھال فروخت کر کے اس کی قیمت اپنے ذاتی مصرف میں لانا بھی جائز نہیں۔ کھال یا تو خود استعمال کی جائے یا صدقہ کر دی جائے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

“مجھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے پاس رہ کر نگرانی کروں، اور ان کا گوشت، کھالیں اور جھولیں صدقہ کر دوں، اور ان میں سے کوئی چیز قصاب کو بطور مزدوری نہ دوں۔”
(صحیح البخاري:1717، صحیح مسلم:1317)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَنْ بَاعَ جِلْدَ أُضْحِیَتِه فَلَا أُضْحِیَةَ لَهُ
(رواہ الحاکم۔ وحسنہ الألباني فی صحیح الترغیب والترہیب:1088)

ترجمہ: “جو شخص اپنی قربانی کی کھال کو فروخت کرے، اس کی قربانی نہیں ہوئی۔”

لہٰذا کھال کو بیچ کر ذاتی فائدہ حاصل کرنا درست نہیں۔

قربانی کے ایام

قربانی کے چار دن ہیں:
➊ 10 ذوالحجہ (عید کا دن)
➋ 11 ذوالحجہ
➌ 12 ذوالحجہ
➍ 13 ذوالحجہ (ایامِ تشریق)

ان چاروں دنوں میں قربانی کی جا سکتی ہے۔

ایامِ عید میں جائز تفریح

عید خوشی اور مسرت کا دن ہے، اور شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے خوشی منانا جائز ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ عید کے دن انصار کی دو لڑکیاں کچھ اشعار گا رہی تھیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:

أَمَزَامِیْرُ الشَّیْطَانِ فِی بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم؟
ترجمہ: “کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطان کی بانسریاں بج رہی ہیں؟”

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

یَا أَبَا بَکْر، إِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِیْدًا وَهذَا عِیْدُنَا
(صحیح البخاري:454، صحیح مسلم:892)

ترجمہ: “اے ابو بکر! ہر قوم کا ایک تہوار ہوتا ہے، اور یہ ہمارا تہوار ہے۔”

ایک اور روایت میں ہے کہ حبشی لوگ مسجد میں کھیل دکھا رہے تھے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بھی وہ کھیل دیکھنے دیا۔
(صحیح البخari:454، صحیح مسلم:892)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ عید کے دن مباح تفریح جائز ہے، بشرطیکہ کوئی خلافِ شرع کام نہ ہو۔

گانا اور موسیقی کی حرمت

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَشْتَرِى لَهْوَ ٱلْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ (لقمان31:6-7)

ترجمہ: “اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو لغو بات خرید لیتا ہے تاکہ اللہ کی راہ سے گمراہ کرے۔۔۔ ایسے لوگوں کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔”

متعدد صحابہ نے “لَهْوَ الْحَدِيثِ” سے مراد گانا اور موسیقی لیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر فرمایا کہ اس سے مراد گانا ہے۔

حضرت ابو مالک الأشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِی أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ، وَالْحَرِیْرَ، وَالْخَمْرَ، وَالْمَعَازِفَ
(صحیح البخاري:5590)

ترجمہ: “میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھ لیں گے۔”

اسی طرح فرمایا:

إِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمُ الْخَمْرَ وَالْمَیْسِرَ وَالْکُوْبَةَ
(سنن أبي داؤد:3696۔ وصححہ الألباني)

ترجمہ: “اللہ نے تم پر شراب، جوا اور ڈھول کو حرام کیا ہے۔”

اور فرمایا:

صَوْتَانِ مَلْعُونَانِ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ: مِزْمَارٌ عِنْدَ نِعْمَةٍ وَرَنَّةٌ عِنْدَ مُصِیْبَةٍ
(صحیح الجامع للألباني:3695)

ترجمہ: “دو آوازیں دنیا و آخرت میں ملعون ہیں: خوشی کے وقت گانے بجانے کی آواز، اور مصیبت کے وقت چیخنے کی آواز۔”

لہٰذا عید کے موقع پر موسیقی، گانے، فلمیں اور فحش پروگرام دیکھنا جائز نہیں۔

ایامِ عید میں پائے جانے والے بعض منکرات

➊ کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

مَا أَسْفَلَ مِنَ الْکَعْبَیْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِی النَّارِ
(صحیح البخاري:5787)

ترجمہ: “جو کپڑا ٹخنوں سے نیچے ہو وہ جہنم میں ہے۔”

اور فرمایا:

لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ
(صحیح مسلم:91)

ترجمہ: “جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”

➋ داڑھی منڈوانا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

خَالِفُوا الْمُشْرِکِیْنَ، وَفِّرُوا اللِّحٰی، وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ
(صحیح البخاري:5892، صحیح مسلم:259)

ترجمہ: “مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھوں کو پست کرو۔”

➌ غیر محرم عورتوں سے مصافحہ

لَأَنْ یُّطْعَنَ فِی رَأْسِ أَحَدِکُمْ بِمِخْیَطٍ مِنْ حَدِیْدٍ خَیْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ یَّمَسَّ امْرَأَۃً لاَ تَحِلُّ لَهُ
(السلسلة الصحیحة للألباني:226)

ترجمہ: “تم میں سے کسی کے سر میں لوہے کی سوئی چبھو دی جائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لیے حلال نہیں۔”

➍ خلوت میں ملاقات

لَا یَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَۃٍ إِلَّا وَمَعَها ذُوْ مَحْرَمٍ
(صحیح البخari:5232، صحیح مسلم:1341)

ترجمہ: “کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ ہو مگر اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔”

➎ عورتوں کا بے پردہ نکلنا

وَقَرْنَ فِى بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ ٱلْجَٰهِلِيَّةِ ٱلْأُولَىٰ (الأحزاب33:33)

ترجمہ: “اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جاہلیتِ اولیٰ کی طرح بناؤ سنگھار کا اظہار نہ کرو۔”

اور فرمایا:

صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ…
(صحیح مسلم:2128)

ترجمہ: “دو قسم کے لوگ جہنمی ہیں… (ان میں وہ عورتیں بھی ہیں جو لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی…)”

➏ اقرباء اور فقراء کے حقوق

لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یُحِبَّ لِأَخِیْهِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِهِ
(صحیح البخari:13، صحیح مسلم:45)

ترجمہ: “تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔”

خواہشات کی قربانی

اصل قربانی صرف جانور کی نہیں بلکہ اپنی خواہشات کی قربانی ہے۔ جب اللہ کے حکم اور ہماری خواہشات میں ٹکراؤ ہو تو ہمیں خواہشات کو قربان کرنا چاہئے، نہ کہ اللہ کے احکام کو۔

نمازِ عید کے بعد راستہ بدلنا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا خَرَجَ یَوْمَ الْعِیْدِ فِی طَرِیْقٍ رَجَعَ فِی طَرِیْقٍ آخَرَ
(سنن الترمذي:541۔ وصححہ الألباني)

ترجمہ: “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے تھے۔”

نتیجہ

عید الاضحیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال اطاعت کی یاد دلاتی ہے۔ ہمیں بھی اسی جذبۂ تسلیم و رضا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا چاہئے۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، تکبر، گناہوں اور نافرمانی کو ذبح کرنے کا نام ہے۔

اللہ تعالیٰ ہماری قربانیاں قبول فرمائے، ہمیں اخلاص عطا فرمائے اور ہمیں سچی اطاعت کی توفیق دے۔ آمین۔