مضمون کے اہم نکات
عید کے دن غسل کا مستحب ہونا:
نماز عید کے لئے جانے سے پہلے غسل کرنا مستحب ہے۔ امام ابن قدامہ بیان کرتے ہیں کہ عید کے لئے غسل کرنا مستحب ہے۔
[المغني:3/256]،[الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف:4/257]،[وبدائع الصنائع:1/279]
اس بات پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جس کو امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ: رسول اللہﷺ نے فرمایا:
إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك.
یقینا اس (جمعہ کے دن) کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے عید بنایا ہے۔ پس جو شخص جمعہ کے لئے آئے اس کو چاہیے کہ غسل کرے۔ اور اگر خوشبو میسر ہو تو اس کو استعمال کرے، اور مسواک کو لازم کرو۔
[سنن ابن ماجه، أبواب إقامة الصلاة، باب ما جاء في الزينة يوم الجمعة، رقم الحدیث:1098]،[حافظ منذری نے اس حدیث کی اسناد کو (حسن) قرار دیا ہے ۔[ ملاحظہ ہو: الترغيب والترهيب:1/498] اور شیخ البانی نے اس حدیث کو (حسن) قرار دیا ہے۔[ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابن ماجه:1/181]
اس حدیث شریف میں جب جمعہ کے دن غسل کرنے، خوشبو استعمال کرنے اور مسواک کرنے کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے، کہ جمعہ کو اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کے لئے عید بنایا ہے۔ تو عید کے دن ان تینوں کاموں کا کرنا اور زیادہ ضروری اور پسندیدہ ہوگا۔ امام ابن قدامہ نے تحریر کیا ہے کہ آنحضرتﷺ نے ان باتوں کی علت یہ بیان فرمائی کہ جمعہ عید ہے۔
[المغني:3/257]
علاوہ ازیں امام مالک نے حضرت نافع سے روایت نقل کی ہے کہ:
أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما كان يغتسل يوم الفطر قبل أن يغدو إلى المصلى.
بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر کے دن عید گاہ جانے سے پہلے غسل کیا کرتے تھے۔
[الموطأ، كتاب العيدين، باب العمل في غسل العيدين، والنداء فيهما، والإقامة، رقم الرواية:2]،[مصنف عبد الرزاق، كتاب صلاة العيدين ، باب الاغتسال في يوم العيد، رقم الرواية:5753 ،3/309]،[ومصنف ابن أبي شيبه، كتاب الصلوات، في الغسل يوم العيدين،2/181]،[امام عبد الرزاق نے اس روایت کے نقل کرنے کے بعد تحریر کیا ہے:،،وأنا أفعله،، ترجمہ: اور میں بھی غسل کرتا ہوں]،[المصنف:3/309]،[امام نووی نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے]،[ملاحظہ هو: المجموع:5/10]،[نیز ملاحظه هو:زاد المعاد:1/121]
بہترین کپڑے پہن کر عید کے لئے جانا:
عید کے لئے بہترین لباس پہن کر جانا مستحب ہے۔
[ملاحظہ ہو:الأوسط:4/264]،[وبدائع الصنائع:1/279]،[والمغني:3/257]
امام ابن قیم رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے، کہ رسول اللہﷺ یہ عیدین کے موقع پر اپنا سب سے زیادہ خوبصورت لباس پہنتے تھے۔
[زاد المعاد:1/121]
اس بات کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو امام طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا:
كان رسول الله عل يلبس يوم العيد بردة حمراء.
رسول اللہﷺ عید کے دن سرخ دھاریوں والی چدر زیب تن فرماتےتھے۔
[مجمع الزوائد، أبواب العيدين، باب اللباس يوم العيد،2/198] اور اس کے بارے میں حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے: اس کو طبرانی نے [الأوسط] میں روایت کیا ہے اور اس کے روایت کرنے والے ثقہ ہیں[مجمع الزوائد:2/198]،[نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الأحاديث الصحيحة،رقم الحديث.1279]
عید کے موقع پر عمدہ لباس پہننے کے لئے اس حدیث سے بھی استدلال کیا گیا ہے۔ جس کو امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا کہ :
حضرت عمر ایک موٹے ریشمی جبہ کو، جو بازار میں فروخت ہو رہا تھا ، اٹھا کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی :يا رسول الله! ابتع هذه، تجمل بها للعيد والوفود.
یا رسول اللہﷺ! اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود سے ملاقات کے، وقت زینت کے لئے پہنا کیجئے۔
رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: إنما هذه لباس من لا خلاق له: یہ تو ان لوگوں کا لباس ہے جن کا [ آخرت میں ] کچھ حصہ نہیں۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، جزء من رقم الحديث:948]
امام بخاری نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے:
[باب في العيدين والتجمل فيه: عیدین اور ان کے موقع پر زینت کا اہتمام کرنے کے بارے میں باب]
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، جزء من رقم الحديث:948]
حافظ ابن حجر تحریر کرتے ہیں کہ حدیث کا یہ عنوان اس بات سے لیا گیا۔ ہے کہ آنحضرتﷺ نے عید اور وفود سے ملاقات کے وقت زینت کا اہتمام کرنے کی تجویز پر کچھ اعتراض نہیں فرمایا۔ آپﷺ نے صرف اس جبہ کی خریداری کے بارے میں مشورے سے سرزنش کی (کیونکہ مردوں کے لئے ریشمی جبہ پہننا حرام ہے)
[فتح الباري:2/439]
علامہ سندھی رقم طراز ہیں کہ عمر فاروق کی تجویز سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عید کے دن زینت کا اہتمام کرنا ان کے ہاں ایک معروف دستور تھا۔ اور آپﷺ کے اس پر اعتراض نہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ طریقہ [اسلام میں بھی باقی ہے]۔
[حاشيه السندي علي سنن النسائي:3/181]
علاوہ ازیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں امام بیھقی رحمہ اللہ نے نافع سے روایت نقل کی ہے کہ:
[أن ابن عمر رضي الله عنهما كان يلبس في العيدين أحسن ثيابه]
بے شک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما عیدین کے موقع پر اپنا سب سے عمدہ لباس زیب تن کرتے تھے۔
[السنن الكبرى، كتاب صلاة العيدين باب الزينة للعيد، رقم الرواية:6143]،[حافظ ابن حجر نے اس کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے ۔[ملاحظہ ہو: فتح الباري:2/439]
تنبيه: عیدین کے موقع پر بہترین لباس پہننےکے موقع پر بہترین لباس پہننے کے سلسلے میں یہ تنبیہ ضروری ہے کہ کوئی مسلمان اس غرض سے اپنے وسائل سے تجاوز نہ کرے کیونکہ ایسا کرنا درست نہیں۔ ہر مسلمان اپنے وسائل کی حدود میں عمدہ لباس پہنے۔
عیدین میں کھانا:
مولائے کریم کی توفیق سے عیدین کے موقع پر کچھ کھانے کے متعلق گفتگو درج ذیل تین نکات کے ضمن میں پیش کی جارہی ہے:
① عید الفطر میں روانگی سے پہلے کھجوریں تناول کرنا:
عید الفطر میں مسنون طریقہ یہ ہے کہ نماز عید کے لئے روانہ ہونے سے، پہلے طاق تعداد میں کھجوریں کھائی جائیں ۔ اس بات پر دلالت کرنے والی احادیث میں سے دو درج ذیل ہیں:
① امام بخاری نے حضرت انس سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
كان رسول الله لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات۔
رسول اللہﷺ عید الفطر کے دن کھجور میں تناول فرمائے بغیر نہ نکلتے۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين،باب الأكل يوم الفطر قبل الخروج،رقم الحدیث:953]
② امام حاکم نے حضرت انس سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے
ما خرج رسول اللهﷺ يوم فطر حتى يأكل تمرات ثلاثا، أو خمسا أو سبعا أو أقل من ذلك أو أكثر من ذلك وترا.
رسول اللهﷺ کبھی بھی عید الفطر کے دن تین، پانچ سات یا اس سے کم یا زیادہ تعداد میں کھجور میں تناول کیے بغیر نہ نکلتے، کھجوروں کی تعداد بہر صورت طاق ہوتی۔
[ المستدرك على الصحيحين، كتاب صلاة العيدين،1/294]،[امام حاکم نے اس حدیث کو امام مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے۔ اور حافظ ذہبی نے اس پر سکوت اختیار کیا ہے۔[ملاحظہ ہو: التلخيص:1/294]،[امام ابن حبان نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ البتہ اس میں [أو أقل من ذلك أو أكثر من ذلك وترا] کے الفاظ نہیں۔[ملاحظہ ہو: الإحسان في تقريب صحيح ابن حبان، كتاب صلاة، باب العيدين، ذكر ما يستحب للمرء أن يكون أكله التمر يوم العيد وترا لا شفعاً،رقم الحدیث:2814، 7/53]
② عید الفطر میں روانگی سے پہلے کھجوریں کھانے کی حکمت:
عید الفطر کے روز صبح سویرے کھجور میں تناول کرنے میں بندے کی طرف سے اپنے مولائے کریم کے حکم کی فوری تعمیل کا اقرار و اظہار ہے بندہ اپنے عمل سے اس بات کا اعلان کرتا ہے: اے میرے مالک! آپ نے روزے رکھنے کا حکم دیا تو میں نے روزے رکھے۔ اب آپ کا حکم روزے چھوڑنے کا ہے تو میں صبح سویرے آپ کے ارشاد کی تعمیل کی خاطر کھجوریں تناول کر رہا ہوں۔
[المغني:3/259]،[فتح الباري:2/447]
اگر کھجوریں میسر نہ ہوں تو کھانے کی جو چیز میسر ہو وہی تناول کر لی جائی، اور اگر پانی کے سوا اور کچھ موجود نہ ہو تو پانی ہی پی لیا جائے۔
[فتح الباري:2/447]
③ عید الاضحیٰ میں نماز عید کے بعد قربانی کے گوشت سے کھانا:
عید الاضحیٰ میں سنت طریقہ یہ ہے کہ نماز عید کے بعد اپنی قربانی کے گوشت، سے روز عید کے کھانے کی ابتدا کرے۔ امام ترندی نے حضرت بریدہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:
كان النبيﷺ لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي
عید الفطر کے دن نبی کریمﷺ کھائے بغیر نہ نکلتے، اور عید الاضحی کے دن نماز [عید] پڑھنے تک کچھ تناول نہ فرماتے۔
[جامع الترمذي، أبواب العيدين،باب في الأكل يوم الفطر قبل الخروج،حدیث:542]،[شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔[ملاحظہ ہو:صحيح سنن الترمذي:1/168]
اور سنن ابن ماجہ کے الفاظ یوں ہیں:
وكان لا يأكل يوم النحر حتى يرجع.
آپﷺ قربانی کے دن [نماز عید سے] واپس پلٹنے تک کچھ تناول نہ فرماتے۔
[سنن ابن ماجه، أبواب ما جاء في الصيام، باب في الأكل يوم الفطر قبل أن يخرج، جزء من رقم الحديث:1760]
④ نماز عید الاضحیٰ سے پہلے کھانے کی اجازت:
اگر کوئی شخص نماز عید الاضحیٰ سے پہلے کچھ تناول کر لے تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ امام بخاری نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ ان کے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار نے آنحضرتﷺ کو بتلایا کہ انہوں نے نماز عید سے پہلے ایک بکری ذبح کی اور نماز کے لئے نکلنے سے پہلے، کھانا تناول کر لیا۔ آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا:
شاتك شاة لحم۔
تمہاری بکری تو گوشت کی بکری ہے۔[یعنی یہ تو قربانی کے لئے نہیں بلکہ گوشت حاصل کرنے کے لئے ذبح کی گئی ہے۔]
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب الأكل يوم النحر،رقم الحدیث:955]
جیسا کہ اس حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے، کہ آنحضرتﷺ نے نماز عید سے پہلے ذبح شدہ بکری کے متعلق تو فرما دیا کہ وہ قربانی کی بکری نہیں لیکن نماز عید سے پہلے حضرت ابو بردہ کے کھانا تناول کرنے پر کچھ اعتراض نہیں فرمایا۔ اگر نماز عید سے پیشتر کھانا تناول کرنا گناہ کا سبب ہوتا تو آپ یہ اس بات پر بھی ضرور تنبیہ فرما دیتے ۔
عید گاہ میں نماز عید ادا کرنا:
سنت یہ ہے کہ نماز عید عید گاہ میں ادا کی جائے متعدد احادیث شریف سے یہ بات ثابت ہے کہ نبی کریمﷺ عیدین کی نماز عید گاہ ہی میں پڑھایا کرتے تھے۔ انہی احادیث میں سے دو درج ذیل ہیں:
① امام بخاری نے حضرت ابو سعید خدری اللہ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا: كان رسول اللهﷺ يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى۔
رسول اللهﷺ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ تشریف لے جاتے تھے۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر، جزء من رقم الحديث:956]
حافظ ابن حجر نے کتاب [أخبار المدينة] سے نقل کیا ہے کہ: المصلی [عید گاہ] مدینہ میں ایک معروف جگہ ہے۔ اس کے اور مسجد کے دروازے کے درمیان ایک ہزار ہا تھ کی مسافت ہے۔
[فتح الباري:2/449]
علامہ عینی حدیث شریف کے فوائد بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں : عید گاہ کی طرف [نماز عید کے لئے] نکلا جائے گا اور بلا ضرورت مسجد میں نماز عید نہ پڑھی جائے گی۔
[عمدة القاري:280/6-281]
② امام بخاری نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے۔ کہ: كان النبي يعدو إلى المصلى ، والعنزة بين يديه، تحمل، وتنصب بالمصلى بين يديه، فيصلي إليها.
نبی کریمﷺ عید گاہ کی طرف جایا کرتے تھے، اور نیزہ آپ کے آگے ہوتا۔ نیزہ کو عید گاہ میں لے جا کر آپ کے سامنے نصب کیا جاتا، اور آپ اس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب حمل العنزة أو الحربة بين يدي الإمام يوم العيد، رقم الحدیث:973]
امام ابن قیم تحریر کرتے ہیں کہ: آنحضرت یہ عیدین کی نماز عید گاہ میں ادا فرماتے۔ ایک روایت کے مطابق— بشرط ثبوت روایت — آپ نے صرف ایک مرتبہ بارش کی بنا پر مسجد میں نماز عید پڑھی۔ آپﷺ کی دائمی سنت اس کو عید گاہ میں ادا کرنا تھا۔ [زاد المعاد:1/121باختصار]
امام بغوی فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ نماز عید کے لئے عید گاہ کی طرف نکلا جائے، تاہم عذر کی صورت میں نماز مسجد میں ادا کی جائے گی۔[شرح السنة:4/294]،[نیز ملاحظه هو:المغني:3/260]
عذر کی صورت میں نماز عید ادا کرنے کے بارے میں امام ابن حزم تحریرکرتے ہیں:
وقد روينا عن عمر و عثمان رضي الله عنهما أنهما صليا العيد بالناس في المسجد لمطر وقع يوم العيد.
ہم نے حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے عید کے دن بارش ہونے کی بنا پر لوگوں کو مسجد میں نماز عید پڑھائی۔ [المحلى:128/5-129]
عورتوں کا عید گاہ جانا:
رب العزت کی توفیق سے عورتوں کے عید گاہ جانے کے بارے میں گفتگو درج ذیل چار نکات کے ضمن میں کی جارہی ہے:
① نبی کریمﷺ نے مسلمان عورتوں کو عیدین کے موقع پر عید گاہ جانے کا حکم دیا ہے۔ امام مسلم نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے۔ کہ انہوں نے کہا:
أمرنا رسول الله ﷺ أن نخرجهن في الفطر والأضحى، العواتق ، والحيض، وذوات الخدور، فأما الحيض فيعتزلن الصلاة، ويشهدن الخير، ودعوة المسلمين. فقلت: يا رسول اللهﷺ! إحدانا لا يكون لها جلباب قال: لتلبسها أختها من جلبابها.
[صحیح مسلم، كتاب صلاة العيدين، باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى وشهود الخطبة، مفارقات للرجال، رقم الحديث:2056(890)]
رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم عورتوں کو عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں [عید گاہ] لے جائیں، جوان لڑکیوں، حیض والی عورتوں اور پردہ نشین خواتین کو بھی۔ ہاں حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں۔ [لیکن] وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔
[صحیح مسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے: قالت: الحيض يخرجن، فيكن خلف الناس، يكبرن مع الناس (صحیح مسلم:2055(890)) انہوں (ام عطیہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: حیض والی عورتیں لوگوں کے پیچھے رہیں اور لوگوں کے ساتھ تکبیریں کہیں۔]
میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ہم میں سے کسی ایک کے پاس جلباب نہ ہو [یعنی وہ کیا کرے؟] آپ نے فرمایا: اس کی بہن اس کو اپنی چادر اوڑھا دے ۔
[ترمذی کی روایت میں ہے: قال: فلتعرها اختها من جلبابها. اس کی بہن اپنی جلباب اس کو عاریتا دے دے جامع الترمذي، أبواب العيدين، باب خروج النساء في العيدين، 1/379 ط: دار الكتاب العربي.بيروت]
علامہ شوکانی اس حدیث شریف کے بارے میں تحریر کرتے ہیں: یہ حدیث اور اس کے ہم معنی احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ سب عورتوں کا عیدین کے موقع پر عید گاہ جانا مستحب ہے خواہ وہ غیر شادی شدہ ہوں یا شادی شده، جوان ہوں یا بوڑھی، حیض والی ہوں یا دوسری۔ البتہ عدت والی عورتیں یا جن کے جانے میں فتنے کا اندیشہ ہو، یا کوئی اور عذر ہو تو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔[نيل الأوطار:3/354]
امام ابن قدامہ نے اپنی کتاب [المغنی] میں یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد بعض ایسے حضرات کے اقوال نقل کیے ہیں جو عورتوں کے عید گاہ جانے کو پسند نہیں کرتے۔ پھر اس بارے میں انتہائی زوردار ، موثر اور عظیم الشان تبصرہ صرف ایک جملے میں بایں الفاظ کیا ہے: وسنة رسول الله ﷺ أحق أن تتبع…
رسول اللہﷺ کی سنت سب سے زیادہ اتباع کی حق دار ہے۔ [المغني:3/265]
② مزید برآں رسول کریمﷺ کے حکم کی تعمیل میں مسلمان عورتیں آپ کے زمانہ مبارک میں عید گاہ حاضر ہوتیں تھی ۔ امام بخاری نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا:
قام النبي ﷺ يوم الفطر فصلى، فبدأ بالصلاة ثم خطب، فلما فرغ نزل فأتى النساء، فذكرهن، وهو يتوكا على يد بلال..
نبی کریمﷺ عید الفطر کے دن اٹھے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ ارشاد فرمایا ۔ [خطبہ سے] فارغ ہو کر عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور حضرت بلال کے ہاتھ پر ٹیک لگائے وعظ و نصیحت فرمائی۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب موعظة الإمام النساء يوم العيد، جزء من رقم الحديث:978]
③ آنحضرتﷺ کی اپنی پردہ نشین جوان عورتیں بھی عید گاہ میں حاضر ہوتیں تھیں۔ امام احمد نے احمد نے حضرت عائشہ رضی ا کشہ رضی اللہ عنہا سے روایت: اسے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا: قد كانت تخرج الكعاب من خدرها لرسول اللهﷺ في العيدين.
رسول اللہﷺ کی جوان عورتیں اپنے پردے [گھر]سے عیدین کے لئے جاتی تھیں۔
[الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل،أبواب العيدين، باب، مشروعية خروج النساء إلى العيدين، رقم الحديث:1628، 2/134]،[ حافظ ہیمی نے اس کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ: احمد نے اس کو روایت کیا ہے اور ان کے روایت کرنے والے صحیح کے روایت کرنے والے ہیں۔ [مجمع الزوائد:2/200]
④ یہاں یہ بات انتہائی قابل توجہ ہے کہ جہاں عورتوں کے لئے عید گاہ جانا سنت سے ثابت ہے وہاں ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ درج ذیل باتوں کا شدت سے اہتمام کریں:
- باپردہ حالت میں عید گاہ جائیں جیسا کہ پہلی حدیث سے واضح ہے۔ کہ جس عورت کے پاس [جلباب] نہ ہو آپ ﷺ نے اس کو [جلباب] کے بغیر جانے کی اجازت نہیں دی بلکہ فرمایا کہ اس کی مسلمان بہن عاریتاً [جلباب] اس کو دے دے۔
اور [جلباب] سے مراد جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا ہے ۔ وہ اوڑھنی ہے جو اوپر سے لے کر نیچے تک سارے جسم کو چھپا دے۔
[تفسير القاسمي:13/208]
اور اس [جلباب] کے لڑکانے کا اللہ تعالیٰ نے سب مسلمان عورتوں کو اس آیت کریمہ میں حکم دیا ہے:[يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِالْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ]
ترجمہ: اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی اوڑھنی لٹکا لیا کریں۔
[سورة الأحزاب:59]
اور [يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ] کی تفسیر میں قاضی بیضاوی تحریر کرتے ہیں: يغطين وجوههن وأبدانهن بملاحفهن إذا برزن لحاجة.
جب کسی ضرورت کے لئے نکلیں تو اپنی اوڑھنیوں سے اپنے چہروں اور جسموں کو چھپا کر نکلیں۔
[تفسير البيضاوي:2/252]
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عید گاہ جانے والی مسلمان عورتیں اسی طرح با پردہ ہو کر نکلیں جس طرح باپردہ ہو کر نکلنےکا اللہ اور رسول کریمﷺ نے حکم دیا ہے۔
- اسی طرح عید گاہ جانے والی عورت پر لازم ہے کہ وہ بغیر خوشبو استعمال کیے جائے۔
امام ابو داود نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: لا تمنعوا أماء الله مساجد الله، ولكن ليخرجن، وهن تفلات.
اللہ تعالیٰ کی باندیوں کو اللہ تعالیٰ کی مسجدوں میں جانے سے نہ روکو۔ لیکن وہ بھی بغیر خوشبو لگائے نکلیں۔
[سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب ما جاء في خروج النساء إلى المسجد،رقم الحدیث:561]،[اس حدیث کے بارے میں شیخ البانی نے تحریر کیا ہے کہ یہ حسن صحیح ہے۔[ملاحظہ ہو: سنن أبي داود:1/113]
ایک اور حدیث میں ہے جس کو امام نسائی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أيما امرأة استعطرت فمرت على قوم ليجدوا من ريحها فهي زانية.
جو عورت خوشبو استعمال کر کے لوگوں کے پاس سے گزرے تا کہ اس کی خوشبوان تک پہنچے وہ عورت بدکار ہے۔
[سنن النسائي، كتاب الزينة، ما يكره للنساء من الطيب،8/153]،[شیخ البانی نے اس حدیث کو (حسن) قرار دیا ہے۔[صحیح سنن النسائي:3/1049]
اسی طرح عید گاہ جانے والی عورت آنے جانے کے دوران عید گاہ میں غیر محرم مردوں کے ساتھ اختلاط سے مکمل اجتناب کرے۔ امام ابوداؤد نے حضرت ابواسید انصاری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ: انہوں نے مسجد کے باہر رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، جب کہ راستے میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو چکا تھا۔ رسول اللہﷺ نے عورتوں سے فرمایا:استأخرن فإنه ليس لكن أن تحققن الطريق.عليكن بحافات الطريق.
پیچھے ہٹ جاؤ تمہارے لئے یہ جائز نہیں کہ راستے کے درمیان میں چلو راستے کے کناروں میں چلو۔
[سنن أبي داود، كتاب الأدب، باب في مشي النساء مع الرجال في الطريق، رقم الحديث:5261]،[شیخ البانی نے اس حدیث کو [حسن] قرار دیا ہے ۔[ صحيح سنن أبي داود:3/989]
[اس کے بعد] عورت دیوار کے ساتھ اس قدر چمٹ کر چلتی تھی کہ اس کی اوڑھنی دیوار کے ساتھ اٹکتی تھی۔
بچوں کو عید گاہ لے جانا:
عیدین کے موقع پر بچوں کو عید گاہ لے جانا سنت سے ثابت ہے۔ امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نےکہا:
خرجت مع النبي الله يوم فطر أو أضحى، فصلى، ثم خطب، ثم أتى النساء، فوعظهن وذكرهن، وأمرهن بالصدقة. میں عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نبی کریمﷺ کے ساتھ (عید گاہ کی طرف) نکلا، آپ نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا: پھر عورتوں کے پاس تشریف لے گئے۔ انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اور صدقہ کرنے کا حکم دیا۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب خروج الصبيان إلى المصلى،رقم الحدیث:975]
ایک دوسری روایت سے ثابت ہے کہ اس وقت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بچے تھے۔
[صحيح البخاري،باب العلم الذي بالمصلى،رقم الحديث:977]
[امام بخاری نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے:باب خروج الصبيان إلى المصلى: بچوں کو عید گاہ کی طرف جانے کے متعلق باب :[صحيح البخاري: رقم الحديث:975]
حافظ ابن حجر اس عنوان کی شرح میں تحریر کرتے ہیں:
اگرچہ وہ بچے [اپنی کم سنی کی بنا پر] نماز نہ پڑھیں۔ زین بن منیر نے کہا: مؤلف نے [نماز عید کے لئے جانا] کی بجائے [عید گاہ کی طرف جانا] کے عنوان کو ترجیح دی ہے تا کہ عید گاہ جانے میں سب بچے شریک ہوں خواہ وہ نماز ادا کرتے ہوں یا اپنی صغر سنی کی بنا پر ] نماز ادا نہ کرتے ہوں۔
[فتح الباري:2/464]،[نیز دیکھئے:عمدة القاري:6/297]
تنبیہ: بچوں کے سرپرست حضرات اس بات کا خیال رکھیں کہ بچے نظم و ضبط کو خراب نہ کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے شور و غل اور کھیل کود کے سبب لوگوں کی نماز میں خلل پیدا ہو۔
[فتح الباري:2/466]
تکبیرات پکارتے ہوئے عید گاہ جانا:
مردوں کو عید گاہ کی طرف تکبیرات پکارتے جانا چاہیے ۔ اللہ تعالی نے فرمایا: (يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ )
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے تختی کا نہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ تم [رمضان کے روزوں کی گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی۔ ہدایت پر اس کی تکبیر کہو [بڑائیاں بیان کرو] اور اس کا شکر کرو۔
[سورة البقرة:185]
حافظ ابن کثیر تحریر کرتے ہیں کہ علماء کی ایک کثیر تعداد نے اس آیت سے عید الفطر میں تکبیرات کہنے کی مشروعیت کا استنباط کیا ہے۔
[تفسير ابن كثير:1/232-233]،[ملاحظہ ہو:تفسير القرطبي:2/306]،[ وزاد المسير:1/188]
علاوہ ازیں امام ابن ابی شیبہ نے حضرت زھری سے روایت نقل کی ہے۔
أن رسول الله ﷺ كان يخرج يوم الفطر، فيكبر، حتى يأتي المصلى، وحتى يقضي الصلاة، فإذا قضى الصلاة، قطع التكبير۔
یقیناً رسول اللہﷺ عید الفطر کے دن تکبیریں کہتے ہوئے عید گاہ کی طرف روانہ ہوتے، نماز ادا کرنے تک تکبیروں کا سلسلہ جاری رکھتے، جب نماز ادا کر لیتے تو تکبیریں کہنا ترک کر دیتے۔
[المصنف، كتاب الصلوات، في التكبير إذا خرج إلى العيد،2/164]،[شیخ البانی نے اس حدیث کے بارے میں تحریر کیا ہے کہ: اگر یہ حدیث [مرسل] نہ ہوتی تو اس کی سند صحیح ہے]،[البتہ امام بیہقی نے جو [موصول]حدیث روایت کی ہے اس کی وجہ سے یہ حدیث قوی ہو گئی ہے۔ [ملاحظہ ہو: سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم الحدیث:171]
مزید بر آں امام ابن ابی شیبہ اور امام بیہقی نے نافع سے روایت نقل کی ہے کہ: عن ابن عمر رضي الله عنهما أنه كان يغدو يوم العيد ويكبر ويرفع صوته حتى يبلغ الإمام.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما روز عید بلند آواز سے تکبیریں کہتے ہوئے روانہ ہوتے۔ اور یہ سلسلہ امام کے آنے تک جاری رکھتے۔
[المصنف، كتاب الصلوات، في التكبير إذا خرج إلى العيد،2/164]،[والسنن الكبرى، كتاب صلاة العيدين، باب التكبير ليلة الفطر ويوم الفطر، وإذا غدا إلى صلاة العيد،3/394، متن میں الفاظ حدیث المصنف کے ہیں]
مذکورہ بالا حدیث شریف پر تبصرہ کرتے شیخ البانی تحریر کرتے ہیں کہ: یہ حدیث عید گاہ کی طرف جاتے ہوئے جہری آواز سے تکبیریں کہنے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہے اور مسلمانوں کا اس پر ہمیشہ عمل رہا ہے۔ اگر چہ اب بہت سے لوگوں نے دینی جذبہ کی کمزوری اور اظہار سنت میں جھجک کی بنا پر اس بارے میں اس قدرستی شروع کر دی ہے کہ یہ سنت قصہ پارینہ بنتی نظر آ رہی ہے۔[سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم الحديث:171]
تنبیہ: یہاں اس بات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ لوگوں کا مل کر ایک آواز میں تکبیریں کہنا ثابت نہیں، اور ہم سب کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بہترین طریقہ حضرت محمدﷺ کا طریقہ ہے: وخير الهدي هذي محمد صلى اللهﷺ۔ [سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم الحديث:171]
تکبیرات کہنے کا وقت ابتدا اور انتہا:
عیدین میں تکبیرات کہنے کے آغاز اور اختتام کے بارے میں قدرے تفصیل سے ذیل میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے گفتگو کی جارہی ہے:
عید الفطر میں تکبیرات کہنے کا وقت آغاز و اختتام:
امام طبری نے ابن زید سے روایت کی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے:
حق على المسلمين إذا نظروا إلى هلال شوال أن يكبروا. الله حتى يفرغوا من عيدهم، لأن الله تعالى ذكره، يقول: [وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ: [سورة البقرة:185]
شوال کا چاند دیکھنے پر مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ تکبیر کہیں اور تکبیر کہنے کا یہ سلسلہ عید سے فارغ ہونے تک جاری رہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:(جس کے معانی کا ترجمہ یہ ہے: اور تاکہ تم [رمضان کے روزوں کی گنتی پوری کر لو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی تکبیر کہو]
[تفسير الطبري، رقم الرواية:2903]،[زاد المسير:1/188]،[تفسير البغوي:1/153]
امام ابن قدامہ نے اس بارے میں تحریر کیا ہے: مذکورہ آیت کریمہ کی بناء پر دونوں عید کی راتوں میں (عید کی رات سے مراد روز عید سے پہلے والی رات ہے) سب لوگ خواہ وہ مسافر ہوں یا مقیم اپنی مسجدوں، گھروں اور راستوں میں باآواز بلند تکبیر کہیں۔ [المغني:3/255]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ تحریر کرتے ہیں کہ:عید الفطر میں تکبیر کا آغاز چاند دیکھنے سے اور اختتام عید سے فارغ ہونے پر ہے۔ اور عید سے فارغ ہونے اسے صحیح قول کے مطابق۔ مراد یہ ہے کہ امام خطبہ سے فارغ ہو جائے۔ [مجموع الفتاوى:24/221]
خلاصہ کلام یہ ہے کہ عید الفطر میں تکبیر شوال کا چاند دیکھنے سے لے کر امام کے خطبہ عید سے فارغ ہونے تک کہی جائے۔
عید الاضحی میں تکبیرات کہنے کا وقت آغاز و اختتام:
اس بارے میں حافظ ابن حجر رقم طراز ہیں : اس بارے میں نبی کریمﷺ سے کوئی حدیث ثابت نہیں۔ حضرات صحابہ کے اقوال میں سے سب سے زیادہ صیح قول حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما کا ہے کہ تکبیر یوم عرفہ کی صبح سے منی کے آخری دن تک ہے۔
[فتح الباري:2/462]،[عمدة القاري:6/293]
بعض علماء کی رائے میں یہ تکبیرات صرف فرض نمازوں کے بعد ہے لیکن امیر المومنین عمر فاروق اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بات ثابت ہے کہ وہ دیگر اوقات میں بھی تکبیرات پکارا کرتے تھے۔ امام بخاری نے اس بارے میں تحریر کیا ہے: باب التكبير أيام منى وإذا غدا إلى عرفة
وكان عمر يكبر في قبته بمنى فيسمعه أهل المسجد فيكبرون ويكبر أهل الأسواق حتى ترتج منى تكبيرا. وكان ابن عمر رضي الله عنهما يكبر بمنى تلك الأيام، وخلف الصلوات، وعلى فراشه، وفي فسطاطه، وممشاه تلك الأيام جميعا
منی کے دنوں میں اور عرفات کی طرف روانگی کے وقت تکبیر کہنے کےمتعلق باب:
منی میں حضرت عمررضی اللہ عنہ اپنے خیمے میں تکبیر کہتے تو مسجد والے ان کی تکبیر کو سن کر تکبیر کہتے ۔ اور [مسجد والوں کی تکبیر سن کر] بازاروں والے تکبیر کہتے یہاں تک کہ منی تکبیر کی آواز سے گونج اٹھتا تھا۔
اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ان سب دنوں میں نمازوں کے بعد، اپنے بستر پر، اپنے خیمے میں، اپنی مجلس، اور اپنی راہ میں تکبیر کہا کرتے تھے۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين:2/461]
تکبیرات کے الفاظ:
رسول اللہﷺ کے الفاظ تکبیر کے بارے میں میرے محدود علم میں کوئی حدیث نہیں البتہ حضرات صحابہ کے الفاظ تکبیر کا ذکر کتب حدیث میں موجود ہے۔ اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے تین روایات کا ذکر ذیل میں کیا جا رہا ہے: حافظ ابن حجر نے تحریر کیا ہے کہ: الفاظ تکبیر کے بارے میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جس کو امام عبد الرزاق نے حضرت سلمانﷺ سے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: كبرُوا اللَّهَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ اكْبَرُ كَبِيرًا.[فتح الباري:2/322]
اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو: اللهُ أَكْبَر، اللهُ أَكْبَر، الله أَكْبَرُ كَبِيرًا.
امام ابن ابی شیبہ نے ابوالا حوص سے روایت نقل کی ہے کہ عن عبد الله، أنه كان يكبر أيام التشريق: الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، ولله الحمد.
[المصنف، كتاب الصلوات، كيف يكبر يوم عرفة،2/167]،[شیخ البانی نے اس کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو : إرواء الغليل:3/125]
حضرت عبداللہ بن مسعود ایام تشریق میں یہ الفاظ تکبیر کہتے تھے:
اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَاللَّهِ الْحَمْدُ.
امام ابن ابی شیبہ نے عکرمہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں بیان کیا: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اللهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.
[المصنف، كتاب الصلوات، كيف بكبر يوم عرفة،2/168]
وہ تکبیرات میں کہا کرتے تھے: اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَلِلَّهِ الْحَمْدُ.
الفاظ تکبیر کے متعلق۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب — یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ مخصوص الفاظ کی پابندی نہیں، البتہ حضرات صحابہ میں سے کسی ایک سے ثابت شدہ الفاظ میں تکبیر کہنا زیادہ پسندیدہ ہے۔
تکبیرات کون کہے؟
رب کریم کی توفیق سے اس سوال کا جواب درج ذیل دو نکات کے ضمن میں پیش کیا جا رہا ہے:
① عیدین کے موقع پر سب اہل اسلام تکبیرات کہیں۔ مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی تکبیرات کہیں۔ امام بخاری نے نقل کیا ہے: وكانت ميمونه رضي الله عنها تكبر يوم النحر، وكن النساء يكبرن خلف أبان بن عثمان، وعمر بن عبد العزيز رحمه الله تعالى ليالي التشريق مع الرجال في المسجد.
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قربانی کے دن تکبیر کہتی اور عورتیں تشریق کی راتوں میں(گیارہ، بارہ، تیرہ ذوالحجہ کی راتیں) ابان بن عثمان، اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالی کے پیچھے مسجد میں مردوں کے ساتھ تکبیر کہتیں تھیں۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب التكبير أيام منى، وإذا غدا إلى عرفة،2/481]
[(ابان بن عثمان): یہ حضرت عثمان بن عفان کے صاحبزادے ہیں اور عبد الملک بن مروان کے زمانے میں مدینہ طیبہ کے گورنر تھے۔ملاحظہ ہو:[فتح الباري:2/462]
② بیماری کے دنوں والی عورتیں بھی تکبیرات کہیں ۔ امام بخاری نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا: كنا نؤمر أن نخرج يوم العيد، حتى نخرج البكر من خدرها، حتى نخرج الحيض فيكن خلف الناس، فيكبرن بتكبيرهم، ويدعون بدعائهم، يرجون بركة ذلك اليوم وطهرته.
ہمیں روز عید [عید گاہ کی طرف] نکلنے کا حکم دیا جاتا تھا، یہاں تک کہ ہم دوشیزاؤں کو ان کے پردوں سے نکالیں اور حیض والی عورتوں کو بھی نکالیں البتہ وہ لوگوں کے پیچھے رہیں، اور ان کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہیں، اور ان کی دعا کے ساتھ دعا کریں، وہ سب [عید گاہ میں حاضر ہونے والے مسلمان مرد اور عورتیں] اس دن کی برکت اور گناہوں کی معافی کی امید رکھتے ہیں۔
[صحيح البخاري كتاب العيدين، باب التكبير أيام منى، وإذا غدا إلى عرفة، رقم الحدیث:971]
تنبیہ: البتہ عورتیں ایسی آواز سے تکبیر نہ کہیں کہ ان کی آواز مردوں تک پہنچے
نماز عیدین کا حکم:
عیدین کی نماز ادا کرنا اہل اسلام پر فرض ہے ۔ اس بارے میں چند ایک دلائل درج ذیل ہیں:
① اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ)
ترجمہ: لہذا آپ اپنے رب کے لئے نماز پڑھیے اور قربانی کیجئے۔[سورة الكوثر:2]
امام قرطبی نے حضرات ائمہ قتادة، عطاء، عکرمہ رحمہم اللہ تعالیٰ سے نقل کیا۔ ہے کہ (فصل لربك) سے مراد قربانی کے دن نماز عید ہے۔ [تفسير القرطبي:20/218]
حافظ ابن جوزی نے (فَصَلِّ لِرَبِّكَ) کی تفسیر میں تحریر کیا ہے کہ: اس نماز کے بارے میں تین اقوال ہیں اور ان میں سے پہلا قول یہ ہے کہ اس سے مراد نماز عید ہے۔ [زاد المسير:9/249]
مذکورہ بالا حضرات ائمہ کی تفسیر کے مطابق اللہ عزوجل نے نماز عید پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا کسی بات کا حکم دینا اس بات کی فرضیت اور وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ [بدائع الصنائع:1/275]
② رسول اللہﷺ نے بھی نماز عید ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ امام ابوداود نے حضرت عمیر بن انس سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اپنے چچاؤں سے، جو کہ نبی کریمﷺ کے صحابہ میں سے تھے۔ روایت بیان کی ہے کہ:
أن ركبا جاء وا إلى النبي اليشهدون أنهم رأوا الهلال بالأمس، فأمرهم أن يفطروا، وإذا أصبحوا يغدوا إلى مصلاهم.
سواروں کی ایک جماعت نبی کریمﷺ کی خدمت میں آئی۔ اور اس بات کی شہادت دی کہ انہوں نے کل شام شوال کا چاند دیکھا تھا۔ آپ نےحکم دے دیا کہ روزہ افطار کر دو اور کل صبح [نماز عید کے لئے] عید گاہ آ جاؤ۔
[سنن أبي داود، باب تفريع أبواب الجمعة، باب إذ لم يخرج الإمام. للعيد من يومه يخرج من الغد، رقم الحديث:1145] [حافظ ابن حجر نے اس حدیث کی اسناد کو صحیح قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو:بلوغ المرام:ص97]
اس حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ نے حضرات صحابہ کو نماز عید کے لئے نکلنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اور کسی کام کے کرنے کے بارے میں آپﷺ کا حکم دینا اس عمل کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
③ پھر اسی پر بس نہیں بلکہ آنحضرتﷺ نے عورتوں کو بھی عید گاہ جانے کا حکم ارشاد فرمایا۔ امام مسلم نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا:
أمرنا رسول الله ﷺ أن نخرجهن في الفطر والأضحى العواتق، والحيض، وذوات الخدور، فأما الحيض فيعتزلن الصلاة، ويشهدن الخير، ودعوة المسلمين.
رسول اللہﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم عورتوں کو عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں [عید گاہ] نے جائیں، جوان لڑکیوں، حیض والی عورتوں اور پردہ نشین خواتین کو بھی۔ البتہ حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول الله إحدانا لا يكون لها جلباب.
یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی کے پاس جلباب نہیں ہوتی آپﷺ نے فرمایا: لتلبسها أختها من جلبابها.
اس کی بہن اس کو اپنی جلباب اوڑھا دئے۔
[ صحیح مسلم، كتاب صلاة العيدين، باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى وشهود الخطبة، مفارقات للرجال، رقم الحديث:12، 2/606]
جب آنحضرتﷺ کی طرف سے مسلمان عورتوں کے عید گاہ جانے کی اس قدر شدید تاکید ہے تو مسلمان مردوں کا نماز عید ادا کرنے کی غرض سے عید گاہ جانا کس قدر ضروری ہوگا۔
④ عید اور جمعہ ایک دن ہونے کی صورت میں نماز عید ادا کی جاتی ہے، اور عام لوگوں پر جمعہ کی فرضیت باقی نہیں رہتی۔ امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے: کہ انہوں نے کہا کہ: رسول اللہﷺ کے زمانے میں دو عیدیں [عید اور جمعہ] اکھٹی ہو گئیں تو آپ نے لوگوں کو نماز [عید] پڑھائی اور پھر فرمایا: من شاء أن يأتي الجمعة فليأتها، ومن شاء أن يتخلف فليتخلف.
جو جمعہ کے لئے آنا چاہے آجائے، اور جو نہ آنا چاہے نہ آئے۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ نماز جمعہ فرض ہے اور اگر نماز عید فرض نہ ہوتی تو اس کی وجہ سے نماز جمعہ کی فرضیت کس طرح ساقط ہو سکتی تھی؟
[سنن ابن ماجه، أبواب إقامة الصلاة، باب ما جاء إذا اجتمع العيدان في يوم، رقم الحديث:1306]،[شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو:صحیح سنن ابن ماجه:1/220]
⑤ نبی کریم ﷺ نے نماز عیدین شروع کرنے سے لے کر آخر زندگی تک ادا فرمائی اور کبھی بھی اس کو ترک نہ کیا ۔ امام ابن قدامہ نماز عیدین کے وجوب کے دلائل کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں: ومداومة النبيﷺ على فعلها. نبی کریمﷺ کا اس کو ہمیشہ ادا کرنا۔ [المغني:3/254]
⑥ نماز عیدین اسلام کے ظاہری شعائر میں سے ہے۔ امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے ہم نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ یہ سب پر واجب ہے۔ [مجموع الفتاوى:23/161]
نماز عیدین کا وقت:
نماز عیدین کا وقت طلوع آفتاب کے بعد نفلی نماز ادا کرنے کا وقت ہے۔ امام ابوداود نے یزید بن خمیر رجبی سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہﷺ کے، صحابی عبد الله بن بسر، عید الفطر یا عید الاضحیٰ میں لوگوں کے ساتھ (عید گاہ کی طرف) نکلے۔ انہوں نے امام کے دیر کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا: إنا كنا قد فرغنا ساعتنا هذه، وذلك حين التسبيح.
ہم تو اس وقت فارغ بھی ہو چکے ہوتے تھے، اور وہ وقت نماز چاشت کا تھا۔
[وذلك حين التسبيح: امام سیوطی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:وہ نماز چاشت ادا کرنے کا وقت تھا۔(ملاحظہ ہو: عون المعبود:3/242]،[سنن أبي داود، تفريع أبواب الجمعة، باب وقت الخروج إلى العيد: رقم الحدیث:1132]،[امام نووی نے اس حدیث کو صحیح مسلم کی شرط پر حیح قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو: عون المعبود:3/343]
علامہ محمد شمس الحق عظیم آبادی تحریر کرتے ہیں کہ: عبد الله بن بسر کی حدیث نماز عید جلد ادا کرنے کی مشروعیت، اور زیادہ تاخیر کرنے کی کراہت پردلالت کرتی ہے۔ [عون المعبود:3/343]
نماز عید کے جلدی ادا کرنے کی مشروعیت پردہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس کو امام بخاری نے حضرت براء سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا کہ:
نبی کریمﷺ نے قربانی کے دن ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا:
إن أول ما نبدأ به في يومنا هذا أن نصلي، ثم ترجع فتنحر،فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا.
یقینا پہلا کام جس کے ساتھ ہم اپنے اس دن کا آغاز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز ادا کرتے ہیں۔ پھر واپس جا کر قربانی کرتے ہیں۔ جس شخص نے اسی طرح کیا اس نے ہماری سنت کو پالیا۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين ، باب التبكير إلى العيد، جزءمن رقم الحدیث:968]
امام بخاری نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے:
[باب التبكير إلى العيد: عید کے لئے جلدی کرنے کے متعلق باب]،[صحيح البخاري، كتاب العيدين ، باب التبكير إلى العيد، جزءمن رقم الحدیث:968]
حافظ ابن حجر تحریر کرتے ہیں: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عید کے دن نماز عید اور اس کے لئے روانگی کے علاوہ کسی اور کام میں مشغول ہونا مناسب نہیں۔ اور اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ نماز عید سے پہلے دوسرا کوئی اور کام نہ کیا جائے۔ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ نماز عید جلد ادا کی جائے۔[فتح الباري:2/457]،[عمدة القاري:6/288]
تنبیہ: البته نبی کریمﷺ نماز عید الفطر قدرے تاخیر سے ادا کرتے تھے۔ امام ابن قیم نے تحریر کیا ہے:وكان يؤخر صلاة عيد الفطر،ويعجل الأضحى.
آنحضرتﷺ نماز عید الفطر [قدرے] تاخیر سے ادا کرتے تھے اور نماز عید الاضحیٰ جلدی ادا کرتے تھے۔
[زاد المعاد:1/121]
نماز عیدین سے پہلے اذان و اقامت یا اور کوئی ندا نہیں:
مولائے کریم کی توفیق سے اس بارے میں گفتگو درج ذیل تین نکات کے ضمن میں کی جا رہی ہے:
① نبی کریمﷺ نماز عید بغیر اذان اور اقامت کے ادا فرماتے:
امام مسلم نے حضرت جابر بن سمرۃ رضي اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: صليت مع رسول الله العيدين غير مرة ولا مرتين بغير أذان ولا إقامة.
میں نے رسول اللہﷺ کے ساتھ عیدین کی نماز ایک دو مرتبہ نہیں، متعدد مرتبہ، بلا اذان واقامت کے پڑھی۔
[صحیح مسلم، كتاب صلاة العيدين، رقم الحديث:887]
جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت خلافت ہوئی توحضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں اسی سنت پر عمل کرنے کی تلقین کی۔ امام مسلم نے عطاء سے روایت نقل کی ہے کہ جب ابن الزبیر رضی اللہ عنہا کی بیعت ہوئی تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ پیغام بھیجا: أنه لم يكن يؤذن للصلاة يوم الفطر، فلا تؤذن لها.
عید الفطر کی نماز کے لئے اذان نہ دی جاتی تھی۔ تم بھی اس کے لئے اذان نہ دینا۔
[صحیح مسلم، كتاب صلاة العيدين، رقم الحديث:886]
امام مالک اس بارے میں فرماتے ہیں:
أنه سمع غير واحد من علمائهم يقول: لم يكن في عيد الفطر، ولا في الأضحى نداء، ولا إقامة منذ زمان رسول الله إلى اليوم.
انہوں نے اپنے کئی ایک علماء سے سنا: رسول اللہﷺ کے زمانے سے لے کر آج تک عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں نہ اذان ہے اور نہ اقامت۔
[الموطأ، كتاب العيدين، باب العمل في غسل العيدين والنداء فيهما والإقامة،1/177]
اس کے بعد امام مالک تحریر کرتے ہیں: وتلك السنة التي لا اختلاف فيها عندنا.
اور یہ ایسی سنت ہے کہ اس کے بارے میں ہمارے ہاں کوئی اختلاف نہیں۔
[الموطأ، كتاب العيدين، باب العمل في غسل العيدين والنداء فيهما والإقامة،1/177]
② اذان واقامت کے علاوہ نماز عیدین کے لئے کوئی اور ندا یا بلا وہ دینابھی سنت سے ثابت نہیں۔
امام مسلم نے عطاء سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ : مجھے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ: أن لا أذان للصلاة يوم الفطر حين يخرج الإمام، ولا بعد. ما يخرج، ولا إقامة، ولا نداء، ولا شيء، لا نداء يومئذ، ولا إقامة.
عید الفطر کے دن نماز کے لئے اذان نہیں، نہ امام کے نکلنے کے وقت، اور نہ اس کے نکلنے کے بعد، اور نہ تو اقامت ہے اور نہ ندا، اور نہ کچھ اور۔ اس دن ندانہیں ہے اور نہ اقامت۔
[صحیح مسلم، كتاب صلاة العيدين، رقم الحديث:(5/886)-(2/604)]
③ بعض حضرات کی رائے میں نماز عیدین کے لئے [ الصَّلاةُ جَامِعَةً ] [نماز کھڑی ہو رہی ہے] کے الفاظ کے ساتھ آواز لگائی جائے ۔ امام ابن قدامہ نے اس بارے میں بڑا عمدہ ، موثر اور مختصر تبصرہ بایں الفاظ کیا ہے:
وسنة رسول اللهﷺ أحق أن تتبع. اتباع کا سب سے زیادہ حق سنت رسولﷺ کا ہے۔
[المغني:3/368]
امام ابن قیم اس بارے میں تحریر کرتے ہیں:
وكانﷺ إذا انتهى إلى المصلى أخذ في الصلاة من غير أذان، ولا إقامة، ولا قول: الصلاة جامعة، والسنة أن لا يفعل شيء من ذلك.
آنحضرتﷺ جب عید گاہ تشریف لے آتے تو اذان ، اقامت اور [الصلاة جامعة] کے الفاظ کہے بغیر نماز شروع کر دیتے اور سنت یہی ہے کہ ایسی کوئی بات نہ کی جائے۔ [زاد المعاد:1/442]
سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ ابن باز اس بارے میں تحریر کرتےہیں:
إن النداء للعيد بدعة بأي لفظ كان. والله أعلم.
عید کے لئے کسی بھی لفظ کے ساتھ نداء کرنا یقیناً بدعت ہے۔ واللہ اعلم
[هامش فتح الباري للشيخ ابن باز:2/452]
عید گاہ میں سترے کا اہتمام کرنا:
رسول اللہﷺ نماز عید میں اپنے سامنے سترہ رکھنے کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔ امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے۔
أن رسول اللهﷺ كان إذا خرج يوم العيد أمر بالحربة، فتوضع بين يديه، فيصلي إليها والناس وراءه، وكان يفعل ذلك.في السفر.
رسول اللهﷺ جب روز عید [عید گاہ کی طرف] نکلتے تو اپنے سامنے خنجر گاڑنے کا حکم دیتے۔ پھر اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھاتے اور لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔ اور آپ سفر میں بھی ایسے ہی کرتے۔
[صحيح البخاري، كتاب الصلاة، باب ستره الإمام سترة من خلفه، جزء من رقم الحدیث:494]
امام حضرات کو بھی چاہیے کہ عید گاہ میں نماز عید پڑھاتے وقت اپنے سامنے سترہ رکھنے کا اہتمام کریں۔ البتہ اگر عید گاہ میں دیوار وغیرہ کا سترہ موجود ہو تو تب اور کسی چیز کا سترہ رکھنے کی ضرورت نہیں۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عید گاہ میں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے خنجر کو بطور سترہ گاڑے جانے کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا: وذلك أن المصلى كان فضاء، ليس شيء يستتر به.
اور یہ [خنجر کو سترے کی غرض سے گاڑنا] اس لئے تھا،کیونکہ عید گاہ کھلی جگہ تھی، وہاں کوئی ایسی چیز نہ تھی جس کو بطور سترہ استعمال کیا جاتا۔
[سنن ابن ماجه، أبواب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الحربة. في يوم العيد، جزء من رقم الحديث:1297]،[وصحيح ابن خزيمة، جماع أبواب صلاة العيدين، باب الخبر المفسر للعلة في إخراج العنزة إلى المصلى، جزء من رقم الحدیث:1435]،[شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابن ماجه:1/219]
نماز عید کی رکعتیں:
نماز عید میں دو رکعت ہیں۔ حضرات ائمہ احمد، نسائی اور ابن خزیمہ رحمہم اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
صلاة السفر ركعتان، وصلاة الأضحى ركعتان، وصلاة الفطر ركعتان، وصلاة الجمعة ركعتان، تمام غير قصر، على لسان محمدﷺ
نماز سفر دو رکعت ہے، نماز عید الاضحی دو رکعت ہے، نماز عید الفطر دو رکعت ہے اور نماز جمعہ دو رکعت ہے۔ مکمل ہیں قصر نہیں، حضرت محمدﷺ کے فرمان کے مطابق۔
(یعنی: ان چاروں نمازوں کی دو دو رکعتیں قصر کی وجہ سے نہیں، بلکہ آنحضرتﷺ کے ارشاد گرامی کے مطابق ان کی رکعتوں کی اصل تعداد ہی دو دو ہے)۔
[المسند، رقم الحدیث:257(ط: مؤسسة الرسالة)]،[وسنن النسائي، كتاب صلاة العيدين، عدد صلاة العيدين،3/18] [و صحيح ابن خزيمة، جماع أبواب صلاة العيدين، باب عدد ركعات صلاة العيدين، رقم الحدیث:1425] الفاظ حدیث المسند کے ہیں۔ امام نووی نے اس حدیث کو [حسن] قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو: المجموع:5/21]،[شیخ البانی نے اس کو صحیح قراردیا ہے۔(ملاحظہ ہو: صحيح سنن النسائي:1/343)شیخ شعیب ارناؤوط اور ان کے رفقا نے اس کی اسناد کو صحیح قرار دیا۔ ہے۔(ملاحظہ ہو : هامش المسند:1/367]
عیدین میں تکبیرات زائدہ کی تعداد اور وقت:
نماز عیدین دیگر نمازوں کی طرح دو رکعت نماز ہے۔ البتہ اس میں تکبیرات زائدہ ہیں۔ ان تکبیرات کی تعداد اور وقت کے بارے میں مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد اور قرآت سے پہلے سات تکبیریں کہی جائیں اور دوسری رکعت میں کھڑے ہونے کے بعد اور قرآت اسے پہلے پانچ تکبیریں کہی جائیں۔ اس بارے میں چند ایک دلائل درج ذیل ہیں:
① نبی کریمﷺ کی نماز عید میں تکبیرات زائدہ کی تعداد کے بارے میں امام احمد اور امام ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ:
أن النبيﷺ كبر في عيد ثنتي عشرة تكبيرة: سبعا في الأولى، وخمسا في الآخرة، ولم يصل قبلها ولا بعدها.
یقینا نبی کریمﷺ نے نماز عید میں بارہ تکبیریں کہیں۔ سات پہلی[رکعت] میں، اور پانچ دوسری میں آپ نے عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نماز نہ پڑھی۔
[المسند، رقم الحديث:6688]،[ وسنن ابن ماجه، أبواب إقامة الصلاة، باب ما جاء كم يكبر الإمام في صلاة العيدين، رقم الحديث:1271] الفاظ حدیث مسند الامام احمد کے ہیں اور اس کے متعلق حافظ ابن حجر نے تحریر کیا ہے، ورواه أحمد وأبو داود وابن ماجه والدار قطني من حديث عمرو بن شعيب عن ابيه عن جده، وصححه أحمد وعلي والبخاري فيما حكاه الترمذي.[التلخيص الحبير:2/85]،[ اس کو احمد، ابو داود، ابن ماجہ اور دار قطنی نے عمرو بن شعیب عن ابيه عن جدہ کی حدیث سے روایت کیا ہے۔ اور ترمذی کے بیان کے مطابق احمد علی ابن المدینی اور بخاری نے اس اس کو صحیح قرار دیا ہے۔امام نووی فرماتےہیں: عمرو بن شعیب کی یہ حدیث [صحیح] ہے ۔ ابوداؤد وغیرہ نے اس کو احادیث حسنہ کے ساتھ روایت کیا ہے [المجموع:5/21] شیخ احمد محمد شاکر نے اس کی اسناد کو [صحیح ] اسناد کو قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: هامش المسند:10/165) شیخ البانی نے اس کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو : صحیح سنن ابن ماجه:1/215]
احمد نے اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد فرمایا: وأنا أذهب إلى هذا.
میرا طریقہ اس کے مطابق ہے۔ [المسند:10/165]
② تکبیرات زائدہ کی تعداد اور وقت کے متعلق آنحضرتﷺ کی امت کو رہنمائی کے بارے میں امام ابوداؤد نے حضرت عبد اللہ بن عمر و بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺ نے ارشادفرمایا:
التكبير في الفطر سبع في الأولى، وخمس في الآخرة، والقراءة بعدهما كلتيهما.
[عید الفطر میں پہلی] [رکعت] میں سات تکبیریں اور دوسری میں پانچ ہیں۔ اور قرآت دونوں [رکعت کی تکبیروں] کے بعد ہے۔
[سنن أبي داود، باب تفريع أبواب الجمعة، باب التكبير في العيدين، رقم الحدیث:1148]،[شیخ البانی نے اس کو حسن قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود:1/213]
③ امیر المومنین علی بن ابی طالب کی نماز عیدین میں تکبیرات زائدہ کی تعداد کے متعلق امام عبد الرزاق نے حضرت جعفر بن محمد سے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے اپنے باپ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ:
علي يكبر في الأضحى والفطر والاستسقاء سبعا في الأولى، وخمسا في الأخرى.
حضرت علی [عید الاضحیٰ] اور [عید الفطر اور [نماز] استسقاء میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہتے ۔
[المصنف، كتاب صلاة العيدين، باب التكبير في الصلاة يوم العيد، جزء من رقم الرواية:5/78،3/292]،[نیز ملاحظہ ہو: المحلی:5/122]،[وكتاب المجموع:5/25]
حضرت ابو ہریرہ کی نماز عیدین میں تکبیرات زائدہ کی تعداد اور وقت کے سلسلے میں امام مالک نے حضرت نافع رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
شهدت الأضحى والفطر مع أبي هريرة، فكبر في الركعة الأولى سبع تكبيرات قبل القراءة، وفي الآخرة خمس تكبيرات قبل القراءة.
میں نے حضرت ابو ہریرہ کی اقتدا میں عید الاضحیٰ اور عید الفطر ادا کی تو انہوں نے پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔
[الموطأ، كتاب العيدين، باب ما جاء في التكبير والقراءة في صلاة العيدين، رقم الرواية:8]،[مصنف عبد الرزاق، كتاب صلاة العيدين، باب التكبير في الصلاة يوم العيد، رقم الرواية:5680]،[ومصنف ابن أبي شيبة، كتاب الصلوات، في التكبير في العيدين واختلافهم فيه2/173]،[ وشرح السنة، باب تكبيرات صلاة العيد والقراءة فيها،4/309]،[ المحلى:5/123]
امام مالک اس روایت کے نقل کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں:وهو الأمر عندنا.
[تکبیرات کہنے کا] ہمارے ہاں بھی یہی طریقہ ہے۔
[الموطأ، كتاب العيدين، باب ما جاء في التكبير والقراءة في صلاة العيدين،1/180]
⑤ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ نے بھی اسی طرح تکبیریں کہیں امام ابن ابی شیبہ نے ثابت بن قیس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: صليت خلف عمر بن عبد العزيز رحمه الله تعالى الفطر، فكبر في الأولى سبعا قبل القراءة، وفي الثانية خمسا قبل القراءة.
میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تعالی کی امامت میں [عید نماز] الفطر پڑھی تو انہوں نے پہلی [رکعت] میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں کہیں، اور دوسری میں قراءت سے پہلے پانچ۔
[المصنف، كتاب الصلوات، في التكبير في العيدين واختلافهم فيه.2/178]
تکبیرات زائدہ کے ساتھ رفع الیدین:
عیدین کی تکبیرات زائدہ کے ساتھ رفع الیدین کے متعلق میرے ناقص علم کے مطابق نبی کریمﷺ سے صراحت کوئی حدیث ثابت نہیں۔ اس موقع پر رفع الیدین کو مستحب قرار دینے والے علمائے امت کے دلائل میں سے تین درج ذیل ہیں:
① نبی کریمﷺ ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے۔ اس بات پر دلالت کرنے والی احادیث میں سے ایک حدیث وہ ہے جس کو امام احمد نے حضرت وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ: رأيت رسول اللهﷺ يرفع يديه مع التكبير.
میں نے رسول اللہﷺ کو تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے دیکھا۔
[المسند:4/316(المكتب الإسلامي) شیخ البانی نے اس حدیث کو [حسن] قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو: إرواء الغليل:3/113]
② امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے متعلق امام بیہقی نے روایت بیان کی ہے کہ وہ نماز عیدین میں تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے۔
[السنن الكبرى، كتاب صلاة العيدين، باب رفع اليدين في تكبير العيد، رقم الرواية:6189،6190]،[المغني:3/273]
حافظ ابن حجر التلخيص الحبیر میں نقل کرتے ہیں: قوله: عن عمر أنه كان يرفع يديه في التكبيرات رواه البيهقي وفيه ابن لهيعة.
ان کا قول: حضرت عمر کے بارے میں روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے، بیہقی نے اس کو روایت کیا ہے اور اس[ کی اسناد ] میں ابن لهيعة ہے۔
[التلخيص الحبير:2/86]
اور حافظ ہیثمی [ابن لهيعة] کے بارے میں تحریر کرتے ہیں: ابن لهيعة: وحديث حسن وفيه ضعف.
[مجمع الزوائد:7/171]]،[ نیز ملاحظہ ہو مجمع الزوائد:7/170]
ابن لهيعة: اس کی حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف ہے [یعنی ابن لهيعة میں ضعف ہونے کے باوجود اس کی حدیث [حسن] کے درجہ کی ہے]۔
امام ابن قیم تحریر کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے۔
[زاد المعاد:1/443]
تکبیرات زائدہ کے درمیان وقفہ اور ذکر:
عیدین کی تکبیرات زائدہ کے درمیان نبی کریمﷺ سے کوئی متعین ذکریا دعا ثابت نہیں، البتہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ ان کے درمیان. اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی جائے، نبی کریمﷺ پر درود پڑھا جائے اور اپنے لئے دعا کی جائے۔ امام بیہقی نے علقمہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کی ہے کہ ولید بن عقبہ حضرات صحابه ابن مسعود، ابو موسیٰ اور حذیفہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: عید قریب آ چکی ہے اس میں تکبیرات کس طرح ہیں؟ عبد اللہ [بن مسعود]رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
تبدأ فتكبر تكبيرة تفتتح بها الصلاة وتحمد ربك وتصلي على النبي الله ﷺ ثم تدعو وتكبر، وتفعل مثل ذلك، ثم تكبر، وتفعل مثل ذلك، ثم تكبر وتفعل مثل ذلك، ثم تقرأ الخ.
اللہ اکبر کہہ کر نماز [عید] شروع کرنا۔ اپنے رب کی حمد بیان کرنا، نبیﷺ پر درود پڑھنا، پھر دعا کرنا، اور اللہ اکبر کہنا، اور اسی طرح کرنا، پھر اللہ اکبر کہنا، اور اسی طرح کرنا پھر اللہ اکبر کہنا اور اسی طرح کرنا پھر اللہ اکبر کہنا پھر قراءت کرنا الخ
[السنن الكبرى، كتاب صلاة العيدين، باب يأتي بدعاء الافتتاح عقيب تكبيرة الافتتاح، ثم يقف بين كل تكبيرتين يهلل الله تعالى ويكبرہ ويحمده ويصلي على النبيﷺ، جزء من رقم الرواية:2186]،[نیز ملاحظہ ہو: المجموع:5/21]،[المغني:3/274-275]،[التلخيص الحبير:3/86]،[إرواء الغليل:114/3-115]
امام بیہقی نے اس روایت کے نقل کرنے کے بعد تحریر کیا ہے:
وهذا من قول عبد الله بن مسعود، موقوف عليه فتتابعه في. الوقوف بين كل تكبيرتين للذكر إذ لم يرو خلافه عن غيره.
یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کا اپنا قول ہے اور ہم ہر دو تکبیر کے در میان ذکر کرنے کے لئے ٹھہرنے کے مسئلہ میں ان کی اتباع کرتے ہیں کیونکہ اس بارے میں ان کی رائے کے خلاف کسی[یعنی] نبی کریمﷺ اور دیگر حضرات صحابہ رضي اللہ عنہم سے کچھ نقل نہیں کیا گیا۔
[السنن الكبرى:3/411]
عید کی دورکعتوں میں قراءت:
نماز عیدین میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد قراءت کے بارے میں نبی کریمﷺ سے درج ذیل دو طریقے ثابت ہیں:
① پہلی رکعت میں سورۃ [ق] اور دوسری میں [القمر] پڑھی جائے۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے عبید اللہ بن عبداللہ سے روایت بیان کی ہے کہ:
أن عمر بن الخطاب سأل أبا واقد الليثي رضي الله عنهما: ما كان يقرأ به رسول الله ﷺ في الأضحى والفطر؟ فقال: كان يقرأ فيهما [ق والقرآن المجيد ] و [اقتربت الساعة وانشق القمر.
یقیناً حضرت عمر بن خطاب نے حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہما سے پوچھا: عید الاضحی اور عید الفطر میں رسول اللہ ﷺ کیا پڑھا کرتے تھے؟
تو انہوں نے کہا:آپ ان میں [ق وَالقُرْآنِ الْمَجِيد] اور [اقتربت الساعة وانشق القمر] پڑھا کرتے تھے ۔
[صحیح مسلم، کتاب صلاة العيدين، باب ما يقرأ به في صلاة العيدين رقم الحديث:14(891)]
② پہلی رکعت میں سورۃ [الأعلى] اور دوسری میں سورۃ [الغاشية] پڑھی جائے۔ امام مسلم نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا:
كان رسول الله ﷺ يقرأ في العيدين وفي الجمعة [سبح اسم ربك الأعلى] و [هل أتاك حديت الغاشية].قال:وإذا اجتمع العيد والجمعة في يوم واحد، يقرأ بهما أيضا في الصلاتين.
رسول اللہﷺ یہ دونوں عیدوں اور جمعہ میں [سبح اسم ربك الأعلى] اور [هل أتاك حديث الغاشية] پڑھتے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ: جب عید اور جمعہ ایک دن میں اکھٹے ہو جاتے تو آپ دونوں نمازوں میں انہی دونوں سورتوں کی تلاوت فرماتے۔
[صحیح مسلم، كتاب الجمعه، باب ما يقرأ في صلاة الجمعة، قم الحديث:62(878)]
نماز عید خطبہ سے پہلے ادا کی جائے:
سنت یہ ہے کہ پہلے نماز عید ادا کی جائے پھر خطبہ عید شروع کیا جائے ۔ یہ بات متعدد احادیث میں بیان کی گئی ہے ان میں سے تین درج ذیل ہیں:
① امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا: شهدت العيد مع رسول اللهﷺ وأبي بكر وعمر وعثمان، فكلهم كانوا يصلون قبل الخطبة.
میں رسول اللہﷺ، ابو بکر، عمر اور عثمان رضي اللہ عنہم کے ساتھ عید کے موقعوں پر حاضر ہوا وہ سب نماز [عید] خطبہ سے پہلے ادا کرتے تھے۔
[متفق عليه: صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب الخطبة بعد العيدين، رقم الحديث:962]،[صحیح مسلم، کتاب صلاة العيدين، رقم الحديث:1(884)] اور الفاظ حدیث صحیح بخاری کے ہیں]
② امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: كان رسول اللهﷺ وأبو بكر وعمر رضي الله عنهما يصلون العيدين قبل الخطبة.
رسول اللہﷺ ،ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما عیدین کی نماز خطبہ [عیدین] سے پہلے پڑھتے تھے۔
[متفق عليه: صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب الخطبة بعد العيدين، رقم الحديث:963]،[صحیح مسلم، کتاب صلاة العيدين، رقم الحدیث:8(888)]۔اور الفاظ حدیث صحیح بخاری کے ہیں]
③ امام بخاری نے حضرت ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: كان رسول الله ﷺ يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى، فأول شيء يبدأ به الصلاة، ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس-والناس جلوس على صفوفهم فيعظهم، ويوصيهم، ويأمرهم. فإن كان يريد أن يقطع بعثا قطعه، أو يأمر بشيء أمر به، ثم ينصرف. قال أبو سعيد: فلم يزل الناس على ذلك حتى خرجت مع مروان وهو أمير المدينة في أضحى أو فطر، فلما أتينا المصلى إذا منبر بناه كثير بن الصلت، فإذا مروان. يريد أن يرتقيه قبل أن يصلي، فجبذت بثوبه، فجبذني، فارتفع، فخطب قبل الصلاة.فقلت له: غيرتم والله.فقال:أبا سعيد! قد ذهب ما تعلم.فقلت: ما أعلم والله! خير مما لا أعلم. فقال:إن الناس لم يكونوا يجلسون لنا بعد الصلاة ، فجعلتها قبل الصلاة.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، آپ نے کہا کہ، نبی کریمﷺ عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن (مدینہ کے باہر) عیدگاہ تشریف لے جاتے تو سب سے پہلے آپﷺ نماز پڑھاتے، نماز سے فارغ ہو کر آپﷺ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے۔ تمام لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، آپﷺ انہیں وعظ و نصیحت فرماتے، اچھی باتوں کا حکم دیتے۔ اگر جہاد کے لیے کہیں لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو اس کو الگ کرتے۔ کسی اور بات کا حکم دینا ہوتا تو وہ حکم دیتے۔ اس کے بعد شہر کو واپس تشریف لاتے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ برابر اسی سنت پر قائم رہے لیکن معاویہ کے زمانہ میں مروان جو مدینہ کا حاکم تھا، پھر میں اس کے ساتھ عیدالفطر یا عید الاضحی کی نماز کے لیے نکلا ہم جب عیدگاہ پہنچے تو وہاں میں نے کثیر بن صلت کا بنا ہوا ایک منبر دیکھا۔ جاتے ہی مروان نے چاہا کہ اس پر نماز سے پہلے (خطبہ دینے کے لیے) چڑھے اس لیے میں نے ان کا دامن پکڑ کر کھینچا اور لیکن وہ جھٹک کر اوپر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ واللہ تم نے (نبی کریمﷺ کی سنت کو) بدل دیا۔ مروان نے کہا کہ اے ابوسعید! اب وہ زمانہ گزر گیا جس کو تم جانتے ہو۔ ابوسعید نے کہا کہ بخدا میں جس زمانہ کو جانتا ہوں اس زمانہ سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا۔ مروان نے کہا کہ ہمارے دور میں لوگ نماز کے بعد نہیں بیٹھتے، اس لیے میں نے نماز سے پہلے خطبہ کو کر دیا۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين ، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر، رقم الحديث:956]
اور صحیح مسلم میں ہے: قلت: أين الابتداء بالصلاة؟فقال: لا، يا أبا سعيد! قد ترك ما تعلم.قلت: كلا، والذي نفسي بيده! لا تأتون بخير مما أعلم.ثلاث مرار، ثم انصرف).
میں نے کہا: [خطبہ کی بجائے] نماز کے ساتھ آغاز کرنا کہاں گیا؟ اس نے کہا: نہیں، اے ابو سعید! جس طریقے کی تجھے خبر ہے وہ چھوڑا جاچکا ہے۔میں نے کہا : ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان، ہے! جس طریقے کا مجھے علم ہے تم اس سے بہتر طریقہ نہیں لا رہے ہو (انہوں نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، پھر پیچھے ہٹ گئے)۔
[صحیح مسلم، کتاب صلاة العيدين، جزء من رقم الحديث:9 (889)]
مذکورہ بالا احادیث شریفہ سے جو باتیں معلوم ہوتی ہیں ان میں سے تین مندرجہ ذیل ہیں:
① رسول کریمﷺ، حضرت ابو بکر، حضرت عمر، اور حضرت عثمان نماز عید، خطبہ عید سے پہلے ادا کرتے تھے۔
② نماز عید سے پہلے خطبہ دینے کی ابتدا گورنر مدینہ مروان نے کی۔
③ حضرت ابو سعید خدری نے مروان کے اس عمل پر شدید تنقید کی۔
امام نووی نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ارشاد [جس طریقے کا مجھےعلم ہے تم اس سے بہتر طریقہ نہیں لا رہے ہو] کے بارے میں تحریر کیا ہے: هو كما قال لأن الذي يعلم هو طريق النبي ﷺ ، وكيف ، يكون غيره خيرا منه؟
ان کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کیونکہ جس طریقے کا انہیں علم ہے وہ نبی کریمﷺ کا طریقہ ہے، اور ان کے مقابلے میں کسی اور کا طریقہ کیونکر اچھا ہو سکتاہے؟[شرح النووي:6/178]
امام ابن قدامہ خطبہ عید کے نماز عید کے بعد ہونے کے دلائل نقل کرنےکے بعد رقم طراز ہیں:
فعلى هذا من خطب قبل الصلاة فهو كمن لم يخطب ..لأنه خطب في غير محل الخطبة ، أشبه ما لو خطب في الجمعة بعد الصلاة.
اس بنا پر جس شخص نے نماز عید سے پہلے خطبہ دیا گویا کہ اس نے خطبہ ہی نہیں دیا، کیونکہ اس نے بے محل خطبہ دیا۔ اس کی مثال قریبا ایسی ہے کہ وہ خطبہ جمعہ، نماز جمعہ کے بعد دے۔
[المغني:3/277]
عیدین کے موقع پر عورتوں کو وعظ و نصیحت کرنا:
رسول اللہﷺ نے عید کے موقع پر عورتوں کو وعظ ونصیحت فرمائی۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:
قام النبيﷺ يوم الفطر، فصلى، فبدأ بالصلاة، ثم خطب. فلما فرغ نزل فأتى النساء فذكرهن.
نبی کریمﷺ نے عید الفطر کے دن نماز پڑھائی۔ آپ نے پہلے نماز پڑھائی پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ خطبہ سے فارغ ہونے پر آپ عورتوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی۔
[متفق عليه: صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب موعظة الإمام النساء يوم العيد، جزء من رقم الحديث:978]،[صحیح مسلم، کتاب صلاة العيدين، جزء من رقم الحديث:885]
امام بخاری نے اس حدیث پر یہ عنوان قائم کیا ہے۔
[باب موعظة الإمام النساء يوم العيد]
[امام کا عورتوں کو عید کے دن وعظ و نصیحت کرنا]
[صحيح البخاري:2/466]
خطیب حضرات کو نبی کریمﷺ کی اس سنت پر عمل کرتے ہوئے عیدین کے موقع پر عورتوں کو وعظ و نصیحت کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے ۔ امام عطاء نے ، جب مذکورہ بالا حدیث اپنے شاگرد ابن جریج رحمہ اللہ کو بتلائی تو انہوں نے اپنے استاد سے استفسار کیا : أترى حقا على الإمام ذلك، ويذكرهن؟
کیا امام پر یہ بات لازم ہے کہ خطبہ [عید] سے فارغ ہو کر عورتوں کے پاس جا کر انہیں وعظ و نصیحت کرے؟
انہوں نے جواب میں فرمایا: إنه لحق عليهم، وما لهم لا يفعلونه؟
یقیناً ان پر ایسا کرنا لازم ہے اور انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس [سنت] پر عمل نہیں کرتے؟
[صحيح البخاري:2/466]،[صحيح مسلم:2/603]
تنبیہ: البتہ اب امام کو عورتوں کے پاس جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی وجہ سے اس کا خطبہ عورتوں میں سنا جاتا ہے۔ اور رسول کریمﷺ عورتوں کے پاس اس لئے تشریف لے گئے تھے کہ آپﷺ کی آواز انہیں سنائی نہ دی تھی۔ امام مسلم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا:
أشهد على رسول اللهﷺ لصلى قبل الخطبة، قال: ثم خطب فرأى أنه لم يسمع النساء، فأتاهن، فذكرهن ووعظهن.
میں رسول اللہﷺ کے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز خطبہ سے، پہلے پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ اور آپ نے خیال فرمایا کہ آپ عورتوں کو خطبہ نہیں سنا سکے تو خود ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی۔
[صحیح مسلم، کتاب صلاة العيدين، جزء من رقم الحديث:602]
لیکن خطبہ میں اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ اس میں عورتوں کے متعلقہ باتیں شامل ہوں تا کہ وہ بھی خطبہ عید کے وعظ و نصیحت میں اپنا حصہ حاصل کر اسکیں۔
عید کی مبارک باد:
میرے ناقص علم کے مطابق عید کے بعد ایک دوسرے کو مبارک باد کہنے کے بارے میں نبی کریمﷺ سے کچھ ثابت نہیں، البتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایسا کرنا ثابت ہے۔ ذیل میں اس بارے میں دو روایات بتوفیق الہی ذکر کی جا رہی ہیں:
① امام ابن قدامہ نے نقل کیا ہے کہ حضرت محمد بن زیاد نے بیان کیا: كنت مع أبي أمامة الباهلي، وغيره من أصحاب النبي، صلى الله فكانوا إذا رجعوا من العيد يقول بعضهم لبعض: تقبل الله منا ومنك.
میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ اور نبی کریمﷺ کے دیگر صحابہ کے ساتھ تھا۔ وہ عید سے واپس آنے پر ایک دوسرے سے کہتے تھے: (تَقَبَّلَ الله، مِنَّا وَمِنْكَ) [اللہ تعالیٰ ہم سے اور تم سے قبول فرمائے]۔
[المغني:294/3-295]،[امام احمد نے اس روایت کی اسناد کو جید قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو: المغني:3/295]
② حافظ ابن حجر نے جبیر بن نفیر رحمہ اللہ کے بارے میں نقل کیا ہے کہ انہوں نےکہا:
كان أصحاب رسول الله إذا التقوا يوم العيد يقول بعضهم لبعض: تقبل الله منا ومنك.
رسول اللہﷺ کے صحابہ جب عید کے دن ملاقات کرتے تو ایک دوسرے سے کہتے تھے: [تَقَبَّلَ اللَّهُ مِنَّا وَمِنْكَ].
[فتح الباري:2/446]،[حافظ ابن حجر نے اس روایت کی اسناد کو (حسن) قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري:2/446]
نماز عید سے پہلے یا بعد کوئی نفلی نماز نہیں:
نماز عید کی صرف دو رکعتیں ہیں،ان سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہیں۔ امام بخاری نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بایں الفاظ روایت نقل کی ہے: أن النبي الله صلى يوم الفطر ركعتين لم يصل قبلها ولا بعدها.
یقینا نبیﷺ نے عید الفطر کے دن دو رکعت نماز ادا کی۔ اس سے پہلے یا بعد میں کوئی [اور نفلی] نماز نہ پڑھی۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، باب الخطبة بعد العيد، جزء من رقم الحدیث:964]
البتہ اگر کوئی شخص اپنے گھر میں نماز عید کے بعد مستقل نفلی نماز ادا کرنا چاہے تو ایسا کرنا سنت سے ثابت ہے ۔ امام ابن ماجہ نے حضرت ابو سعید سے روایت کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: كان رسول الله الله لا يصلي قبل العيد شيئا فإذا رجع إلى منزله صلى ركعتين.
رسول اللہﷺ نماز عید سے پہلے کوئی نماز نہ پڑھتے۔ اور جب گھر واپس تشریف لے آتے تو دورکعت نماز [نفل] ادا کرتے۔
[سنن ابن ماجه، أبواب إقامة الصلاة، باب ما جاء في الصلاة قبل صلاة العيد وبعدها، رقم الحديث:1286]،[حافظ ابن حجر نے اس کی اسناد کو (حسن) قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو: فتح الباري:2/476]۔ اور شیخ البانی نے بھی اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو:صحيح سنن ابن ماجه:1/217]
عید گاہ سے واپسی پر راستے کو تبدیل کرنا:
سنت یہ ہے کہ عید گاہ سے واپسی پر جانے والے راستے کی بجائے دوسراراستہ اختیار کیا جائے۔ امام بخاری نے حضرت جابر سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا: كان النبيﷺ إذا كان يوم عيد خالف الطريق.
نبیﷺ عید کے دن جاتے وقت ایک راستہ اختیار کرتے اور واپسی کے لئے دوسرا راستہ۔
[صحيح البخاري، كتاب العيدين، با ب من خالف الطريق إذا رجع يوم العيد، رقم الحدیث:982]
حافظ ابن حجر کے بیان کے مطابق علمائے امت نے آپﷺ کی سنت کی حکمت کے بارے میں بیس سے زیادہ اقوال ہیں۔ ان میں سے
① ایک قول یہ ہے: کہ روز قیامت دونوں راستے آپ کے حق میں گواہی دیں ۔
② دوسرا قول یہ ہے: کہ دونوں راستوں کے جن وانس آپ کے حق میں گواہی دیں۔
③ تیسرا قول یہ ہے: کہ دونوں راستوں کے فرشتے آپ کے حق میں گواہی دیں ۔
④ چوتھا قول یہ ہے:کہ اسلامی شعائر کا اظہار دونوں راستوں میں ہو جائے ۔
⑤ پانچواں قول یہ ہے: کہ دونوں راستوں میں ذکر الہی کا اظہار ہو جائے ۔
⑥ چھٹا قول یہ ہے: کہ منافقوں اور یہودیوں کو جلانے کے لئے ۔
⑦ ساتواں قول یہ ہے: کہ ان پر اہل اسلام کا رعب ود بد بہ طاری ہو جائے ۔
⑧ آٹھواں قول یہ ہے: کہ دونوں راستوں کے لوگوں کو آپ کا دیدار نصیب ہو جائے ۔
آپ کے گزرنے کی برکت سے وہ فیض یاب ہو جائیں، اور انہیں آپ سے راہنمائی اور تعاون کا یکساں موقع میسر آ جائے۔
[فتح الباري:2/473]
آنحضرتﷺ کے اعمال وافعال کی حکمت کے متعلق دو باتیں ہمیشہ مد نظر رکھنا انتہائی ضروری ہیں:
① پہلی بات یہ ہے: کہ آپ یہ ساری مخلوق میں سے سب سے بڑے دانا اور حکمت و دانش والے ہیں اور آپ کا کوئی عمل بھی خالی از حکمت نہیں۔
② دوسری بات یہ ہے: کہ آپ کے اعمال کی حکمت کچھ بھی ہو، بلکہ آپ کے، کسی عمل کی حکمت تک ہماری رسائی نہ بھی ہو سکے تب بھی یہ بات قطعی اور حتمی ہے کہ ہماری دین و دنیا کی سعادت آپ کی سنت کی بلا چوں و چراں مکمل اور فوری اتباع میں ہے۔
چاند کی خبر روز عید آئے تو نماز عید کب پڑھی جائے:
اگر انتیس رمضان کی شام کو شوال کا چاند بوجہ بادل دیکھا نہ جا سکے، اور اگلے دن لوگ تیس رمضان سمجھ کر روزہ رکھ لیں اور پھر بعد از زوال قرب و جوار سے گزشتہ شب چاند نظر آنے کی موثوقہ اطلاع مل جائے، تو لوگ روزہ افطار کر لیں، البتہ نماز عید اس کے اگلے دن ادا کریں۔ امام احمد نے حضرت ابو عمیر بن انس سے روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ: میرے چچاؤں نے جو کہ رسول اللہﷺ کے انصاری ساتھیوں میں سے تھے،مجھے یہ حدیث بتائی کہ:غم علينا هلال شوال. فأصبحنا صياما، فجاء ركب من آخر النهار، فشهدوا عند رسول اللهﷺ ما أنهم رأؤوا الهلال بالأمس، فأمر رسول اللهﷺ أن يفطروا من يومهم، وإن يخرجوا لعيدهم من الغد.
شوال کا ہلال ابر کی وجہ سے دکھائی نہ دیا ہم نے (دوسرے دن کی) صبح کو روزہ رکھ لیا۔ پھر دن کے آخر میں سواروں کی ایک جماعت آئی اور انہوں نے رسول اللہﷺ کے رو برو یہ گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا تھا۔ رسول اللہﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ کھول دیں اور اگلے دن نماز عید کے لئے نکلیں۔
[ الفتح الرباني لترتيب مسند الإمام أحمد بن حنبل، كتاب الصيام، باب من يكتفي بشهادته برؤية الهلال في الصوم والفطر، رقم الحدیث:56]،[شیخ احمد البنا نے تحریر کیا ہے کہ اس حدیث کو حضرات ائمه ابوداود، نسائی، ابن ماجه، ابن حبان، طحاوی اور دار قطنی نے روایت کیا ہے]،[امام دار قطنی نے اس کی اسناد کو (حسن) قرار دیا ہے۔ امام بیہقی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے اور اس کو حسن قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو،بلوغ الأماني: 9/266]
بعض علمائے امت کی رائے اس سے مختلف ہے۔ امام خطائی ان کی رائے نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
قلت: سنة رسول اللهﷺ أولى، وحديث أبي عمير صحيح، فالمصير إليه واجب.
میں نے کہا: رسول اللہﷺ کی سنت سب سے بلند و بالا ہے، ابو عمیر کی حدیث صحیح ہے، لہذا اس کے مطابق عمل کرنا واجب ہے۔ [معالم السنن:1/252]
اور اگر زوال سے پہلے چاند دیکھنے کی اطلاع مل جائے اور زوال سے قبل نماز عید پڑھنا ممکن ہو تو اسی دن زوال آفتاب سے پہلے نماز عید ادا کر لی جائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
نماز عید ادا نہ کر سکنے والا شخص کیا کرے؟
جو شخص بوجہ عذر یا بلا عذر نماز عید ادا نہ کر سکے وہ کیا کرے؟
اس بارے میں نبی کریمﷺ سے صراحتا کوئی بات میرے ناقص اور محدود علم کے مطابق ثابت نہیں، البتہ علمائے امت رحمہم اللہ تعالیٰ کے اقوال میں سے دو درج ذیل ہیں:
① حضرت عبداللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ کے ارشاد کے مطابق ایسا شخص چار رکعت نماز ادا کرے۔ انہوں نے فرمایا: من فاته العيد مع الإمام فليصل أربعا.
جو امام کے ساتھ [نماز] عید نہ پڑھ سکے وہ چار رکعت پڑھے۔
[فتح الباري:4/475،حافظ ابن حجر نے اس روایت کے متعلق تحریر کیا ہے: سعید بن منصور نے [صحیح اسناد] کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے (فتح الباري:4/475، نیز ملاحظہ ہو: مصنف ابن أبي شيبه، كتاب الصلوات، الرجل تفوته الصلاة في العيد كم يصلي؟ 2/183]
② امام بخاری کی رائے میں ایسا شخص دو رکعت اسی طرح ادا کرے جس طرح کہ امام ادا کرتا ہے۔ انہوں نے اس بارے آنحضرتﷺ کی حدیث، حضرت انس کے عمل، اور حضرت عکرمہ اور حضرت عطاء رحمہما اللہ تعالیٰ کے اقوال سے استدلال کیا ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں:
باب إذا فاته العيد يصلي ركعتين، وكذلك النساء، ومن كان في البيوت والقرى لقول النبي: هذا عيدنا أهل الإسلام، وأمر أنس بن مالك، مولاهم ابن أبي عتبة بالزاوية. فجمع أهله وبنيه ، وصلى كصلاة أهل المصر وتكبيرهم.
[مصنف ابن أبي شيبة، كتاب الصلوات،2/183]
وقال عكرمة : أهل السواد يجتمعون في العيد يصلون ركعتين كما يصنع الإمام.
[مصنف ابن أبي شيبة،مرجع سابق، في القوم يكونون في السواد فتحضر الجمعة أو العيد،2/191]
وقال عطاء: إذا فاته العبد صلى ركعتين.
اس بارے میں باب کہ جس شخص کی نماز عید رہ جائے وہ دو رکعت نماز پڑھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة، في الرجل تفوته الصلاة مع الإمام عليه التكبير،2/192]،[صحيح البخاري، كتاب العيدين، 2/474]
اور اسی طرح عورتیں اور گھروں اور دیہاتوں میں موجود دوسرے لوگ (کبھی دو رکعت نماز ادا کریں) کیونکہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: یہ ہم مسلمانوں کی عید ہے۔
[امام بخاری کے اس حدیث سے استدلال کا سبب بیان کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ دہلوی نے تحریر کیا ہے: حدیث شریف میں عید کا اضافت مسلمانوں کی طرف کی گئی ہے اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ عید بعض لوگوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ وہ سب کی ہے اور چونکہ عید کی عبادت نماز عید ہے اس لئے اس میں سب کا حصہ ہونا چاہیے۔ (ملاحظہ ہو: رساله شرح تراجم أبواب صحيح البخاري المطبوع مع صحيح البخاري:ص 27]
مقام زاویہ میں انس بن مالک کے حکم پر ان کے غلام ابن ابی عتبہ نے ان کے اہل وعیال کو جمع کیا اور انہوں نے سب کو نماز عید شہر والوں کی طرح تکبیرات (زائدہ) کے ساتھ پڑھائی۔
[(الزاویه): بصرہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک مقام ہے ۔ وہاں حضرت انس رضي اللہ عنہ کامحل اور کھیت تھے اور وہ وہاں کثرت سے قیام فرمایا کرتے تھے ۔ملاحظہ ہو: فتح الباري:2/475]
اور عکرمہ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:دیہاتوں والے لوگ جمع ہو کر اس طرح دو رکعت نماز عید ادا کریں گے جس طرح کہ امام (شہر میں) نماز عید پڑھاتا ہے۔
اور عطاء رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جب اس کی نماز عید رہ جائے تو دورکعت پڑھے۔
اس بارے میں ایک دوسرا سوال یہ ہے کہ دو یا چار رکعتیں کہاں ادا کرے؟ اس سلسلے میں امام احمد رحمہ اللہ تعالی سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: إن شاء مضى إلى المصلى، وإن شاء حيث شاء.
اگر چاہے تو عید گاہ جا کر ادا کرلے، اور اگر کسی اور جگہ ادا کرنا پسند کرے تو وہیں پڑھ لئے۔[المغني:3/285]
عیدین کے دونوں دنوں میں روزہ کی ممانعت:
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دونوں دنوں میں رسول کریمﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اس بارے میں متعدہ احادیث ہیں ان میں سے دو درج ذیل ہیں:
① امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ تعالیٰ نے ابو عبید مولی ابن ازھر سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں عید کے موقع پر عمر بن خطاب رضي اللہ عنہ کے ساتھ حاضر ہوا۔ انہوں نے فرمایا:
هذان يومان نهى رسول اللهﷺ عن صيامهما: يوم فطركم من صيامكم، واليوم الآخر تأكلون فيه من نسككم.
ان دو دنوں میں رسول اللہﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا: تمہارے روزے چھوڑنے کا دن (روزوں سے فارغ ہونے کا دن) اور دوسرا دن جس میں تم اپنی قربانیوں [کے گوشت] سے کھاتے ہو۔
[متفق عليه: صحيح البخاري، كتاب الصوم، باب صوم يوم الفطر، قم الحدیث1990]،[صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب النهي عن صوم يوم الفطر ويوم الأضحى، رقم الحديث:138(1137) الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں]
حافظ ابن حجر شرح حدیث میں تحریر کرتے ہیں: یہ حدیث عیدین کے دونوں دنوں میں روزے رکھنے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے، وہ روزے خواہ نذر کے ہوں، یا کفارہ کے، یا نفلی یا حج تمتع کے، اور اس بات پر اجماع ہے۔
[فتح الباري:4/239]
امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا: نهى رسول الله ﷺ عن صومين: يوم الفطر ويوم الأضحى.
رسول اللہﷺ نے دوروزوں سے منع فرمایا: عید الفطر اور عید الاضحی کے دنوں کے۔
[صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب النهي عن صوم يوم الفطر ويوم الأضحى، رقم الحديث:143(1140)]
امام نووی نے لکھا ہے: وقد أجمع العلماء على تحريم صوم هذين اليومين بكل حال سواء صامهما عن نذر أو تطوع أو كفارة أو. غير ذلك.
ان دو دنوں میں کسی بھی قسم کے روزے رکھنے کے حرام ہونے پر علماء کا اجماع ہے، خواہ کوئی شخص یہ روزے نذر کے پورا کرنے کی نیت سے رکھے، یا نفلی روزوں کی نیت سے، یا کفارہ کی نیت سے، یا کسی اور نیت سے۔ [شرح النووي:7/15]
علامہ شوکائی ان دو دنوں کے روزوں کی ممانعت کی حکمت بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں : والحكمة في النهي عن صوم العيدين أن فيه إعراضا عن ضيافة الله تعالى لعباده.
ان دو دنوں میں روزے رکھنے کی ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لئے (تیار کردہ) ضیافت سے اعراض ہے۔
[نيل الأوطار:352-4/351]
جمعۃ المبارک کے دن کی عید:
عید ہفتے کے کسی بھی دن ہو سکتی ہے۔ بسا اوقات عید جمعۃ المبارک کے، دن ہوتی ہے۔ ایسی ہی صورت حال کے متعلق ذیل میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے پانچ باتیں ذکر کی جارہی ہیں:
① نبی کریمﷺ کے عہد مبارک میں عید جمعۃ المبارک کے دن ہوئی، اس طرح حضرات خلفاء عمر، عثمان اور علی کے مقدس زمانوں میں بھی عید جمعہ المبارک کے دن ہوئی۔
② جمعہ کے دن عید ہونے کی صورت میں اہل اسلام عام دستور کے مطابق نماز عید ادا کریں گے ، البتہ جمعہ کے بارے میں انہیں اختیار ہو گا کہ وہ چاہیں تو اس کو ادا کریں، اور چاہیں تو اس میں شرکت نہ کریں ۔ اس بات پر درج ذیل پانچ روایات دلالت کرتی ہیں:
① امام ابو داود نے ایاس بن ابی رملہ شامی سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ:میری موجودگی میں معاویہ بن ابی سفیان نے زید بن ارقم سے یہ سوال کیا: أشهدت مع رسول الله عيدين اجتمعا في يوم واحد؟
کیا آپ نے رسول اللہﷺ کی رفاقت میں دو عیدوں [جمعۃ المبارک اور عید الفطر یا عید الاضحیٰ] کو ایک دن میں جمع ہوتے دیکھا؟ قال: نعم،
انہوں نے جواب میں کہا: ہاں۔ قال: فكيف صنع؟ انہوں [معاویہ] نے کہا: آنحضرتﷺ نے اس موقع پر کیا کیا؟
قال: صلى العيد، ثم رخص في الجمعة، فقال: من شاء أن يصلي فليصل.
انہوں نے بتلایا: آپﷺ نے عید پڑھائی، اور جمعہ کے بارے میں رخصت دی، اور فرمایا: جو پڑھنا چاہے وہ پڑھ لے۔
[سنن أبي داود، باب تفريع أبواب الجمعة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد، رقم الحديث:1066]،[ شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود:1/199]
② امام ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا:
اجتمع عيدان على عهد رسول اللهﷺ، فصلى بالناس، ثم قال: من شاء أن يأتي الجمعة فليأتها، ومن شاء أن يتخلف فليتخلف.
[سنن ابن ماجه، أبواب إقامة الصلاة، باب ما جاء فيما إذا اجتمع. العيدان في يوم، رقم الحديث:1306]،[ شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ملاحظہ ہو: صحیح سنن ابن ماجه:1/220]
③ کنز العمال میں ہے کہ عمر فاروق نے خطبہ عید میں فرمایا:
إنه قد اجتمع لكم في يومكم هذا عيدان، فمن أحب من أهل العالية أن ينتظر الجمعة فلينتظرها، ومن أحب أن يرجع فليرجع، فقد أذنت له.
تمہارے اس دن میں دو عید میں جمع ہو گئیں ہیں۔ اہل عالیہ میں سے جو انتظار کرنا پسند کرے وہ انتظار کرے، اور جو واپس جانا چاہے، وہ واپس چلا جائے، میں نے اس کو واپس جانے کی اجازت دے دی۔
[كنز العمال رقم الرواية:23307]
④ امام بخاری نے ابو عبیدہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ثم شهدت العيد مع عثمان بن عفان، وكان ذلك يوم الجمعة، فصلى قبل الخطبة، ثم خطب، فقال: يا أيها الناس! إن هذا يوم قد اجتمع لكم فيه عيدان، فمن أحب أن ينتظر الجمعة من أهل العوالي فلينتظر، ومن أحب أن يرجع فقد أذنت له.
پھر میں عید کے موقع پر حضرت عثمان بن عفان کے ساتھ حاضر ہوا۔ انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں فرمایا: اے لوگو! بے شک اس دن میں دو عید میں جمع ہو گئیں ہیں عوالی [مضافات مدینہ طیبہ] کے لوگوں میں سے جو [نماز] جمعہ کا انتظار کرنا چاہے کرلے، اور جو واپس جانا چاہے تو میں نے اس کو واپس جانے کی اجازت دے دی۔
[صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي وما يتزود بها، رقم الرواية:5572]
⑤ امام عبدالرزاق نے حضرت علی سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:
اجتمع عيدان في يوم، فقال:من أراد أن يجمع فليجمعه، ومن أراد أن يجلس فليجلس.
آج کے دن میں دو عید میں جمع ہو چکی ہیں جو جمعہ پڑھنا چاہے پڑھ لے اور جو [اپنے گھر میں] بیٹھنا پسند کرے وہ [گھر] میں بیٹھا رہے۔
[المصنف، كتاب صلاة العيدين، باب اجتماع العيدين، رقم الرواية:5731]،[ نیز ملاحظہ ہو: مصنف ابن أبي شيبة، كتاب الصلوات، في العيدين يجزي أحدهما عن الآخر،2/187]
جہاں تک امام کا تعلق ہے وہ ایسی حالت میں جمعہ پڑھائے تا کہ جو حضرات جمعہ ادا کرنا چاہیں وہ اس کی امامت میں ادا کر سکیں ۔ رسول اللہﷺ ہے نے ایسے موقع پر نماز جمعہ پڑھائی۔ درج ذیل دو حدیثیں اس بات پر دلالت کناں ہیں:
① امام ابوداود نے حضرت ابو ہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: قد اجتمع في يومكم هذا عيدان فمن شاء أجزاه من الجمعة، وإنا مجمعون.
تمہارے اس دن میں دو عید میں جمع ہو چکی ہیں اگر کوئی چاہے تو یہ [نماز عید کا ادا کرنا] جمعہ کے ادا کرنے سے اس کی کفایت کرے گا ، اور ہم تو یقینا جمعہ ادا کرنے والے ہیں۔
[سنن أبي داود، تفريع أبواب الجمعة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد، رقم الحديث:1069]،[شیخ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود:1/200]
② امام مسلم نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا: كان رسول الله ﷺ يقرأ في العيدين، وفي الجمعة [سبح اسم ربك الأعلى] و [هل أتاك حديت الغاشية].قال:وإذا اجتمع العيد والجمعة في يوم واحد يقرأ بهما أيضا في الصلاتين.
رسول اللہﷺ دونوں عیدوں اور جمعہ میں [سبح اسم ربك الأعلى] اور [هل أتاك حديث الغاشية] پڑھتے۔
انہوں نے [یہ بھی] کہا: جب عید اور جمعہ ایک دن میں اکھٹے ہو جاتے تو آپ دونوں نمازوں میں انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے۔
[صحیح مسلم، کتاب الجمعة، باب ما يقرأ في صلاة الجمعة، رقم الحديث:62(878)]
اس حدیث شریف سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آنحضرت یہ عید اور جمعہ کے ایک دن جمع ہونے کی حالت میں عید اور جمعہ کی دونوں نمازیں ادا کرتے۔ سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ ابن باز اس بارے میں فرماتے ہیں کہ جمعہ کے امام و خطیب پر واجب ہے کہ وہ عید اور جمعہ کے ایک دن ہونے کی صورت میں مسجد میں آکر جمعہ پڑھائے، نبی کریمﷺ عید کے دن بھی جمعہ کا اہتمام فرماتے، لوگوں کو نماز عید پڑھاتے، پھر نماز جمعہ بھی پڑھاتے، جیسا کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔
[مجموع و مقالات متنوعه:341/12-342]
ایسی صورت حال میں جو لوگ نماز عید پڑھنے کے بعد نماز جمعہ میں شریک نہ ہوں ان پر لازم ہے کہ وہ نماز ظہر ادا کریں۔ اس سلسلے میں شیخ ابن باز فرماتے ہیں کہ : نماز عید ادا کرنے کے بعد اسی دن کی نماز جمعہ چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں البتہ نماز جمعہ نہ پڑھنے والے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ نماز ظہر اکیلے یا با جماعت ادا کریں ۔
[مجموع و مقالات متنوعه:12/342]
⑤ بعض لوگ عید اور جمعہ کے ایک دن جمع ہونے کو منحوس سمجھتے ہیں، کتاب وسنت سے ایسی کوئی بات ثابت نہیں۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ آنحضرتﷺ کے عہد با برکت اور خلفائے ثلاثہ عمر، عثمان اور علی کے مقدس زمانوں میں عید جمعہ کے دن ہوئی لیکن آپﷺ نے اور خلفائے ثلاثہ نے لوگوں کو کوئی ایسی بات نہیں بتلائی۔ اگر ان دونوں کے ایک دن اجتماع میں بدشگونی کی کوئی بات ہوتی تو وہ لوگوں کو ضرور اس سے آگاہ فرما دیتے۔