عید میں ایک خطبہ مشروع ہے
عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد ایک خطبہ مشروع ہے کیونکہ احادیث میں ایک خطبہ عید کا بیان ہے :
(1) ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
شهدت العيد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم فكلهم كانوا يصلون قبل الخطبة
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی معیت میں نماز عید میں شریک ہوا، یہ سب خطبہ سے قبل نماز ادا کرتے تھے۔“
[صحيح بخاري، کتاب العيدين، باب الخطبة بعد العيد : 962 – صحيح مسلم، کتاب صلاة العيدين : 884]
(2) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں :
قام النبى صلى الله عليه وسلم يوم الفطر فصلى فبدأ بالصلاة ثم خطب
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھڑے ہوئے، نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے ابتداء کی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔“
[صحيح بخاري کتاب العيدين باب موعظة الإمام النساء يوم العيد : 978 – صحیح مسلم کتاب صلاة العيدين : 885 – سنن أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب الخطبة يوم العيد : 1141 – مسند احمد : 696/3]
فوائد :
یہ احادیث اور ان جیسی دیگر روایات جن میں خطبہ عیدین کا بیان ہے دلیل ہیں کہ عیدین میں ایک خطبہ مسنون ہے کیونکہ ان روایات میں عید کے دو خطبوں کا بیان نہیں ہے۔ نیز جن روایات میں عید کے دو خطبوں کا بیان ہے وہ ضعیف ہیں۔
(1) جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :
خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم فطر أو أضحى فخطب قائما ثم قعد قعدة ثم قام
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن (نماز عید کے لیے) روانہ ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے، پھر کھڑے ہوئے (اور دوسرا خطبہ ارشاد کیا)۔“
[سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلوات، باب ماجاء في الخطبة في العيدين : 1289 – إسناده ضعیف]
اس حدیث کی سند میں عبد الرحمن بن عثمان بن امیہ ابو بحر بکراوی اور اسماعیل بن مسلم ضعیف راوی ہیں اور ابو الزبیر مکی کی تدلیس ہے۔
(2) عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ بیان کرتے ہیں :
السنة أن يخطب الإمام فى العيدين خطبتين يفصل بينهما
”سنت طریقہ یہ ہے کہ امام عیدین میں دو خطبے دے اور ان کے درمیان بیٹھنے سے فاصلہ کرے۔“
[كتاب الأم : 272/1 – بيهقي : 299/3 – إسناده ضعیف جداً]
امام شافعی کے استاد ابراہیم بن محمد بن ابی بیٹی اسلمی متروک راوی ہیں اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ تابعی ہیں تابعی کا کسی فعل کو سنت کہنے سے مراد سنت نبوی نہیں ہوتی، کیونکہ ایسی روایت مرسل ہوتی ہے۔
سید سابق کہتے ہیں: ایسی تمام روایات ضعیف ہیں جن میں وارد ہے کہ عید کے دو خطبے ہیں اور ان خطبوں کے درمیان بیٹھ کر فاصلہ کرنا مسنون ہے اور نووی بیان کرتے ہیں کہ خطبہ عید کے تکرار کے متعلق کوئی حدیث ثابت نہیں ہے۔ [فقه السنة : 304/1]
خطبہ عید حاضرین کے بالمقابل زمین پر کھڑے ہو کر دینا مسنون ہے :
خطبہ عید منبر کے بغیر زمین پر کھڑے ہو کر دینا مشروع ہے اس کے دلائل درج ذیل ہیں۔
(1) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم خطب على رجليه
”بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (عید کا خطبہ) اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا۔“
[مسند احمد : 31/3 – إسناده صحیح]
(2) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم العيد فيصلي بالناس ركعتين ثم يسلم فيقف على رجليه فيستقبل الناس وهم جلوس فيقول تصدقوا تصدقوا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روز عید (عید گاہ کی طرف) روانہ ہوتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر لوگوں کی طرف رخ کرتے جب کہ لوگ بیٹھے ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ ارشاد فرماتے اور) کہتے: صدقہ کرو، صدقہ کرو۔“
[صحيح ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ماجاء في الخطبة في العيدين : 1288 – مسند احمد : 54/3 – إسناده صحیح]
(3) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى فأول شيء يبدأ به الصلاة ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس والناس جلوس على صفوفهم فيعظهم ويوصيهم ويأمرهم
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن عید گاہ کی طرف نکلتے اور سب سے پہلے جس چیز سے ابتداء کرتے، نماز تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے اور لوگوں کے بالمقابل کھڑے ہو کر انہیں وعظ و نصیحت کرتے اور انہیں حکم دیتے حالانکہ لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوتے تھے۔“
[صحيح بخاري کتاب العيدين باب الخروج إلى المصلى بغير منبر : 956 – سنن مسلم کتاب صلاة العيدين : 889]