عیدین کے آداب و احکام صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:

ضروری ہدایات :

مضمون کے اہم نکات

پچھلی بحث میں ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ عورتوں کا نماز عید کے لیے عید گاہ جانا واجب ہے لہذا انھیں بہر صورت نماز عید میں شریک ہونا چاہیے، لیکن عورتوں پر درج ذیل امور کو ملحوظ رکھنا لازم ہے۔
(1) با پردہ ہو کر نکلنا ۔ نماز عید میں شرکت کے لیے ضروری ہے کہ عورتیں گھروں سے با پردہ ہو کر نکلیں، انتہائی سادہ لباس استعمال کریں اور بے پردگی کی وجہ سے ذاتی نمائش اور فتنہ کا سبب نہ بنیں۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے :
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا
”اے نبی! اپنی بیویوں سے، اپنی بیٹیوں سے اور مومنین کی عورتوں سے کہیے کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو وہ ستائی نہ جائیں اور اللہ تعالیٰ نہایت بخشنے والا، انتہائی مہربان ہے۔“
(سورة الأحزاب : 59)
(2) سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے کسی عورت کی اوڑھنی نہ ہو (تو اسے نماز عید سے پیچھے رہنے کی رخصت ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لتلبسها أختها من جلبابها
”اس کی بہن اسے اپنی اوڑھنی پہنائے۔“
[صحيح مسلم، كتاب صلاة العيدين باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى : 890 – جامع ترمذي کتاب الصلاة، باب في خروج النساء في العيدين : 540 – سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة، باب ماجاء في خروج النساء في العيدين : 1307]

فوائد :

عورتوں کا گھر سے نکلتے وقت با پردہ ہونا ضروری ہے اور عیدین میں حاضری کے وقت اس کی خاص تاکید ہے لہذا عیدین میں شرکت کے لیے پردہ کا خاص انتظام کیا جائے۔
❀ ابن جریر طبری کہتے ہیں:
(مذکورہ آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ) مسلمان عورتیں لباس میں باندیوں کی مشابہت اختیار نہ کریں، کیونکہ جب وہ کسی ضرورت کے وقت گھر سے نکلتی ہیں تو ان کے بال اور چہرہ ننگے ہوتے ہیں، لیکن مسلمان عورتیں گھروں سے نکلتے وقت اپنے اوپر اپنی بڑی چادریں لٹکا لیا کریں تا کہ یہ معلوم ہونے پر کہ وہ آزاد عورتیں ہیں کوئی منچلا فاسق ان کی ایذا رسانی کا سبب نہ بنے۔ پھر اہل تفسیر کا اس حکم (کہ وہ اپنی بڑی چادریں اپنے اوپر لٹکائیں) کے مفہوم میں اختلاف ہے چنانچہ بعض مفسرین کہتے ہیں اس سے مقصد یہ ہے کہ عورتیں اپنے چہرے اور سر ڈھانپ لیں اور محض ایک آنکھ کھلی چھوڑیں۔ [تفسیر طبری]

بناؤ سنگھار سے گریز کریں :

گھر سے نکلتے وقت عورتوں پر لازم ہے کہ وہ زیب و زینت کا اظہار اور بناؤ سنگھار کا اہتمام نہ کریں، شوخ اور بھڑکیلا لباس جو اجنبی مردوں کو متوجہ کرے استعمال نہ کریں اور ناز و نخرے سے مٹک مٹک کر نہ چلیں، بلکہ سادہ لباس پہن کر اور زیبائش ترک کر کے گھر سے باہر قدم رکھیں۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے :
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى
”اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور قدیم جاہلیت کی اظہار زینت کی طرح زینت ظاہر نہ کرو۔“
(سورة الأحزاب : 33)
”تبرج“ کا معنی اجنبی مردوں کے سامنے زینت ظاہر کرنا اور اپنے محاسن (چہرہ، گردن اور زیورات وغیرہ) کی نمائش ہے، نیز اس کے مفہوم بارے کئی اقوال ہیں۔
(1) قتادہ کہتے ہیں، دور جاہلیت میں عورتیں گھر سے نکلتے وقت خاص نسوانی چال چلتی تھیں اور مٹک کر ناز و نخرے سے چلتی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو اس بری عادت سے منع کر دیا۔
(2) ابن ابی نجیح ”التبرج“ کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس کا معنی اترا کر چلنا ہے اور ایک قول ہے کہ التبرج اظہار زینت اور اجنبی مردوں کے سامنے عورت کا اپنے محاسن ظاہر کرنا ہے۔ [تفسیر طبری]

خوشبو اور عطریات کا استعمال نہ کریں :

گھر سے نکلتے وقت بالعموم اور عید گاہ میں جاتے وقت بالخصوص عورتیں خوشبویات کا استعمال نہ کریں، اس لیے کہ گھر سے باہر نکلتے وقت عطریات کا استعمال عورتوں پر حرام ہے۔
(1) ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أيما امرأة استعطرت فمرت على قوم ليجدوا من ريحها فهي زانية
”جو عورت اس لیے خوشبو استعمال کرے اور مردوں کے قریب سے گزرے تا کہ وہ اس کی خوشبو پائیں تو وہ عورت بدکارہ ہے۔“
[سنن أبو داؤد، كتاب الترجل، باب في طيب المرأة للخروج : 4173 – جامع ترمذي، كتاب الإستيذان، باب ماجاء في كراهية خروج المرأة متعطرة : 2784 – سنن نسائی، کتاب الزينة، باب ما يكره للنساء من الطيب : 5129 – صحيح ابن حبان : 4424 – صحيح ابن خزيمة : 1681 – مسند أحمد : 413/4 – (اسنادہ حسن، ثابت بن عمارہ صدوق راوی ہے)]
(2) سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تمنعوا إماء الله مساجد الله ولكن ليخرجن وهن تفلات
”تم اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد سے مت روکو، لیکن وہ خوشبو استعمال کیے بغیر (مساجد کی طرف) روانہ ہوں۔“
[أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب ما جاء في خروج النساء إلى المسجد : 565 – صحيح ابن حبان : 2214 – صحیح ابن خزيمة : 1679 – مسند احمد : 438/2 – إسناده حسن]
(3) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رفیق حیات زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا:
إذا شهدت إحداكن المسجد فلا تمس طيبا
”جب تم میں سے کوئی عورت مسجد میں حاضر ہو تو وہ خوشبو استعمال نہ کرے۔“
[مسلم کتاب الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد إذا لم يترتب عليه فتنة : 443 – سنن نسائی، کتاب الزينة، باب النهى للمرأة أن تشهد الصلاة إذا أصابت بخورا : 5132 – صحيح ابن حبان : 2215 – صحیح ابن خزيمة : 1680 – مسند أحمد : 363/6]

عورتیں راستے کے وسط میں نہ چلیں :

گھر سے نکلنے اور مساجد یا عیدین میں حاضر ہونے کے آداب میں ایک اہم ادب یہ ہے کہ عورتیں راستے کے درمیان میں چلنے سے اجتناب کریں اور راستے کے ایک طرف ہو کر چلیں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ليس للنساء وسط الطريق
”عورتوں کے لیے وسط راستہ میں چلنا مناسب نہیں ہے۔“
[صحيح ابن حبان : 5601 – شعب الإيمان بيهقي : 777 – اسنادہ حسن]
ابن حبان اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں اس حدیث میں راستے میں چلتے وقت عورتوں کے مردوں سے اختلاط کے بارے زجر و توبیخ ہے، کیونکہ راستے کا وسط بالعموم مردوں کے چلنے کے لیے ہوتا ہے اور عورتوں پر واجب ہے کہ وہ مردوں سے عدم اختلاط کے پیش نظر راستے کے کناروں پر چلیں۔

ایک ضعیف حدیث کا بیان :

ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ راستے میں مردوں اور عورتوں کا اختلاط ہو گیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے کہا :
إستأخرن، فإنه ليس لكن أن تحققن الطريق، عليكن بحافات الطريق، فكانت المرأة تلصق بالجدار حتى إن ثوبها ليتعلق بالجدار من لصوقها به
”تم پیچھے ہٹو، اس لیے کہ راستے کے درمیان میں چلنا تمہارے شایان شان نہیں، (بلکہ) تم راستے کے کناروں کا التزام کرو، پھر عورت دیوار سے چمٹ کر چلتی تھی حتیٰ کہ دیوار کے ساتھ چمٹ کر چلنے کی وجہ سے اس کا کپڑا دیوار سے اٹک جاتا تھا۔“
[أبو داؤد، كتاب الأدب، باب في مشى النساء مع الرجال في الطريق : 5272 – إسناده ضعیف]
اس حدیث میں شہداد بن ابی عمر بن حماس اور اس کا والد ابو عمرو بن حماس دونوں مجہول راوی ہیں۔

فوائد :

(1) ابن قدامہ حنبلی کہتے ہیں: عیدین کے لیے نکلنے کی صورت میں عورتوں کے لیے مستحب ہے کہ وہ خوشبو کا استعمال نہ کریں، شہرت و نمائش کا لباس نہ پہنیں اور زیب و زینت اختیار نہ کریں، عام استعمال کا لباس زیب تن کریں اور راستے میں مردوں سے اختلاط نہ کریں بلکہ وہ راستے میں ایک طرف ہو کر چلیں۔ [المغني مع الشرح الكبير : 232/2]
(2) امام نووی رقم طراز ہیں کہ عورتوں کو مسجد سے روکنا ممنوع ہے، لیکن عورتوں کا مسجد میں جانا کچھ چیزوں سے مشروط ہے جو احادیث سے ماخوذ ہیں : (1) خوشبو نہ لگائی ہو (2) بناؤ سنگھار نہ کیا ہو (3) ایسی پازیبیں نہ پہنی ہوں جن کی چھنکار سنائی دے (4) بھڑکیلا اور شوخ لباس نہ پہنا ہو۔ [شرح النووي : 160/4]
نماز کے لیے مسجد میں عورتوں کا آنا جائز عمل ہے جب کہ نماز عید عورتوں پر واجب ہے لہذا مذکورہ شرطوں کی پابندی عید کی حاضری کے لیے اتنی ہی ضروری ہے جتنی مسجد میں حاضر ہونے کے لیے لازم ہے۔
نیز اگر کوئی عورت اوپر بیان کردہ احکامات کی خلاف ورزی کرے اور نماز عید کے اہتمام کے لیے گھر سے نکلتے وقت شرعی حجاب کی پابندی نہ کرے، بناؤ سنگھار کا اظہار کرے، بھڑکیلا لباس پہنے، خوشبو کا استعمال کرے یا بے حیائی اور آوارگی کا سامان کرے تو گھر کا سرپرست اسے ان چیزوں سے منع کرے بصورت دیگر وہ اس پر گھر سے نکلنے کی پابندی لگانے کا مجاز ہے اور آئندہ حدیث اس موقف کی تائید کرتی ہے :
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں :
لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء لمنعهن المسجد كما منعت نساء بني إسرائيل قلت لعمرة : أو منعن؟ قالت : نعم
”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان عورتوں (میں ترویج عادات بد) پا لیتے جو انہوں نے اختراع کی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں مسجد سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتیں مساجد سے روک دی گئی تھیں۔“
(یحییٰ بن سعید کہتے ہیں) میں نے عمرہ سے پوچھا : کیا بنی اسرائیل کی عورتیں روک دی گئی تھیں؟ انہوں نے کہا : ہاں (وہ روک دی گئی تھیں)۔
[بخاري کتاب الأذان، باب انتظار الناس قيام الإمام : 869 – صحيح مسلم، کتاب الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد إذا لم يترتب عليه فتنة : 445 – سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب التشديد في ذلك : 569 – مسند احمد : 329/1 – صحیح ابن خزيمة : 1698]
(1) ابن قدامہ کہتے ہیں: حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کی رو سے بعیدین میں حاضری پر پابندی ان عورتوں سے خاص ہے جو گھر سے نکلتے وقت غیر شرعی عوامل کی مرتکب ہوں اور جو عورتیں شرعی قوانین ملحوظ رکھیں وہ اس پابندی سے مستثنی ہیں۔ [المغني مع الشرح الكبير : 231/2]
(2) ابن عثیمین کا فتویٰ: قول عائشہ رضی اللہ عنہا میں ”لمنعهن“ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب کسی حرام کام کی بنیاد مباح عمل پر ہو تو ایسا مباح عمل بھی حرام ہو جاتا ہے، چنانچہ اگر عورتوں کی اکثریت غیر شرعی طور طریقے اختیار کر کے عیدین کے لیے نکلیں تو ہم تمام عورتوں پر پابندی عائد نہیں کریں گے، بلکہ ہم فقط ایسی عورتوں پر پابندی عائد کریں گے جو غیر شرعی عوامل (بناؤ سنگھار، بے پردگی اور خوشبو وغیرہ کے استعمال) کی مرتکب ہوں گی۔ [مجموع فتاوى و رسائل ابن عثيمين : 130/16]

بچوں کا عیدین میں شریک ہونا :

بچوں کا عیدین میں شریک ہونا مسنون عمل ہے، اس معاملہ میں بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تا کہ ان مذہبی تہواروں کی رونق دوبالا ہو اور وہ بھی اس خوشی و فرحت کے اجتماع میں شامل ہو کر فرحت محسوس کریں اور مستقبل میں عیدین میں شرکت کے لیے ان کی عادات پختہ ہوں، اس مشروعیت کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
(1) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
خرجت مع النبى صلى الله عليه وسلم يوم فطر أو أضحى فصلى العيد، ثم خطب، ثم أتى النساء فوعظهن وذكرهن وأمرهن بالصدقة
”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن (عید گاہ کی طرف) نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد کیا، بعد ازاں عورتوں کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں وعظ و نصیحت کی اور انھیں صدقہ کا حکم دیا۔“
[بخاري، کتاب العيدين، باب خروج الصبيان إلى المصلى : 979 – صحيح ابن حبان : 2818 – مسند أحمد : 307/1]
(2) امام بخاری نے مذکورہ حدیث پر یہ عنوان ”باب خروج الصبيان إلى المصلى“ (بچوں کا عید گاہ کی طرف جانے کا بیان) باندھ کر بچوں کے عید گاہ میں جانے کے جواز کی طرف اشارہ کیا۔
حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں: امام بخاری کا یہ باب باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ بچے عیدین میں شریک ہوں، خواہ وہ نماز عید نہ ہی پڑھیں اور ابن منیر کہتے ہیں: امام بخاری نے نماز عید کے لیے بچوں کا نکلنا یہ باب باندھنے کے بجائے یہ باب عید گاہ میں بچوں کا جانا باندھنے کو اس لیے ترجیح دی ہے کہ تمام بچے عید گاہ میں پہنچنے کے جواز میں شامل ہوں، وہ بھی جو نماز ادا کرنے کے قابل ہیں اور وہ بھی جو صغر سنی کی وجہ سے نماز پڑھنے سے قاصر ہیں۔ [فتح الباري : 598/2]
(3) عبد الرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں شریک ہوئے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہاں!
ولولا مكاني من الصغر ما شهدته
”اگر کم سنی کی وجہ سے میرا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں) کوئی خاص مقام نہ ہوتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز عید میں شریک نہ ہو پاتا۔“
[بخاري، کتاب العيدين، باب العلم الذي بالمصلى : 977 – أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب ترك الأذان في العيد : 1146 – نسائی : كتاب صلاة العيدين]
اسی (حاضرین کی کثرت کو مدنظر رکھتے ہوئے) حائضہ عورتوں کا عید گاہ میں جانا مشروع ٹھہرا ہے۔ سو تمام بچوں کا عید گاہ میں شامل ہونا مشروع ہے، خواہ ان کی نماز ہوتی ہے یا نہیں ہوتی، البتہ بچوں کے ساتھ ان کے سرپرست کا ہونا ضروری ہے، جو انھیں کھیل کود اور غل غپاڑے سے باز رکھے، خواہ بچے نماز ادا کریں یا نہ کریں۔ [فتح الباري : 600/2]
(4) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج فى العيدين مع الفضل بن عباس وعبد الله بن عباس والعباس وعلي وجعفر والحسن والحسين وأسامة بن زيد وزيد بن حارثة وأيمن بن أم أيمن رافعا صوته بالتهليل والتكبير
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں فضل بن عباس، عبد اللہ بن عباس، عباس، علی، جعفر، حسن و حسین، اسامہ بن زید بن حارثہ اور ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہم کے ہمراہ با آواز بلند تکبیر و تہلیل کہتے (عید گاہ کی طرف) روانہ ہوتے تھے۔“
[صحيح ابن خزيمة : 1431 – بيهقي : 679/3 – إسناده حسن]

فقه الحدیث :

یہ حدیث واضح نص ہے کہ بچوں کو عید گاہ میں لے جانا مسنون فعل ہے کیونکہ عباس، علی، جعفر، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم کے سوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تمام حاضرین بچے ہی تھے۔

عیدین میں تکبیرات کہنے کا بیان :

ایام عیدین میں اور عید گاہ میں جاتے وقت تکبیرات کا اہتمام کرنا مسنون و مستحب عمل ہے لہذا تکبیرات کا والہانہ اہتمام کرنا چاہئے اور اس سنت کے احیاء کی حتی الوسع کوشش کرنی چاہیے۔

عید گاہ جاتے ہوئے تکبیرات کا اہتمام کرنا :

عید گاہ جاتے وقت گھر سے نکلتے ہوئے عید گاہ میں داخل ہونے تک با آواز بلند تکبیر و تہلیل کا ورد کرنا مشروع و مسنون فعل ہے۔
(1) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج فى العيدين مع الفضل بن عباس وعبد الله بن عباس والعباس وعلي وجعفر والحسن والحسين وأسامة بن زيد وزيد بن حارثة وأيمن بن أم أيمن رافعا صوته بالتهليل والتكبير
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل بن عباس، عبد اللہ بن عباس، عباس، علی، جعفر، حسن و حسین، اسامہ بن زید، زید بن حارثہ اور ایمن بن ام ایمن رضی اللہ عنہم کے ہمراہ عیدین میں (نماز عید کے لیے) نکلتے حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم با آواز بلند تکبیر و تہلیل کہہ رہے ہوتے تھے۔“
[صحيح ابن خزيمة : 1431 – بيهقي : 679/3 – إسناده حسن لذاته]
(2) نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
أن ابن عمر كان يعدو يوم العيد ويكبر ويرفع صوته حتى يبلغ الإمام
”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صبح سویرے (نماز عید کے لیے) نکلتے اور جب تک امام (عید گاہ میں) نہ پہنچتا وہ با آواز بلند تکبیر کہتے رہتے تھے۔“
[مصنف ابن أبي شيبة : 5618 – بيهقي : 679/3 – اسنادہ حسن]
(3) زہری بیان کرتے ہیں :
كان الناس يكبرون فى العيد حين يخرجون من منازلهم حتى يأتوا المصلى وحتى يخرج الإمام فإذا خرج الإمام سكتوا فإذا كبر كبروا
”لوگ عید میں اپنے گھروں سے نکلتے وقت تکبیرات کہنا شروع کرتے، حتیٰ کہ وہ عید گاہ میں پہنچ جاتے اور امام بھی عید گاہ میں پہنچ جاتا، چنانچہ جب امام (عید گاہ میں) پہنچ جاتا تو لوگ خاموش ہو جاتے اور جب وہ تکبیر کہتا تو لوگ بھی تکبیرات کہتے تھے۔“
[مصنف ابن أبي شيبة : 5628 – إرواء الغليل : 121/3 – إسناده صحيح]
(4) امام اوزاعی اور مالک کا فتویٰ: ولید بن مسلم کا بیان کہ میں نے اوزاعی اور مالک سے پوچھا کہ عیدین میں تکبیرات اونچی آواز سے کہی جا سکتی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا : ہاں! (ایسا کرنا جائز ہے) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید الفطر میں با آواز بلند تکبیرات کہتے تا وقتیکہ امام عید گاہ میں پہنچ جاتا۔ [إرواء الغليل : 22/3 – اسنادہ صحيح]

فقه الحدیث :

(1) یہ احادیث دلیل ہیں کہ عید گاہ جاتے ہوئے با آواز بلند تکبیر و تہلیل کا اہتمام کرنا مسنون و مستحب فعل ہے۔
(2) نماز عید کے لیے تنہا نکلنے کے بجائے عزیز و اقارب اور رفقاء کے ساتھ عید گاہ کا رخ کرنا افضل عمل ہے۔

ضعیف حدیث کی نشاندہی :

(1) زہری بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج يوم الفطر فيكبر حتى يأتى المصلى وحتى يقضي الصلاة فإذا قضى الصلاة قطع التكبير
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلتے اور تکبیرات کہتے رہتے حتیٰ کہ عید گاہ پہنچ جاتے اور نماز سے فارغ ہو جاتے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر لیتے تکبیرات کا سلسلہ منقطع کر دیتے تھے۔“
[مصنف ابن أبي شيبة : 5620 – إسناده مرسل]
یہ حدیث مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔