عیدین کی راتوں میں خاص عبادت کا بیان

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عیدین کی راتوں میں خاص عبادت :

عیدین کی رات میں خاص عبادات یا شب بیداری مسنون فعل نہیں اور اس بارے مروی روایات موضوع اور ضعیف ہیں۔
(1) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من صلى ليلة الفطر والأضحى لم يمت قلبه يوم تموت القلوب
”جس نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی (تمام) رات نماز پڑھی اس کا دل اس دن زندہ رہے گا جس دن تمام دل مردہ ہوں گے۔“
[طبراني اوسط : 159 – الضعيفة : 520 – ضعیف جداً]
اس سند میں عمر بن ہارون بلخی متروک راوی ہے۔ حافظ ذہبی نے میزان الاعتدال میں اسے کذاب خبیث لکھا ہے۔
[میزان الاعتدال : 228/3]
(2) ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من قام ليلتي العيدين محتسبا لله لم يمت قلبه يوم تموت القلوب
”جس نے عیدین کی راتوں میں اللہ تعالیٰ سے طلب ثواب کی نیت سے قیام کیا اس کا دل اس دن مردہ نہیں ہو گا جس دن دل مردہ ہو جائیں گے۔“
[ابن ماجه، كتاب الصيام، باب فيمن قام ليلتي العيدين : 1782 – الضعيفة : 521]
اس حدیث کی سند میں بقیہ بن ولید کی تدلیس ہے۔
(3) ابو الدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
من قام ليلتي العيدين لله محتسبا فلم يمت قلبه حين تموت القلوب
”جو شخص عیدین کی راتوں میں طلب ثواب کی نیت سے اللہ کے لیے قیام کرے گا اس کا دل اس وقت زندہ ہو گا جس وقت دل مردہ ہوں گے۔“
[بيهقي : 319/3 – ضعیف جداً]
اس سند میں ابراہیم بن محمد بن ابی بیٹی اسلمی متروک راوی ہے۔
(4) معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من أحيا الليالي الأربع وجبت له الجنة ليلة التروية وليلة عرفة وليلة النحر وليلة الفطر
”جس نے چار راتیں ترویہ (8 ذوالحجہ) کی رات، عرفہ (9 ذوالحجہ) کی رات، نحر (10 ذوالحجہ) کی رات اور عید الفطر کی رات شب بھر عبادت کی اس کے لیے جنت واجب ہے۔“
[الضعيفة : 522 – موضوع]
اس سند میں سوید بن سعید ضعیف، عبد الرحیم بن زید العمی متروک اور زید بن حواری ضعیف راوی ہے۔

نماز عیدین کا حکم :

نماز عیدین کے فرض عین، فرض کفایہ، واجب اور سنت مؤکدہ ہونے کے بارے علماء کے مختلف مذاہب ہیں جنھیں ہم بالتفصیل بیان کریں گے :

نماز عید فرض کفایہ ہے :

حنابلہ کا مذہب ہے کہ نماز عید فرض کفایہ ہے اور جب بقدر فرضیت کچھ لوگ اس نماز کا اہتمام کریں تو باقی لوگوں سے اس کی فرضیت ساقط ہو جائے گی اور اگر تمام اہل شہر ترک عید پر متفق ہو جائیں تو حاکم وقت ان سے قتال کرے گا۔
[المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 223/2]
شافعیہ میں سے ابو سعید اصطخری بھی اس موقف کے قائل ہیں کہ نماز عید فرض کفایہ ہے۔
[شرح النووي : 170/6]

نماز عید واجب ہے :

امام ابو حنیفہ کہتے ہیں نماز عید واجب ہے فرض نہیں اس لیے کہ اس نماز میں خطبہ مشروع ہے۔ سو یہ واجب ہے فرض نہیں۔
[المغني مع الشرح الكبير : 223/2]
(یاد رکھیے! احناف کے نزدیک واجب کا درجہ فرض سے کم ہے اور ان کے نزدیک ترک واجب کی سزا ترک فرض سے کم ہے اسی طرح واجب کا منکر کافر نہیں ہوتا جب کہ فرض کا منکر کافر ہو جاتا ہے)
[الوجیز فی اصول الفقه ص: 32]

نماز عید سنت مؤکدہ ہے :

(1) امام مالک اور اکثر شافعیہ کا موقف ہے کہ نماز عید سنت مؤکدہ ہے۔ [المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 224/2]
(2) امام نووی رقم طراز ہیں کہ امام شافعی، جمہور شافعیہ اور جمہور علماء کے نزدیک نماز عید سنت مؤکدہ ہے۔ [شرح النووي : 170/6]
اس موقف کے قائلین کے دلائل درج ذیل ہیں۔
(1) طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن أعرابيا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ثائر الرأس فقال يا رسول الله أخبرني ماذا فرض الله على من الصلاة فقال الصلوات الخمس إلا أن تطوع شيئا
”بلاشبہ ایک پراگندہ سر دیہاتی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ! مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ نے فرمایا : (اللہ تعالیٰ نے تجھ پر) پانچ نمازیں (فرض کی ہیں) ہاں تم مرضی سے کچھ نوافل ادا کر سکتے ہو۔“
[صحيح بخاري، کتاب الصيام، باب وجوب صوم رمضان : 1891 – سنن نسائی، کتاب الصيام، باب وجوب الصيام : 2092 – صحیح ابن خزيمة : 306]

رد :

نماز عید کی عدم فرضیت کے بارے ان کی یہ دلیل باطل ہے کیونکہ بعض روایات میں اس کی صراحت ہے کہ پانچ فرض نمازوں سے مقصود دن رات کی پانچ نمازیں ہیں (صحیح بخاری: 46) ورنہ اس استدلال سے تو خطبہ جمعہ، نماز جنازہ اور تحیۃ المسجد کی فرضیت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
ابن قدامہ کہتے ہیں: مذکورہ حدیث ان علماء کے موقف کی دلیل نہیں ہے، کیونکہ بادیہ نشین لوگوں کی مستقل رہائش نہ ہونے کی وجہ سے نماز جمعہ واجب نہیں، لہذا ان پر نماز عید بالا ولی غیر واجب ہوگی۔ [المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 225/2]
(2) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خمس صلوات كتبهن الله على العباد
”اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔“
[أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب فيمن لم يوتر : 1420 – سنن نسائی، کتاب الصلاة، باب المحافظة على الصلوات الخمس : 462 – مسند احمد : 315/5 – إسناده ضعیف، أبو رفيع الجمحي مجهول راوی ہے، لیکن اس کا مفهوم درست ہے۔]

رد :

ابن قدامہ حنبلی اس دلیل کی تردید میں لکھتے ہیں کہ یہ حدیث خاص ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ نمازوں کی فرضیت کی صراحت بطور خاص اس لیے ذکر کی ہے کہ یہ نمازیں فرض عین، دائمی واجب اور دن رات میں مکرر ادا کی جاتی ہیں، جب کہ دیگر نمازیں مثلاً نماز جنازہ، نذر کی نماز اور وہ نمازیں جن کی فرضیت کے بارے اختلاف ہے شاذ و نادر اور کسی علت کی وجہ سے کبھی کبھار واجب ہوتی ہیں اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر فرض نمازیں بیان نہیں کیں۔ [المغني لابن قدامة : 220/2]
(3) اس مذہب کے قائلین کی تیسری دلیل یہ ہے کہ نماز عید سنت مؤکدہ ہے کیونکہ یہ رکوع و سجود والی ایسی نماز ہے جس کے لیے اذان مشروع نہیں ہے اور نماز استسقاء اور نماز کسوف کی مثل یہ شروع سے (جب نماز فرض ہوئی تھی) واجب قرار نہیں دی گئی۔ [المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 224/2]

رد :

ابن قدامہ حنبلی اس دلیل کا رد بیان کرتے ہیں کہ ان کی یہ دلیل کئی اعتبار سے باطل ہے۔
(1) ان کا یہ قیاس کہ نماز عید رکوع و سجود والی نماز ہے صحیح نہیں کیونکہ نماز عید کے واجب ہونے میں رکوع و سجود کا کوئی دخل نہیں، اس لیے کہ تمام نوافل رکوع و سجود پر مشتمل ہوتے ہیں اور اس کے باوجود وہ واجب نہیں ہوتے۔ اس اعتراض کے بے اثر ہونے کی وجہ سے اسے حذف کرنا لازم ہے۔
(2) پھر ان کا یہ قیاس کہ اس میں اذان مشروع نہیں نماز جنازہ اور نماز نذر کی فرضیت کی وجہ سے باطل ہے، کیونکہ نماز جنازہ اور نماز نذر واجب ہیں لیکن ان میں اذان مشروع نہیں۔ نیز نماز پنجگانہ کی فرضیت کے وقت انہیں بھی (نماز جنازہ اور نماز نذر کو) فرض قرار نہیں دیا گیا۔ [المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 220/2]

نماز عید فرض عین ہے :

امام ابن تیمیہ، شوکانی، صدیق حسن خان، علامہ البانی، ابن باز اور ابن عثیمین رحمہم اللہ کا موقف ہے کہ نماز عید فرض عین ہے۔ دلائل کے اعتبار سے یہی موقف راجح اور اقرب الی الصواب ہے، آئندہ سطور میں ہم نماز عید کی فرضیت کے دلائل مع مذکورہ ائمہ کے اقوال نقل کریں گے۔

دلائل :

❀ فرمان باری تعالی ہے :
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ
”پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔“
(سورة الكوثر : 2)

آیت کی تفسیر :

(1) صدیق حسن خان بیان کرتے ہیں کہ ائمہ مفسرین نے اس آیت سے نماز عید مراد لی ہے۔ [الروضة الندية : 140/1]
(2) امام قرطبی نقل کرتے ہیں :
وقال قتادة وعطاء وعكرمة :﴿فصل لربك﴾ صلاة العيد يوم النحر
”قتادہ، عطاء اور عکرمہ کہتے ہیں کہ ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ﴾ سے مقصود دس ذوالحجہ کو نماز عید ادا کرنا ہے۔“ [تفسير قرطبی : 218/20]
(3) ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :
ولنا على وجوبها فى الجملة أمر الله تعالى بها بقوله ﴿فصل لربك وانحر﴾ والآمر يقتضي الوجوب ومداومة النبى صلى الله عليه وسلم على فعلها وهذا دليل الوجوب
”اور ہمارے لیے نماز عید کے واجب ہونے کے جملہ دلائل میں سے یہ دلیل ہے.
(1) کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فرمان ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ میں نماز عید کا حکم دیا ہے اور حکم وجوب کے مقتضی ہے اور وجوب کی (دوسری دلیل) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز عید کے اہتمام پر مداومت کرنا ہے اور یہ مداومت نماز عید کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔“ [المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 224/2]
(2) ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابی رسول نے بیان کیا :
إختلف الناس فى آخر يوم من رمضان فقدم أعرابيان فشهدا عند النبى صلى الله عليه وسلم بالله لاهل الهلال أمس عشية فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يفطروا وأن يغدوا إلى مصلاهم
”رمضان کے آخری دن لوگوں میں رویت ہلال کے بارے اختلاف پیدا ہو گیا۔ چنانچہ دو دیہاتی آئے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے گزشتہ کل شام واقعی چاند دیکھا ہے (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (لوگوں کو) حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور (کل) صبح سویرے اپنی عید گاہ کی طرف پہنچ جائیں۔“
[سنن أبو داؤد، كتاب الصيام، باب شهادة رجلين على رؤية هلال شوال : 2339 – بيهقي : 250/4 – إسناده صحیح]
(3) ابو عمیر بن انس رضی اللہ عنہ اپنے چچاؤں سے بیان کرتے ہیں جو اصحاب نبی تھے :
أن ركبا جاءوا إلى النبى صلى الله عليه وسلم يشهدون أنهم رأوا الهلال بالأمس فأمرهم أن يفطروا وإذا أصبحوا يغدوا إلى مصلاهم
”تحقیق مسافرین کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور وہ گواہی دیتے تھے کہ بلاشبہ انہوں نے گزشتہ کل ہلال شوال دیکھا ہے (اس پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ ترک کر دیں اور جب صبح ہو تو وہ عید گاہ کی طرف چل دیں۔“
[سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب إذا لم يخرج الإمام للعيد من يومه يخرج من الغد : 1157 – سنن نسائی، کتاب صلاة العيدين باب الخروج إلى العيدين من الغد : 1558 – ابن ماجه، کتاب الصيام، باب ماجاء في الشهادة على رؤية الهلال : 1653 – مسند أحمد : 316/5 – سنن بيهقي : 315/3 – إسناده صحیح]
❀ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
أمرنا نبينا أن نخرج فى العيدين العواتق وذوات الخدور وأمر الحيض أن يعتزلن مصلى المسلمين
”ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین میں بالغ اور پردہ نشین عورتوں کو (عید گاہ میں) لے جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو حکم صادر کیا کہ وہ مسلمانوں کی جائے نماز سے دور رہیں۔“
[صحيح بخاري كتاب العيدين باب خروج النساء والحيض إلى المصلى : 974 – صحيح مسلم، کتاب صلاة العيدين باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين : 980]

فوائد :

(1) علامہ البانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: احادیث الباب میں مرد و خواتین کو عید گاہ میں پہنچنے کا حکم نماز عید کے وجوب کی دلیل ہے، نیز جب نماز عید کے لیے عید گاہ میں جانا واجب ہے تو بلا ریب نماز عید بالا ولی واجب ہے۔ لہذا راجح موقف یہ ہے کہ نماز عید واجب ہے، سنت نہیں۔ [تمام المنة : 344]
(2) صدیق حسن خان رقم طراز ہیں کہ اہل علم کا نماز عید کے وجوب و عدم وجوب میں اختلاف ہے، لیکن راجح مسئلہ یہ ہے کہ نماز عید واجب ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید کے دائمی التزام کے ساتھ ہمیں نماز عید کے لیے نکلنے کا حکم بھی دیا ہے (جیسا کہ احادیث الباب میں مذکور ہے)۔ [الروضة الندية : 140/1]
(3) امام شوکانی لکھتے ہیں: بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عیدین کا ہمیشہ التزام کیا ہے اور کبھی کوئی عید ترک نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز عید کے لیے نکلنے کا حکم بھی دیا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوان، پردہ نشین اور حائضہ عورتوں کو بھی نماز عید کے لیے نکلنے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو تلقین کی کہ وہ نماز گاہ سے دور رہیں اور خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں کو جن کے پاس ذاتی چادر نہ تھیں حکم دیا کہ ان کی سہیلیاں ان کی اوڑھنیوں کا بندوبست کریں۔ یہ تمام دلائل واضح دلیل ہیں کہ نماز عید فرض عین ہے، فرض کفایہ نہیں۔ [السيل الجرار : 315/1]
نیز شیخ ابن باز فتاوی ابن باز ( 311/12) اور شیخ ابن عثیمین، فتاوی ابن عثیمين ( 134/16) نے نماز عید کے فرض عین ہونے کو راجح قرار دیا ہے۔
(4) معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا تم ایسی دو عیدوں (جمعہ کے دن عید) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے ہو جو ایک دن میں جمع ہوں؟ انہوں نے کہا: ہاں! معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا (اس دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا:
صلى العيد ثم رخص فى الجمعة فقال من شاء أن يصلي فليصل
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس دن) نماز عید ادا کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی رخصت دی اور فرمایا: جو شخص نماز جمعہ پڑھنا چاہے پڑھ لے۔“
[سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب إذا وافق يوم الجمعة يوم عيد : 1070 – سنن ابن ماجه : كتاب الصلاة، باب ماجاء فيما إذا اجتمع العيدان في يوم : 1310 – مستدرك حاكم : 73/3 – 1014 – بيهقي : 317/3 – إسناده حسن]
إياس بن أبي رمله شامی صدوق درجہ کا راوی ہے ابن حبان نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے اور حاکم نے اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے جس سے ان کی جہالت کا ازالہ ہو جاتا ہے۔

فقه الحدیث :

صدیق حسن خان کہتے ہیں: نماز عید کے وجوب کے دلائل میں سے ایک دلیل یہ ہے کہ ایک دن میں جمعہ اور عید یکجا ہو جائیں تو نماز جمعہ ساقط ہو جاتی ہے اور جو چیز فی نفسہ واجب نہ ہو وہ کسی واجب کو ساقط نہیں کر سکتی۔ [الروضة الندية : 140/1 – تمام المنة : 344]