عیدگاہ سے واپسی پر راستہ تبدیل کرنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عیدگاہ سے واپسی پر راستہ تبدیل کرنا مستحب فعل ہے:

عید گاہ کی طرف جاتے وقت ایک راستہ اختیار کرنا اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل فعل اور مستحب عمل ہے۔
1۔ جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم عيد خالف الطريق
”جب عید کا دن ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (عید گاہ سے واپسی پر راستہ تبدیل کرتے تھے۔“
[صحيح بخاری، کتاب العيدين، باب من خالف الطريق إذا رجع يوم العيد: 986]
2۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خرج يوم العيد فى طريق رجع فى غيره
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن ایک راستے سے روانہ ہوئے تو اس کے علاوہ اور راستے سے واپس لوٹتے تھے۔
[جامع ترمذی، کتاب الصلاة، باب ماجاء فى خروج النبي في طريق ورجوعه من طريق آخر: 541 – مستدرك حاكم: 292/1، 297 – سنن ابن ماجه، کتاب إقامة الصلوات، باب ماجاء في الخروج يوم العيد من طريق والرجوع من غيره: 1301 – سنن بیهقی: 308/3 إسناده حسن]
3۔ نافع بیان کرتے ہیں:
أن ابن عمر كان يخرج إلى العيد فى طريق ويرجع فى أخرى ويزعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يفعل ذلك
بلا شبہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی عید کے لیے ایک راستے سے روانہ ہوتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے تھے اور وہ بالیقین بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں روانگی اور واپسی پر یہ عمل کرتے تھے۔
[سنن ابن ماجه، کتاب اقامة الصلوات، باب ماجاء في الخروج يوم العيد من طريق والرجوع من غيره: 1299 – عبید اللہ بن عمر بن حفص العمری کی نافع سے روایت حسن ہے۔ إسناده حسن]

فوائد:

سید سابق اور شوکانی کہتے ہیں احادیث الباب دلیل ہیں کہ نماز عید کے لیے روانہ ہوتے وقت ایک راستہ اختیار کرنا اور واپسی پر دوسرا راستہ اختیار کرنا امام و مقتدی دونوں کے لیے مستحب ہے اور اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے۔
[نيل الأوطار: 308/30 – فقه السنه: 230/1]
ابن قدامہ حنبلی بیان کرتے ہیں خلاصہ کلام یہ ہے کہ انسان جس راستے سے عید گاہ کی طرف جائے اس کے علاوہ دوسرے راستے سے واپس آنا مسنون ہے اور مالک اور شافعی بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔ [المغنی لابن قدامه، 243/2]

عید گاہ سے واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کی حکمت:

عید گاہ سے واپسی پر راستہ بدلنے میں کیا حکمت پنہاں ہے، اس سربستہ راز سے شریعت نے نقب کشائی نہیں کی، لہذا اس بارے اصل حکمت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مستقل سنت کی اتباع ہے اور اہل ایمان اتباع سنت ہی کے پابند ہیں۔

کیا نماز عید کیلئے ایک ہی راستہ پر آنا جانا بھی مسنون ہے؟

نماز عید سے واپسی پر راستہ تبدیل کرنا مستحب فعل ہے یہ عمل واجب نہیں سو ایک ہی راستے سے آمد ورفت کا جواز بہرحال موجود ہے، لیکن اس بارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے عید کے دن ایک ہی راستے پر آمد ورفت کی مشروعیت پر دال روایت ضعیف ہے۔

دلیل:

❀ بکر بن مبشر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنت أغدو مع أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى المصلى يوم الفطر ويوم الأضحى، فنسلك بطن بطحان حتى نأتي المصلى، فنصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم نرجع من بطن بطحان إلى بيوتنا
میں عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عید گاہ جایا کرتا تھا اور ہم وادی بطحان کے راستے عید گاہ پہنچتے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز ادا کرتے پھر ہم وادی بطحان کے راستے اپنے گھروں کی طرف لوٹتے تھے۔
[سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب إذا لم يخرج الإمام العيد من يومه يخرج من الغد: 1158 – مستدرك حاكم: 296/1 – 297، اسناده ضعیف۔ اسحاق بن سالم مولى نوفل بن عدي مجهول الحال ہے]

عید کے دن جنگی نغمے پڑھنا جائز ہے:

عید کے دن دف بجانا، جنگی نغمے پڑھنا اور جنگ میں داد شجاعت دینے والے بہادروں کی بہادری اور دلیری کے اشعار کہنا جائز ہیں، بشرطیکہ یہ عمل لونڈیاں انجام دیں۔

دلائل:

1۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
دخل أبو بكر وعندي جاريتان من حواري الأنصار تغنيان مما تقاولت الأنصار يوم بعاث قالت: وليستا بمغنيتين، فقال أبو بكر: أبمزامير الشيطان فى بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وذلك فى يوم عيد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا بكر! إن لكل قوم عيدا وهذا عيدنا
ابو بکر رضی اللہ عنہ (ہمارے) گھر داخل ہوئے جب کہ میرے پاس انصار قبیلہ کی دو بانڈیاں ترنم سے وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جو انصار قبیلہ نے جنگ بعاث کے دن (بہادری اور انتقام کے اشعار) کہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ وہ پیشہ ور گلو کارائیں نہیں تھیں (یہ سن کر) ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں شیطانی گیت؟ اور یہ عید کا دن تھا (اس پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو بکر! ہر قوم کا ایک تہوار ہے اور یہ ہماری عید (خوشی کا دن) ہے۔“
[صحيح بخاری، کتاب العيدين، باب سنة العيدين لأهل الإسلام: 952 – مسلم، کتاب صلاة العيدين باب الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه في أيام العيد: 892 – سنن ابن ماجه، کتاب النکاح باب الغناء والدف: 1898]
2۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں:
أن أبا بكر دخل عليها وعندها جاريتان فى أيام منى، تغنيان وتضربان ورسول الله صلى الله عليه وسلم مسجى بثوبه، فانتهرهما أبو بكر، فكشف رسول الله صلى الله عليه وسلم عنه وقال: دعهما يا أبا بكر! فإنها أيام عيد
بلا شبہ ایام منیٰ میں ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے ہاں تشریف لائے جب کہ ان کے پاس دو بانڈیاں نغمے گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے میں لیٹے ہوئے تھے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں ڈانٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ”ابو بکر! انہیں چھوڑ دیں، اس لیے کہ یہ عید کے دن ہیں۔“
[صحيح مسلم، کتاب صلاة العيدين، باب الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه في أيام العيد: 892 – مسند أحمد: 84/6 – صحيح ابن حبان: 5868]

فوائد:

ابن رجب حنبلی بیان کرتے ہیں: عید کے دن لونڈیوں کے لیے اہل عرب کی طرز پر (یعنی ایسے اشعار جن میں جنگوں کے واقعات، بہادری کی داستانیں اور مقتولین کے مرثیے ہوں) نغمے پڑھنے کی رخصت ہے خواہ یہ نغمے خواتین و حضرات بھی سن رہے ہوں اور اس کے ساتھ دف بھی بجایا جائے، شریعت میں اس کی رخصت ہے۔ بلاشبہ نغمے گانا اور دف بجانا اہل عرب کی معروف عادت تھی اور ان کے گیت جنگوں کے بیان اور مقتولین کے مرثیوں پر مشتمل ہوتے تھے اور ان کے دف ایسی ڈھولکیاں تھیں جن کے ایک جانب چھڑی لگا ہوا تھا اور ان میں گھنگرو نہیں ہوتے تھے۔
[فتح الباري لابن رجب: 347]
❀ حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
عید کے دنوں میں گھر والوں کو ایسے کاموں کی سہولت دینا جس سے طبیعت میں انبساط پیدا ہو اور بدن کو عبادت کی کلفت سے راحت پہنچے، مشروع ہے لیکن ایسے کاموں سے اعراض بہتر ہے۔ اعیاد میں خوشی کا اظہار دین کا شعار ہے۔
[فتح الباري: 571/2]
حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ حدیث الباب سے صوفیاء نے استدلال کیا ہے کہ گانا گانا اور آلات موسیقی کی دھن پر اور آلات موسیقی کے بغیر گانا سننا مباح ہے، لیکن حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کے ان الفاظ وليستا بمغنيتين (وہ پیشہ ور مغنیہ نہیں تھیں) میں اس باطل استدلال کا کھلا رد ہے۔ یہ لفظ بول کر انہوں نے ان باندیوں کے لیے ثابت ہونے والے غلط مفہوم کی نفی کی ہے کیونکہ غناء گیت کا اطلاق اونچی آواز اور ترنم سے گنگنانے یعنی حدی خوانی پر بھی ہوتا ہے ایسے شخص کو ”مغنی“ (گلوکار) نہیں کہا جاتا، بلکہ ”مغنی“ اسے کہا جاتا ہے جو بازو پھیلا کر، آنگن جھکا کر یعنی رقص کر کے تعریضاً یا تصریحاً نخش بول بول کر مستانہ جذبہ پیدا کرتا اور جنسی جذبات کو بھڑکاتا ہے (ایسے گیت اور گلوکاری حرام ہے)۔
[فتح الباري: 571/2]

روز عید جہادی مظاہرہ پیش کرنا:

عید کے دن جہادی مظاہرہ پیش کرنا، اسلحہ کے کرتب دکھانا جائز ہے اور اس فعل پر مظاہرہ پیش کرنے والے کو داد دینا مشروع ہے اس کے دلائل درج ذیل ہیں۔
1۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
وكان يوم عيد يلعب فيه السودان بالدرق والحراب فإما سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم وإما قال: أتشتهين تنظرين؟ قلت: نعم، فأقامني وراءه، خدي على خده وهو يقول: دونكم يا بني أرفدة! حتى إذا مللت قال: حسبك؟ قلت: نعم، قال: فادهبي
روز عید حبشی زرہوں اور نیزوں کا کھیل پیش کر رہے تھے، اور یا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (کھیل دیکھنے کا) مطالبہ کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دیکھنا چاہتی ہو؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! اس پر آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کیا حالانکہ میرا رخسار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: ”اے اہل ارفدہ! بہت خوب!“ حتیٰ کہ جب میں اکتا گئی تو آپ نے فرمایا: ”کافی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: ”(گھر) چلی جاؤ۔“
[صحيح بخاری کتاب العيدين باب الحراب والدرق يوم العيد: 950 – صحيح مسلم، کتاب صلاة العيدين باب الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه في أيام العيد: 892]
2۔ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ بیان کرتی ہیں:
جاء حبش يزفنون فى يوم عيد فى المسجد، فدعاني النبى صلى الله عليه وسلم فوضعت رأسي على منكبه، فجعلت أنظر إلى لعبهم، حتى كنت أنا التى أنصرف عن النظر إليهم
عید کے دن حبشی لوگ اچھلتے کودتے مسجد میں آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (یہ مظاہرہ دیکھنے کے لیے) بلایا، میں نے اپنا سر آپ کے کندھے پر رکھا اور ان کا کھیل دیکھنے لگی حتیٰ کہ (جی بھر کر کھیل دیکھنے کے بعد) میں نے ہی ان سے صرف نظر کیا۔
[صحيح مسلم، کتاب صلاة العيدين، باب الرخصة في اللعب الذي لا معصية فيه في أيام العيد: 892]