مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عیدالاضحیٰ سے پہلے ناخن یا حجامت کرنا جائز ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 554

سوال

اگر کوئی شخص عیدالاضحیٰ کی نماز سے پہلے، سورج نکلنے کے بعد ناخن کتروا لے یا بال کٹوا لے (حجامت بنوائے) تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد للہ، والصلاة والسلام علی رسول اللہ، أما بعد!

◈ قربانی کے بعد حجامت کروانا سنت ہے۔
◈ جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے:

﴿وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ ۚ …١٩٦﴾ (البقرة)

یعنی: "قربانی حلال ہونے سے پہلے اپنے سر نہ منڈو۔”

◈ ایک اور مقام پر، قربانی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا گیا:

ثُمَّ لِیَقْضُوْا تَفْثَھُم

یعنی: "قربانی کے بعد میل کچیل دور کریں۔”

حدیث کی روشنی میں

مشکوٰۃ، باب فی الأضحیۃ میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید کی نماز ادا فرما چکے تو قربانیوں کا گوشت دیکھا جو نماز سے پہلے ذبح کر دیا گیا تھا۔

◈ آپ ﷺ نے فرمایا:
"جس نے نماز سے پہلے قربانی کی، وہ اس کی جگہ دوبارہ قربانی کرے۔”

◈ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غیر حاجیوں (یعنی عام لوگوں) کے لیے قربانی سے پہلے بال کٹوانا یا ناخن ترشوانا درست نہیں۔

◈ اگر تقدیم و تاخیر ہو جائے تو یہ معاف نہیں، ہاں اگر معاملہ انسان کی طاقت سے باہر ہو تو اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق معاف ہو سکتا ہے:

لَا یُکَلِّفُ اللہ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَھَا

خلاصہ

لہٰذا، حجامت یا ناخن تراشنا قربانی کے بعد مسنون ہے، نمازِ عید سے پہلے ایسا کرنا درست نہیں۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔