مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

عيسى بن جارية الأنصاري المدني ایک تابعی راوی ہیں، جن کی روایت خصوصاً جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اور ان سے یعقوب القمي وغیرہ روایت کرتے ہیں۔ بعض متاخرین نے ان پر “منكر الحديث” یا “متروك” جیسے سخت الفاظ کا دعوی کیا، لیکن جمہور کے نقل کردہ اقوال، ائمہ کے استعمالات، اور متعدد اہلِ علم کے تصریحات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ راوی “ساقط/متروك” نہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ “فيه لين” کے درجے کے ساتھ “يُعتبر به” ہیں، اور متعدد طرق میں ان کی حدیث حسن درجے تک پہنچتی ہے۔

جمہور کی توثیق اور تحسین: 13 ائمہ کے شواہد

01- صحیح ابن خزیمہ میں روایت اور امام ابن خزیمہ کا مقدمہ

امام ابن خزیمہ (متوفی 311ھ) نے اپنی “صحیح” میں اس راوی کی حدیث نقل کی اور اسی سے استدلال کرتے ہوئے باب قائم کیا کہ وتر فرض نہیں:

1070 – … عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ … فَقَالَ: «كَرِهْتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمُ الْوِتْرُ» صحيح ابن خزيمة

اور ابن خزیمہ نے اپنی کتاب کے آغاز میں اپنا منہج بیان کیا:

مُخْتَصَرُ الْمُخْتَصَرِ مِنَ الْمُسْنَدِ الصَّحِيحِ … بِنَقْلِ الْعَدْلِ، عَنِ الْعَدْلِ … وَلَا جَرْحَ فِي نَاقِلِي الْأَخْبَارِ … صحيح ابن خزيمة (المقدمة)

اردو ترجمہ:

“صحیح مسند میں سے منتخب اور مختصر کیا گیا مجموعہ … عادل راوی کی عادل راوی سے روایت کے ذریعے … اور خبر نقل کرنے والوں میں کوئی جرح نہیں … صحیح ابنِ خزیمہ (مقدمہ)”

یہ اس راوی کے قبولِ روایت پر قوی قرینہ ہے، خصوصاً ابن خزیمہ کے اپنے منہج کے مطابق۔

02- امام ابو زرعہ الرازی کا قول: لا بأس به

سُئِلَ أَبُو زُرْعَةَ عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ فَقَالَ: يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ مَدِينِيًّا، لَا بَأْسَ بِهِ. الجرح والتعديل لابن أبي حاتم

“لا بأس به” ائمہ کے ہاں توثیق یا کم از کم قبولیت کا واضح لفظ ہے۔

03- حافظ ابن حبان: الثقات میں ذکر اور صحیح میں احتجاج

ابن حبان نے اسے “الثقات” میں ذکر کیا، اور اپنی “صحیح” میں اس کی روایت سے احتجاج کیا۔ یہ بھی راوی کے قابلِ قبول ہونے کی مضبوط دلیل ہے۔

04- امام ہیثمی: رجال أبي يعلى ثقات

عیسی بن جاریہ کے طریق سے مروی روایت پر امام نور الدین ہیثمی نے کہا:

رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى … وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ. مجمع الزوائد

یہ حکم اس سند کے رجال کے مجموعی اعتماد کی طرف اشارہ ہے۔

05- امام ابو يعلى الخليلي: محله الصدق

عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ … وَكَانَ عَارِفًا بِالْحَدِيثِ … وَرَوَى عَنْهُ الْعُلَمَاءُ، مَحِلُّهُ الصِّدْقُ. الإرشاد في معرفة علماء الحديث للخليلي

“محله الصدق” قبولیت اور سچائی کی صریح توثیق ہے۔

06- حافظ ابن حجر: تقریب میں “فيه لين” اور فتح الباري میں اسناد حسن

تقریب میں حافظ ابن حجر کا قول:

عيسى بن جارية الأنصاري المدني: فيه لين، من الرابعة. تقريب التهذيب

اور فتح الباري میں اسی راوی کے طریق پر واضح حکم:

أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ مِنْ رِوَايَةِ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ … فتح الباري لابن حجر

یہاں “إسناد حسن” کا حکم صریح ہے۔

اسی طرح “الإصابة” میں ایک مقام پر سلسلہ سند کے ضمن میں:

رِجَالُهُ ثِقَاتٌ … الإصابة في تمييز الصحابة

07- حافظ ذہبی: إسناده وسط، اور رجال ابن ماجه میں “شيخ”

میزان الاعتدال میں عیسی بن جاریہ کی رمضان والی روایت پر:

إسناده وسط. ميزان الاعتدال للذهبي

اور “المجرد في رجال ابن ماجه” میں:

عيسى بن جارية: شيخ. المجرد في أسماء رجال سنن ابن ماجه

حافظ ذہبی نے خود “شيخ” وغیرہ کی دلالت بیان کی ہے کہ اس سے مطلق ضعف لازم نہیں آتا۔

08- امام بخاری: تاریخ الکبیر میں ذکر بغیر جرح

امام بخاری نے “التاريخ الكبير” میں عیسی بن جاریہ کا ذکر کیا اور کوئی صریح جرح نقل نہیں کی۔ یہ بھی کم از کم اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ راوی “ساقط” درجے کا معروف نہیں تھا۔

09- حافظ منذری: إسناد جيد

عیسی بن جاریہ کے طریق سے جابر رضی اللہ عنہ کی روایت پر:

رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ، وَابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ. الترغيب والترهيب للمنذري

10- امام ابن المنذر النيسابوري: استدلال اور فقہی حجت

امام محمد بن إبراهيم بن المنذر (متوفی 318ھ) نے اسی روایت سے استدلال کیا اور وتر کے فرض نہ ہونے پر اسے دلیل بنایا:

… ثنا عِيسَى بْنُ جَارِيَةَ، عَنْ جَابِرٍ … يَدُلُّ هَذَا الْحَدِيثُ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ … غَيْرُ مَكْتُوبٍ … الأوسط في السنن والإجماع والاختلاف لابن المنذر

11- زیلعی: صحیح ابن حبان کی روایت کا نقل اور رجال کی توثیق کا حوالہ

زیلعی نے اس باب میں ابن حبان کی “صحیح” کی روایت نقل کی، اور اسی ضمن میں ابو يعلى وغیرہ کی اسانید کے رجال کی توثیق کے حوالے بھی ذکر کیے گئے۔

نصب الراية

12- علامہ البانی: سند حسن

علامہ البانی نے عیسی بن جاریہ کی روایت کو دیگر شواہد کے ساتھ قابلِ احتجاج قرار دیتے ہوئے “سند حسن” کا مفہوم بیان کیا:

… فإني قلت فيه بالحرف الواحد: "وسنده حسن بما قبله”. تمام المنة

13- محمد بن علي النيموي الحنفي: اسناد کی تصحیح

بعض متاخر اہلِ علم (مثلاً محمد بن علي النيموي الحنفي) نے بھی عیسی بن جاریہ کے طریق کی بعض روایات پر اسناد کے اعتبار سے حکم لگایا ہے۔ یہ بھی مجموعی طور پر راوی کے “متروك/ساقط” نہ ہونے کی تائید کرتا ہے۔

عیسی بن جاریہ پر جروحات کا جائزہ

01- یحییٰ بن معین کے دو قول: “ليس بشيء” اور “ليس بذاك”

ایک جگہ یہ منقول ہے:

… فقيل: حديثه ليس بذاك. تاريخ ابن معين (رواية الدوري)

اور دوسری جگہ:

… فقال: ليس بشيء. سؤالات ابن الجنيد

یہاں دو امور ملحوظ رہیں:

1. ائمہ کے الفاظ کے استعمال میں اختلافِ اصطلاح معروف ہے۔
2. حافظ ابن حجر نے نقل کیا کہ بعض مواقع پر ابن معين کے “ليس بشيء” سے مراد قِلّتِ حدیث بھی لی گئی ہے:

ذكر ابن القطان الفاسي أن مراد ابن معين بقوله في بعض الروايات "ليس بشيء” يعني أن أحاديثه قليلة جدا. فتح الباري

یہ توجیہ کم از کم یہ بتاتی ہے کہ اس لفظ کی بنا پر لازماً “ترکِ حدیث” ثابت کرنا درست نہیں، خصوصاً جبکہ ابو زرعہ، الخليلي، ابن حبان، ابن خزیمہ وغیرہ کی توثیقات سامنے موجود ہوں۔

02- ابو داود کی طرف “منكر الحديث” کی نسبت

حافظ مزی نے نقل کیا کہ ابو عبيد الآجري نے ابو داود سے “منكر الحديث” نقل کیا۔ لیکن یہ نسبت اسی وقت حجت بنے گی جب سوالاتِ الآجري کے اندر اس کا محل واضح طور پر متعین ہو، یا متصل نقل سامنے ہو۔

اس کے باوجود اگر “منكر” یا “منكر الحديث” ثابت مان لیا جائے تو یہ بھی ذہن میں رہے کہ نقاد کبھی “منكر” کا اطلاق محض تفرد پر بھی کرتے ہیں۔ حافظ ابن حجر نے اس نکتے کی صراحت کی ہے:

وإطلاق الحكم على التفرد بالرد أو النكارة أو الشذوذ موجود … وقد أطلق الإمام أحمد والنسائي وغير واحد من النقاد لفظ المنكر على مجرد التفرد. النكت على كتاب ابن الصلاح لابن حجر

یعنی “منكر” ہمیشہ “متروك/ساقط” کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ بسا اوقات “تفرد کے باعث عدمِ احتجاج” کے معنی میں ہوتا ہے۔

03- ابن عدي: “غير محفوظة” کہنا

ابن عدي نے الکامل میں عیسی بن جاریہ کی بعض روایات کو “غير محفوظة” کہا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ راوی کے بعض افراد میں وہم یا خطا واقع ہوئی، لیکن اس سے “متروك” لازم نہیں آتا۔

مزید یہ کہ حافظ ابن حجر نے ابن عدي کے منہج کے بارے میں لکھا:

ومن عادته في الكامل أن يخرج الأحاديث التي أُنكرت على الثقة أو على غير الثقة. فتح الباري

پس ابن عدي کے ہاں کسی راوی کا ذکر آ جانا، خود بخود اس کی ترکِ حدیث کی قطعی دلیل نہیں بنتا۔

04- نسائی کی کتاب میں “منكر”

الضعفاء والمتروكين للنسائي میں یہ عبارت آتی ہے:

عيسى بن جارية يروي عنه يعقوب القمي: منكر. الضعفاء والمتروكين للنسائي

یہ جرح اپنی جگہ موجود ہے، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہے کہ راوی کی منفرد روایت محلِ نظر ہوگی، نہ یہ کہ اسے لازماً “متروك الحديث” کے درجے میں اتار دیا جائے، خصوصاً جبکہ “لا بأس به” اور “محله الصدق” جیسی توثیقات موجود ہوں، اور بعض اسانید پر ائمہ نے “إسناد حسن/جيد” کا حکم بھی لگایا ہو۔

05- “متروك الحديث” کا دعوی

جہاں تک “متروك الحديث” کی نسبت کا تعلق ہے، عیسی بن جاریہ کے حق میں جمہور کے متعدد اقوال، اور متعدد ائمہ کی “تحسین/تجویت” موجود ہے۔ اس کے مقابل “متروك” جیسی شدید جرح کے لیے بہت مضبوط اور صریح دلائل درکار ہوتے ہیں۔ چنانچہ راجح یہی ہے کہ عیسی بن جاریہ پر شدید ترین حکم ثابت کر کے جمہور کی تائید کو رد کرنا درست نہیں۔

نتیجہ

1. عیسی بن جاریہ کے حق میں ابو زرعہ کا “لا بأس به”، الخليلي کا “محله الصدق”، ابن حبان کا “الثقات” میں ذکر اور “صحیح” میں احتجاج، ابن خزیمہ کا اپنی “صحیح” میں روایت لے کر استدلال، منذری کا “إسناد جيد”، اور ابن حجر کا فتح الباري میں “إسناد حسن” جیسے قوی شواہد موجود ہیں۔
2. دوسری طرف بعض جروحات “منكر” کے عنوان سے آتی ہیں، اور یہ بھی اصولی طور پر اکثر “تفرد/عدمِ احتجاج بالانفراد” کے باب میں سمجھی جاتی ہیں، نہ کہ لازمًا “ترکِ حدیث” کے معنی میں۔
3. اس لیے راجح یہ ہے کہ عیسی بن جاریہ “متروك” نہیں، بلکہ “فيه لين” کے ساتھ قابلِ اعتبار ہیں، اور ان کی روایت شواہد و متابعات کے ساتھ حسن درجے تک پہنچتی ہے، جبکہ انفراد کی صورت میں محلِ نظر رہتی ہے۔

اہم حوالوں کے سکین

عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 01 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 02 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 03 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 04 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 05 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 06 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 07 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 08 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 09 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 10 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 11 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 12 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 13 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 14 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 15 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 16 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 17 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 18 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 19 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 20 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 21 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 23 عيسى بن جارية الأنصاري المدني: حسن الحديث راوی کی توثیق جمہور محدثین سے – 24

 

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔