عورت کی دیت مرد کے مقابلے میں نصف

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

عورت كی ديت آدمی كی ديت سے نصف ہے اور جن اعضاء ميں ديت كے ثلث سے زائد ديت لاگو ہوتی ہے ان ميں بھی یہی اصول ہے
➊ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وه عقل المرأة مثل عقل الرجل حتى يبلغ الثلث من ديته
”عورت کی دیت مرد کی دیت کی طرح ہی ہے حتی کہ وہ اپنی دیت کے ثلث تک پہنچ جائے (یعنی ثلث تک مرد کی طرح ہے اس کے بعد نہیں ) ۔“
[ضعيف: إرواء الغليل: 2254 ، دارقطني: 91/3 ، عبد الرزاق: 17756 ، نسائي: 44/8 ، شيخ حازم على قاضي نے اس روايت كو صحيح كها هے ۔ التعليق على سبل السلام: 1613/3]
➋ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ :
فدية المرأة على النصف من دية الرجل
”عورت کی دیت مرد کی دیت سے نصف ہے ۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 307/7 ، تحت الحديث / 2250 ، ابن ابي شيبة: 2/28/11]
➌ ربیعہ بن ابی عبد الرحمن نے سعید بن مسیّب سے پوچھا کہ عورت کی انگلی میں کتنی دیت ہے؟ انہوں نے کہا ، دس اونٹ ، پھر پوچھا دو انگلیوں میں کتنی ہے؟ انہوں نے کہا ، بیسں اونٹ ، پھر پوچھا تین انگلیوں میں کتنی ہے؟ انہوں نے کہا تیسں اونٹ ، پھر پوچھا چار انگلیوں میں کتنی ہے؟ انہوں نے کہا ، بیسں اونٹ ۔ اس پر ربیعہ نے کہا:
لمـا عـظـم جـرحها واشتدت مصيبتها نقـص عـقـلـهـا؟
”جس وقت اس کا زخم بڑا ہو گیا اور مصیبت سخت ہو گئی تو اس کی دیت کم ہو گئی ہے؟ تو سعیدؒ نے کہا کیا تم عراقی ہو؟ (ربیعہ کہتے ہیں ) میں نے کہا ، دلائل سے ثابت کرنے والا عالم ہوں یا کم علم متعلم ہوں ۔ تو سعید نے کہا:
هي السنة يا ابن أخى
”اے میرے بھائی کے بیٹے! یہ سنت ہے ۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 2555 ، موطا: 860/2 ، بيهقي: 69/8]
جمہور ، اہل مدینہ ، مالکیہ ، سعید بن مسیّب ، امام احمد ، امام اسحاق اور امام شافعی رحمہم اللہ وغیرہ سب کا یہی مذہب ہے ۔
[نيل الأوطار: 510/4]