مضمون کے اہم نکات
سوال
کیا عورت امامت کے فرائض سرانجام دے سکتی ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
عورت اپنی اقتدا کرنے والی عورتوں کی صف کے وسط میں کھڑے ہو کر امامت کروا سکتی ہے۔ اس کے جواز میں کسی قسم کا شبہ نہیں۔ اس بارے میں معتبر احادیث اور آثار موجود ہیں۔
دلائل
➊ حضرت اُمّ ورقہ رضی اللہ عنہا کی روایت
جیسا کہ سنن ابی داؤد (باب امامة النساء) میں حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا کی امامت کا ذکر آتا ہے:
عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَنْصَارِيَّةِرضی اللہ عنھا وکانت قد قرائت القران فَاسْتَأْذَنَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَتَّخِذَ فِي دَارِهَا مُؤَذِّنًا، فَأَذِنَ لَهَا، وَجَعَلَ لَهَا مُؤَذِّنًا يُؤَذِّنُ لَهَا، وَأَمَرَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا رَأَيْتُ مُؤَذِّنَهَا شَيْخًا كَبِيرًا۔
(سنن ابی داؤد: ج۱، ص۹۴،۹۵)
’’حضرت ام ورقہ رضی اللہ عنہا قرآن مجید پڑھ چکی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے گھر میں ایک مؤذن مقرر کرنے کی اجازت مانگی۔ آپ ﷺ نے اجازت مرحمت فرمائی اور ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کیا، نیز انہیں اپنے گھر والوں کی امامت کا حکم دیا۔ عبدالرحمن بن خلاد کہتے ہیں: میں نے ان کے مؤذن کو دیکھا، وہ ایک بوڑھا شخص تھا۔‘‘
شیخ البانیؒ کی تحقیق
الشیخ البانی اس حدیث کی تخریج میں فرماتے ہیں:
رواہ ابو داؤد وابن الجارود فی المنتقی والدار قطنی والحاکم والبیھقی (ج۳ص۱۳۰) وأحمد (ج۶ص۴۰۵) وأبو القاسم الحامص فی المنتقی (ج۳) وأبو علی الصواف قلت وفی اسنادہ عبد الرحمن بن خلاد فمجهول الحال , وأورده ابن حبان فى ” الثقات ” على قاعدته! لكن هو مقرون بليلى فأحدهما يقوى رواية الآخر , لا سيما والذهبى يقول فى ” فصل النسوة المجهولات ": ” وما علمت فى النساء من اتهمت , ولا من تركوها۔ والحق انه حسن واللہ اعلم۔
(ارواء الغلیل: ج۲، ص۲۵۵،۲۵۶)
شیخ البانیؒ وضاحت کرتے ہیں کہ اگرچہ راوی عبدالرحمٰن بن خلاد مجہول ہے، تاہم لیلیٰ بنت مالک مجہولہ راویہ نہیں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کی روایت کو تقویت دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ حدیث "حسن” درجے کی ہے۔
➋ حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کی امامت
عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ قَوْمِهِ اسْمُهَا حُجَيْرَةُ قَالَتْ: أَمَّتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ قَائِمَةً وَسَطَ النِّسَاءِ۔
(مصنف ابن أبی شیبة: باب المراة تؤم النساء ج۳ص۸۳)
’’حضرت حجیرہ کہتی ہیں کہ حضرت اُمّ المومنین اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں کے درمیان کھڑے ہو کر ہماری امامت کرائی۔‘‘
➌ تابعی حضرت عامر شعبیؒ کا قول
عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: تَؤُمُّ الْمَرْأَةُ النِّسَاءَ فِي صَلَاةِ رَمَضَانَ تَقُومُ مَعَهُنَّ فِي صَفِّهِنَّ۔
(مصنف ابن أبی شیبة: ج۳ص۸۳)
’’امام عامر شعبی رحمہ اللہ (جو بڑے تابعی اور پانچ سو صحابہ کرام سے ملاقات کا شرف رکھتے تھے) فرماتے ہیں: عورت رمضان کی نماز میں عورتوں کی امامت کرا سکتی ہے، لیکن عورتوں کی صف میں کھڑی ہو، مرد امام کی طرح آگے نہ کھڑی ہو۔‘‘
➍ حضرت حمید بن عبدالرحمن کا قول
حدثنا حمید بن عبدالرحمان أنه قال لا باس أن تَؤُمُّ النِّسَاءَ تَقُومُ مَعَهُنَّ فِي الصَّفِّ۔
(مصنف ابن أبی شیبة صفحه مذکورہ)
’’عورت کی امامت میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ عورتوں کی صف میں کھڑے ہو کر نماز پڑھائے۔‘‘
نتیجہ
مندرجہ بالا احادیث اور صحابہ و تابعین کے آثار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ:
❀ عورت کی امامت بلاشبہ جائز ہے۔
❀ شرط یہ ہے کہ وہ عورتوں کی صف کے بیچ میں کھڑی ہو۔
علیہ الفتویٰ وبه یفتیٰ۔
ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب