عورت کی امامت اور حکمرانی کا شرعی حکم – احادیث و فقہاء کی آراء

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد ۱، صفحہ 414
مضمون کے اہم نکات

عورت کی جماعت کرانے کے بارے میں شرعی حکم

عورت عورتوں کی امامت کرسکتی ہے

عورت عورتوں کی امامت فرض اور نفل نمازوں میں کرا سکتی ہے۔ تاہم وہ مرد امام کی طرح صف سے آگے کھڑے ہوکر امامت نہیں کرسکتی بلکہ عورتوں کی صف کے درمیان کھڑی ہوکر امامت کرے گی۔ اس کے جواز پر درج ذیل احادیث دلیل ہیں:

حدیث ام ورقہ رضی اللہ عنہا

عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَنْصَارِيَّةِ…
(ابو داؤد مع عون المعبود: باب امامة النساء ابو داؤد مع عون المعبود ج۱ص۲۳۰)

’’حضرت ام ورقہ بنت نوفل رضی اللہ عنہا حافظہ قرآن تھیں، انہوں نے رسول اللہﷺ سے اپنے گھر میں مؤذن رکھنے کی اجازت طلب کی تو آپﷺ نے اجازت عطا فرمائی۔ روایت کے مطابق رسول اللہﷺ نے ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کیا جو اذان دیتا تھا اور ام ورقہ کو اپنے گھر والوں کی امامت کا حکم دیا۔ ان کا مؤذن ایک بوڑھا شخص تھا۔‘‘

◄ اس روایت کے راوی ولید بن عبداللہ بن جمیع اور عبدالرحمان بن خلاد پر کلام ہے، مگر امام ابن حبان نے دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔
◄ ولید بن عبداللہ صحیح مسلم کے راوی بھی ہیں۔
◄ علامہ عینی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔
(التعلیق المغنی: ج۱ص۴۰۴)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی امامت

عَنْ رَيْطَةَ الْحَنَفِيَّةِ , قَالَتْ: «أَمَّتْنَا عَائِشَةُ…»
(الدار قطنی: باب صلوة النساء جماعة وموقف امامھن ج۱ص۴۰۳)

’’حضرت ریطہ حنفیہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں فرض نماز پڑھائی اور ہمارے درمیان کھڑی ہوئیں۔‘‘

اسی طرح مصنف عبدالرزاق اور مصنف ابن ابی شیبہ میں بھی یہ روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عورتوں کی امامت کراتی تھیں اور صف کے درمیان کھڑی ہوتیں۔ (التعلیق المغنی ج۱ص۴۰۵)

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی امامت

عَنْ حُجَيْرَةَ بِنْتِ حُصَيْنٍ…
(الدار قطنی ج۱ص۴۰۵)

’’حضرت حجیرہ بنت حصین کہتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور وہ ہمارے درمیان کھڑی ہوئیں۔‘‘

◄ اگرچہ ایک روایت حجاج بن ارطاۃ کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن دوسری صحیح اسانید سے بھی یہ ثابت ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا عورتوں کو نماز پڑھایا کرتی تھیں اور صف میں کھڑی ہوتیں۔ (تلخیص الحبیر: ج۲ص۴۲، التعلیق المغنی: ج۱ص۴۰۵)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ

أخرج عبدالرزاق… عن ابن عباس قال تؤم المرأة النساء تقوم وسطھن۔
(التعلیق المغنی: ج۱ص۴۰۴)

’’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عورت عورتوں کی امامت کرے اور ان کے درمیان کھڑی ہو۔‘‘

محدثین اور فقہاء کی آراء

امام محمد بن اسماعیل الیمانی: حدیث ام ورقہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت اپنے گھر والوں کی امامت کرا سکتی ہے، اگرچہ ان میں مرد بھی ہوں۔ (سبل السلام: ج۲ص۲)
امام شمس الحق: عورتوں کی باجماعت نماز اور ان کی امامت رسول اللہﷺ کے فرمان کے مطابق صحیح اور ثابت ہے۔ (عون المعبود: ج۱ص۲۳۰)
امام نووی، امام شافعی، امام اوزاعی، امام ثوری، امام احمد، امام ابوحنیفہ: سب کے نزدیک عورت کی عورتوں کو نماز پڑھانا مستحب ہے۔ (فتاوی علماء حدیث: ج۲ص۱۸۷)
امام عبدالجبار غزنوی: عورت کی امامت عورتوں کے لیے جائز ہے، لیکن وہ صف کے درمیان کھڑی ہوگی۔ (التعلیق المغنی: ج۱ص۴۰۵)
السید محمد سابق: عورت کی عورتوں کو امامت مستحب ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ اور ام ورقہ رضی اللہ عنہما کا عمل ثابت ہے۔ (فقہ السنۃ: ج۱ص۲۰۰)
مولانا خلیل احمد سہارنپوری: علامہ کمال ابن ہمام کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ عورت کی امامت عورتوں کے لیے جائز ہے۔ (بذل المجھور: ج۱ص۳۳۱)

خلاصہ فیصلہ

مندرجہ بالا تمام احادیث و آثار اس بات پر متفق ہیں کہ:
◄ عورت دوسری عورتوں کی صف کے درمیان کھڑے ہوکر فرض اور نفل نماز کی امامت کر سکتی ہے۔
◄ یہ عمل رسول اللہﷺ کی سنت ہے اور ہمیشہ جاری رہے گا۔
◄ اس کو کسی مجبوری پر محمول کرنا یا منسوخ سمجھنا غلط ہے۔

عورت کی حکمرانی کے بارے میں شرعی حکم

عورت کو اللہ تعالیٰ نے حکومت کے لیے پیدا نہیں کیا۔ اس کی فطرت و ذمہ داری گھر، اولاد کی تربیت اور گھریلو امور ہیں۔ عورت کا حکمران بن جانا اس کی فطرت کے خلاف اور قوم کے لیے نقصان دہ ہے۔

رسول اللہﷺ کا فرمان

((لَنْ یُّفْلِحَ قَوْمٌ وَّلَّوْا أَمْرَھُمْ إِمْرَأةُ))
(صحیح البخاری کتاب النبیﷺ الی کسری وقیصر ج۲ص۶۳۷)

’’وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس نے اپنے معاملات عورت کے سپرد کر دیے۔‘‘

◄ جب ایرانیوں نے بوران دخت کو حکمران بنایا، تو رسول اللہﷺ نے اس پر تعجب ظاہر کرتے ہوئے یہ جملہ ارشاد فرمایا۔
◄ جلد ہی ایران کی صدیوں پرانی سلطنت ختم ہوگئی، جو اس پیش گوئی کی سچائی کی گواہی ہے۔

نتیجہ

◈ عورت کی امامت عورتوں کے لیے سنت اور جائز ہے۔
◈ لیکن عورت کی حکمرانی شریعت میں ممنوع ہے۔

ھذا ما عندي واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب