مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عورت کا شوہر کے مال سے صدقہ کرنے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

سوال

کیا عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے شوہر کے مال میں سے اپنی طرف سے یا اپنے کسی فوت شدہ عزیز کی طرف سے صدقہ کرے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات سب پر واضح ہے کہ شوہر کا مال، اس کا ذاتی مال ہے۔ لہٰذا کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے صدقہ کرے۔ اگر شوہر نے اجازت دے دی ہو کہ وہ اس کے مال میں سے صدقہ کر سکتی ہے، چاہے وہ اپنی طرف سے ہو یا اپنے کسی فوت شدہ عزیز کی طرف سے، تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر شوہر نے اجازت نہ دی ہو تو پھر اس کے مال سے صدقہ کرنا جائز نہیں، کیونکہ وہ مال شوہر کا ہے اور کسی بھی مسلمان کے مال میں اس وقت تک تصرف کرنا جائز نہیں جب تک وہ خود اپنی رضا مندی کے ساتھ اجازت نہ دے دے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔