عورت کا آمین بالجہر کہنا: جمعہ و عیدین کی نماز میں حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ محمدیہ، ج1، ص345

سوال

کیا نماز جمعہ یا نماز عیدین میں مردوں کی طرح عورتوں کو بھی امام کے پیچھے بلند آواز سے "آمین” کہنا چاہیے؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ بات واضح ہے کہ آمین بالجہر (اونچی آواز سے آمین کہنا) بہت سی صحیح احادیث سے ثابت ہے، اور امام عطاء بن ابی رباح کے بقول دو سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم امام کے پیچھے آمین بالجہر کے قائل ہیں۔

تاہم، کثرت تلاش و تحقیق کے باوجود کوئی ایسی روایت نہیں ملی جس میں یہ وضاحت ہو کہ عورت بھی امام کی اقتدا میں اونچی آواز سے آمین کہے۔ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ عورت بلند آواز سے آمین نہ کہے، کیونکہ عورت کی آواز میں فتنہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔

اسی وجہ سے جب امام کو بھول ہو تو عورت کو "سبحان اللہ” کہنے کے بجائے تالی بجانے کا حکم دیا گیا ہے۔

حدیث مبارکہ

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ». (فتح الباری: ص۶۲، ج۳)

’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: امام کو اس کی بھول پر مرد ‘سبحان اللہ’ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔‘‘

فتح الباری کی وضاحت

فتح الباری میں ہے:

كَأَنَّ مَنْعَ النِّسَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ لِأَنَّهَا مَأْمُورَةٌ بِخَفْضِ صَوْتِهَا فِي الصَّلَاةِ مُطْلَقًا لِمَا يُخْشَى مِنَ الِافْتِتَانِ وَمُنِعَ الرِّجَالُ مِنَ التَّصْفِيقِ لِأَنَّهُ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ۔ (صحیح بخاری: باب التصویق للنساء، ص۱۶۰، ج۱)

’’عورتوں کو امام کی اقتدا میں تسبیح سے اس لیے منع کیا گیا کہ انہیں نماز میں ہمیشہ آواز پست رکھنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ فتنہ کا اندیشہ نہ ہو۔ اور مردوں کو تالی بجانے سے اس لیے روکا گیا کہ یہ عمل عورتوں کا خاصہ ہے۔‘‘

نتیجہ

◈ مردوں کے ساتھ نماز ادا کرنے والی عورت بلند آواز سے آمین نہ کہے۔
◈ جس طرح عورت کے "سبحان اللہ” کہنے میں فتنہ کا اندیشہ ہے، اسی طرح بلند آواز سے آمین کہنے میں بھی یہی خدشہ پایا جاتا ہے۔
◈ لہٰذا جمعہ، عیدین اور دیگر جماعتوں میں عورتیں آہستہ آمین کہیں، بلند آواز سے نہیں۔
◈ البتہ اگر عورت ہی امام ہو اور جماعت میں صرف عورتیں ہوں تو ایسی صورت میں عورتیں بلند آواز سے آمین کہہ سکتی ہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب