مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عورت سے قتل خطا کا حکم اور دیت کی وضاحت

فونٹ سائز:

سوال

اگر کسی عورت سے قتل خطا ہو جائے تو اس کا کیا شرعی حکم ہے؟

جواب از فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

قتل خطا (غلطی سے کسی کو قتل کرنا) کے حوالے سے شریعت کا حکم مرد اور عورت دونوں کے لیے ایک جیسا ہے۔
اگر عورت سے قتل خطا ہو جائے، تو اس پر دیت واجب ہوگی، لیکن قصاص (قتل کے بدلے قتل) نہیں لیا جائے گا، کیونکہ قتل خطا میں قصاص نہیں ہوتا۔

دیت کی وضاحت

◄ دیت (خون بہا) مقتول کے ورثاء کو ادا کی جاتی ہے، اور اس کی مقدار شریعت میں مقرر ہے۔
◄ علماء کے اجماع کے مطابق، قتل خطا میں صرف دیت واجب ہے اور اس پر قصاص نہیں لیا جائے گا۔

خلاصہ

◄ عورت سے اگر قتل خطا ہو جائے تو اس پر دیت واجب ہوگی، قصاص نہیں۔
◄ یہ حکم مرد اور عورت دونوں کے لیے یکساں ہے، جیسا کہ تمام فقہاء نے ذکر کیا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔