عورت اور اس كي پھوپی يا اس كي خالہ کو بیک وقت نكاح ميں ركهنا جائز نهيں
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يجمع بين المرأة وعمتها ولا بين المرأة و خالتها
”ایک مرد کے نکاح میں پھوپھی اور بھتیجی اور خالہ اور بھانجی کو جمع نہ کیا جائے ۔“
[بخاري: 5109 ، كتاب النكاح: باب لا تنكح المرأة على عمتها ، مسلم: 1408 ، أحمد: 465/2 ، سعيد بن منصور: 209/1 ، مسند شافعي: 18/2 ، عبد الرزاق: 10753]
➋ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تنكح المرأة على عمتها أو خالتها
[بخاري: 5108 أيضا ، ابو داود: 2065 ، ترمذي: 1126 ، دارمي: 136/2 ، ابن أبى شيبة: 246/4 ، ابن الجارود: 685 ، نسائي: 98/6]
(شافعیؒ) مذکورہ رشتوں کو جمع کرنا حرام ہے۔
[معرفة السنن والآثار للبيهقى: 106/10]
(ابن عبد البرؒ ، نوویؒ) اس کی حرمت پر اجماع ہے۔
[التمهيد: 277/18 ، شرح مسلم: 207/5]
(ابن حزمؒ ، ابن منذرؒ ) انہوں نے بھی اس پر اجماع نقل کیا ہے ۔
[كما فى فتح البارى: 202/10 ، الإجماع لابن المنذر: ص/95]
(ترمذیؒ) عام اہل علم اسی پر ہیں اور ہمیں ان کے درمیان اس مسئلے میں کسی اختلاف کا علم نہیں ۔
[جامع ترمذي: بعد الحديث /1126]
(شوکانیؒ ، امیر صنعانیؒ ) مذکورہ رشتوں کو جمع کرنا حرام ہے۔
[نيل الأوطار: 228/4 ، سبل السلام: 1329/3]
(قرطبیؒ ، صدیق حسن خانؒ) اس کی حرمت پر اجماع ہے۔
[الروضة الندية: 50/2]