مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عورتوں کے محاذات کے کیا احکام ہیں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

عورتوں کے محاذات کے کیا احکام ہیں؟

جواب:

مردوں کی صفوں کے بعد عورتوں کی صفیں ہوتی ہیں۔ عورت یا عورتوں کو نماز کے لیے مرد یا مردوں کے برابر کھڑا نہیں ہونا چاہیے لیکن اگر کسی مجبوری کی بنا پر یا غلطی سے ایسا ہو جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی، کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں۔
بعض مذاہب میں محاذات کی چند صورتیں بیان کی گئی ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں:
”① عورت کا امام کے آگے یا برابر ہونا، اس سے امام اور اس عورت اور تمام مقتدیوں کی نماز فاسد ہو جائے گی۔
② عورت کا امام اور مقتدی مردوں کی صف کے درمیان میں یا مقتدی مردوں کی صفوں کے درمیان میں کھڑا ہونا، اس صورت میں ایک عورت اپنے پیچھے والی صرف پہلی صف کے محاذی ایک مرد کی نماز فاسد کرے گی اور دو عورتیں صرف پیچھے والی پہلی صف کے دو محاذی مردوں کی نماز فاسد کریں گی اور تین عورتیں پیچھے والی تمام صفوں کے تین تین محاذی مردوں کی نماز فاسد کریں گی اور تین سے زیادہ عورتیں صف تام کے حکم میں ہونے کی وجہ سے پیچھے والی تمام صفوں کے تمام آدمیوں کی نماز فاسد کریں گی۔
ایک یا دو عورتیں آگے ہونے کی صورت میں اگر ان کے اور مردوں کے درمیان سترہ بعد ایک ہاتھ حائل ہوگا تو مانع فساد ہو گا۔ اس سے کم مانع فساد نہیں۔ اور تین یا زیادہ عورتیں آگے ہونے کی صورت میں سترہ حائل ہونے کا اعتبار نہیں اور فساد نماز کا حکم بدستور برقرار رہے گا۔
③ عورتوں کا مردوں کی صف میں کھڑا ہونا، پس ایک عورت تین آدمیوں کی نماز فاسد کرے گی۔ ایک اپنے دائیں اور ایک بائیں اور ایک پیچھے والی پہلی صف کے اپنی سیدھ والے آدمی کی اور دو عورتیں چار آدمیوں کی، یعنی ایک دائیں اور ایک بائیں اور دو پیچھے والی پہلی صف کے اپنی سیدھ والے دو آدمیوں کی نماز فاسد کریں گی۔ اور تین عورتیں ایک ایک دائیں بائیں والے آدمی کی اور پیچھے والی ہر صف کے تین تین محاذی آدمیوں کی آخر صفوں تک نماز فاسد کریں گی اور تین سے زیادہ عورتیں دائیں اور بائیں والے ایک ایک آدمی کی اور پیچھے والی تمام صفوں کے تمام آدمیوں کی نماز فاسد کریں گی۔
④ ایک ہی صف میں ایک طرف آدمی ہو اور ایک طرف عورتیں ہوں اور ان کے درمیان میں کوئی حائل نہ ہو، تو صرف اس ایک آدمی کی نماز فاسد ہوگی، جو عورت کے متصل محاذی ہوگا اور باقی آدمیوں کی نماز درست ہو جائے گی، کیونکہ یہ آدمی باقی آدمیوں اور عورتوں کے درمیان بمنزلہ سترہ ہو جائے گا۔
⑤ قد آدم یا زیادہ اونچا چبوترہ یا سائبان یا بالا خانہ وغیرہ ہے اور اس کے اوپر مرد ہیں اور نیچے ان کے محاذی عورتیں ہیں یا اس کے برعکس یعنی عورتیں اوپر ہیں اور نیچے ان کے محاذی مرد ہیں، تو یہ قد آدم اونچائی مانع فساد نماز ہو جائے گی اور مردوں کی نماز فاسد نہ ہوگی۔ قد آدم سے کم اونچائی مانع فساد نہ ہوگی۔ “
(فتاوی دار العلوم زکریا از مفتی رضاء الحق: 276/2)
یہ ایسا الجھاؤ ہے، جس کی کوئی توجیہ قرآن و حدیث سے ہو سکتی ہے، نہ عقل سلیم سے۔ بلا دلیل نماز کو باطل قرار دینا، شریعت کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں:
”عورت مردوں کے ساتھ صف میں کھڑی نہیں ہوگی، کیونکہ اس میں فتنے کا خدشہ ہے۔ عورت اس حکم شرعی کی مخالفت کرے (اور مردوں کے برابر کھڑی ہو جائے)، تو جمہور اہل علم کے نزدیک اس کی نماز ہو جائے گی، احناف کہتے ہیں عورت کی نماز تو ہو جائے گی، البتہ مرد کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ یہ بہت عجیب فتویٰ ہے۔ اس کی توجیہ میں بھی بعض لوگوں نے تکلف سے کام لیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی دلیل ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’عورتوں کو پیچھے رکھو، جہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں پیچھے رکھا ہے۔‘ یہ حکم وجوب کے لیے ہے اور حیث، ظرف مکان ہے۔ نماز کے علاوہ کوئی مقام ایسا نہیں، جہاں عورتوں کو پیچھے رکھنے کا حکم دیا گیا ہو۔ جب عورت مرد کے برابر کھڑی ہو جائے تو مرد کی نماز فاسد ہو جاتی ہے، کیونکہ اس نے عورت کو پیچھے کرنے والے حکم پر عمل نہیں کیا۔ اس فتوے کو نقل کر دینا ہی کافی ہے، چہ جائے کہ اس کا جواب دینے کی زحمت کی جائے۔ ہم ایسی باتوں سے بچنے کے لیے اللہ کی مدد مانگتے ہیں۔ غصب شدہ کپڑے میں نماز پڑھنا ممنوع ہے اور اسے کپڑے اتار دینے کا حکم ہے، لیکن اگر وہ اس حکم کی مخالفت میں اسی کپڑے میں نماز پڑھ لے تو گناہ ہوگا، مگر اس کی نماز ہو جائے گی۔ جب یہ ہے تو اس شخص کی نماز کو درست قرار کیوں نہیں دیا جاتا، جس کے برابر میں ایک عورت خود آ کر کھڑی ہو جائے؟“
(فتح الباري: 212/2)
جن مذاہب کے مطابق اس صورت میں نماز نہیں ہوتی، انہوں نے بھی اسے بعض مواقع پر جائز قرار دے رکھا ہے، مثلاً:
مسجد حرام اور مسجد نبوی میں محاذات (عورتوں کے مردوں کے برابر ہونے) کے باوجود علما اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔
❀ علامہ ملاعلی قاری حنفی رحمہ اللہ (1014ھ) لکھتے ہیں:
لا دلالة فيه على إبطال الصلاة حال المحاذاة.
”اس میں محاذات کی صورت میں نماز کے باطل ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔“
(شرح النقاية: 204/1)
❀ مفتی رضاء الحق صاحب، دارالعلوم زکریا، جنوبی افریقا لکھتے ہیں:
”مفتی اعظم پاکستان، ہمارے استاذ محترم، حضرت مولانا مفتی ولی حسن صاحب رحمہ اللہ بھی حرم میں محاذات کے باوجود نماز کی صحت کا فتویٰ دیتے تھے۔“
(فتاوی دار العلوم زکریا: 281/2)

فائدہ:

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے:
أخروهن حيث أخرهن الله.
”ان عورتوں کو پیچھے رکھو، جیسے اللہ نے انہیں پیچھے رکھا ہے۔“
(مصنف عبد الرزاق: 149/3، ح: 5115، صحیح ابن خزيمة: 1700، المعجم الكبير للطبراني: 295/9، ح: 9484، 9485، المطالب العالية لابن حجر: 391)
سند سلیمان بن مہران اعمش کے عنعنہ کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔
اس کا مرفوع ہونا بے اصل ہے۔
❀ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الخبر موقوف غير مسند.
”یہ حدیث موقوف ہے، مرفوع نہیں۔“
(صحيح ابن خزيمة، تحت الحديث: 1700)
❀ علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
حديث غريب مرفوعا.
”اس حدیث کا مرفوع ہونا تعجب خیز ہے۔“
(نصب الراية: 36/2)
❀ علامہ ابن ہمام حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
لم يثبت رفعه فضلا عن كونه من المشاهير.
”اس کا مشہور ہونا تو درکنار، مرفوع ہونا بھی ثابت نہیں۔“
(فتح القدير: 360/1)
❀ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
هذا غير مرفوع.
”یہ حدیث مرفوع نہیں۔“
(البناية في شرح الهداية: 342/2)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔