سوال:
بیک وقت چار سے زائد بیویاں رکھنا کیسا ہے؟
جواب:
ایک مسلمان بیک وقت زیادہ سے زیادہ چار آزاد بیویاں رکھ سکتا ہے۔ چار سے زائد رکھنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ چار سے زائد بیویاں رکھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ
(سورة النساء: 3)
جتنی عورتوں سے چاہو نکاح کرو، دو دو سے، تین تین سے، چار چار سے۔
❀ علامہ ابن جری رحمہ اللہ (741ھ) فرماتے ہیں:
قد انعقد الإجماع على تحريم ما زاد على الرابعة
اس پر اجماع ہے کہ (بیک وقت) چار سے زائد بیویاں رکھنا حرام ہے۔
(تفسير ابن جزي: 1/178)
اسلام نے چار سے زائد بیویاں رکھنے کی بالکل اجازت نہیں دی، اس لیے جو کافر مسلمان ہو جائے اور اس کی چار سے زائد بیویاں ہوں، تو ان میں سے جو چار سے زیادہ پسند ہوں، انہیں رکھ لے، باقی بیویوں کو چھوڑ دے۔ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔