عمرو بن ثابت رافضی – جمہور محدثین کی جروحات اور امام ابو داودؒ کا تسامح

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون ایک سوشل میڈیا صارف ابو عمر الشوکانی کی اس رائے کا تحقیقی جائزہ ہے جو انہوں نے عمرو بن ثابت نامی راوی کے بارے میں پیش کی۔
الشوکانی نے امام ابو داودؒ کی ایک عبارت کو اس انداز میں پیش کیا کہ گویا امام ابو داودؒ اس راوی کو حدیث میں صدوق قرار دیتے ہیں۔

اس مضمون میں ہم:

❀ عمرو بن ثابت پر جمہور محدثین کی جروحات پیش کریں گے۔
❀ امام ابو داودؒ کے اس قول کا اصل پس منظر واضح کریں گے۔
❀ امام بیہقیؒ اور دیگر ائمہ کی تصریحات کی روشنی میں امام ابو داودؒ کے اس کلام کو علمی تسامح ثابت کریں گے۔

📜 عمرو بن ثابت پر جمہور محدثین کی جروحات

① امام عبداللہ ابن المبارکؒ

عربی متن:

ترك ابن المبارك عمرو بن ثابت
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم)

اُردو ترجمہ:
ابن المبارکؒ نے عمرو بن ثابت کو متروک قرار دیا۔

② امام یحییٰ بن معینؒ

عربی متن:

عمرو بن ثابت بن أبي المقدام ليس بثقة ولا مأمون
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم)

اُردو ترجمہ:
عمرو بن ثابت بن ابی المقدام نہ ثقہ ہے نہ قابلِ اعتماد۔

③ امام ابو حاتم الرازیؒ

عربی متن:

ضعيف الحديث… كان ردي الرأي شديد التشيع
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم)

اُردو ترجمہ:
یہ ضعیف الحدیث ہے، رائے بہت خراب تھی اور شیعت میں بہت سخت تھا۔

④ امام ابو زرعہ الرازیؒ

عربی متن:

ضعيف الحديث
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم)

اُردو ترجمہ:
یہ ضعیف الحدیث ہے۔

⑤ امام نسائیؒ

عربی متن:

متروك الحديث
(الضعفاء والمتروكين للنسائي)

اُردو ترجمہ:
یہ متروک الحدیث ہے۔

⑥ حافظ ذہبیؒ

عربی متن:

عمرو رافضي متروك
(تلخيص المستدرك)

اُردو ترجمہ:
عمرو رافضی اور متروک ہے۔

⑦ حافظ ابن حبانؒ

عربی متن:

كان ممن يروي الموضوعات، لا يحل ذكره إلا على سبيل الاعتبار
(المجروحين لابن حبان)

اُردو ترجمہ:
یہ گھڑی ہوئی روایات بیان کرتا تھا، اس کا ذکر صرف عبرت کے طور پر جائز ہے۔

📜 امام ابو داودؒ کا کلام اور اس کا پس منظر

امام ابو داودؒ نے اپنی سنن میں عمرو بن ثابت سے کوئی مرفوع روایت نقل نہیں کی، بلکہ حمنہ بنت جحشؓ کا ایک موقوف قول بیان کیا۔
اس روایت میں عمرو بن ثابت نے یہ کلام عبد اللہ بن محمد بن عقیل (جو خود ضعیف ہیں) سے نقل کیا۔

عربی متن (سنن أبي داود):

وعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ رَافِضِيٌّ… وَلَكِنَّهُ كَانَ صَدُوقًا فِي الحَدِيثِ

اُردو ترجمہ:
عمرو بن ثابت رافضی تھا، لیکن حدیث میں سچا تھا۔

یہی وہ جملہ ہے جسے بعض لوگوں نے عمرو بن ثابت کی عمومی توثیق سمجھ لیا، حالانکہ امام ابو داودؒ نے اس سے کوئی مرفوع حدیث روایت نہیں کی۔

📜 امام بیہقیؒ کا رد

امام بیہقیؒ نے اس موقوف روایت کے بارے میں لکھا کہ عمرو بن ثابت نے اسے نبی ﷺ کا قول نہیں بنایا بلکہ صحابیہ کا قول قرار دیا۔
بیہقیؒ نے واضح فرمایا کہ یہ راوی قابلِ احتجاج نہیں۔

عربی متن (السنن الكبرى للبيهقي):

وعَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ هَذَا غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ

اُردو ترجمہ:
یہ عمرو بن ثابت قابلِ احتجاج نہیں ہے۔

📜 امام ابو داودؒ کی دوسری رائے

ایک اور مقام پر امام ابو داودؒ نے فرمایا:

من شرار الناس
یعنی وہ لوگوں میں سب سے بُرا شخص تھا۔
(سؤالات الآجري لأبي داود)

✿ مجموعی نتیجہ

❀ جمہور ائمہ کی تصریحات کے مطابق عمرو بن ثابت سخت ضعیف اور متروک الحدیث ہے۔
❀ امام ابو داودؒ کے ایک مقام پر اسے "صدوق” کہنا ان کا علمی تسامح تھا، جسے انہوں نے عملی طور پر سنن میں مرفوع روایت نہ لا کر واضح بھی کر دیا۔
❀ امام بیہقیؒ اور دیگر محدثین نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ یہ راوی قابلِ احتجاج نہیں۔
❀ لہٰذا، عمرو بن ثابت کی روایات کو صحیح یا حجت ماننا جمہور محدثین کے منہج کے خلاف ہے۔

اہم حوالاجات کے سکین

عمرو بن ثابت رافضی – جمہور محدثین کی جروحات اور امام ابو داودؒ کا تسامح – 01 عمرو بن ثابت رافضی – جمہور محدثین کی جروحات اور امام ابو داودؒ کا تسامح – 02 عمرو بن ثابت رافضی – جمہور محدثین کی جروحات اور امام ابو داودؒ کا تسامح – 03