علم کے حصول کے لیے چین جانے کی حدیث کی سند کا حکم

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

درج ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أطلبوا العلم ولو بالصين، فإن طلب العلم فريضة على كل مسلم
”علم حاصل کریں، خواہ چین جانا پڑے، کیونکہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض (کفایہ) ہے۔“
(الضعفاء الكبير للعقيلي : 230/2 ، الكامل لابن عدي : 188/5)

جواب:

اس روایت کی ساری کی ساری سندیں ضعیف ہیں۔
❀ امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم يصح الخبر فيه
” اس بارے میں کوئی حدیث ثابت نہیں۔“
(مسائل الكوسج: 3311)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يثبت عندنا فيه شيء.
”ہمارے نزدیک اس بارے میں کوئی روایت ثابت نہیں۔“
(المنتخب من عِلل الخلّال: 128/1)
❀ امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كل ما يروى فيها عن أنس، فغير صحيح.
”اس بارے میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی تمام روایات غیر ثابت ہیں۔“
(مسند البزار: 164/1)
❀ امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الرواية فى هذا الباب فيها لين.
”اس باب میں مروی روایات ضعیف ہیں۔“
(الضعفاء الكبير: 230/2)
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس بصحيح.
” یہ روایت ثابت نہیں۔“
(كتاب المجروحين: 141/1)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث متنه مشهور، وإسناده ضعيف، وقد روي من أوجه كلها ضعيف.
”اس حدیث کا متن زبان زد عام ہے، اس کی سند ضعیف ہے۔ یہ روایت کئی سندوں سے مروی ہے، سب کی سب ضعیف ہیں۔“
(شعب الإيمان، تحت الرقم: 1543)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا حديث يروى عن أنس بن مالك عن النبى صلى الله عليه وسلم من وجوه كثيرة كلها معلولة لا حجة فى شيء منها عند أهل العلم بالحديث من جهة الإسناد.
” یہ حدیث کئی سندوں سے بواسطہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے، ساری کی ساری سندیں معلول ہیں، محدثین کرام کے نزدیک اس کی کسی سند سے حجت نہیں لی جاسکتی۔“
(جامع بيان العِلم وفضله: 23/1)
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذه الأحاديث كلها لا يثبت.
” (اس بارے میں مروی) یہ تمام احادیث غیر ثابت ہیں۔“
(العلل المتناهية: 62/1)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا الحديث وإن لم يكن ثابتا.
”یہ حدیث اگرچہ ثابت نہیں ہے۔“
(المجموع: 24/1)
❀ نیز ”ضعیف “بھی کہا ہے۔
(فتاوى النووي، ص 249)
❀ علامہ زرکشی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
في كل طرقه مقال.
”اس کی سبھی سندوں میں کلام ہے۔“
(التذكرة في الأحاديث المشتهرة، ص 42)
❀ حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
في كل منها مقال.
” (اس بارے میں مروی) ہر روایت میں کلام ہے۔“
(المقاصد الحسنة، ص441)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے