علم کو چھپانے والوں کا انجام قرآن اور صحیح حدیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

جس آدمی کو مسئلے کا علم ہوا پھر وہ اسے چھپائے تو کیا ایسا شخص آگ کی لگام پہنایا جائے گا؟ کئی لوگوں کو دیکھا ہے مسئلہ معلوم ہونے کے باوجود نہیں بتاتے، کیا ان کا یہ عمل درست ہے؟

جواب:

علم کو چھپانا جائز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس شخص کو اللہ نے علم دیا ہو وہ اسے چھپائے تو قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اسے آگ کی لگام پہنائے گا۔
(طبرانی کبیر 102/10، ح: 10089)، صحیح الترغیب والترہیب (116)، ترمذی (2649)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فرمان یہ بھی ہے:
”میری طرف سے بات پہنچا دو، اگرچہ ایک آیت ہو۔“
(بخاری، کتاب احادیث الأنبیاء، باب ما ذكر عن بنی إسرائیل 3461، ابن حبان 6656)
لہٰذا مسئلے کا جتنا علم ہوا اسے دوسروں تک پہنچا دینا چاہیے، چھپانا جائز نہیں ہے۔ احکامِ الٰہی کو چھپانے کی وعید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾
”بے شک جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، اس کے بعد کہ ہم نے انھیں کتاب میں لوگوں کے لیے واضح کر دیا، یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے بھی لعنت کرتے ہیں۔“
(البقرة: 159)
معلوم ہوا کہ اہلِ کتاب احکامِ الٰہیہ کو چھپاتے تھے، جیسا کہ صحیح بخاری وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے