علم و تحقیق: امت مسلمہ کا کھویا ہوا سرمایہ

✍️ تحریر: انجینئر نذیر ملک، سابق آپریشنز انجینیئر، کینپ، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن
مضمون کے اہم نکات

امت مسلمہ کی گمشدہ میراث — ایک لمحۂ فکریہ

کبھی یہ امت علم و حکمت کی علمبردار تھی، جہاں کے حکمران عدل و کردار کے پیکر اور سائنسدان علم و ایمان کے ترجمان ہوا کرتے تھے۔
قرطبہ، بغداد اور بخارا کے یہ چراغ جب روشن تھے تو دنیا روشنی میں نہا رہی تھی
مگر آج، وہی امت اپنی ہی روشنی کو ڈھونڈتی پھر رہی ہے۔
میرا دردمندانہ سوال ہے:
ماضی میں مسلمانوں میں بڑے بڑے سائنسدان اور نیک حکمران پیدا ہوئے، لیکن اب ایسے فقیدالمثال لوگ کیوں پیدا نہیں ہو رہے؟

کیوں، آخر کیوں؟

یہ سوال برسوں سے میرے ذہن میں کچوکے لگا رہا تھا۔
میں نے تحقیق کی، غور و فکر کیا، ماضی کی تاریخ کھنگالی، تو معلوم ہوا کہ زوال کی جڑیں بہت گہری اور زمینی ہیں۔ کچھ ہماری اجتماعی کمزوریاں ہیں، کچھ ترجیحات کی لغزشیں۔

سوچا، کیوں نہ اپنی قوم کے سامنے یہ سچ رکھ دوں،
شاید کہ کسی کے دل میں پھر سے علم و عمل کی چنگاری جاگ اٹھے، اور وہ گمشدہ میراث دوبارہ زندہ ہو جائے
جس نے کبھی دنیا کو روشنی دی تھی۔

ماضی کے درخشاں چراغ

تاریخ کے صفحات پلٹیں تو مسلمانوں کی علمی و سائنسی خدمات چمکتی ہوئی ملتی ہیں۔
امام البیرونی نے فلکیات اور کیمیا میں وہ بنیادیں رکھیں جن پر آج کا سارا جدید علم کھڑا ہے۔
ابن الہیثم نے بصریات پر وہ تجربات کیے جنہیں آج جدید Optics کہا جاتا ہے۔
الخوارزمی نے الجبرا ایجاد کیا، اور ابن سینا نے طب و فلسفے میں ایسا کارنامہ انجام دیا جو صدیوں تک یورپ کے نصاب میں شامل رہا۔
جابر بن حیان نے کیمیا کو تجرباتی سائنس کی صورت دی،
اور جدید دور میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے امت کو ایٹمی قوت عطا کر کے مسلمانوں کی سائنسی غیرت کو زندہ کیا۔

یہ وہ شخصیات تھیں جنہوں نے قرآن کی دعوتِ علم کو عملی شکل دی، اور ثابت کیا کہ اسلام علم و عقل دونوں کا مذہب ہے۔

زوال کی اصل وجوہات

مگر سوال اب بھی قائم ہے:
جب ہم علم و فکر کے امام تھے تو پھر آج ہم تقلید کے غلام کیوں بن گئے؟
اس سوال کے جوابات تلخ ضرور ہیں مگر حقیقت سے خالی نہیں۔

علم سے عقیدت کا خاتمہ
پہلے علم کو عبادت سمجھا جاتا تھا، آج ذریعۂ معاش بن چکا ہے۔ جب نیت بدل گئی تو برکت اٹھ گئی۔ علم کی روح گئی، صرف ڈگریاں رہ گئیں۔

تحقیق کے بجائے تقلید
جب ہم نے سوال کرنا چھوڑ دیا اور دوسروں کے نظریات دہرانا شروع کر دیا، تو علم کی چمک ماند پڑ گئی۔
اسلام کا پہلا سبق “سوچو، غور کرو” ہے
لیکن ہم نے سوال کرنے کو بے ادبی سمجھ لیا۔

دینی و سائنسی تعلیم کی تفریق
ماضی میں مسجد ہی یونیورسٹی تھی۔ وہاں قرآن بھی پڑھایا جاتا تھا اور فلکیات بھی۔ آج ہم نے دین اور سائنس کو الگ کر دیا ہے،
یوں ایمان اور عقل کی وحدت ٹوٹ گئی۔

سیاسی و فکری غلامی
نوآبادیاتی طاقتوں نے ہمارے نظامِ تعلیم اور سوچ کو بدل دیا۔ ہم اپنی ترجیحات کے مالک نہیں رہے، بلکہ مغرب کے فکری سانچوں میں سوچنے لگے۔

تحقیق کے وسائل کا فقدان
مسلمان ممالک میں آج بھی تحقیق پر معمولی رقم خرچ ہوتی ہے۔ سائنس دان کے لیے عزت اور سہولت نہیں،
نہ لائبریریاں ہیں، نہ لیبارٹریاں۔ جہاں کتاب کی عزت نہیں، وہاں ذہن مر جاتے ہیں۔

قرآن کا تصورِ علم

اسلام نے علم کو کبھی مذہب سے الگ نہیں کیا۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقرأ” (پڑھ) سے شروع ہوئی۔ یہ اعلان تھا کہ اسلام علم، مطالعہ اور تحقیق کا مذہب ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

“علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔”

یعنی علم محض دنیا کے لیے نہیں بلکہ ایمان کی تکمیل کے لیے ہے۔ جب تک ہم نے علم کو عبادت سمجھا، ہم غالب رہے؛
اور جب اسے دنیا داری سمجھا، ہم مغلوب ہو گئے۔

راہِ نجات

اب بھی وقت ہاتھ سے نکلا نہیں۔ ہمیں پھر سے علم، تحقیق اور کردار کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔ ہماری درسگاہوں میں ایسا ماحول چاہیے جہاں قرآن کی روح اور سائنسی تحقیق دونوں پروان چڑھیں۔ جہاں نوجوان سوال کرنے سے نہ ڈریں بلکہ سوچنے پر اُکسائے جائیں۔
جہاں علم کو ایمان کا حصہ سمجھا جائے، نہ کہ اس سے الگ۔

ہمیں اپنے ماضی پر فخر ضرور کرنا چاہیے، مگر ماضی پر سونا نہیں بلکہ اسی روشنی سے اپنے حال کو منور کرنا ہے۔

اختتامی کلمات

مسلمانوں کا زوال عارضی ہے،
اگر نیت اور سمت درست ہو جائے تو وہی قوم جو کبھی “اقْرَأْ” سے اٹھی تھی، پھر سے دنیا کی قیادت کر سکتی ہے۔

“یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ”
(المجادلہ: 11)
“اللہ ان لوگوں کے درجے بلند کرے گا جو ایمان لائے اور جنہیں علم دیا گیا۔”

جب ایمان اور علم کا امتزاج پھر سے زندہ ہوگا، تو شاید وہی البیرونی، ابن الہیثم اور عبدالقدیر خان پھر اسی امت سے پیدا ہوں گے۔
جو قرآن و سائنس کی وحدت کو سمجھ کر دنیا کو ایک بار پھر روشنی دے گی

الدعاء

یا اللہ تعالی ہم تیرے گناہگار بندے ہیں ہماری خطائیں معاف فرما دے اور ہمارا کھویا ہوا وقار واپس لوٹا دے اور دنیا میں سرخرو کر دے تاکہ پھر سے ہم تیرا کلمہ حق تیری کائینات میں پھر سے بلند کر سکیں۔

یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث

آمین یا رب العالمین

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے