مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون ایک تحقیقی کاوش ہے جس کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ علامہ محمد ناصر الدین البانیؒ پر تقلید کے جواز کا جو الزام باندھا گیا ہے، وہ محض جھوٹ اور غلط فہمی پر مبنی ہے۔
ہم اس آرٹیکل میں درج ذیل نکات پر روشنی ڈالیں گے:
❀ علامہ البانیؒ کا واضح اور ثابت شدہ منہجِ ردِّ تقلید۔
❀ تقلید کے جواز کے حوالے سے منسوب کردہ عبارت کا سیاق و سباق اور حقیقت۔
❀ اصل مصادر سے اقتباسات کے ذریعے یہ دکھانا کہ البانیؒ تقلیدِ شخصی کو نہ صرف رد کرتے تھے بلکہ اسے دین سے خارج سمجھتے تھے۔
ہر دلیل عربی متن، اُردو ترجمہ، اور سند کے راویوں کی وضاحت کے ساتھ پیش کی جائے گی تاکہ قاری کو مکمل تحقیقی اطمینان حاصل ہو۔
📜 علامہ البانیؒ اور تقلید کا رد — شواہد و دلائل
① پہلا ثبوت: تقلید اور اتباع کا فرق
عربی متن:
الفرق بين الإتباع والتقليد هو أن الأصل في كل مسلم أن يكون كما قال تعالى: ﴿قل هذه سبيلي أدعو إلى الله على بصيرة أنا ومن اتبعني وسبحان الله وما أنا من المشركين﴾… ولا شك أن التقليد ليس علما… لهذا يجب أن نعرف أن فرقا كبيرا بين هذا التقليد وبين الاتباع الذي هو الاتباع بمقتضى الدليل… فهذا ليس من الإسلام في شيء… لا يجوز للمسلم مطلقا أن يتدين بالتقليد… كما قال الإمام الشافعي في القياس: القياس ضرورة لا يصار إليه إلا حينما يفقد الدليل من الكتاب والسنة أو إجماع الأمة.
(تفريغ الفتاوى الإماراتية للشيخ الألباني)
اُردو ترجمہ:
اتباع اور تقلید میں فرق یہ ہے کہ ہر مسلمان کا اصل حال یہ ہونا چاہیے کہ وہ جیسا کہ اللہ نے فرمایا: "کہہ دو یہ میرا راستہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں بصیرت پر، میں اور میرے پیروکار”۔ بلا شبہ تقلید علم نہیں، اور مقلد بصیرت پر نہیں ہوتا۔ جو شخص دین میں تقلید کو اصل بنا لے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ تقلید کو دین بنائے۔ امام شافعی نے قیاس کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک ضرورت ہے، جس کی طرف تب جایا جائے جب کتاب و سنت یا اجماع سے دلیل نہ ملے، ہم بھی تقلید کے بارے میں یہی کہتے ہیں۔
② دوسرا ثبوت: فقہی مسئلہ میں تقلید کا رد
عربی متن:
هذا تقليد لبعض الكتب الفقهية وهو مما لا دليل عليه في السنة المحمدية بل هو مخالف لقوله صلى الله عليه وسلم: "إذا سمع أحدكم النداء والإناء على يده فلا يضعه حتى يقضي حاجته منه”.
(تمام المنة في التعليق على فقه السنة)
اُردو ترجمہ:
یہ بعض فقہی کتابوں کی تقلید ہے اور سنت محمدی ﷺ میں اس پر کوئی دلیل نہیں، بلکہ یہ اس حدیث کے مخالف ہے: "جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن ہاتھ میں ہو، تو اسے نہ رکھے جب تک اپنی ضرورت پوری نہ کر لے۔”
③ تیسرا ثبوت: حق کی پیروی، نہ کہ تقلیدِ آباء و مذهب
عربی متن:
ولست أريد الآن الخوض في هذه المسألة بتفصيل وإنما أريد أن أذكر بكلمة قصيرة تنفع إن شاء الله تعالى من كان مخلصا وغايته اتباع الحق وليس تقليد الآباء أو المذهب.
(حجة النبي صلى الله عليه وسلم كما رواها عنه جابر رضي الله عنه)
اُردو ترجمہ:
میں اس مسئلہ میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا، بلکہ صرف ایک مختصر بات ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ان شاء اللہ اس شخص کے لیے نافع ہو جو مخلص ہو اور جس کا مقصد صرف حق کی پیروی ہو، نہ کہ باپ دادا یا کسی مخصوص مذہب کی تقلید۔
④ چوتھا ثبوت: رجال کی تقلید سے بچنا
عربی متن:
قلت: فتأمل مبلغ تناقض الذهبي! لتحرص على العلم الصحيح، وتنجو من تقليد الرجال.
(سلسلة الأحاديث الضعيفة والموضوعة وأثرها السيئ في الأمة)
اُردو ترجمہ:
میں کہتا ہوں: ذرا دیکھو تو سہی کہ ذہبی کے کلام میں کتنا تناقض ہے! اور تم صحیح علم کی حرص رکھو اور رجال کی تقلید سے بچو۔
✿ اختتامی نوٹ
یہ صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ علامہ ناصر الدین البانیؒ کی پوری علمی زندگی تقلیدِ شخصی کے رد پر مشتمل ہے۔
انہوں نے ہر موقع پر تقلید کا رد کیا اور اس کے معارض کو صحیح حدیث سے جواب دیا۔
یہاں تک کہ وہ تقلید کرنے والے کو مسلمان ہی نہیں مانتے، کیونکہ اس کا دین دلیل پر نہیں بلکہ اندھی پیروی پر قائم ہوتا ہے۔
اہم حوالاجات کے سکین





