مضمون کے اہم نکات
علامہ ابن تیمیہ اور بیس رکعت تراویح
مفتی شبیر احمد دیوبندی کی بے چارگی:
مفتی شبیر احمد قاسمی آف مدرسہ شاہی نے فرمایا:
”شیخ الاسلام ابن تیمیہ علیہ الرحمہ کے تفردات کو غیر مقلدین اپنے لیے فخر کی چیز سمجھتے ہیں۔“
جواب:
اور دیوبندی ناک، بھوئیں چڑھا کر لعن طعن بھیجتے ہیں، جب اپنی بات کی تائید ہوتی نظر آتی ہے تو یہ لوگ صوف کو شیخ الاسلام جیسے عظیم لقب سے ملقب کرنے میں بھی باک محسوس نہیں کرتے اور اگر موقعہ دوسرا ہو تو ان کو اہل سنت سے خارج باغی اور خاطی بھی کہہ دیتے ہیں، ان لوگوں کی اس موقع پرستی کا تجربہ جن لوگوں کو ہے وہ تو ان کی باتوں کو خوب سمجھتے ہیں لیکن جو ان کے جبہ وہ دستار، گفتار و کردار کی تلون مزاجی سے واقف نہیں وہ بیچارے بار بار دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ مفتی قاسمی صاحب کا یہ کہنا کہ علامہ ابن تیمیہ کے تفردات کو غیر مقلدین اپنے لیے باعث فخر چیز سمجھتے ہیں۔ یہ ان کے دلی غیظ و غضب کا اظہار ہے اور اشارہ ان کا طلاق ثلاثہ کے موضوع کی طرف ہے جس کے بارے میں یہ حضرات شرارتاً یہ پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ یہ علامہ ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد علامہ ابن القیم کے تفردات میں سے ہے اور اس کو اہل حدیث حضرات نے تقلید آلے لیا ہے۔ حالانکہ یہ محض ان حضرات کا گمراہ کن پروپیگنڈہ ہے اور حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
شبیر احمد قاسمی صاحب نے علامہ ابن تیمیہ کو اپنے موقف کا ہمنوا قرار دیا ہے۔ اور ادھوری عبارت نقل کر کے یہ تاثر دیا ہے کہ جو موقف دیوبندیوں کا ہے وہی موقف علامہ ابن تیمیہ کا ہے حالانکہ دونوں کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دیوبندی تقلیدی طور پر بیس رکعت کو لازم وضروری خیال کرتے ہیں اس سے زیادہ یا اس سے کم کا تصور بھی ان کے یہاں غلط اور خلاف اجماع ہے۔ جبکہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاویٰ میں ایک جگہ تین مذاہب کا ذکر کیا بیس رکعت، انتالیس رکعت، آٹھ رکعت اور بحث کے آخر میں فرمایا: والصواب أن ذلك جميعه حسن۔ فتاوی (112/23) یعنی یہ سب اقوال درست اور صحیح ہیں۔
کہاں یہ توسیع اور کہاں وہ تحجر اور تنگی جو دیوبندیت کا نشان امتیاز بن گیا ہے۔ اب آئیے ہم آپ کو علامہ ابن تیمیہ کی بات سناتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ دیوبندی مفتی شبیر احمد قاسمی نے کس طرح علامہ ابن تیمیہ کی عبارت کو آدھا ادھورا نقل کر کے اپنی من مانی اور حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
مفتی قاسمی کی پیش کردہ عبارت:

اب آئیے دیکھیے فتاوی میں اصل عبارت کیا ہے:
وكان النبى صلى الله عليه وسلم قيامه بالليل هو وتره يصلي بالليل فى رمضان وغير رمضان احدى عشرة ركعة او ثلاث عشرة ركعة لكن كان يصلها طوالا. فلما كان ذلك يشق على الناس قام بهم أبى بن كعب فى زمن عمر بن الخطاب عشرين ركعة يوتر بعدها ويخفف فيها القيام فكان تضعيف العدد عوضا عن طول القيام وكان بعض السلف يقوم باربعين ركعة فيكون قيامها اخف ويوتر بعدها بثلاث. وكان بعضهم يقوم بست وثلاثين ركعة يوتر بعدها.
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اللیل جو آپ رمضان اور غیر رمضان میں کرتے یہ آپ کی رات کی نماز ہوتی تھی: گیارہ رکعت یا تیرہ رکعت، لیکن آپ یہ رکعات لمبی لمبی پڑھتے تھے۔ حضرت عمر بن الخطاب کے زمانہ میں جب یہ طویل قیام لوگوں کے لیے باعث مشقت ہونے لگا تو حضرت ابی بن کعب نے لوگوں کو بیس رکعت پڑھائیں اور اس کے بعد وتر پڑھتے، ان بیس رکعات میں ہلکا قیام فرماتے تھے۔ گویا طویل قیام کے بدلے رکعات کا اضافہ کر لیا گیا تھا۔ اسی غرض سے بعض سلف چالیس رکعت پڑھتے تھے تو ان کا قیام بنسبت بیس کے اور ہلکا اور آسان تھا وہ بھی آخر میں تین وتر پڑھتے تھے۔ اور بعض سلف چھتیس رکعت پڑھتے تھے اور پھر اس کے بعد وتر ادا کرتے۔
(120/23 مجموع الفتاوی لابن تیمیہ)
ناظرین کرام
دونوں عبارتوں کو بغور ملاحظہ فرمالیں اور دیکھیں ہمارے مفتی صاحب کی کارستانی آدھی ادھوری عبارت نقل کر کے مطلب برآری کر لی اور اس ڈر سے کہ کہیں اپنا بھانڈا پھوٹ جائے پوری عبارت نقل نہیں کی، آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ مفتی شبیر احمد قاسمی صاحب نے اپنے کتابچہ میں دو دعوے کیے تھے۔ بیس رکعت پر صحابہ کرام کا اجماع ہے اس سے کم زیادہ کرنا اجماع کی مخالفت ہے۔
دوسرا دعویٰ:
اللہ کے رسول نے بیس رکعت تراویح پڑھی تھیں۔ علامہ ابن تیمیہ کی اس عبارت میں دونوں دعوؤں کی قلعی کھل گئی اور مفتی صاحب کی ساری محنت اکارت چلی گئی۔ کیونکہ علامہ ابن تیمیہ نے اس عبارت میں صاف طور پر چار باتیں بڑی وضاحت سے فرمادی ہیں:
① اللہ کے رسول گیارہ اور کبھی تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے۔
② اللہ کے رسول کا قیام لمبا اور تھکا دینے والا ہوتا تھا۔ اس سے گھبرا کر بعد کے زمانہ میں لوگوں نے طویل قیام کو طویل رکعتوں سے بدل دیا۔ دس کا دگنا بیس، اور بعض نے چالیس رکعت پڑھیں یعنی بیس سے بھی ہلکی، بعض نے چھتیس پڑھیں یہ سب آسانی کے لیے کیا گیا۔
③ یہ کہنا کہ بیس پر اجماع ہو گیا غلط ہے کیونکہ چالیس اور چھتیس رکعت بعد ہی میں پڑھی گئیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ اجماع نہیں ہوا تھا اور نا کوئی بیس پر اجماع کو مانتا تھا اگر مانتے ہوتے تو چالیس یا چھتیس پڑھ کر اجماع کی مخالفت نہ کرتے۔
④ رکعتوں کی تعداد بڑھانے کے پیچھے عبادت کا ذوق و شوق یا زیادہ عبادت کرنا مقصود نہ تھا۔ آٹھ رکعت میں کم از کم ایک پارہ پڑھنا دشوار تھا نسبت بیس کے، بیس میں آسانی تھی تو بیس رکعت آسانی کے لیے پڑھی گئیں اسی طرح چھتیس پڑھنے والوں نے مزید آسانی کے لیے تعداد رکعات بڑھائیں ان سے بھی زیادہ آسانی کے طلبگار وہ رہے جنہوں نے چالیس پڑھیں۔ اب دیوبندیوں کا یہ بہتان عام لوگوں کو بہتان ہی لگنا چاہئے کہ اہل حدیث آسانی کے لیے آٹھ رکعت پڑھتے ہیں۔
علامہ ابن تیمیہ کی دوسری عبارت قاسمی صاحب لکھتے ہیں:

عبارت آپ نے پڑھ لی۔ ترجمہ قاسمی صاحب نے اتنا ناکارہ کیا ہے کہ بات سمجھ میں نہیں آئی علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
اگر بات افضل کون سا عمل ہے اس کی کی جائے آٹھ رکعت، بیس رکعت یا چالیس رکعت تو جواب یہ ہوگا کہ اس کا دارو مدار پڑھنے والوں پر ہے۔ اگر تراویح پڑھنے والوں میں طویل قیام کو برداشت کرنے کی طاقت ہے تو دس رکعت تراویح اور تین وتر افضل ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
اور اگر تراویح پڑھنے والوں میں لمبے قیام کی برداشت نہ ہو تو بیس رکعت پڑھنا افضل ہے جو اکثر مسلمانوں کا عمل ہے اور دس اور چالیس میں درمیانہ عمل ہے اور اگر چالیس رکعت پڑھے یا اس سے کم یا زیادہ پڑھے تو یہ سب صورتیں جائز ہیں اور ان میں کوئی صورت مکروہ نہیں۔
یہ بات متعدد ائمہ نے فرمائی ہے جیسے امام احمد رحمہ اللہ وغیرہ۔
ناظرین کرام!
قاسمی صاحب نے اس عبارت کے آخر میں بھی کچھ عبارت حذف کر دی تھی ہم نے پوری عبارت کا ترجمہ کر دیا ہے۔
اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قاسمی صاحب کے لیے علامہ ابن تیمیہ کی عبارات کہاں تک مفید ہیں۔
علامہ ابن تیمیہ کے موقف میں اور دیوبندی موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہے یہ بیس پر ایسے اڑے ہیں کہ ان کو آگے پیچھے کچھ دکھائی نہیں دیتا اور علامہ ابن تیمیہ آٹھ سے لے کر چالیس تک سب کی اجازت دیتے ہیں سب کو اچھا اور بہتر بتاتے ہیں۔ بیس کا قول، چھتیس، یا چالیس کا قول ان کے نزدیک کمزور اور ضعیف لوگوں کے لیے ہے اور وہ یہ بھی صراحت کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول گیارہ یا تیرہ ہی پڑھا کرتے تھے۔ آسانی کے لیے لوگوں نے رکعات بڑھا لیں تا کہ تکان لاحق نہ ہو۔
ظاہر ہے کہ ان تمام عبارات سے قاسمی صاحب کا موقف صحیح نہیں غلط ثابت ہوتا ہے، نا بیس فعل رسول قول رسول یا تقریر رسول سے ثابت ہے اور نا ہی وہ اجماع سے ثابت ہے بلکہ آسانی کے لیے لوگوں نے بیس رکعت کر لی تھیں۔ اصل سنت رسول گیارہ یا تیرہ ہی ہے جو رسول پڑھتے تھے۔ اگر کوئی آسانی کے لیے زیادہ پڑھے بیس، چھتیس، چالیس یا زیادہ تو نفل ہونے کے سبب اس کی گنجائش ہے اور اس کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ یہ بات ہے جس کو علامہ ابن تیمیہ نے متعدد جگہ اپنے فتاویٰ میں نقل کیا ہے اس سے اہل حدیث موقف کی تائید ہوتی ہے نا کہ دیوبندی موقف کی۔
مولوی قاسمی دیوبندی کی بے بسی
کتابچہ کے آخر میں قاسمی صاحب نے ایک عنوان لگایا ہے:
”آٹھ رکعت تراویح سلف سے ثابت نہیں۔“
اور اس کے تحت انہوں نے تین سوال کیے ہیں، سوالوں ہی سے ان کی بے بسی اور بے چارگی ظاہر ہے اور لگتا ہے کہ وہ اپنا مقدمہ ہار چکے ہیں۔ محض دفع الوقتی کے لیے یہ سوالات اچھال رہے ہیں، آئیے ان کے ان سوالوں کا جائزہ لیں اور ان کو جواب بھی دیں۔ قاسمی صاحب لکھتے ہیں:
غیر مقلدین سے یہ سوال ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے کے بعد صحابہ کرام اور سلف صالحین میں سے کن کن حضرات نے آٹھ رکعت تراویح با جماعت مسجد میں ادا کیں، کس سن میں کس شہر میں ذرا ثابت کریں؟
ناظرین کرام!
قاسمی صاحب سوال کرتے ہیں حضرت عمر کے زمانہ کے بعد کیا آپ نے سمجھا وہ ایسا سوال کیوں کر رہے ہیں کیونکہ وہ خود جانتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں اور اسی طرح عہد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ میں اور اسی طرح پورے زمانہ رسالت میں، رسول صحابہ، صحابیات صرف آٹھ رکعت تراویح ہی پڑھتے تھے۔ پھر سوال میں یہ پوچھنا کن کن حضرات نے آٹھ رکعت تراویح با جماعت مسجد میں ادا کیں۔
با جماعت مسجد میں کی قید آخر کیوں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ انفرادی طور پر لوگ آٹھ ہی پڑھتے رہے اس لیے مسجد میں باجماعت کی قید لگائی۔
اب آئیے ہم موصوف کو جواب دیں ان کے سوال کا:
جواب:
قاسمی صاحب ہم اس بکھیڑے میں کیوں پڑیں کہ کس کس نے کتنی پڑھیں؟ یہ سب کام تو آپ جیسے حضرات کے محبوب مشاغل ہیں آپ ان کا حساب کرتے رہیں۔
ہم نے جب رسول کو دیکھ لیا آپ کتنی رکعت پڑھتے ہیں۔
یہ بھی دیکھ لیا کہ آپ جب یہ نماز جماعت سے پڑھاتے ہیں تو آٹھ ہی پڑھاتے ہیں اور جب ہم نے یہ دیکھ لیا کہ خود صحابہ کرام بھی آٹھ ہی پڑھتے ہیں۔ بیس رکعت تراویح کا وجود نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھا اور نا دور صدیقی میں، اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب صحابہ کو تراویح کی نماز با جماعت سے پڑھنے کا حکم دیا تو بھی آٹھ رکعت کا ہی حکم دیا۔ احادیث گزر چکی ہیں ملاحظہ فرمالیں۔
اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل و عمل کو چھوڑ کر فعل صحابہ کو چھوڑ کر دور صدیقی کے عمل کو چھوڑ کر خود فاروق اعظم کے حکم کو چھوڑ کر بعد کے لوگوں کے قول و فعل کو دیکھتے پھرنا ان لوگوں کا عمل تو ہو سکتا ہے جو فکر و عمل میں ہر جائی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں دوسروں کو اہمیت دینے والے ہوں۔ رسول کا عمل جن کو اچھا نہ لگتا ہو۔ ان لوگوں کا عمل نہیں ہو سکتا جو رسول کا کلمہ پڑھیں اور آپ کی فرمانبرداری کا اقرار کریں اور ”اطيعوا الله وأطيعوا الرسول“ کے معنی و مطلب کو سمجھ کر آپ کی اتباع کرتے ہوں۔ اور آپ ہی کی شفاعت کے متمنی ہوں، ہم نے کب یہ کہا ہے کہ کسی نے بیس رکعت تراویح نہیں پڑھیں، لوگوں نے بیس بھی پڑھیں چھتیس بھی پڑھیں انتالیس اور چالیس بھی پڑھیں پڑھنے والوں نے کب کتنی پڑھیں اس سے بحث ہی نہیں ہے بحث تو یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی پڑھیں؟ صحابہ کو جب تین رات جماعت سے پڑھائیں تو کتنی رکعت پڑھائیں؟ صحابہ کتنی پڑھتے تھے عہد صدیق اکبر میں اور جب حضرت عمر فاروق نے ابی بن کعب اور تمیم داری کو جماعت سے تراویح پڑھانے کا حکم دیا تو کتنی رکعت پڑھانے کا حکم دیا؟ ظاہر ہے ان تمام سوالوں کا جواب یہی ہے کہ آٹھ رکعت۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ آپ نے بیس نہیں پڑھیں تو صرف بیس پر اصرار کرنا اور جو آپ نے پڑھیں آٹھ ان کے پڑھنے والوں کو لعن و طعن کرنا کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں دوسروں کو اہمیت دینا نہیں ہے اور کیا یہ کسی ایسے مسلم کے لیے جائز ہے جو رسول سے محبت کا دعویٰ کرتا ہو اور آپ کی فرماں برداری کا دم بھرتا ہو۔
قاسمی صاحب آخر آپ کو ہوا کیا ہے آپ کو تقلید رجال، اتباع رسول سے اچھی کیوں لگتی ہے۔ رسول کے عمل کے مقابلہ میں عمل رجال کیوں اچھا لگتا ہے۔ آخر آپ کی ساری توجہ عمر فاروق کے زمانہ کے بعد کے عمل پر کیوں ہے کیوں آخر آپ رسول کے زمانہ کو نہیں دیکھتے صدیق اکبر کے زمانہ کو نہیں دیکھتے خود عمر فاروق کے عمل کو کیوں نہیں دیکھتے۔ کیا یہ زمانے اس لائق نہیں کہ ان کے عمل کو معیار بنایا جائے۔ افسوس ہے آپ پر اور آپ کے مقلدوں اور مریدوں پر کہ ان کا نہ صرف مزاج بگڑ گیا ہے بلکہ آپ نے اور آپ کے مریدوں نے اپنا قبلہ بدل لیا ہے، آپ کی زبان آپ کا قلم آپ کی سرگرمیاں اور آپ کی کوششیں رسول کے مقابلے میں دوسروں کی نصرت و حمایت میں سرگرم ہیں مگر آپ کو احساس تک نہیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔
وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
اقبال
قاسمی صاحب کا دوسرا سوال:
نیز بیس رکعت تراویح پر سلف صالحین میں سے کس نے نکیر فرمائی ہے۔
جواب:
محترم بیس رکعت تراویح کو سنت رسول نہ پہلے کسی نے کہا اور نہ اس کی تغلیط کی ضرورت پڑی، اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ سلف میں کسی نے بیس رکعت کو سنت رسول بتایا تو ہم بھی آپ کو یہ بتادیں گے کہ کس نے انکار کیا، یہ غلط دعویٰ تو دیوبندی مقلدوں نے آج کرنا شروع کیا ہے جس کی تردید کی ضرورت لوگوں کو محسوس ہوئی۔ دیوبندیوں سے قبل کے علماء احناف بھی بیس رکعت کو سنت رسول نہیں بتاتے تھے۔ چنانچہ علماء احناف میں مشہور ترین فقیہ، کمال الدین محمد بن عبد الواحد السیواسی المعروف بابن الھمام الحنفی المتوفی 681ھ اپنی مشہور کتاب فتح القدیر شرح الھدایہ میں فرماتے ہیں:
فتحصل من هذا كله ان قيام رمضان سنة احدى عشرة ركعة بالوتر فى جماعة فعله صلى الله عليه وسلم، ثم تركه لعذر، افاد انه لولا خشية ذلك لواظبت بكم.
ولاشك فى تحقيق الامن من ذلك بوفاته صلى الله عليه وسلم فيكون سنة وكونها عشرين سنة الخلفاء الراشدين، وقوله صلى الله عليه وسلم عليكم بسنتى وسنة الخلفاء الراشدين ندب سنتهم ولا يستلزم كون ذالك سنة، اذ سنته بمواظبته بنفسه او لعذر، وبتقدير عدم ذالك العذر، انما استفدنا انه كان يواظب على ما وقع منه وهو ما ذكرنا
فتكون العشرون مستحبا، وذلك القدر منها هو السنة كالاربع بعد العشاء مستحبة، وركعتان منها هي السنة
(فتح القدیر لابن الھمام 486/1 مطبوعہ دیوبند)
تفصیل مذکورہ بالا سے یہ بات واضح ہوئی کہ قیام رمضان سنت ہے اور وہ وتر کے ساتھ گیارہ رکعت ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کے ساتھ ادا فرمائی تھیں۔
لیکن بعد میں ایک عذر کے سبب جماعت سے ادا نہ فرمائیں۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر یہ عذر در پیش نہ ہوتا تو آپ ضرور اس پر ہمیشگی فرماتے۔ گیارہ رکعت مع الوتر اور اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی وفات سے یہ عذر جاتا رہا، لہذا تراویح سنت ہوئیں اور رہی ہیں بیس رکعت کی بات تو یہ خلفاء راشدین کی سنت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لازم پکڑو میری سنت کو اور میرے خلفاء راشدین کی سنت کو۔ آپ نے اس قول کے ذریعہ خلفاء کی سنتوں کی طرف رغبت دلائی۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ خلفاء کی سنت کو رسول کی سنت کہا جائے۔ کیونکہ آپ کی سنت تو وہی کہلائے گی جس پر آپ نے بنفس نفیس ہمیشگی فرمائی ہو یا پیشگی کسی عذر کے سبب ترک کی ہو اور جب ہم عدم عذر فرض کریں تو اس سے یہ ہی بات نکلتی ہے کہ اگر عذر نہ ہوتا تو آپ اتنی رکعت ہی پر ہلکی کرتے جتنی کا ثبوت آپ سے پایا گیا اور جیسا کہ گزرا وہ گیارہ رکعت ہی ہیں۔
اس لیے بیس رکعت تراویح مستحب کہلائیں گی اور گیارہ رکعت مع الوتر سنت رسول ہیں۔ جیسے عشاء کے بعد چار رکعت کا معاملہ ہے کہ ان چار میں صرف دو سنت ہیں اور دو مستحب۔
یہی بات صاحب البحر الرائق ابن نجیم الھنفی نے صاحب مرقاۃ ملاعلی قاری نے علامہ طحطاوی، علامہ شامی صاحب الرد المحتار وغیرہ اجلہ علماء احناف نے فرمائی ہے۔
ناظرین کرام!
ایک بار علامہ ابن الھمام کی عبارت پر نظر ڈال لیں موصوف نے یہ بات پُرزور طریقہ پر مدلل لکھی ہے کہ بیس رکعت تراویح کو سنت کہنا غلط ہے اس کو مستحب یا سنت خلفاء کہہ سکتے ہیں سنت رسول صرف گیارہ رکعت مع الوتر ہے۔
جب آجکل کے دیوبندی مولوی اپنے اکابر علماء کی بات ماننے کو تیار نہیں ہماری کب مانیں گے بلا دلیل زبردستی کہے جاتے ہیں کہ بیس رکعت سنت رسول ہے۔ جب ماضی میں یا جس کو آپ زمانہ سلف کہہ رہے ہیں اس میں کسی نے بیس رکعت کو سنت رسول بتانے کی جسارت کی نہیں تو کوئی اس کا انکار کیسے کرتا۔ آپ لوگ زبردستی بیس رکعت کو سنت رسول بتاتے ہیں اس لیے علماء اہل حدیث کو آپ کی اس بات کی تغلیط دردید کی ضرورت پڑی۔
قاسمی صاحب لکھتے ہیں:
غیر مقلدین جو اپنے آپ کو حجاز مقدس میں سلفی ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں
جواب:
قاسمی صاحب! اہل حدیث ہی اصلی سلفی ہیں ہندوستان میں بھی اور بلاد حجاز میں بھی، ان کو جھوٹ موٹ سلفی بننے کی نہ کل ضرورت تھی اور نا آج ہے۔ ایسی مکاریاں تو ہمارے دیوبندیوں کے ہی حصہ میں آئی ہیں اکابر نے ”شہاب ثاقب“ جیسی بہتانات داخلہ پر مبنی کتابیں لکھیں اصاغر اپنے کو سلفی ثابت کرنے پر بضد ہیں لیکن جب ماتریدی اور صوفی عقائد کی پول کھل جاتی ہے تو اس کا غصہ اہل حدیثیان ہند پر اتارتے ہیں اور بے بنیاد الزامات تراشتے اور دشنام دہی سے یاد کرتے ہیں۔
ایک صاحب جن کا ابھی چند ماہ قبل انتقال ہوا۔ عالمہ اللہ بما يستحق۔ ایک بڑا پراجیکٹ بنا کر حجاز پہنچے کروڑوں روپیہ کا بجٹ، تا تک کیا سٹی بنے کا جب راز کھل گیا اور پروجیکٹ منظور نہ ہوا تو رد فعل میں آکر اہل حدیث دشمنی کو اپنا مشن بنایا سارے دیوبندیوں نے پیٹھ تھپتھپائی کام چل نکلا دھڑا دھڑ کتابیں آنے لگیں اور اتحاد بین المسلمین کے علمبرداروں نے موصوف کو ہیرو بنا دیا۔ الزامات بہتانات افترات سے لے کر ایسے ایسے جھوٹ اور تماشے کیے کہ بڑوں بڑوں کو پیچھے چھوڑ دیا لیکن موصوف کا کل سرمایہ تھا مولوی مہدی حسن صاحب کی کتابوں کا چربہ جو موصوف نے ماضی میں اہل حدیث دشمنی میں لکھی تھیں یا پاکستان میں اہل حدیث دشمنی میں اندھے اور مغالطہ دہی میں طاق چند مجانین تقلید کی افترا پردازیوں اور مغالطہ آمیز کتابوں کے چبے چہائے لقموں کی جگالی۔ اگر ہم تلامیذ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ و دیگر فقہاء احناف کے مسائل کو اچھالیں تو فوراً کہتے ہیں کہ یہ فقہ حنفی کے مرجوح غیر مفتی بہا مسائل ہیں ان کی بنیاد پر فقہ حنفی پر اعتراض درست نہیں۔ اور خود ان مسائل کو لے کر ہر دنگ مچائیں جن سے اپنی برات کا اظہار سو بار اہل حدیث کر چکے ہیں تو بھی شرم نہ آئے۔
نواب صدیق الحسن خاں صاحب و نواب وحید الزماں خاں صاحب کے تفردات نا جماعت کے مسائل تھے اور نہ آج ہیں، بلکہ یہ وہ مسائل ہیں جو درحقیقت فقہ حنفی کے مسائل ہیں اور ان حضرات کے ذہنوں میں اس وقت سے پیوست تھے جب وہ حنفی مذہب کو اسلام کا متبادل سمجھتے تھے اور اس کی تائید و نصرت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ دلیل کے طور پر ”احباب دیوبند کی جماعت اہل حدیث پر کچھ تازہ کرم فرمائیاں“ دیکھ لیجئے۔
دار العلوم دیوبند کے ایک استاد جو کافی عرصہ سے اہل حدیث دشمنی کا فریضہ بحسن و خوبی نبھا رہے ہیں ان کے ایک اشتہار کے جواب میں یہ کتاب یہ بات بتانے کے لیے کافی ہے کہ اہل حدیث پر کئے گئے اعتراضات در حقیقت فقہ حنفی پر اعتراضات ہی ہیں جو آج کے دیوبندی جان کر یا انجانے میں اہل حدیث پر کیچڑ اچھالنے کے لیے کر رہے ہیں۔ اور نتیجہ بقول کسی کے:
کسے کہ تف زند ریشش بسوزد
اپنے گھر میں ہی آگ لگا رہے ہیں۔
بہر حال اس کے لیے اور مواقع ہیں۔ ہم ایک بار پھر مولوی شبیر احمد قاسمی کی تحریر کی طرف آتے ہیں۔
مولوی صاحب لکھتے ہیں:
وہ کس ہمت اور جرات کی بنا پر اجماع صحابہ اور خلفاء راشدین اور سلف صالحین کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں۔
جواب:
اس کی حقیقت ہم پہلے ہی کھول چکے ہیں پلٹ کر دیکھ لیں، جس اجماع کی رہائی آپ دے رہے ہیں حقیقت کی دنیا میں اس کا کہیں وجود نہیں اسی طرح خلفاء راشدین اور سلف صالحین کی رہائی بھی محض دفع الوقتی کا مشغلہ ہے جس کی حقیقت ہم از میں قبل واضح کر چکے ہیں۔