مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

علاج سے حیض آنے پر چھوڑی نمازوں کی قضا کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

سوال

اگر کسی عورت کو علاج کے نتیجے میں خون آ جائے اور اس نے اس دوران نمازیں چھوڑ دی ہوں تو کیا اس پر ان نمازوں کی قضا لازم ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کسی عورت نے حیض کو جاری کرنے کے لیے علاج کروایا اور اس علاج کے نتیجے میں خون آ گیا، تو اس صورت میں اس کے نماز ترک کرنے کی وجہ سے قضا لازم نہیں ہے۔

◈ جب بھی حیض کا خون موجود ہو گا، تو اسی کے مطابق شرعی حکم بھی نافذ ہو گا۔
◈ اگر عورت کوئی ایسی دوا یا چیز استعمال کرے جو حیض کو روک دے، تو ایسی صورت میں چونکہ حیض کا خون موجود نہیں ہوتا، اس لیے وہ نماز بھی پڑھے گی اور روزے بھی رکھے گی۔
◈ ایسی حالت میں چونکہ وہ حائضہ نہیں شمار ہوتی، اس لیے اس پر روزوں کی قضا بھی لازم نہیں ہوگی۔

یہ اصول "حکم، اپنی علت کے ساتھ منسلک ہوتا ہے” پر مبنی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد

﴿وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ المَحيضِ قُل هُوَ أَذًى﴾
سورة البقرة: ۲۲۲
’’اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، کہہ دو وہ تو نجاست ہے۔‘‘

◈ جب تک یہ نجاست (یعنی حیض کا خون) موجود ہے، اس کے شرعی احکام بھی قائم رہیں گے۔
◈ اور جب یہ نجاست ختم ہو جائے گی، تو اس کے شرعی احکام بھی ختم ہو جائیں گے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔