مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عقیقہ کے لیے بڑے جانور میں حصے رکھنے کا حکم

فونٹ سائز:

سوال

کیا عقیقہ کرنے کے لیے کسی بڑے جانور (جیسے گائے یا اونٹ) میں ایک سے زائد حصہ رکھا جا سکتا ہے، جیسا کہ قربانی میں ہوتا ہے؟

جواب از فضیلۃ الشیخ حافظ خضر حیات حفظہ اللہ

عقیقہ کے لیے چھوٹے جانور (بکری، بکرا وغیرہ) ذبح کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے:

"عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ”
[سنن ابوداؤد: 2842]
’’لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر برابر اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔‘‘

عقیقہ میں بڑے جانور کا ذبح کرنا

بڑے جانور جیسے گائے یا اونٹ وغیرہ کو عقیقہ کے لیے ذبح کرنے کے بارے میں علماء کے درمیان کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔
[الموسوعة الفقهية الكويتية: 30/279]
تاہم سنت کی پیروی کرتے ہوئے بکری یا بکرا ہی ذبح کرنا افضل اور بہتر ہے۔

بڑے جانور میں حصے رکھنے کا حکم

اگرچہ عقیقہ میں بڑا جانور ذبح کرنا جائز ہے، لیکن اس میں قربانی کی طرح حصے رکھنا درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قربانی میں مختلف لوگوں کے ایک جانور میں شریک ہونے کا طریقہ شریعت سے ثابت ہے، لیکن عقیقہ کے معاملے میں یہ اجازت نہیں ہے۔
ہر بچے کے لیے الگ اور مستقل جانور ذبح کیا جائے گا۔

خلاصہ

◈ سنت: چھوٹے جانور (بکری، بکرا) کو عقیقہ کے لیے ذبح کرنا۔
◈ بڑا جانور: جائز ہے، مگر قربانی کی طرح اس میں حصے رکھنا جائز نہیں۔
◈ افضل طریقہ: ہر بچے کے لیے ایک الگ جانور ذبح کیا جائے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔