سوال:
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کی نفی کرتے ہیں، وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اگر باری تعالیٰ کو عرش پر مانے، تو اس سے جہت ثابت ہوتی ہے اور جہت کے ثبوت سے تجسیم لازم آتی ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کے لیے ممنوع ہے؟
جواب:
اہل سنت والجماعت کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے اعتبار سے عرش پر مستوی ہے، جیسے اس کے شایان شان ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ اللہ کی کوئی جہت قرار نہیں دی جا سکتی، ان کا خیال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو جہت کے ساتھ موصوف کیا جائے، تو اس سے اللہ تعالیٰ کا جسم لازم آئے گا اور سب جسم تو باہم ایک جیسے ہیں، اس سے تمثیل لازم آئے گی، لہذا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی جہت کا انکار کر دیا۔
عرض ہے کہ جہت کی نفی سے تو اللہ تعالیٰ کی نفی لازم آتی ہے، کیونکہ ہم سوائے عدم کے اور کسی ایسی چیز سے واقف نہیں، جو نہ کائنات کے اوپر ہو، نہ نیچے، نہ دائیں ہو، نہ بائیں، نہ آگے ہو، نہ پیچھے، نہ متصل ہو، نہ منفصل۔ اس لیے بعض علما کا کہنا ہے کہ ہمیں کہا جائے اللہ تعالیٰ کو عدم سے موصوف کرو، تو عدم کے لیے جہت کی نفی سے زیادہ موزوں الفاظ نہیں ملیں گے۔
یہ کہنا کہ جہت کے اثبات سے تجسیم لازم آتی ہے، سراسر باطل ہے، کیونکہ یہ اعتراض تب ہو، جب ہم خالق اور مخلوق کی صفات میں مماثلت و مشابہت ثابت کریں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کو ایسے ثابت کرتے ہیں، جیسے اس کی عظمت اور شان کے لائق ہے، ان کی کیفیت بیان نہیں کرتے اور نہ ہی مخلوق سے تشبیہ دیتے ہیں۔ کیا جسم سے آپ کی مراد وہ چیز ہے، جو مختلف چیزوں سے مل کر وجود میں آتی ہے، ان اجزا کے ملنے کے بغیر وہ چیز قائم نہیں رہ سکتی، تو اسے ہم بھی ثابت نہیں کرتے۔ جو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت علو کے اثبات سے تجسیم لازم آتی ہے، تو اس کا یہ دعویٰ باطل ہے۔ یہ دراصل سلف صالحین پر بے اعتمادی کا نتیجہ ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو عرش پر مانتے تھے۔ سلف پر بالواسطہ یا بلاواسطہ اعتراض کرنے والے حق پر نہیں ہو سکتے۔ ہم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی شایان شان صفات باکمال سے متصف ہے۔