عقیدہ وحدۃ الوجود کے قائلین: دیوبند، صوفیہ اور معاصر اکابر کے اقوال کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔

ماضی قریب میں عقیدہ وحدۃ الوجود کے قائلین

جناب نثار احمد خان فتحی، خلیفہ مجاز قاری فتح محمد پانی پتی لکھتے ہیں:

تمام صوفیا حضرات وحدت الوجود کے قائل ہیں، یعنی وہ حق تعالیٰ کے وجود کے علاوہ ہر وجود کی نفی کرتے ہیں اور لا موجود الا اللہ کہتے ہیں۔ اور اس عالم میں جو اشیا کی کثرت نظر آ رہی ہے، اس کو کہتے ہیں کہ ان کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں ہے، بلکہ یہ سب کائنات اور اشیائے کائنات حق تعالیٰ ہی کے وجود کے مظاہر ہیں اور اس کے اسماء و صفات کے جلوہ گاہ ہیں۔

بے شائبہ تنزل اور تغیر و تبدل کے گمان کے بغیر جس طرح سایہ کا کسی شخص کا زمین پر ہو، تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ سایہ اس شخص کے ساتھ متحد ہے یا اس شخص کا عین ہے یا وہ شخص تنزل کر کے سایہ کی صورت میں ظاہر ہوا ہے، بلکہ وہ شخص اپنی اصالت کی حالت میں ہے اور سایہ اس سے بے شائبہ تنزل و تغیر وجود میں آیا ہے۔

شیخ محی الدین ابن عربی کا مسلک یہ ہے کہ اللہ کے سوا ہر چیز معدوم ہے اور وجود صرف ایک ذات باری تعالیٰ کا ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ نظر آتا ہے، وہ سب اس کی ذاتِ پاک کا عین ہے، اس کا اپنا الگ کوئی وجود نہیں۔ (آئینہ سلوک، ص 110)

نوٹ: اس کتاب پر مفتی محمد یوسف لدھیانوی، مفتی عبد الستار (استاذ جامعہ خیر المدارس ملتان) اور سید رضی الدین احمد فخری کی تقاریظ ہیں۔

نیز لکھتے ہیں:

عینیت و غیریت یہ دو اصطلاحیں بھی مسئلہ وحدت الوجود کی بڑی اہم اصطلاحات ہیں۔ عین کے معنی ہیں دو چیزوں کا ایک جیسا ہونا۔ صوفیائے وجود یہ خالق اور مخلوق میں عینیت ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حق تعالٰی واجب الوجود کے سوا اور وجود نہیں، اور جو کچھ عالم میں نظر آرہا ہے، وہ حق تعالیٰ کے وجود سے کوئی الگ وجود نہیں رکھتا۔ مخلوق کیوں کہ خالق کی صفتِ خلق کا مظہر ہے اور صفت موصوف سے جدا ہو نہیں سکتی، اس لیے مخلوق بھی خالق سے نہیں۔

چنانچہ مولانا جامی لائحہ بست و پنجم میں اس بات کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

پس یہ کائنات حق تعالیٰ کا ظاہر ہے اور حق تعالیٰ اس کا باطن ہے۔ یہ کائنات ظہور سے پہلے عین حق تعالیٰ تھی اور حق تعالیٰ بعد الظہور عین کائنات ہے۔ حقیقت میں ہستی ایک ہے اور ظہور و بطون اور اول ہونا اور آخر ہونا محض اعتباری اور اضافی ہے، جیسا کہ قرآن میں حق تعالیٰ نے فرمایا: هُوَ الأَوَّلُ وَالآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ۔

خالق اور مخلوق کی اس نسبت عینیت کو بعض گمراہ اور جہلا نے لغوی اور حقیقی سمجھا اور خود گمراہ ہوئے اور ہزاروں کو گمراہ کیا.

وحدت الوجود کی تشریح کرتے ہوئے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی فرماتے ہیں:

کیفیتِ عینیت و غیریت کا جاننا واجب ہے، کیوں کہ جب تک اس سے واقفیت نہ ہوگی، مسئلہ وحدت الوجود کی کیفیت سمجھ میں نہیں آئے گی۔ جو لوگ مسئلہ وحدت الوجود میں غور و خوض کرنے کی وجہ سے زندیقیت میں پڑ کر گمراہ ہوئے، وہ سبب مسئلہ عینیت و غیریت نہ جاننے کی وجہ سے ہوئے، اور جس شخص نے اولاً دو امر تحقیق کر لیے، تمام مسائل جاننا اس کے لیے آسان ہو گیا۔ اگرچہ مسئلہ عینیت و غیریت تنزلاتِ ستہ کے جاننے سے متعلق ہے، لیکن فقیر اس طوالت میں مشغول نہیں ہوتا۔ مختصراً عرض کرتا ہے کہ عبد و رب میں عینیت و غیریت دونوں متحقق ہیں: وہ ایک وجہ سے اور یہ ایک وجہ سے۔ مثلاً کوئی شخص اپنے ارد گرد کئی آئینے رکھ لے، تو ہر آئینے میں ذات و صفات اس کی بعینہ نمودار ہوں گی۔ مثل شادمانی، غمگینی، ہنسی و گریہ وغیرہ بھی آئینے کے عکس میں ظاہر ہوتا ہے، اس سبب سے کہہ سکتے ہیں کہ عکس اس شخص کا عین ہے، مگر یہ عینیت اصطلاحی اور اعتباری ہے، لغوی نہیں۔ اگر لغوی ہوتی تو جو کیفیت عکس پر گزرتی وہی شخص پر بھی گزرنا واجب ہوتا، لیکن عکس پر اگر پتھر مارا جائے یا کوئی نجاست ڈالی جائے، تو شخص کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچے گا اور نہ وہ نجاست سے پلید ہوگا، بلکہ وہ اپنے حال پر ان نقصانات سے مبرّا و منزہ ہی رہے گا۔ تو اس طرح سے غیریت اصطلاحی ثابت ہوتی ہے۔ پس شخص اور عکس میں عینیت و غیریت دونوں پائی گئیں، اس طرح عبد و رب میں بھی عینیت اور غیربیت دونوں پائی جاتی ہیں۔جاننا چاہیے کہ عبد و رب میں عینیتِ حقیقی لغوی کا جو اعتقاد رکھے اور غیریت کا انکار کرے، وہ ملحد و زندیق ہے، کیوں کہ اس عقیدے سے عابد و معبود، ساجد و مسجود کا کچھ فرق نہیں رہتا، اور یہ غیر واقع ہے، نعوذ باللہ من ذالک!
پھر اس مسئلہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے حضرت حاجی امداد اللہ قدس سرہ فرماتے ہیں:
اس جگہ ایک تمثیل لطیف یاد آئی: بندہ قبلِ وجود خود باطنِ خدا تھا، اور خدا ظاہرِ بندہ۔ كُنْتُ كَنْزًا مَخْفِيًّا اس پر دلیل ہے۔ حقائق اپنی ذاتِ مطلق میں مندرج و مخفی تھے اور صرف اپنی ذات پر ظاہر تھے۔ پھر جب ذات نے چاہا کہ ظہور دوسری نہج پر ہو، تو اعیان کو ان کے لباسِ قابلیت میں اپنی تجلی کے جلوے سے ظاہر فرمایا اور خود شدتِ ظہور سے ان کی نگاہ سے مخفی ہو گیا۔ جیسے تم کہ درخت مع تمام شاخوں، پتوں اور پھل پھول کے اس میں چھپا ہوا تھا، گویا تخم بالفعل تھا اور شجر بالقوہ۔ جب تخم نے اپنے باطن کو ظاہر کیا، خود چھپ گیا۔ اب جو دیکھتا ہے درخت ہی دیکھتا ہے، تخم دکھائی نہیں دیتا۔ اگر غور کرو تو تم درخت کی صورت پر ظاہر ہوا۔ ہر چند کہ ایک وجہ سے کہ تم اور درخت ایک ہے، جدائی نہیں، عینیت پائی جاتی ہے۔ (آئینہ سلوک، ص 113-114)

مولانا عبد الحمید خان سواتی (بانی مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ) کہتے ہیں:

یہ بات کس قدر افسوس ناک ہے اور کس قدر لاعلمی کی بات ہے کہ یہ کہا جائے کہ علمائے دیوبند وحدۃ الوجود کے قائل نہیں تھے۔ علمائے دیوبند اور ان کے مقتدا و پیشوا حضرات بھی اس مسئلہ کے بڑے شد و مد سے قائل تھے۔ (مقالات سواتی، حصہ اول، ص 378)

مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کہتے ہیں:

وحدت الوجود کے یہ معنی ہیں کہ خدا کے سوا کوئی دوسرا مستقل وجود نہ سمجھا جائے۔ اس سلسلہ میں فرمایا کہ حضرت حاجی امداد اللہ صاحب نے مولوی احمد حسن صاحب کے جواب میں فرمایا کہ شیخ عین رسول ہے، بلکہ عین حق ہے، نہیں، صورتِ حق ہے۔ حضرت حاجی صاحب کی عادت تھی مجلس میں ادھر ادھر دیکھ کر فرماتے: کوئی غیر تو نہیں۔ ایک مرتبہ اس جملہ پر بار بار فرماتے رہے: غیر کہاں، غیر کہاں۔ ہم کو حضرت حاجی صاحب کا مذاق معلوم تھا کہ حضرت پر وحدۃ الوجود کا غلبہ تھا۔ (المفوضات حکیم الامت: 203/15)

تھانوی صاحب مزید کہتے ہیں:

حضرت بایزید کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ غلبہ شکر میں یہ فرماتے تھے: سُبْحَانِي مَا أَعْظَمَ شَانِي۔ مریدوں نے عرض کیا کہ حضرت غلبہ کی حالت میں یہ کلمہ فرماتے ہیں۔ فرمایا کہ میں برا کرتا ہوں۔ اب کی مرتبہ اگر ایسا کلمہ میری زبان سے نکلے تو چھریاں لے کر بیٹھ جاؤ، مجھ پر حملہ کر کے ختم کر دینا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان بزرگ پر پھر غلبہ ہوا اور زبان سے وہی مَا أَعْظَمَ شَانِي نکلا۔ مریدین نے چار طرف سے حسب الحکم حملہ کیا، مگر خود ہی سب زخمی ہو گئے۔ بزرگ کو ہوش ہوا اور زخمیوں کو دیکھ کر دریافت کیا کہ یہ کیا قصہ ہے؟ حملہ نہیں کیا۔ عرض کیا گیا: واہ حضرت! اچھی تدبیر جتلائی، ہمیں ہی ختم کرایا۔ اور تمام واقعہ ظاہر کیا۔ فرمایا: تو بس اس سے معلوم ہوا کہ وہ بات میں نہیں کہتا۔ اگر کہتا تو سزا کا مستحق ہوتا۔ کہنے والا کوئی اور ہی ہے۔

پھر اس کی توجیہ میں فرمایا کہ دیکھیے حضرت موسیٰ علیہ السلام جس وقت کوہِ طور پر حاضر ہوئے تو شجرِ طور سے آواز آئی: إِنِّي أَنَا الله۔ جب شجر میں مظہر ہونے کی اہمیت ہو سکتی ہے تو اگر انسان مظہر ہو جاوے تو اس میں کیا بعد ہے۔ (ملفوظات حکیم الامت: 373-374/5)

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کہتے ہیں:

ولایت خدا ہی میں فنا ہونے اور اپنی بقا کو خدا کی بقا سے اور اپنے ظہور کو خدا کے ظہور سے حاصل کرنے کو کہتے ہیں۔ (کلیات امداد، ص 18)

فائدہ: مولانا اشرف علی تھانوی صاحب حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کے بارے میں کہتے ہیں:

حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے وہی عقائد ہیں جو اہلِ حق کے ہیں۔ (امداد الفتاویٰ: 270/5)

مولانا رشید احمد گنگوہی نے حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کو خط لکھا:

“یا اللہ معاف فرمانا! کہ حضرت کے ارشاد سے تحریر ہوا ہے: جھوٹا ہوں، کچھ نہیں ہوں، تیرا ہی ظل ہے، تیرا ہی وجود ہے، میں کیا ہوں، کچھ نہیں ہوں، اور وہ جو میں ہوں، وہ تو ہے، اور میں اور تو خود شرک در شرک ہے۔” (فضائل صدقات از محمد زکریا تبلیغی، حصہ دوم، ص 557؛ مکاتیب رشیدیہ، ص 36)

مولانا رشید احمد گنگوہی صاحب کہتے ہیں:

ضامن علی جلال آبادی کی سہارن پور میں بہت رنڈیاں مرید تھیں۔ ایک بار یہ سہارن پور میں کسی رنڈی کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ سب مریدنیاں اپنے میاں صاحب کی زیارت کے لیے حاضر ہوئیں، مگر ایک رنڈی نہیں آئی۔ میاں صاحب بولے کہ فلانی کیوں نہیں آئی؟ رنڈیوں نے جواب دیا: میاں صاحب! ہم نے اسے بہتیرا کہا کہ چل میاں صاحب کی زیارت کو۔ اس نے کہا: میں بہت گناہ گار ہوں اور بہت روسیاہ ہوں۔ میاں صاحب کو کیا منہ دکھاؤں؟ میں زیارت کے قابل نہیں۔ میاں صاحب نے کہا: نہیں جی، تم اسے ہمارے پاس ضرور لانا۔ چنانچہ رنڈیاں اسے لے کر آئیں۔ جب وہ سامنے آئی تو میاں صاحب نے پوچھا: بی، تم کیوں نہیں آئی تھیں؟ اس نے کہا: حضرت! روسیاہی کی وجہ سے زیارت کو آتی ہوئی شرماتی ہوں۔ میاں صاحب بولے: بی، تم شرماتی کیوں ہو؟ کرنے والا کون اور کرانے والا کون؟ وہی تو ہے۔ رنڈی یہ سن کر آگ ہو گئی اور خفا ہو کر کہا: لاحول ولا قوۃ۔ اگرچہ میں روسیاہ و گناہ گار ہوں، مگر ایسے پیر کے منہ پر پیشاب بھی نہیں کرتی۔ میاں صاحب تو شرمندہ ہو کر سرنگوں رہ گئے اور وہ اٹھ کر چل دی۔ (تذکرۃ الرشید از محمد عاشق الہی میرٹھی، حصہ دوم، ص 242)

قاعدہ: رشید احمد گنگوہی صاحب موصوف ضامن علی کے بارے میں کہتے ہیں:

“ضامن علی جلال آبادی تو توحید ہی میں غرق تھے۔” (ایضاً)

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کہتے ہیں:

“نکتہ شناس! مسئلہ وحدۃ الوجود حق و صحیح ہے۔ اس مسئلہ میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ فقیر و مشائخ اور جن لوگوں نے فقیر سے بیعت کی ہے، سب کا اعتقاد یہی ہے۔ مولوی محمد قاسم صاحب مرحوم (بانی دار العلوم دیوبند) و مولوی رشید احمد (گنگوہی) صاحب و مولوی محمد یعقوب نانوتوی صاحب، مولوی احمد حسن صاحب وغیرہم فقیر کے عزیز ہیں اور فقیر سے تعلق رکھتے ہیں، کبھی خلاف اعتقاداتِ فقیر و خلاف مشربِ مشائخ طریق خود مسلک اختیار نہ کریں گے۔” (شمائم امدادیہ از اشرف علی تھانوی، حصہ دوم، ص 32؛ کلیات امدادیہ، ص 218)

مولانا انور شاہ کشمیری صاحب کہتے ہیں:

قوله: «كنت سمعه» بصيغة المتكلم، يدل على أنه لم يبق من المتقرب بالنوافل إلا جسده وشبحه، وصار المتصرف فيه الحضرة الإلهية فحسب، وهو الذي عناه الصوفية بالفناء في الله، أي الإنسلاخ عن داوي نفسه، حتى لا يكون المتصرف فيه إلا هو، وفي الحديث لمعة إلى وحدة الوجود، وكان مشايحنا مولعين بتلك المسألة إلى زمن الشاه عبد العزيز، أما أنا فلست بمتشدد فيها.

(فیض الباری: 428/4)

ترجمہ: “میں اس کا کان بن جاتا ہوں” میں متکلم کا صیغہ دلالت کرتا ہے کہ نوافل کے ذریعے تقرب حاصل کرنے والے کا صرف جسم اور وجود ہی باقی رہ جاتا ہے، حتی کہ متصرف فیہ میں الٰہی حضور ہو جاتا ہے۔ صوفیا کی اصطلاح میں اسے فنا فی اللہ کہتے ہیں، یعنی اپنے کنٹرول سے نکل جانا، حتی کہ تصرف کرنے والا اللہ ہی ہوتا ہے۔ اس حدیث سے وحدۃ الوجود کے ثبوت کا اشارہ ملتا ہے۔ شاہ عبد العزیز کے زمانے تک ہمارے مشائخ اس مسئلہ پر زور دیتے رہے ہیں، لیکن میں اس میں سختی نہیں کرتا۔

مولانا عبد الحمید سواتی صاحب کہتے ہیں:

“علمائے دیوبند کے اکابر مولانا محمد قاسم نانوتوی (المتوفی: 1297ھ) اور مولانا حسین احمد مدنی (المتوفی: 1377ھ) اور دیگر اکابر مسئلہ وحدۃ الوجود کے قائل تھے۔” (مقالات سواتی، حصہ اول، ص 375)

مولانا احمد رضا خان صاحب وحدۃ الوجود کا معنی بیان کرتے ہیں:

وجود ہستی بالذات واجب تعالیٰ کے لیے ہے، اس کے سوا جتنی موجودات ہیں، اس کی ظل پر تو ہیں، تو حقیقتاً وجود ایک ہی ٹھہرا۔ (المفوضات، حصہ اوّل، ص 56)

نیز کہتے ہیں:

اسما مظہرِ صفات ہیں اور صفات مظہرِ ذات، اور مظہر کا مظہر مظہر ہے، تو سب خلق مظہرِ ذات ہے۔ (المفوضات، حصہ اوّل، ص 59)

نیز ان سے پوچھا گیا:

یہ کیونکر ہوتا ہے کہ ہر جگہ صاحبِ مرتبہ کو اللہ ہی اللہ نظر آتا ہے؟ ارشاد: اس کی مثال یوں سمجھیے کہ جو شخص آئینہ خانے میں جائے، وہ ہر طرف اپنے آپ ہی کو دیکھے گا، اس لیے یہی اصل ہے اور جتنی صورتیں ہیں، سب اسی کی ظل ہیں، مگر یہ صورتیں اس کی صفاتِ ذات کے ساتھ متصف نہ ہوں گی، مثلاً سننے والی، دیکھنے والی وغیرہ وغیرہ نہ ہوں گی، اس لیے کہ یہ صورتیں صرف اس کی سطحِ ظاہری کی ظل ہیں، ذات کی نہیں، اور سمع و بصر ذات کی صفتیں ہیں، سطحِ ظاہر کی نہیں، لہٰذا جو اثر ذات کا ہے، وہ ان ظلال میں پیدا نہ ہوگا، بخلاف حضرتِ انسان کہ یہ ظلِ ذاتِ باری تعالیٰ ہے، لہٰذا ظلالِ صفات سے حسبِ استعداد بہرہ ور ہے۔ (المفوضات، حصہ اوّل، ص 57)

نیز کہتے ہیں:

وجود ایک اور موجود ایک ہے، باقی سب اس کے ظل ہیں۔ (المفوضات، حصہ اوّل، ص 110)

“سچے مجذوب کی یہ پہچان ہے کہ شریعتِ مطہرہ کا کبھی مقابلہ نہ کرے گا۔ حضرت سیدی موسیٰ سہاگ رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ مشہور مجاذیب سے تھے۔ احمد آباد میں مزار شریف ہے، میں زیارت سے مشرف ہوا ہوں۔ زنانہ وضع رکھتے تھے۔ ایک بار قحط شدید پڑا، بادشاہ و قاضی و اکابر جمع ہو کر حضرت کے پاس دعا کے لیے گئے۔ انکار فرماتے رہے کہ میں کیا دعا کے قابل ہوں۔ جب لوگوں کی آہ و زاری حد سے گزری، ایک پتھر اٹھایا اور دوسرے ہاتھ کی چوڑیوں کی طرف لائے اور آسمان کی جانب منہ اٹھا کر فرمایا: مینہ بھیجے یا اپنا سہاگ لیجیے۔ یہ کہنا تھا کہ گھٹائیں پہاڑ کی طرف اٹھیں اور جل تھل بھر دیے۔ ایک دن نمازِ جمعہ کے وقت بازار میں جا رہے تھے۔ ادھر سے قاضی شہر جامع مسجد کو جاتے تھے۔ آئے، انھیں دیکھ کر امر بالمعروف کیا کہ یہ وضع مردوں کی حرام ہے، مردانہ لباس پہنئے اور نماز کو چلیے۔ اس پر انکار و مقابلہ نہ کیا۔ چوڑیاں اور زیور اور زنانہ لباس اتار کر مسجد کو ہو لیے، خطبہ سنا۔ جب جماعت قائم ہوئی اور امام نے تکبیرِ تحریمہ کہی، اللہ اکبر سنتے ہی ان کی حالت بدلی، فرمایا: اللہ اکبر! میرا خاوند حی لا یموت ہے کہ کبھی نہ مرے گا اور یہ مجھے بیوہ کیے دیتے ہیں۔ اتنا کہنا تھا کہ سر سے پاؤں تک وہی سرخ لباس تھا اور وہی چوڑیاں۔” (المفوضات، حصہ دوم، ص 208)

مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب لکھتے ہیں:

خدائے قدوس جگہ اور زمانہ اور ترکیب و ماہیت سے پاک ہے، نہ وہ کسی جگہ میں رہتا ہے۔ (جاء الحق، ص 418)

مزید لکھتے ہیں:

“خدا کو ہر جگہ میں مانتا ہے دینی ہے۔” (ایضاً، ص 162)

نیز لکھتے ہیں:

“ہر جگہ میں حاضر ناظر ہونا خدا کی صفت ہرگز نہیں۔ خدائے تعالیٰ جگہ اور مکان سے پاک ہے۔” (ایضاً، ص 161)

مزید لکھتے ہیں:

“دور سے آواز سننا ہرگز خدا کی صفت نہیں، کیوں کہ دور سے آواز تو وہ سنے جو پکارنے والے سے دور ہو۔ رب تعالیٰ تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔” (ایضاً، ص 190)

مقابیس المجالس المعروف اشارات فریدی کے محشی حاشیہ میں غلام فرید مٹھن کوٹوی کی عبارت کی تفہیم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

حق فاعل اور عبد اللہ سے مراد یہ ہے کہ بندہ حق تعالیٰ میں پوری طرح گم ہو جائے گا اور اللہ ہی اللہ رہ جائے گا۔ اس لیے جو فعل سرزد ہوگا، اس کا فاعل حق تعالیٰ ہوگا اور عبد درمیان سے اٹھ جائے گا۔ عبد خدا نہیں بن جائے گا، بلکہ عبد مٹ جائے گا اور اللہ رہ جائے گا۔ (مقابیس المجالس، ص 706)

پیر غلام فرید مٹھن کوٹ والے کہتے ہیں:

“قربِ نوافل میں فنا فی الصفات ہوتی ہے، نہ کہ ذات میں، یعنی عبد کی ذات صفاتِ حق سے متصف ہو جاتی ہے۔ قربِ فرائض میں فنا فی الذات ہوتی ہے۔” (مقابیس المجالس، ص 706)

مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا ہے:

“میں نے اپنے ایک کشف میں دیکھا کہ میں خود خدا ہوں اور یقین کیا کہ وہی ہوں، اور میرا اپنا کوئی ارادہ اور کوئی خیال اور کوئی عمل نہیں رہا، اور میں ایک سوراخ دار برتن کی طرح ہو گیا ہوں یا اس شے کی طرح جسے کسی دوسری شے نے اپنے بغل میں دبا لیا ہو اور اسے اپنے اندر بالکل مخفی کر لیا ہو، یہاں تک کہ اس کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہ گیا ہو۔ اسی اثنا میں میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی روح مجھ پر محیط ہوگئی اور میرے جسم میں مستولی ہو کر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کر لیا، یہاں تک کہ میرا کوئی ذرہ بھی باقی نہ رہا۔ اور میں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضا اس کے اعضا اور میری آنکھ اس کی آنکھ اور میرے کان اس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔ میرے رب نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ میں بالکل اس میں محو ہو گیا، اور میں نے دیکھا کہ اس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اس کی الوہیت مجھ میں موجزن ہے۔” (روحانی خزائن: 103/13، 104)