سوال:
جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی نبوت جاری رکھنے کا عقیدہ رکھے، تو کیا وہ مرتد ہے یا نہیں ؟ اور کیا اس سے مسلمان عورت کا نکاح فسخ ہو جائے گا ؟
جواب:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ شریعت اسلامیہ میں امتی نبی یا ظلی و بروزی نبی کا کوئی تصور نہیں ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کو جاری سمجھے، وہ بدترین مرتد ہے، اس سے مسلمان عورت کا نکاح فسخ ہو جائے گا، کیونکہ عقیدہ ختم نبوت کا انکار قرآنی نصوص ، احادیث متواترہ ، اجماع صحابہ اور اجماع امت کا انکار ہے۔
❀علامہ ابن باز رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں:
”اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا، متواتر احادیث سے ثابت ہے، الحمد للہ یہ اجماعی مسئلہ ہے اور ضروریات دین میں سے ہے۔ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والا کافر اور جھوٹا ہے، اس سے توبہ کروائی جائے گی، توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ اس کا حکم قتل کر دیا جائے گا۔“
(مجموع فتاوی ابن باز : 223/2)
نبوت کا دعویٰ کرنے والا بھی مرتد ہے اور اس کی تصدیق کرنے والا بھی مرتد ہے، اس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔
❀قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں:
”اسی طرح جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں یا اس کے بعد نبوت میں کسی کو شریک قرار دے، وہ کافر ہے۔ یہود کا عیسائی فرقہ کہتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت خطہ عرب کے ساتھ خاص ہے۔ فرقہ خرمیہ کہتا ہے کہ رسول متواتر آتے رہیں گے۔ روافض کی اکثریت کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہیں آپ کی رسالت میں شریک ہیں، اسی طرح ان کے نزدیک ان کا ہر امام نبوت و حجت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام ہے۔ بزیغیہ اور بیانیہ فرقے بزیغ اور بیان نامی اشخاص کی نبوت کے قائل ہیں یہ سب لوگ کافر ہیں۔ اسی طرح وہ بھی کافر ہے جس نے خود نبوت کا دعوی کیا یا فلاسفہ اور غالی صوفیوں کی طرح دل کی صفائی سے نبوت کے اکتساب اور نبوت کے مرتبہ تک پہنچنے کو جائز سمجھا، وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے جو نبوت کا مدعی نہ ہو مگر خود پر وحی کے نزول کا دعوی کرتا ہو، یا کہتا ہو کہ وہ آسمان پر چڑھتا ہے، جنت میں داخل ہوتا ہے اور اس کے پھل کھاتا ہے اور حور عین سے معانقہ کرتا ہے، اس قسم کے نظریات رکھنے والے تمام لوگ کافر ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ، حدیث میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کی طرف مبعوث ہیں ۔ یہ کلام اپنے ظاہری معنی پر محمول ہوگا، اس پر امت کا اجماع ہے۔ اس میں کسی قسم کی تاویل و تخصیص کی گنجائش نہیں ۔ پس مذکورہ بالا فرقوں کے کفر میں کوئی شک و شبہ نہیں ۔ اجماع اور قرآن و سنت کے دلائل سے یہ لوگ دائرہ اسلام سے یقینا خارج ہیں۔“
(الشفا بتعريف حقوق المصطفى : 285/2، 286)