مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

راوی حدیث عطاء بن سائب کا تعارف

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

عطاء بن سائب راوی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:

عطاء بن سائب مختلط ہے۔ اختلاط حافظہ میں خرابی کی بنا پر ہوتا ہے۔ ایسے راوی کی وہ روایات قبول ہوں گی، جو اس سے قبل از اختلاط روایت کی گئی ہوں۔ جن شاگردوں نے اختلاط کے بعد سنا ہوگا، ان کی روایات قبول نہیں ہوں گی۔
اسی طرح جن شاگردوں نے اختلاط سے پہلے اور بعد دونوں میں سماع کیا ہو اور دونوں طرح کی روایات میں تمیز ممکن نہ ہو، تو تمام روایات ضعیف ہوں گی، کیونکہ اس میں شبہ واقع ہو چکا ہے۔ البتہ اگر اختلاط سے پہلے اور بعد والی روایات میں تمیز ہو جائے یا کوئی قرینہ پایا جائے، تو اختلاط سے پہلے والی روایات قبول ہوں گی اور بعد والی رد ہو جائیں گی۔
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قد سمع أبو عوانة من عطاء فى الصحة وفي الاختلاط جميعا ولا يحتج بحديثه
ابو عوانہ نے عطاء بن سائب سے صحت اور اختلاط دونوں میں سماع کیا ہے۔ اس کی حدیث سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم: 334/6، وسندہ صحيح)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔