مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عصمت انبیاء کے بارے میں کیا حکم ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

عصمت انبیاء کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:

انبیائے کرام تبلیغ رسالت میں معصوم ہیں۔ اسی طرح کبائر اور صغائر رذیلہ سے بھی پاک ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کسی غلطی پر قائم نہیں رہنے دیتا، بلکہ بذریعہ وحی اصلاح کر دیتا ہے۔
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
لا عصمة إلا لنبي، لأن النبى إذا أخطأ لا يقر على الزلة، بل يعاتب بالوحي على هفوة إن ندر وقوعها منه، ويتوب إلى الله تعالى كما جاء فى سجدة ﴿ص﴾ أنها توبة نبي
نبی کے علاوہ کوئی معصوم نہیں، کیونکہ اگر نبی سے غلطی ہو جائے، تو اس پر مصر نہیں رہتے، بلکہ وحی کے ذریعے غلطی پر متنبہ کر دیا جاتا ہے، نبی سے غلطی کا وقوع شاذ و نادر ہی ہوتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ سے توبہ کر لیتا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے کہ سورت ص کی آیت (38:24) کا سجدہ نبی (داود علیہ السلام) کی توبہ کی وجہ سے تھا۔
(تاريخ الإسلام: 308/3)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔