مضمون کے اہم نکات
بسم اللہ الرحمٰن الرحيم
عشرہ ذوالحجہ کے فضائل، اعمال اور خصائص
اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور اس کے لیے کچھ ایسے مواسم کا انتخاب فرمایا ہے جن میں عبادت باقی ایام کی بہ نسبت زیادہ افضل ہوتی ہے، جیسا کہ رمضان المبارک، یوم عرفہ، شب قدر اور ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں عبادت کو خاص فضیلت حاصل ہے۔
اللہ رب العزت کی جانب سے یہ نیکیوں کے موسم اسی لیے ہیں تاکہ اس کے بندے نیکیوں کے ان مواسم کو غنیمت جانیں اور کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کر کے اجر عظیم حاصل کریں۔ ان مبارک عشروں میں سے ایک عشرہ ذوالحجہ ہے، جو بڑا ہی بابرکت اور عظمت والا ہے۔
بعض اہل علم کے نزدیک ذوالحجہ کے پہلے دس دن رمضان المبارک کے آخری دنوں سے بھی افضل ہیں مگر صد افسوس کہ اکثر مسلمانوں کو ان فضائل کا علم اور شعور تک نہیں ہے، اکثر کو تو پتہ ہی نہیں کہ ذوالحجہ کا مہینہ کب شروع ہوا اور اس مہینہ میں اعمال کی قدر و قیمت کیا ہے؟ چنانچہ وہ زندگی کے قیمتی اوقات جن کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ”افضل ایام الدنیا“ قرار دیا ہے، ضائع کر دیتے ہیں، یقینا ہمارے لیے افسوس اور انتہائی فکر کی بات ہے۔
عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت قرآن پاک کی روشنی میں
عشرہ ذوالحجہ اسلامی سال کا بارواں اور آخری قمری مہینہ ہے جس کا معنی حج والا مہینہ ہے۔
❀ عشرہ ذوالحجہ کی وجہ تسمیہ
جیسا کہ حج سال میں ایک ہی بار ہو سکتا ہے جو کہ اس مہینے میں کیا جاتا ہے اس لیے اسے ذوالحجہ کہا جاتا ہے۔
❀ سب سے زیادہ بابرکت ایام
ذوالحجہ کے پہلے دس دن سال بھر کے دنوں میں سب سے زیادہ برکت اور فضیلت والے ایام ہیں، ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے، ان میں نیکیاں کمانے کے متعدد مواقع ہیں، ان کی فضیلت کے قرآن و سنت میں سارے دلائل ہیں۔
① عشرہ ذوالحجہ کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَالْفَجْرِ . وَلَيَالٍ عَشْرٍ .﴾
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی!
(89-الفجر:1،2)
اکثر مفسرین کا قول ہے کہ ان دس راتوں سے مراد ذوالحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں اور بہت سارے سلف و خلف کا یہی قول ہے۔
② حج کے تمام فرائض عشرہ ذوالحجہ میں ہیں
سورۃ الکوثر میں بیشتر مفسرین کے نزدیک دس ذوالحجہ کی نماز فجر، یا نماز عید مراد ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
”پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔“
(108-الکوثر:2)
③ دین اسلام کی تکمیل
اس عشرہ میں یوم عرفہ کو اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کو مکمل کیا اور اہل اسلام پر اپنی نعمت کو پورا فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا﴾
”آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔“ (لہذا حرام و حلال کی جو قیود تم پر عائد کر دی گئی ہیں ان کی پابندی کرو۔)
(5-المائدة:3)
ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں کی فضیلت قرآن مجید سے صریحاً ثابت ہے۔
عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت احادیث کی روشنی میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مختلف احادیث میں عشرہ ذوالحجہ کی فضیلت و اہمیت بیان فرمائی ہے اور ان دنوں کو ”أفضل أيام الدنيا“ کہا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم نے ان دنوں میں نیک اعمال زیادہ سے زیادہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔
❀ دنیا کے افضل ترین دن
عشرہ ذوالحجہ کے پہلے دس ایام، ان کا ایک ایک لمحہ، منٹ، سیکنڈ انتہائی قیمتی ترین ہے، یہ ایام اللہ تعالیٰ کی طرف سے خصوصی پیشکش (اسپیشل آفر) ہے جو سال کے بقیہ دنوں میں حاصل نہیں ہے، یہ نیکیوں میں مقابلہ کرنے کا وسیع میدان اور سنہرا وقت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”إن أفضل أيام الدنيا أيام العشر“
”دنیا کے سارے ایام کے مقابلے میں دس دن (عشرہ ذوالحجہ) سب سے افضل ہیں۔“
(صحیح الترغیب والترہیب: 1150)
دوسرے مقام پر فرمایا:
”ما من أيام العمل الصالح فيها أحب إلى الله من هذه الأيام يعني العشر، قالوا: يا رسول الله ولا الجهاد فى سبيل الله؟ قال: ولا الجهاد فى سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء“
عشرہ ذوالحجہ میں کیے گئے عمل صالح سے زیادہ کوئی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (دوسرے دنوں میں کیا ہوا) جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دوسرے دنوں میں کیا ہوا جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، ہاں مگر وہ شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ (راہ جہاد ) میں نکلے اور کچھ واپس لے کر نہ آئے یعنی شہید ہو جائے۔ (سنن ابی داود: 1727)
اہم نکتہ:
اس حدیث پر ذرا غور کریں کہ ایسی ہمت کس میں ہے کہ وہ جان، مال سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دے؟ اس کے مقابلے میں یہ کس قدر آسان ہے کہ اللہ کی طرف سے دی گئی اس خصوصی پیشکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عشرہ ذوالحجہ میں نیک اعمال کے ذریعہ اپنا دامن مراد بھر لیا جائے۔
❀ عام دنوں کی نسبت جہنم سے آزادی کا دن
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”ما من يوم أكثر من أن يعتق الله فيه عبدا من النار من يوم عرفة“
”کوئی دن ایسا نہیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ عرفات کے دن سے زیادہ لوگوں کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہو۔“
(صحیح مسلم: 1348)
❀ سال بھر سے افضل دن
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”إن أعظم الأيام عند الله تبارك وتعالى يوم النحر، ثم يوم القرن“
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت و احترام والا دن یوم النحر (دس ذوالحجہ قربانی کا دن) ہے پھر اس کے بعد گیارہ ذوالحجہ کا دن ہے۔“
(سنن ابی داود: 1765)
دوسرے مقام پر یوں فرمایا:
”ما من عمل أزكى عند الله عز وجل ولا أعظم أجرا من خير يعمله فى عشر الأضحى“
”اللہ عزوجل کے نزدیک عشرہ ذوالحجہ میں نیک عمل کرنے سے زیادہ پاکیزہ اور زیادہ ثواب کا حامل کوئی عمل نہیں۔“
(سنن الدارمی: 1815)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
آپ سے جب سوال کیا گیا کہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ زیادہ مبارک ہے یا ذوالحجہ کا پہلا عشرہ؟ آپ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ذوالحجہ کی پہلی راتوں سے زیادہ افضل ہیں، اس لیے کہ اس میں لیلۃ القدر ہے جو تمام راتوں کی سردار ہے، اور ذوالحجہ کے پہلے دس دن رمضان کے آخری دس دنوں سے زیادہ مبارک ہیں کیونکہ ان دنوں میں یوم عرفہ واقع ہے، جو کہ تمام دنوں میں سب سے زیادہ افضل و اشرف ہے۔ (مجموع الفتاویٰ)
بہر کیف عشرہ ذوالحجہ کے فضائل بہت ہیں، ایک مسلمان کو چاہیے کہ ان مبارک دنوں کو غنیمت سمجھے، انھیں یوں ہی ضائع ہونے سے بچائے، ان میں ہر چھوٹی بڑی نیکی میں سبقت لے جانے کی حسب استطاعت کوشش کرے۔
عشرہ ذوالحجہ کے مستحب اعمال
قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں عشرہ ذوالحجہ میں جن اعمال کے کرنے کی فضیلت آئی ہے، وہ مندرجہ ذیل ہے:
① تجدید ایمان
ایمان اس کائنات کی سب سے بڑی دولت ہے کوئی عمل بھی اس کا بدیل نہیں ہے اور فتنوں کے اس دور میں تو ہمیں تجدید ایمان کی بار بار ضرورت ہے۔
ابو عمر اور سفیان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”قلت: يا رسول الله، قل لي فى الإسلام قولا لا أسأل عنه أحدا غيرك؟ قال: قل آمنت بالله، ثم استقم“
میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتا دیجیے جس کے متعلق میں آپ کے سوا کسی اور سے نہ پوچھوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کہو میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر ٹھیک ٹھیک قائم رہو۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو جامع کلمات میں ایمان اور اسلام کے تمام معانی و مفاہیم کو سمیٹ دیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابی کو حکم دیا کہ اپنی زبان اور دل سے ایمان کی تجدید کریں، اطاعت و فرماں برداری کے کاموں پر ڈٹ جائیں، اللہ ورسول کی نافرمانی اور خلاف ورزی، اسی طرح شرک و کفر اور بدعات و خرافات سے دور رہیں۔ (صحیح مسلم: 38)
② فرائض کے ذریعہ قرب الہی
اسلام و ایمان کے بعد سب سے بڑی نیکی نماز ہے اس لیے ہمیں اپنے آپ کو سب سے پہلے فرائض کا پابند بنانا چاہیے کیونکہ یہ قرب الہی کا عظیم ذریعہ ہے۔
حدیث قدسی میں ہے:
”وما تقرب إلى عبدي بشيء أحب إلى مما افترضته عليه“
”اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے، ان میں کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے۔“ (صحیح البخاری: 6502)
③ بارہ سنتوں کے ذریعہ جنت میں گھر
فرائض کے ساتھ ساتھ سنتوں کی بھی حفاظت کرنی چاہیے اس عمل کی وجہ سے اللہ تمہارے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من صلى فى يوم وليلة ثنتي عشرة ركعة بني له بيت فى الجنة: أربعا قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل صلاة الفجر“
”جس شخص نے رات اور دن میں بارہ رکعت (سنت) ادا کیں، جنت میں اس کے لیے گھر بنا دیا جاتا ہے: چار رکعات ظہر سے پہلے، دو بعد میں، دو رکعات مغرب کے بعد، دو عشاء کے بعد اور دو صبح کی نماز سے پہلے۔“ (سنن الترمذی: 415)
④ کثرت نوافل سے محبت الہی
کثرت سے نوافل ادا کرنے چاہیے کیونکہ اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔
حدیث قدسی میں ہے:
”وما يزال عبدي يتقرب إلى بالنوافل حتى أحبه“
”میرا بندہ ہمیشہ نفلوں کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہوں۔“ (صحیح البخاری: 6502)
⑤ نماز اشراق ادا کرنا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من صلى الغداة فى جماعة ثم قعد يذكر الله حتى تطلع الشمس، ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة وعمرة تامة تامة تامة“
”جس شخص نے صبح کی نماز با جماعت ادا کی اور وہی بیٹھ کر سورج نکلنے تک اللہ کا ذکر کرتا رہا، پھر اس نے نماز اشراق کی دو رکعات ادا کیں تو اس کے لیے مقبول حج اور عمرہ کا پورا پورا ثواب لکھ دیا جاتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تین دفعہ ذکر کیا۔ (سنن الترمذی: 586)
6۔ تلاوت کلام پاک
عشرہ ذوالحجہ میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کریں اور ایک دو مرتبہ کلام پاک کی تکمیل کریں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ﴾
”جو کتاب آپ کی طرف وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کریں۔“
⑦ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم پر درود و سلام
نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھیں خصوصاً جمعہ والے دن۔
⋆ ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے پر اللہ تعالیٰ کی دس رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من صلى على واحدة صلى الله عليه بها عشرا“
”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔“ (صحیح مسلم: 408)
⋆ ایک مرتبہ درود شریف پڑھنے پر دس گناہ معاف ہوتے اور مزید دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من صلى على واحدة صلى الله عليه عشر صلوات وحط عنه عشر خطيئات ورفع عشر درجات“
”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کر دیتا ہے۔“ (صحیح الجامع: 6359)
⋆ درود شریف کثرت سے پڑھا جائے تو پریشانیوں سے نجات ملتی ہے۔ (سنن الترمذی: 2457)
⑧ بال، ناخن وغیرہ نہ کاٹنا
کوئی شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہو اور ذوالحجہ کا مہینہ شروع ہو جائے تو اسے چاہیے کہ قربانی کرنے تک اپنے ناخن، بال وغیرہ نہ کاٹے، کیونکہ حدیث پاک میں اس سے منع کیا گیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”من كان له ذبح يذبحه فإذا أهل هلال ذي الحجة فلا يأخذن من شعره ولا من أظفاره شيئا حتى يضحي“
”جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کے پاس جانور بھی موجود ہو پس ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ قربانی کرنے تک اپنے بال یا ناخن نہ تراشے۔“ (صحیح مسلم: 1977)
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس قربانی کی طاقت نہیں تو وہ قربانی والے دن اپنے ناخن اور بال وغیرہ کاٹ لے تو اسے قربانی کا ثواب ملے گا تو یہ بات درست نہیں کیونکہ اس کی دلیل سنن ابی داود کی ایک ضعیف روایت ہے جو قابل حجت نہیں ہے۔ (سنن ابی داود: 2789)
⑨ حج و عمرہ کی ادائیگی
عشرہ ذی الحجہ میں کیے جانے والے تمام نیک اعمال میں سے افضل عمل حج بیت اللہ اور عمرہ کی ادائیگی ہے اور اس کی جزا جنت ہے۔ اگر کوئی آدمی صاحب استطاعت ہے تو اس کو زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج ضرور کرنا چاہیے، بصورت دیگر اس کے اسلام کی بنیاد اور عمارت کمزور ہے جس کا اُسے کسی بھی وقت نقصان ہو سکتا ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما، والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة“
”ایک عمرہ دوسرے عمرہ تک درمیان کے (گناہوں) کے لیے کفارہ ہے اور حج مبرور (مقبول حج) کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔“ (صحیح البخاری: 1773)
دوسری جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”وأن الحج يهدم ما كان قبله“
”بے شک حج پچھلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“(صحیح مسلم: 121)
⑩ عشر ذوالحجہ کے نو ایام کا روزہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عشر ذوالحجہ میں ہر نیکی کی ترغیب دی ہے، ظاہر ہے کہ روزہ ایک عظیم نیکی ہے جس کی ترغیب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عمل سے دی ہے اور اس کی جزا بذات خود اللہ تعالیٰ ہی دے گا۔
حدیث میں ہے کہ:
”كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم تسع ذي الحجة“
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحجہ کے (پہلے) نو دنوں کا روزہ رکھا کرتے تھے۔“ (سنن ابی داود: 2437)
⑪ یوم عرفہ کا روزہ
عرفہ کا دن بڑا ہی بابرکت اور فضیلت والا دن ہے، اس دن تمام حاجی میدان عرفات میں جمع ہوتے ہیں، اس دن غیر حاجیوں کے لیے روزہ رکھنا سنت ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفر السنة التى قبله والسنة التى بعده“
”یوم عرفہ کے روزہ کے متعلق مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ پچھلے ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جائے گا۔“ (صحیح مسلم: 1162)
⑫ نماز عید کی ادائیگی
ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ خود بھی نماز عید اور خطبہ عید کے لیے عید گاہ جائے اسی طرح اپنے بچوں اور گھر کی خواتین کو بھی لے کر جائے، کیونکہ نماز عید اسلام کا ایک ظاہری شعار ہے جس میں حاضر ہر مسلم کی حاضری ضروری ہے۔
❀ خواتین کو بھی عید گاہ میں جانا چاہیے
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ دونوں عیدوں کے دن ہم حیض والی اور پردہ نشین (یعنی تمام ) عورتوں کو عید گاہ لائیں تاکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ نماز اور دعا میں شرکت کریں البتہ حیض والی عورتیں نماز نہ پڑھیں۔ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی کوئی مسلمان بہن اسے اپنی چادر اڑھالے۔ (صحیح البخاری: 344)
⑬ قربانی کرنا
اس دن قربانی سے بڑھ کر کوئی بھی عمل اللہ کے نزدیک محبوب نہیں۔
قربانی سے مراد وہ عمل ہے جسے اللہ تعالیٰ کی رضا، حصول اجر و ثواب اور اس کی بارگاہ کا قرب حاصل کرنے کے لیے سرانجام دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
”کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، (قربانی) میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔“
(6-الأنعام:162)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾
”پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔“
(108-الکوثر:2)
ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے خالص رضائے الہی کے حصول کے لیے قربانی کرنے کا حکم دیا ہے۔
⑭ صدقات و خیرات کرنا
عشرہ ذوالحجہ کے ترغیبی اعمال میں سے ایک عمل صدقات و خیرات کرنا بھی ہے، قرآن و سنت میں اس عمل کی بڑی تاکید اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خُلَّةٌ وَلَا شَفَاعَةٌ ۗ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾
”اے لوگو جو ایمان لائے ہو جو کچھ مال و متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ ہی سفارش چلے گی، اور ظالم اصل میں وہی ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں۔“
❀ صدقہ قبر کی آگ کو بجھا دے گا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
”إن الصدقة لتطفئ عن أهلها حر القبور، وإنما يستظل المؤمن يوم القيامة فى ظل صدقته“
”بے شک صدقہ کرنے والوں سے صدقہ قبروں کی گرمی کو بجھائے گا۔ اور مؤمن قیامت کے دن اپنے صدقے کے سائے میں ہوگا۔“ (السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی: 4384)
⑮ عشرہ ذوالحجہ اور تسبیحات و تکبیرات
عشرہ ذوالحجہ میں تسبیح و تہلیل اور کثرت سے ذکر الہی کی تلقین کی گئی ہے، اس مسئلہ میں امام، مقتدی، مرد، عورت، چھوٹا، بڑا، شہری، دیہاتی سب شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ﴾
”اور چند مقررہ دنوں میں اللہ کا نام یاد کریں۔“
(22-الحج:28)
ان مقررہ دنوں سے بعض حضرات نے ذوالحجہ کا پہلا عشرہ مراد لیا ہے۔ (روح المعانی: 17/145)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
”ما من أيام أعظم عند الله ولا أحب إليه العمل فيهن من هذه الأيام العشر، فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد“
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ عظیم اور پسندیدہ دن ذوالحجہ کے پہلے دس دنوں سے کوئی نہیں ہیں، لہذا تم ان دس دنوں میں تہلیل (لا الہ الا اللہ)، تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمد للہ) جیسی تسبیحات کثرت کے ساتھ کیا کرو۔“ (مسند احمد: 6154، قال الشیخ الارنؤوط: صحیح)
سلف صالحین اس عشرہ میں نیک اعمال کا بہت اہتمام کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر منی میں اپنے خیمہ میں بلند آواز سے تکبیر کہتے تھے جسے مسجد کے لوگ سنتے اور تکبیر کہتے اور بازار والے بھی تکبیریں کہنا شروع کر دیتے حتی کہ منی تکبیروں سے گونج اٹھتا۔ (صحیح البخاری)
❀ تکبیرات کا کب آغاز اور کب اختتام کیا جائے؟
عشرہ ذوالحجہ میں تسبیحات و تکبیرات کا کب آغاز اور کب اختتام کیا جائے؟
اس کے متعلق علماء کی مختلف آراء ہیں:
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حضرت علی اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما کے اقوال کی رو سے راجح ترین موقف یہ ہے کہ تکبیرات کا آغاز نو ذوالحجہ کی صبح سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک ہے۔ (فتح الباری: 2/595)
❀ تکبیرات کے اوقات
ان ایام میں تکبیرات کہنے کے مخصوص اوقات اور مخصوص تعداد متعین نہیں ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کی رائے کے مطابق تمام اوقات میں ہر ایک مرد و زن، صحت مند و بیمار اور مسافر و مقیم کے لیے تکبیرات کہنا مستحب عمل ہے۔ (فتح الباری: 2/595)
نوٹ: ان ایام میں حائضہ عورتیں تکبیرات بھی کہیں گی اور دعائیں بھی کریں گی۔ (صحیح البخاری، کتاب العیدین: 971)
❀ تسبیحات و تکبیرات کے الفاظ
① الله أكبر الله أكبر، اللهم أنت أعلى وأجل من أن تكون لك صاحبة أو يكون لك ولد أو يكون لك شريك فى الملك أو يكون لك ولي من الذل، وكبره تكبيرا، الله أكبر تكبيرا، اللهم اغفر لنا، اللهم ارحمنا (السنن الکبری للبیہقی: 6282)
② الله أكبر كبيرا، الله أكبر كبيرا، الله أكبر، ولله الحمد (مصنف ابن ابی شیبہ: 5646)
③ الله أكبر الله أكبر الله أكبر ولله الحمد، الله أكبر وأجل، الله أكبر على ما هدانا (السنن الکبری للبیہقی: 6280)
❀ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے محبوب چار کلمات
لا إلٰه إلا الله، وسبحان الله، والحمد لله، والله أكبر (مسند احمد: 20244)
فوائد:
➊ یہ کلمات جہنم سے ڈھال، نجات اور جنت کی طرف پہنچانے والے ہیں۔
➋ یہ کلمات بندہ مومن کے گناہوں کو ایسے جھاڑ دیتے ہیں جیسا کہ موسم خزاں میں درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔
➌ یہ کلمات زمین و آسمان کے درمیان خلاء کو اجر و ثواب سے بھر دیتے ہیں۔
➍ یہ تسبیحات عرش باری تعالیٰ کے ارد گرد پڑھنے والے کا تذکرہ کرتی ہیں۔
➎ ان تسبیحات کے ساتھ جنت میں شجر کاری کی جا سکتی ہے۔
➏ ذکر و اذکار کی کثرت سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔
تنبیہ:
یہ تکبیرات اجتماعی طور پر نہ پڑھی جائیں۔ اس لیے کہ ان کا جہری پڑھنا نہ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے اور نہ ہی سلف صالحین کے عمل سے اس کا ثبوت ملتا ہے، بلکہ اس کا سنت طریقہ یہ ہے کہ ہر شخص انفرادی طور پر کثرت سے تکبیرات پڑھے۔
⑯ صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے اجتناب
بندہ مسلم کو عام دنوں اور مہینوں میں بھی صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچنا چاہیے خصوصاً ذوالحجہ کے مہینے میں جو کہ حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے، یہ عشرہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس میں ہر قسم کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے بچنے کا خاص طور پر اہتمام کیا جائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ﴾
”مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں بارہ کی ہے، اسی دن سے جب آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے ان میں سے چار حرمت و ادب کے ہیں یہی درست دین ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔“ (9-التوبة:36)
عشرہ ذوالحجہ میں جس طرح ہر نیکی کا ثواب بڑھ جاتا ہے ایسے ہی گناہوں کا ارتکاب بھی سنگین اور شدید رخ اختیار کر لیتا ہے۔
◈ تفسیر جلالین میں ہے
” ان حرمت والے مہینوں میں گناہ کا وبال مزید بڑھ جاتا ہے۔“ (تفسیر جلالین ص: 158)
لہذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ ایسے تمام گناہوں اور نافرمانیوں سے بچے جو اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب یا لعنت کا باعث ہوں، مثلاً: شرک و کفر، بدعات و خرافات کا شکار ہونا، والدین اور رشتہ داروں سے زیادتی کرنا، کسی یتیم، مسکین کی عزت، مال اور جان کا ناحق قتل کرنا، سود، رشوت، زنا، چوری، دھوکہ، فریب، تکبر، حسد، بغض و کینہ، غیبت و چغلی، جھوٹ، ناچ گانا، بے پردگی اور بے حیائی جیسے قبیح و شیطانی اعمال کا ارتکاب کرنا۔
عشرہ ذوالحجہ کی خصوصیات
❀ خصوصیات عشرہ ذوالحجہ
اللہ تعالیٰ نے عشرہ ذوالحجہ کو مختلف عبادتوں کے ذریعہ خصوصیت بخشی ہے، اس پورے عشرہ میں اسلام کے اہم ترین اعمال انجام دیے جاتے ہیں اور عبادتوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس لیے یہ مہینہ اسلامی تاریخ میں ممتاز اہمیت کا حامل ہے اور بعض خصائص کی وجہ سے اس کی اہمیت دیگر مہینوں سے زیادہ ہے۔
❀ پہلی خصوصیت (فضیلت و برکت والا عشرہ)
اس عشرے کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ عشرہ ذوالحجہ کے پہلے دس ایام وہ ہیں جن کے ”افضل الایام“ ہونے کی شہادت نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دی ہے اور ان میں نیک اعمال کی بڑی تاکید فرمائی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ایک مقام پر ان ایام کی قسم بھی کھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان ایام کی قسم کھانا ہی ان کی عظمت اور فضیلت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ان دس دنوں کو عظیم غنیمت جانیں اور ان میں خوب تلاوت قرآن، ذکر اذکار، اعمال صالحہ، نماز با جماعت کی ادائیگی، صدقہ و خیرات کریں اور نفلی روزوں کا اہتمام کریں۔
❀ دوسری خصوصیت (حرمت والا مہینہ)
اس عشرے کی دوسری خصوصیت ہے کہ یہ حرمت والے مہینوں (ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم، رجب) میں آتا ہے، ان حرمت والے مہینوں کا احترام ہمارے اوپر فرض ہے، یہی وجہ ہے کہ ان میں لڑنا، خونریزی کرنا قطعی حرام ہے۔
❀ تیسری خصوصیت (حج کا عشرہ)
اس عشرے کی تیسری خصوصیت ہے کہ یہ ارکان اسلام میں سے بہت بڑے رکن حج بیت اللہ کا عشرہ ہے، دنیا بھر سے مسلمان حج جیسے عظیم فریضہ کو اس عشرے میں ادا کرتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ﴾
”حج کے مہینے مقرر ہیں۔“
(2-البقرة:197)
شوال اور ذی القعدہ سفر حج کے لیے اور ذی الحجہ کا مہینہ بتاریخ 8 تا 13 تک ارکان حج کی ادائیگی کے لیے۔
❀ چوتھی خصوصیت (مطلق تکبیرات کی مشروعیت)
راجح ترین موقف کے مطابق اسی عشرہ ذوالحجہ کی نو ذوالحجہ کی صبح سے لے کر تیرہ ذوالحجہ کی عصر تک تکبیرات پڑھیں جاتی ہیں۔
(فتح الباری: 2/595)
نوٹ: یکم ذوالحجہ سے تکبیرات پڑھنے کے متعلق کوئی صحیح اور واضح دلیل ثابت نہیں۔
❀ پانچویں خصوصیت (یوم عرفہ)
اس عشرے کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ ان ایام میں یوم عرفہ ہے، جو حج کا اصل دن ہے اور اسی میں حج کا سب سے بڑا رکن (وقوف عرفہ) ادا کیا جاتا ہے، یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ اہل عرفات کے لیے عام معافی کا اعلان کرتا ہے اور اس میں سب سے زیادہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی عطا کرتا ہے، شیطان اس دن سب سے زیادہ پریشان ہوتا ہے بلکہ اللہ کے تمام دشمن اس دن ذلیل و خوار ہوتے ہیں، اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے اگر ایام عشرہ ذوالحجہ میں سے کسی دن کو کوئی فضیلت نہ ہوتی تو صرف یوم عرفہ ہی ان سارے ایام کی فضیلت کے لیے کافی ہوتا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفر السنة التى قبله والسنة التى بعده“
”یوم عرفہ کے روزہ کے متعلق مجھے اللہ سے امید ہے کہ وہ پچھلے ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہوں کے لیے کفارہ بن جائے گا۔“ (صحیح مسلم: 1162)
❀ چھٹی خصوصیت (قربانی)
اسی عشرہ ذوالحجہ میں قربانی کا اہم ترین عمل ادا کیا جاتا ہے، صاحب حیثیت مسلمان خلوص دل سے اپنے جانور اللہ کے لیے قربان کرتے ہیں، یہ بظاہر جانور کے گلے پر چھری چلانے کا عمل ہے لیکن دراصل یہ ابراہیم علیہ السلام کی ایسی سنت ہے جس میں مسلمان اپنی ہر قیمتی چیز کو اللہ کے راستے میں قربان کرنے کا تصور پیش کرتا ہے۔
❀ ساتویں خصوصیت (بال اور ناخن کٹوانے کی ممانعت)
جو شخص قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد نہ سر کے بال کٹوائے یا منڈوائے، نہ مونچھیں کتروائے، نہ زیر ناف بال مونڈے، نہ زیر بغل بال کاٹے یا اکھاڑے اور نہ ہی ناخن ترشوائے حتی کہ وہ قربانی کر لے، اور اگر وہ بال یا ناخن کاٹ لے تو ایسی صورت میں وہ کثرت سے استغفار کرے، اس پر کوئی فدیہ یا جرمانہ نہیں ہے۔
❀ آٹھویں خصوصیت (عید الاضحی)
اسی عشرہ ذوالحجہ میں مسلمان اپنی دوسری بڑی اور اہم عید عید الاضحی مناتے ہیں۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایک سال میں خوشی کے لیے دو تہوار دیے ہیں (عید الفطر اور عید الاضحی)۔
❀ نویں خصوصیت (اُمہات العبادات کا اجتماع)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عشرہ ذوالحجہ کا دیگر عشروں سے ممتاز ہونے کا جو سبب ظاہر ہے وہ یہ کہ اس عشرہ میں اُمہات العبادات (ارکان اسلام )جیسے: نماز، روزہ، صدقہ خیرات، حج اور قربانی وغیرہ جمع ہو گئیں، دوسرے عشروں میں ان ارکان اسلام کا بیک وقت جمع ہونا ناممکن ہے۔ (فتح الباری: 2/260)
ان تمام خصوصیات کی بناء پر اس عشرہ کی اہمیت اور افضلیت ہر دو چند ہو جاتی ہے۔
سلف صالحین اور عشرہ ذوالحجہ
❀ سلف صالحین کے نزدیک اس عشرے کی فضیلت
ابو عثمان الہندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سلف تین عشروں کو بہت عظیم سمجھتے تھے۔
① ماہ محرم الحرام کا پہلا عشرہ، ② ذی الحجہ کا پہلا عشرہ، اور ③ رمضان المبارک کا آخری عشرہ۔ (الدر المنثور: 8/501)
❀ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ہمارے ہاں یعنی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں یہ کہا جاتا تھا کہ اس عشرہ کا ہر دن فضیلت میں ایک ہزار دنوں کے برابر ہے، جبکہ عرفہ (یعنی نو ذوالحجہ) کا دن دس ہزار دنوں کے برابر ہے۔“ (شعب الایمان: 3/358، تاریخ ابن عساکر: 54/239)
سلف صالحین کی محنت
❀ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ شہید کا عمل
آپ کا عمل یہ تھا کہ جب عشرہ ذوالحجہ شروع ہوتا تو آپ عبادت میں ایسی سخت محنت فرماتے کہ معاملہ طاقت سے باہر ہونے لگتا اور آپ فرمایا کرتے تھے لوگو! ان راتوں میں اپنا چراغ نہ بجھایا کرو یعنی ساری رات تلاوت و عبادت میں رہا کرو۔ (سیر اعلام النبلاء: 4/326)
سلف صالحین اور روزہ
❀ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے تھے:
”عشرہ ذوالحجہ کا ہر روزہ دو مہینوں کے روزوں کے برابر ہے۔“ (الدر المنثور: 8/501)
② محمد بن سیرین اور امام مجاہد رحمہما اللہ عشرہ ذوالحجہ کے نو ایام کا روزہ رکھتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 2/300)
❀ امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”عشرہ ذوالحجہ میں کیا ہوا عمل اس مجاہد فی سبیل کے مترادف ہے جو اس عشرے کے دنوں میں روزہ اور راتوں میں عبادت کرتا ہو اور اس طرح وہ اللہ کے راستے میں شہید ہو جائے۔“ (شعب الایمان: 3/355)
سلف صالحین اور اللہ کا ذکر
سلف صالحین اس عشرے میں کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔
❀ امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما خاص طور پر عشرہ ذوالحجہ کے ایام میں بازار کی طرف جاتے اور زور زور سے تکبیرات کہتے حتی کہ لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیرات کہنا شروع ہو جاتے، وہ دونوں بزرگ صرف اسی کام کی غرض سے بازار جاتے تھے۔ (اخبار مکہ للفاکہی: 3/10)
❀ امام مجاہد رحمہ اللہ کا طرز عمل
آپ عشرہ ذوالحجہ کے طواف میں قراءت کو نا پسند کرتے تھے اور اس میں صرف تسبیحات تہلیلات اور تکبیرات کو پسند کرتے تھے۔ (اخبار مکہ للفاکہی: 1/225)
❀ مسکین ابی ہریرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں نے مجاہد سے سنا کہ ایک آدمی عشرہ ذوالحجہ میں تکبیرات کو بلند کرتا تو اس کو سن کر اہل مسجد اس قدر بلند آواز سے تکبیرات کہتے کہ ان کی آواز اہل وادی تک پہنچتی پھر ان کی آواز سے اہل ابطح موج اٹھتا گویا کہ اس سارے عمل کی بنیاد ایک آدمی کی بنا پر تھی ۔(مصنف ابن ابی شیبہ: 3/250)
❀ ثابت البنانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
مکہ مکرمہ کے بازاروں میں آج تک لوگ عشرہ ذوالحجہ میں تکبیرات بلند کرتے تھے۔ (اخبار مکہ للفاکہی: 3/10)
سلف صالحین اور تعظیم
بعض محدثین کرام کا طرز عمل یہ تھا کہ جیسے ہی عشرہ ذوالحجہ شروع ہوتا وہ اپنے اسباق میں ضعیف احادیث بیان کرنا بالکل بند کر دیتے حالانکہ ان احادیث کے ساتھ یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ ضعیف ہیں مگر ان ایام کے تقدس کا ایسا احترام کہ ضعیف حدیث زبان پر نہ لاتے۔
❀ امام البرذعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”میں نے ابو زرعہ سے ابن ابی ھالہ کی اس حدیث کے متعلق سوال کیا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عشرہ ذوالحجہ میں کیفیت بیان کی گئی ہے تو اس نے مجھے وہ حدیث سنانے سے انکار کر دیا، اور مجھے کہا! اس حدیث میں کلام ہے اس لیے میں اس کے بیان کرنے کو درست نہیں سمجھتا۔ میرے اصرار کرنے پر اس نے کہا! اس سوال کو عشرہ ذوالحجہ کے گزرنے تک مؤخر کر دے کیونکہ میں ایسی احادیث اس عشرے میں بیان کرنا نا پسند کرتا ہوں۔“ (سوالات البرذعی لابی زرعہ الرازی: 2/550)
بعض اسلاف کا ان ایام میں عبادت کا یہ رنگ تھا کہ تعلیم و تدریس تک چھوڑ دیتے کہ اس میں کچھ نہ کچھ قیل و قال ہو جاتی ہے بس خود کو عبادت کے لیے وقف کر دیتے۔
سلف صالحین اور مختلف اعمال
سلف صالحین اس عشرے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کیا کرتے تھے۔
❀ حضرت عبد اللہ بن زبیر رحمہ اللہ
ان مبارک ایام میں پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ ظہر تا عصر منبر پر جلوہ افروز ہوتے اور لوگوں کو حج کے احکامات تلقین فرماتے۔ (اخبار مکہ للفاکہی: 3/60)
❀ ابن ابی معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
میں نے جابر بن زید اور ابا العالیہ رحمہما اللہ کو دیکھا کہ وہ عشرے میں عمرہ کیا کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: 3/160)
❀ ابن عساکر رحمہ اللہ مشہور مورخ
وہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے اور پھر عشرہ ذوالحجہ بھی پورا اعتکاف میں گزارتے۔ (تذکرۃ الحفاظ: 4/1332)
عشرہ ذوالحجہ کے فضائل، خصائص، اعمال اور اس میں سلف صالحین کے شوق عبادت و اطاعت کو ذہن نشین رکھتے ہوئے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ان ایام کو غنیمت جانیں، ان میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنے کی کوشش کریں، اور ان مبارک ایام میں غیر ضروری حرکات و سکنات سے گریز کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں مشغول رہیں۔ اسی طرح تلاوت کلام پاک، مسنون اذکار، تسبیحات و تکبیرات، صدقات و خیرات، اور ان کے علاوہ دیگر نیک اعمال میں کچھ اضافہ کریں اور گناہوں سے حسب استطاعت بچنے کی کوشش کریں مزید نفلی روزوں کا جہاں تک ہو سکے اہتمام کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
كتبه
حافظ شفیق الرحمان زاہد
بتاریخ 10 اگست 2017
7 ذوالقعدہ 1438ھ
بروز جمعرات