مضمون کے اہم نکات
عشرہ ذی الحجہ
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على سيد الانبياء والمرسلين، اما بعد!
یقیناً اللہ تبارک و تعالیٰ ہی دنوں، راتوں، مہینوں اور سالوں کا خالق ہے۔ اس نے اپنی حکمت کاملہ سے بعض دنوں کو دوسرے دنوں پر، بعض راتوں کو دوسری راتوں پر اور بعض مہینوں کو دوسرے مہینوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تقرب کا خواہش مند مسلمان ان سنہری مواقع کی تاک میں رہتا ہے اور انہیں غنیمت سمجھ کر عمل کرتے ہوئے بالآخر اپنے رب کا قرب حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
جس طرح اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رمضان کی آخری دس راتیں سال بھر کی تمام راتوں سے افضل ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ سے ثابت ہے کہ ذوالحجہ کے پہلے دس دن فضیلت عمل کے اعتبار سے سال کے باقی تمام ایام سے افضل ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ما من أيام العمل الصالح فيهن أحب إلى الله من هذه الأيام العشر فقالوا يا رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا الجهاد فى سبيل الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا الجهاد فى سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه وماله فلم يرجع من ذلك بشيء.
”(سال کے دنوں میں سے) کوئی دن ایسے نہیں ہیں کہ ان میں کیا جانے والا عمل صالح اللہ تعالیٰ کو ان دس دنوں (میں کیے جانے والے عمل صالح) سے زیادہ محبوب ہو۔ لوگوں نے کہا: اور جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں، مگر (اس) آدمی (کا جہاد) جو اپنی جان اور مال لے کر نکلا اور اس میں سے کسی چیز کے ساتھ واپس نہ لوٹا (شہید ہو گیا)۔“
(بخاری: 969، ترمذی: 757 واللفظ له، ابو داود: 2440)
یعنی ان دنوں کی نماز باقی دنوں کی نماز سے، ان دنوں کا روزہ باقی دنوں کے روزہ سے، ان دنوں کا ذکر باقی دنوں کے ذکر سے، ان دنوں کا صدقہ باقی دنوں کے صدقہ سے اور ان دنوں کا جہاد باقی دنوں کے جہاد و قتال سے اللہ کے ہاں فضیلت میں بہت زیادہ ہے۔ المختصر ان دنوں میں کیے جانے والے اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قدر محبوب ہیں کہ سال کے باقی تمام دنوں میں کیے جانے والے عمل ان کی فضیلت کا کسی صورت مقابلہ نہیں کر سکتے۔ صرف ایک عمل ایسا ہے جو ان دنوں میں کیا جائے یا سال کے باقی دنوں میں سے کسی دن میں، اللہ کے ہاں اس کی قدر و منزلت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ وہ ہمیشہ ہی فضیلت میں سب سے بالا ہے۔ بقول شاعر:
یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ
وہ عمل اللہ کی راہ میں اپنے جان و مال کے ساتھ نکلنا اور اللہ کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر کے شہادت کا رتبہ پا جانا ہے۔
افسوس ہے کہ ہمارے اکثر مسلمانوں کو ذوالحجہ کے ان بابرکت ایام کی فضیلت کا علم و ادراک ہی نہیں ہے اور وہ ان مبارک ترین ایام کو جنہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے أفضل أيام الدنيا قرار دیا ہے (صحیح الجامع الصغیر الالبانی : 1133) اپنی غفلت اور لاعلمی کی وجہ سے یونہی ضائع کر بیٹھتے ہیں۔
عشرہ ذی الحجہ میں کرنے والے کام :
ان فضیلت والے ایام میں کوشش کریں کہ اللہ کی جنت تک لے جانے والا ہر عمل سرانجام دیا جائے اور اللہ کے غضب و غصہ کو دعوت دینے والا ہر حرام عمل چھوڑ دیا جائے۔ اس نیت کے ساتھ کہ پوری زندگی عمل بد سے کنارہ کریں گے اور عمل صالح کی طرف مسارعت اور جلدی کو اپنی عادت ثانیہ بنا لیں گے۔ ذیل میں چند ایک اعمال (جن کی طرف ہمیں بالخصوص توجہ کرنی چاہیے) کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے عملوں کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین!
① اصلاح عقیدہ :
اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عمل تب تک شرف قبولیت نہیں پاتا جب تک عمل کرنے والا شخص کفر و شرک سے پاک صحیح العقیدہ نہ ہو۔ عقائد کا فساد ہمارے معاشرہ میں عام ہے۔ ہر مسلم، جنت کے خواہشمند کو چاہیے کہ وہ قرآن و سنت کا مطالعہ کرے، علماء حق کے پاس جا کر تحقیق کرے اور پڑتال کرے کہیں اس کا عقیدہ کفر و شرک اور بدعت سے پراگندہ تو نہیں؟ اگر ایسی کوئی بات ہے تو اس کی اصلاح کر لے۔ یاد رکھیے! کفر و شرک اللہ تعالیٰ کے ہاں نا قابل معافی جرم ہیں اور کافر و مشرک کا ہر عمل اللہ رب العزت کے ہاں باطل و مردود ہے۔
(دیکھیے سورۃ النساء: 48، الانعام: 138، الکہف: 105، الزمر: 65، محمد: 32)
② اقامت صلاۃ :
ہمارے بہت سے بھائی اور بہنیں نماز قائم کرنے کے معاملہ میں سستی کا شکار ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مسلسل ترک نماز کے باوجود ان کے اسلام اور ایمان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی، جبکہ حقیقت میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة.
”کہ آدمی اور کفر و شرک کے درمیان (فرق کرنے والی چیز) نماز چھوڑنا ہے۔“
(صحیح مسلم: 82)
ایک حدیث میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فمن تركها فقد كفر.
”جس نے نماز چھوڑ دی اس نے کفر کیا۔“
(ترمذی: 2621، نسائی: 464)
ایک مسلمان کو چاہیے کہ فرائض کا اہتمام کرنے کے ساتھ ساتھ نوافل کا خصوصی اہتمام کرے۔ بالخصوص ان دس دنوں میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى اثنتي عشرة ركعة بني له بهن بيت فى الجنة.
”جس نے دن رات میں بارہ رکعتیں (نفل و سنن) ادا کیں اس کے لیے ان کے بدلہ میں جنت میں گھر بنا دیا جائے گا۔“
(مسلم: 728، ابو داود: 1250، ترمذی: 415، نسائی: 1799، ابن ماجہ: 1141)
دوسری روایت میں آپ نے ان رکعتوں کی تفصیل یوں بیان کی، فرمایا:
أربعا قبل الظهر وركعتين بعدها وركعتين بعد المغرب وركعتين بعد العشاء وركعتين قبل صلاة الفجر.
”چار رکعات ظہر سے پہلے اور دو اس کے بعد، دو رکعت مغرب کے بعد، دو رکعت عشاء کے بعد اور دو رکعت فجر سے پہلے۔“
(ترمذی: 415، نسائی: 1795)
اپنے آپ پر لازم کر لیں کہ پانچوں نمازیں مسجد میں باجماعت ادا کی جائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة الجماعة تفضل صلاة الفذ بسبع وعشرين درجة.
”باجماعت نماز پڑھنا، اکیلے نماز پڑھنے پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے۔“
(بخاری: 645، مسلم: 650)
صرف باجماعت ہی نہیں بلکہ امام کی تکبیر اولیٰ (تکبیر تحریمہ) کے ساتھ ملنے کی عادت بنا لیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى لله أربعين يوما فى جماعة يدرك التكبيرة الأولى كتب له براءتان: براءة من النار، وبراءة من النفاق.
”جو شخص اللہ کے لیے چالیس دن اس طرح باجماعت نماز پڑھے کہ تکبیر اولیٰ سے ملے، اس کے لیے دو آزادیاں لکھ دی جاتی ہیں: ① جہنم سے آزادی۔ ② نفاق سے آزادی۔“
(ترمذی: 241)
③ انفاق فی سبیل اللہ (سخاوت) :
اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کی علامات میں سے ایک بڑی علامت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔ صاحب نصاب ہونے کی صورت میں فرض زکوٰۃ کی ادائیگی کے بغیر تو ایمان و اسلام ہی مشکوک ہے۔ جبکہ ایک متقی مومن آدمی ہر وقت اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے اس کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قرض حسنہ سے تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً﴾
”کون ہے وہ جو اللہ کو قرض دے، اچھا قرض، پس وہ اسے اس کے لیے بہت زیادہ گنا بڑھا دے۔“
(البقرہ: 245)
حدیث قدسی ہے، اللہ تعالیٰ بندے کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
أنفق يا ابن آدم أنفق عليك.
”اے آدم کے بیٹے! تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“
(بخاری: 5352، مسلم: 993)
ہمیں ان دس دنوں کو سنہری موقع سمجھتے ہوئے اللہ کی راہ میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مال خرچ کرنا چاہیے۔ یقین جانیے کہ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
ما نقصت صدقة من مال.
”صدقہ کسی مال کو کم نہیں کرتا۔“
(مسلم: 2588)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ گناہ کو اس طرح مٹا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو۔“
(ترمذی: 614)
قرآن مجید (سورۃ التوبہ: 60) میں اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ و صدقات کے مندرجہ ذیل آٹھ (8) مصارف بیان فرمائے ہیں:
① فقراء، ② مساکین، ③ عاملین صدقات، ④ مؤلفۃ القلوب، ⑤ گردنوں کی آزادی، ⑥ تاوان زدہ لوگ، ⑦ مجاہدین فی سبیل اللہ، ⑧ مسافر۔
موجودہ حالات میں جبکہ عالم کفر متحد ہو کر اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے درپے ہے اور اس کے مقابلہ میں مجاہدین فی سبیل اللہ کے علاوہ مسلمانوں کی کوئی قوت کھڑی نہیں ہے اور مجاہدین کے پاس مسلمانوں کے صدقات، خیرات اور زکوٰۃ وعشر کے علاوہ تیاری اور بجٹ کی فراہمی کا کوئی اور وسیلہ بھی نہیں ہے۔ اس بات کی ضرورت و اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ ہم اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کے لیے اپنی تمام تر صلاحتیں اور صدقات ”فی سبیل اللہ“ کی مد میں ہی خرچ کریں۔ کیونکہ اہل علم کا فیصلہ ہے کہ اگر ایک طرف فقراء و مساکین ہوں اور ایک طرف غازیانِ اسلام کو ضرورت ہو تو مجاہدین کی مدد کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ ان کی شکست کی صورت میں فقر و مسکنت کے ساتھ کفار کی غلامی کی ذلت اور اسلام کی بے حرمتی کی مصیبت بھی جمع ہو جائے گی۔
④ روزہ :
عام مسلمان نفل نماز کا تو کچھ نہ کچھ اہتمام کرتا ہی ہے۔ لیکن نفلی روزہ کا اہتمام عموماً نہیں کیا جاتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ نفلی روزے کثرت سے رکھا کرتے تھے۔ عشرہ ذی الحجہ کے پہلے نو دن اس لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ امہات المؤمنین میں سے ایک مومنوں کی ماں حفصہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم تسع ذي الحجة ويوم عاشوراء وثلاثة أيام من كل شهر.
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے (پہلے) نو دن، یوم عاشوراء اور ہر مہینے کے تین دن روزہ رکھا کرتے تھے۔“
(ابو داود: 2437، نسائی: 2374)
دوسری حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ چار کام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہیں چھوڑتے تھے: عاشوراء کا روزہ، ذوالحجہ کے پہلے عشرہ (یعنی 9 دن) کے روزے، ہر مہینے سے تین دن کے روزے اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں۔
(سنن نسائی: 2418، شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اسے حسن قرار دیا ہے)
اگر کوئی مسلمان پورے نو دنوں کا روزہ نہ رکھ سکے تو جتنے دن ممکن ہو اتنے دنوں کا روزہ رکھ لے اور اگر بالکل ہی روزہ رکھنے سے عاجز ہو جائے تو ”یوم عرفہ“ یعنی 9 ذوالحجہ کا روزہ ضرور رکھے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے متعلق ارشاد ہے، فرمایا:
صيام يوم عرفة أحتسب على الله أن يكفر السنة التى قبله والسنة التى بعده.
”کہ عرفہ کے دن (9 ذوالحجہ) کا روزہ میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اسے ایک سال گزشتہ اور ایک سال آئندہ کا کفارہ بنا دے گا۔“
(مسلم: 1162)
⑤ تکبیر و تہلیل و تحمید :
قرآن مجید میں اللہ نے ان دس دنوں میں اپنا ذکر کرنے کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا:
﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ﴾
”اور چند معلوم دنوں میں وہ اللہ کا نام ذکر کریں۔“
(الحج:28)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ایام معلومات سے مراد عشرہ ذوالحجہ کے دس دن ہیں۔
(بخاری قبل الحدیث: 969)
اور یہی تفسیر سیدنا ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ اور دیگر ائمہ تفسیر مجاہد، عطاء، سعید بن جبیر، حسن، قتادہ، ضحاک، ابراہیم نخعی وغیرہ نے بیان فرمائی ہے۔
(تفسیر ابن کثیر: 415/5)
مسند احمد کی صحیح روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشرہ ذوالحجہ کی عظمت اور فضیلت بیان کرنے کے بعد فرمایا:
فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد.
”تم ان دنوں میں کثرت سے تہلیل (لا الہ الا اللہ)، تکبیر (اللہ اکبر) اور تحمید (الحمد للہ) کہو۔“
(مسند أحمد: 131/2، ح: 6159)
ان ایام میں اللہ رب العزت کا اپنے ذکر کا حکم دینا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کے ذکر بالخصوص تہلیل و تکبیر و تحمید کا حکم دینا ان دنوں میں اللہ کے ذکر کی اہمیت و تاکید کو خوب واضح کرتا ہے۔ چنانچہ اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس حکم پر عمل کرتے ہوئے ان دنوں میں بڑے ذوق و شوق سے اپنے گھروں، مسجدوں اور بازاروں میں اللہ کے ذکر کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں امام بخاری رحمہ اللہ نے ایام عشر کی فضیلت والی حدیث سے قبل تعلیقاً ذکر فرمایا ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان دس دنوں میں بازاروں میں نکل جاتے اور بلند آواز سے تکبیریں کہتے، انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی تکبیرات کہنا شروع کر دیتے۔
(صحیح بخاری قبل الحدیث: 969)
بعض اہل علم نے اس میں ایک لطیف نکتہ بیان فرمایا ہے کہ کثرت سے بآواز بلند تکبیرات وغیرہ کہہ کر اپنے علاقوں میں مقیم حضرات حجاج کرام کی مشابہت کا شرف پا لیتے ہیں کہ وہ بھی ان دنوں بلند آواز سے تلبیہ اور تکبیرات کہہ رہے ہوتے ہیں۔
(موسم التجارة الرائعة للدکتور عبد العزیز بن فوزان ص 8)
سو ہمیں بھی ان دنوں میں اور ایام تشریق میں یعنی یکم ذوالحجہ سے لے کر تیرہ ذوالحجہ تک بکثرت اللہ کے ذکر یعنی تکبیر، تہلیل اور تحمید کا اہتمام کرنا چاہیے۔
ذکر کے لیے اوقات تو سارے ہی بابرکت ہیں لیکن اگر کوئی شخص نماز فجر کی باجماعت ادائیگی کے بعد طلوع شمس تک بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتا ہے اور پھر دو رکعت (اشراق) ادا کرتا ہے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق پورے حج اور عمرہ کا اجر مل جاتا ہے۔
(ترمذی: 586)
⑥ اعمال صالحہ :
آپ پڑھ چکے ہیں کہ ان بابرکت ایام میں کیا جانے والا عمل صالح اللہ تعالیٰ کے نزدیک سال کے باقی تمام دنوں میں کیے جانے والے عمل سے زیادہ محبوب اور زیادہ فضیلت والا ہے۔ سو آئیے! یہ سنہری وقت ضائع نہ کیجیے، اسے غنیمت سمجھیے اور کوئی بھی نیکی جو آپ کر سکتے ہیں، بغیر کسی تاخیر کے، کر گزریے۔ لیکن ذرا رکیے! پہلے اپنا ذریعہ آمدن دیکھ لیں! کہیں وہ حرام تو نہیں؟ کیونکہ رزق حرام سے پلا گوشت جہنم کے زیادہ لائق ہوتا ہے۔ (ترمذی: 614) اور رزق حرام دعاؤں اور اعمال کی قبولیت سے رکاوٹ بن جاتا ہے۔ (ترمذی: 2989) حرام چھوڑیے! سود، رشوت، چوری، جھوٹ، دھوکا، فراڈ، ظلم اور غصب کی کمائی سے اپنا ہاتھ روکیے۔
❀ قرآن مجید کی تلاوت ان دنوں میں زیادہ سے زیادہ کیجیے۔ ان دس دنوں میں کم از کم ایک مرتبہ قرآن مجید ضرور ختم کریں۔ قرآن مجید کے ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق روزانہ تین پارے تلاوت کرنے سے آپ روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 5 لاکھ نیکیاں کما سکتے ہیں۔
❀ یقیناً دعا عبادت ہے۔ (ابو داود: 1479) اور اللہ کے نزدیک دعا سے زیادہ کوئی چیز معزز و مکرم نہیں ہے۔ (مسند احمد: 8769) سو ان دنوں میں بہت زیادہ دعائیں مانگیے! خاص طور پر اذان اور اقامت کے درمیان اور افطار کے وقت کہ ان اوقات میں دعا رد نہیں ہوتی۔ صبح و شام کے اذکار میں موجود سستی دور کر لیں، رات سونے، صبح اٹھنے، کھانا کھانے سے پہلے، کھانا کھانے کے بعد، بیت الخلاء میں جاتے وقت، نکلتے وقت… الغرض! معمولات زندگی سے ہر موقع کی دعا یاد کر کے ان سب کے پڑھنے کا اہتمام کریں۔
(”حصن المسلم“ یہ علمگیر مقبولیت کی حامل دعاؤں کی پاکٹ سائز کتاب ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ ”دار الاندلس“ نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے صبح وشام کے اذکار، نماز کے بعد کے اذکار وغیرہ پاکٹ سائز کا رڈز کی شکل میں بھی طبع کیے ہیں۔ اپنی جیب میں رکھیں اور ہر موقع کی دعا پڑھنے کی عادت بنالیں۔)
آپ کے والدین اگر اللہ کے فضل سے زندہ ہیں تو ان کے ساتھ حسن سلوک کر کے آپ اللہ کی جنت میں اپنا داخلہ آسان بنا سکتے ہیں۔ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ اس کی طرف بھی توجہ فرمائیں۔ اپنی دوستیاں اور دشمنیاں اللہ کے دین کی بنیاد پر استوار کر کے اپنا ایمان مکمل کرنے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
⑦ توبہ و استغفار :
قارئین کرام! آئیے، اپنے پیدا کرنے والے، انتہائی رحیم و کریم رب کی طرف رجوع کریں۔ استغفار اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب عمل ہے، کسی بھی بندے کے توبہ کرنے سے وہ بے انتہا خوش ہوتا ہے۔ (بخاری: 6308) معاف کرنے کو وہ بہت پسند کرتا ہے۔ (ترمذی: 3513) خالص توبہ سے وہ پچھلے سارے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ (ابن ماجہ: 425) وہ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کو جرم کرنے والا توبہ کر لے۔ (مسلم: 2759) اب دیر نہ کیجیے۔ رک جائیے! گناہ سے باز آ جائیے! نا فرمانی سے توبہ کر لیجیے! اس کی بغاوت سے جھک جائیے! اپنے پیدا کرنے والے رب کی جناب میں اعتراف کیجیے! اپنے گناہوں کا، آنسوؤں سے اپنی آنکھوں کو تر کیجیے! اپنی اصلاح کر کے اس کے پیارے بندوں میں شامل ہو جائیے۔ حقیقی مستقبل کو شاندار بنانے کے لیے کچی توبہ کرتے ہوئے اس کی جنت میں محل محفوظ کروا لیں۔ کیا خبر زندگی کے یہ آخری ایام ہوں؟ موت کا نقارہ کب بج جائے؟ سستی چھوڑیے، جلدی کیجیے، کہیں یہ مہلت ختم نہ ہو جائے!!
⑧ جہاد فی سبیل اللہ :
آپ شروع میں پڑھ چکے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ایام میں کیے جانے والے عمل صالح کو سال کے باقی سب دنوں کے عمل صالح سے زیادہ محبوب و افضل قرار دیا تو صحابہ کرام نے سارے اعمال میں سے سب سے پہلے جس عمل کے متعلق سوال کیا وہ عمل ”جہاد“ ہی تھا۔ یعنی صحابہ کرام کے نزدیک کسی بھی مسلمان کے سب عملوں سے بڑا اور افضل عمل ”جہاد فی سبیل اللہ“ تھا اور کیوں نہ ہوتا۔ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا: أى الأعمال أفضل؟ ”کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے“ تو آپ کا جواب تھا: الإيمان بالله والجهاد فى سبيله. ”اللہ پر ایمان اور اس کی راہ میں جہاد۔“ (بخاری: 2518، مسلم: 84) اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ: أى الناس أفضل؟ ”لوگوں میں سب سے زیادہ فضیلت والا آدمی کون سا ہے؟“ تو آپ کا جواب تھا: مؤمن يجاهد فى سبيل الله بنفسه وماله. ”وہ آدمی جو اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔“ (بخاری: 2786، مسلم: 1888) اور جب جہاد کی فضیلتیں اور مجاہدین کے درجات کی بلندیوں کے تذکرے سن سن کر ایک سوال کرنے والے صحابی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! دلني على عمل يعدل الجهاد. ”مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے! جو فضیلت میں جہاد کے برابر ہو۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: لا أجده. ”میں اعمال میں ایسا کوئی عمل نہیں پاتا جو اللہ کے ہاں اجر میں جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہو۔“
(بخاری: 2785)
سو ان دس دنوں میں دوسرے اعمال کی طرح بلکہ ان سے بڑھ کر ”جہاد فی سبیل اللہ“ کے عمل میں وقت صرف کیجیے۔ کفار کے خلاف معرکہ آرائی زوروں پر ہے۔ اپنی جان اور اپنا مال جہاد فی سبیل اللہ میں پیش کرتے ہوئے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ”افضل الناس“ کا ایوارڈ حاصل کریں۔ مجاہدین کے ساتھی بن کر اپنا یہ سنہری وقت جہاد کی دعوت، جہاد کے عمل اور مجاہدین کے لیے وسائل اکٹھا کرنے میں صرف کر دیجیے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان دنوں معرکہ آرائی کا موقع دیں تو جہادی کارروائی میں شریک ہو کر شہادت کے اعزاز کو حاصل کرنے کی کوشش کیجیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے مجاہد بندوں میں شامل فرما لے اور شہادت جیسی نعمت عظمیٰ نصیب فرمائے۔ آمین!
مسائل عیدین
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دین فطرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی فطرت کے پیش نظر انہیں سال میں خوشی منانے کے دو مواقع عطا فرمائے ہیں: ① عید الفطر ② عید الاضحیٰ اور ان دونوں خوشی کے تہواروں پر بھی انسانوں کو اپنی من مانی کے لیے آزاد نہیں چھوڑا گیا۔ بلکہ ان دونوں تہواروں سے متعلقہ احکام و مسائل کو پوری تفصیل کے ساتھ کتاب و سنت میں بیان کیا گیا ہے۔ تاکہ مسلمانوں کا خوشی، جشن اور تہوار منانا بھی عند اللہ ان کے درجات کی بلندی کا سبب بن جائے۔ ذیل میں ہم عیدین سے متعلق احکام و مسائل مختصراً ذکر کرتے ہیں تاکہ عام مسلمانوں کو ان پر عمل کرنے میں آسانی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
عید کے دن غسل کرنا، خوشبو لگانا اور مسواک کرنا :
عید کے دن غسل کرنا، خوشبو لگانا اور مسواک کرنا مستحب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کے بارے میں فرمایا:
إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك.
”کہ یہ عید کا دن ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مقرر فرمایا ہے۔ پس جو شخص جمعہ پڑھنے آئے، اسے چاہیے کہ غسل کرے، اور اگر خوشبو میسر ہو تو لگا لے اور تم مسواک کو لازم کر لو۔“
(سنن ابن ماجہ: 1098)
اس حدیث میں جمعہ کے دن غسل کرنے، مسواک کرنے اور خوشبو لگانے کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ عید کا دن ہے تو عید کے دن ان تینوں اعمال کا بجا لانا نسبتاً اور زیادہ مؤکد و مستحب ہوگا۔
نماز عید سے قبل کھانا پینا :
❀ عید الاضحیٰ کے دن نماز عید ادا کرنے سے قبل کچھ بھی کھانا خلاف سنت ہے۔ بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي.
”کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (عید کے لیے) نہ نکلتے تھے یہاں تک کہ (کچھ) کھا لیتے اور عید الاضحیٰ کے دن نماز عید کی ادائیگی سے قبل نہیں کھاتے تھے۔“
(سنن الترمذی: 542)
نماز عید باہر کھلے میدان میں ادا کرنا:
نماز عید مسجد میں ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، آپ اپنی مسجد (مسجد نبوی) کو چھوڑ کر جس میں ایک نماز مسجد حرام کے سوا دوسری مساجد میں پڑھی جانے والی ایک ہزار نماز سے افضل ہے۔ (بخاری: 1190، مسلم: 1394) کھلے میدان میں عید کی نماز ادا کرنے کے لیے نکلتے تھے۔ (بخاری: 956)
نماز عید کے لیے نہ اذان کہی جائے گی نہ اقامت :
چنانچہ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العيدين غير مرة ولا مرتين بغير أذان ولا إقامة.
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز ایک دو مرتبہ نہیں (بلکہ متعدد مرتبہ) بغیر اذان واقامت کے پڑھی۔“
(مسلم: 887)
نماز عید سے پہلے یا بعد نوافل :
نماز عید سے قبل یا بعد، عید گاہ میں کسی قسم کے نوافل وغیرہ پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
إن النبى صلى الله عليه وسلم صلى يوم العيد ركعتين لم يصل قبلها ولا بعدها.
”کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن عید کی دو رکعت نماز پڑھائی۔ آپ نے اس سے پہلے یا بعد کوئی نماز نہیں پڑھی۔“
(بخاری: 9883)
نماز عید کا وقت :
نماز عید کا وقت سورج نکلنے کے بعد شروع ہو جاتا ہے، نماز عید کے تاخیر سے پڑھنے پر صحابی رسول عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے ناراضی کا اظہار کیا اور فرمایا:
إنا كنا قد فرغنا ساعتنا هذه.
”ہم تو اس وقت فارغ بھی ہو چکے ہوتے تھے۔“ راوی حدیث فرماتے ہیں کہ وہ نماز چاشت کا وقت تھا۔
(ابو داود: 1135)
بالخصوص عید الاضحیٰ کے دن سورج نکلنے کے بعد سب سے پہلا کام ”نماز عید کی ادائیگی“ ہی ہونا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے بارے میں فرمایا:
إن أول ما نبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا.
”یقیناً پہلا کام جس سے ہم اپنے اس دن کا آغاز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں پھر واپس جا کر قربانی کرتے ہیں، سو جس شخص نے یہ کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔“
(بخاری: 968، مسلم: 1961)
عید گاہ میں سب مسلمان مردوں، عورتوں کا حاضر ہونا :
عید گاہ میں تمام مسلمان حاضر ہوں گے، مرد تو مرد، مسلمان عورتیں حتیٰ کہ حالت حیض والی عورتیں بھی عید گاہ میں پہنچیں گی۔ صحابیہ رسول ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نخرجهن فى الفطر والأضحى العواتق والحيض وذوات الخدور، فأما الحيض فيعتزلن الصلاة ويشهدن الخير ودعوة المسلمين.
”کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم عورتوں کو عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں (عید گاہ کی طرف) نکالیں، نوجوان لڑکیوں، حیض والی عورتوں اور پردہ نشین خواتین کو بھی، لیکن حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔“
ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے کسی ایک کے پاس اوڑھنی (جلباب) نہ ہو (تو وہ کیا کرے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لتلبسها أختها من جلبابها
”اس کی بہن اسے اپنی چادر میں سے کچھ اوڑھا دے۔“
(بخاری: 351، مسلم: 12/890 واللفظ لمسلم)
ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حیض والی عورتیں لوگوں کے پیچھے ٹھہریں گی اور ان کے ساتھ تکبیریں کہیں گی۔
(مسلم: 890/11)
عید گاہ جانے والی عورتوں کے لیے ہدایات :
عیدگاہ میں جانے والی عورتوں کو گھروں سے اچھی طرح باپردہ ہو کر نکلنا چاہیے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو جس کے پاس جلباب (اوڑھنی وغیرہ) نہیں ہے، اس کو بھی اوڑھنی کے بغیر بے پردہ حالت میں عید گاہ جانے کی اجازت نہیں دی۔ تو جس عورت کے گھر کی دیواروں، کھڑکیوں اور دروازوں پر بیش قیمت پردے لٹک رہے ہوں اور وہ خود ننگے منہ، ننگے سر، بے پردہ عید گاہ کی طرف نکلے تو یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ اسی طرح عورتوں کے لیے خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکلنا بھی حرام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما امرأة استعطرت فمرت على قوم ليجدوا من ريحها فهي زانية.
”کہ جو بھی عورت خوشبو لگا کر لوگوں کے پاس سے گزرتی ہے تاکہ وہ اس کی خوشبو سونگھیں تو وہ عورت زانیہ (بدکارہ) ہے۔“
(سنن نسائی: 5129)
نماز عید کے لیے آتے جاتے راستہ بدلنا اور تکبیرات کہنا:
نماز عید کے لیے آتے جاتے راستہ تبدیل کرنا مسنون ہے۔ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم عيد خالف الطريق.
”عید گاہ آنے جانے کا فاصلہ تکبیرات کہتے ہوئے طے کرنا چاہیے، مرد بھی تکبیرات کہیں گے اور عورتیں بھی۔ ہاں! اگر فتنہ کا خدشہ ہو تو عورتیں آہستہ آواز سے تکبیرات کہیں گی۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ لوگوں کا مل کر تکبیرات کہنا سنت مطہرہ سے ثابت نہیں ہے۔“
(صحیح بخاری: 986)
نماز عید اور سترہ :
عید گاہ میں نماز عید کے دوران امام کے سامنے ”سترہ “ کا اہتمام کیا جائے گا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا خرج يوم العيد أمر بالحربة فتوضع بين يديه فيصلي إليها والناس وراءه.
”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن (نماز عید کے لیے) نکلتے تو برچھی (چھوٹے نیزے) کے متعلق حکم دیتے، اسے آپ کے آگے گاڑ دیا جاتا پھر آپ اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھاتے جبکہ لوگ آپ کے پیچھے ہوتے۔“
(بخاری: 494، مسلم: 501)
عید کی نماز کا طریقہ :
عید کی نماز دو رکعات پر مشتمل ہے اس کا طریقہ عام نماز کی طرح ہی ہے۔ البتہ اس کی پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات قراءت سے پہلے زائد کہی جاتی ہیں۔
(سنن ابن ماجہ: 1277)
تکبیرات زائدہ میں رفع الیدین :
ہر زائد تکبیر کہتے ہوئے رفع الیدین کرنا چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة رفع يديه حتى تكونا حذو منكبيه ثم كبر ويرفعهما فى كل تكبيرة يكبرها قبل الركوع.
”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کندھوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے، پھر تکبیر کہتے اور رکوع سے پہلے کہی جانے والی ہر تکبیر میں آپ رفع الیدین کرتے تھے۔“
(ابو داود: 722)
اور یہ بات معلوم ہے کہ عید کی نماز میں کہی جانے والی تکبیرات زوائد رکوع سے قبل ہیں۔ اس لیے ان سب میں رفع الیدین کی جائے گی۔
نماز عید میں قراءت بلند آواز سے :
عیدین کی نماز میں امام بلند آواز سے قراءت کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ الفاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں ”سورۃ الاعلیٰ“ جبکہ دوسری رکعت میں ”سورۃ الغاشیہ“ کی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ (مسلم: 878) اسی طرح پہلی رکعت میں ”سورۃ ق“ اور دوسری رکعت میں ”سورۃ القمر “ کی تلاوت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
(مسلم: 891)
خطبہ عید اور منبر :
عید کے دن عید گاہ میں منبر منگوانا یا منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ نماز عید پڑھانے کے بعد امام لوگوں کی طرف رخ کر کے زمین پر کھڑا ہو کر عید کا خطبہ دے گا اور لوگ خطبہ سننے کے لیے اپنی صفوں میں بیٹھے رہیں گے۔
(بخاری: 956)
عید کے دن کیے جانے والے کاموں کی ترتیب :
عید کے دن عید گاہ میں سب سے پہلے نماز عید ادا کی جائے گی۔ اس کے بعد امام خطبہ دے گا اور وعظ و نصیحت کرے گا۔ اس کے بعد اگر امیر کوئی لشکر جہاد کے لیے نکالنا چاہے تو نکالے گا۔ نماز عید کی ادائیگی سے پہلے خطبہ اور وعظ و نصیحت خلاف سنت ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى فأول شيء يبدأ به الصلاة ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس والناس جلوس على صفوفهم فيعظهم ويوصيهم ويأمرهم فإن كان يريد أن يقطع بعثا قطعه، أو يأمر بشيء أمر به ثم ينصرف.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف نکلتے، تو سب سے پہلے آپ نماز پڑھاتے، نماز سے فارغ ہو کر آپ لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے، جبکہ لوگ اپنی اپنی صفوں پر بیٹھے رہتے، آپ انہیں وعظ و نصیحت فرماتے اور (نیکی کا) حکم دیتے۔ پھر اگر آپ کوئی لشکر تشکیل دینا چاہتے تو اسے الگ فرماتے یا کسی چیز کے بارے حکم فرمانا چاہتے تو حکم فرما دیتے۔“
(بخاری: 956)
عید کا خطبہ :
عید کا خطبہ ایک ہی ہے۔ جمعہ کے دو خطبوں کی طرح عید کے بھی دو خطبے دیے جائیں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ ہاں اگر امام ضرورت محسوس کرے یا سمجھے کہ شاید عورتوں تک آواز نہ پہنچی ہو گی تو عورتوں کو علیحدہ سے جا کر وعظ و نصیحت کر سکتا ہے۔
(مسلم: 884)
عید کی مبارک باد :
عید کی نماز کے بعد ایک دوسرے کو معانقہ کرنے اور مبارکباد دینے کے الفاظ کے متعلق میرے علم کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تو کچھ ثابت نہیں ہے۔ ہاں! صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے کہ جب وہ عید کے دن ایک دوسرے کو ملتے تو ایک دوسرے کو تقبل الله منا ومنك کے کلمات کے ساتھ مبارکباد دیتے تھے۔
(فتح الباری: 446/2)
قربانی
نماز عید کی ادائیگی کے بعد ہر صاحب استطاعت مسلمان اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے جد الانبیاء سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی عظیم سنت ”قربانی“ کو نبھاتے ہوئے اپنی وسعت کے مطابق جانور اللہ کی راہ میں قربان کرتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کی یہ سنت در حقیقت اس بات کا سبق دیتی ہے کہ مالک حقیقی، رب العالمین کو خوش کرنے کے لیے اس کے حکم پر دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت قربان کر دینا بھی کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ بلکہ اس میں نفع ہی نفع ہے۔ ذرا غور تو کیجیے! بڑھاپے کی عمر ہے، اعلان توحید کی بنیاد پر پوری دنیا سے مقابلہ اور دشمنی ہے۔ اذیتوں، تکلیفوں، سازشوں اور ہجرتوں جیسے کتنے ہی امتحانوں سے گزرنے والا، اپنے رب کا مخلص بندہ ابراہیم اپنے رب سے مانگ مانگ کر ایک بیٹا لیتا ہے۔ اکلوتا بیٹا زندگی کا ابتدائی سفر طے کرتے کرتے جب باپ کے ساتھ بھاگ دوڑ کے قابل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اور آزمائش سامنے آ جاتی ہے، حکم ہوتا ہے کہ اپنے لاڈلے فرزند کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیں۔ ابراہیم علیہ السلام اس حکم پر حیلے بہانے بنا کر جان چھڑانے کی بجائے عمل کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور دوسری طرف بیٹے کی عظمت کی انتہا دیکھو کہ بیٹا بھی باپ کے ساتھ پوری طرح سر تسلیم خم کر چکا ہے۔ اور کہہ رہا ہے:
﴿يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ﴾
”اے میرے والد محترم! آپ کو جس چیز کا حکم دیا جا رہا ہے، آپ اسے کر گزریے، میری فکر مت کیجیے، اگر اللہ نے چاہا تو آپ ضرور مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔“
(الصافات: 102)
سبحان اللہ! باپ ذبح کرنے کو تیار، بیٹا ذبیح ہونے کو تیار!!! کس کی خاطر؟ کسے خوش کرنے کے لیے؟ کس کا حکم پورا کرنے کے لیے؟ کس کی رضا حاصل کرنے کے لیے؟ صرف ایک اللہ کی خاطر، صرف اسے خوش کرنے کے لیے صرف اس کی رضا کو سب دولتوں سے بڑی دولت سمجھ کر حاصل کرنے کے لیے۔
محترم قارئین! ذرا سوچیے! آج ہم جانوروں کی قربانی تو بابا ابراہیم علیہ السلام کی سنت سمجھ کر بڑے دھوم دھڑکے سے کرتے ہیں، کیا ابراہیم علیہ السلام کی سنت یہ ہے کہ جانور ذبح کرو، اپنے پیٹ بھرو، خود کھاؤ اور اپنے دوست احباب، رشتہ داروں کو کھلاؤ، لیکن تمھاری زندگی تمھاری خواہشات کی اسیر رہے، تمھارا عمل رحمن کی بجائے شیطان کو خوش کرتا رہے، تمھاری شکل و صورت، کردار و عمل، اٹھنا بیٹھنا، تجارت، کاروبار، سونا جاگنا، ثقافت و تمدن، سیاست و معاشرت، تعلیم و اقتصاد، تعلقات و معاملات، دوستیاں، دشمنیاں غرض! تمھاری زندگی کا ایک ایک معاملہ تمھاری من مانی پر مشتمل ہو، ذاتی مفادات کا اسیر ہو۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بغاوت پر مبنی ہو، اللہ کے دشمنوں کی دوستی اور محبت میں ڈوبا ہوا ہو..؟
نہیں، ہر گز نہیں! بلکہ ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی تو صرف ایک نکتے پر مشتمل ہے کہ ساری دنیا ناراض کر لو، لیکن اللہ تعالیٰ کو کبھی ناراض نہ کرنا، ساری دنیا سے لڑائی لے لو، لیکن اللہ سے لڑائی کا کبھی مت سوچنا، ساری دنیا کی بغاوت اور نافرمانی کا کچھ نقصان نہیں لیکن اللہ کی نافرمانی اور بغاوت سے بڑا نقصان کوئی نہیں، دنیا کی ہر نعمت، ہر آسائش قربان کر دینا، لیکن اللہ کی محبت کو قربان نہ کرنا اپنی زندگی کا ایک ایک عمل، ایک ایک حرکت، ایک ایک سانس اپنے اللہ کے نام کر دو۔
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾
”کہہ دے بے شک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں حکم ماننے والوں میں سب سے پہلا ہوں۔“
(الأنعام: 162-163)
یاد رکھیے! قربانی کا اصل فلسفہ ہی یہ ہے کہ دلوں میں تقویٰ، للہیت اور اخلاص پیدا ہو جائے، جانور کا خون بہا کر اللہ کی راہ میں اپنا خون پیش کرنے کا شوق پیدا ہو جائے۔ ابراہیمی جذبہ قربانی دلوں میں موجزن ہو جائے۔ اللہ کے دین کی حفاظت میں اللہ کا حکم سمجھ کر اپنی اولاد قربان کرنے، جہاد کے میدان سجانے اور شہادتوں کے تمغے حاصل کرنے پر طبیعتیں آمادہ ہو جائیں۔ دیکھیے، سوچیے! کیا جانور کا خون بہاتے وقت دل کی کیفیت اپنے مالک کی محبت میں اس تلاطم سے واقف ہوئی یا نہیں؟ کیا اللہ کی نافرمانیاں چھوڑ کر فرمانبرداری اپنانے پر طبیعت تیار ہوئی یا نہیں؟ کیا دل کی دنیا میں کوئی انقلاب محسوس ہوا یا نہیں؟ اور یاد رکھیے! اللہ رب العالمین کا اعلان ہے فرمایا:
﴿لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ﴾
”کہ ان جانوروں کے گوشت اور خون اللہ تک نہیں پہنچتے، نہ ہی وہ مطلوب ہیں۔ بلکہ اسے تو تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔
(الحج: 37)
اور وہی اصل مطلوب ہے کہ تمھاری کیفیت قولاً و عملاً یہ ہو جائے:
﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾
”بے شک میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ایک (اللہ کی) طرف ہو کر اور میں مشرکوں سے نہیں۔“
(الأنعام: 79)
اور تمھارا اپنی قوم قبیلہ، برادری، ملک حتیٰ کہ پوری دنیا کے کفار کے سامنے اعلان یہ ہو کہ:
﴿إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ﴾
”کہ اے دنیا والو! ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کرنے والے، تم سے اور جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ان تمام معبودوں سے بری ہیں، لاتعلق ہیں، ہم تمھیں نہ ماننے کا اعلان کرتے ہیں اور ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا ہے یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ۔“
(الممتحنة:4)
میرے محترم قارئین! حقیقت یہ ہے کہ قربانیوں کی اصل لذت اور حقیقی نتائج ہم تبھی حاصل کر پائیں گے جب جانور قربانی کرنے کے ساتھ ساتھ ہم اپنے دلوں میں ابراہیمی اخلاص اور جذبات پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ (آمین!)
مسائل قربانی
قربانی کا حکم :
قربانی ہر صاحب استطاعت پر لازم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان له سعة ولم يضح، فلا يقربن مصلانا.
”کہ جس شخص کے پاس وسعت ہو اور وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہرگز ہماری عید گاہ کے قریب نہ آئے۔“
(سنن ابن ماجہ: 3123)
اس مرفوع حدیث کی سند کو البانی رحمہ اللہ اور الشیخ زبیر علی زئی نے حسن قرار دیا ہے
اسی طرح جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ انہوں نے جلدی کرتے ہوئے نماز عید سے پہلے ہی اپنے جانور قربان کر دیے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان جانوروں کی جگہ اور جانور قربان کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
من ذبح قبل الصلاة، فليذبح مكانها أخرى.
”جس نے قربانی کا جانور عید کی نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہے، وہ اس کی جگہ اور جانور ذبح کرے۔“
(بخاری: 5500، مسلم: 1960)
اسی طرح آپ نے اس دن کے معمول کے بارے میں اپنی سنت اور طریقہ واضح کرتے ہوئے فرمایا :
إن أول ما تبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فتنحر فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا
” کہ یقیناً پہلا کام جس سے ہم اپنے اس دن کا آغاز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم (عید کی) نماز پڑھتے ہیں، پھر واپس جا کر قربانی کرتے ہیں، سو جس شخص نے یہ کیا، اس نے ہماری سنت کو حاصل کر لیا۔“
(بخاری: 968۔ مسلم: 1961)
یعنی آپ کی سنت کو حاصل کرنے والا وہی شخص ہے جو عید الاضحی کی نماز پڑھنے کے بعد قربانی کرتا ہے، ہاں ! جس کے پاس گنجائش ہی نہیں، وہ صاحب استطاعت نہیں تو وہ دیگر عمومی دلائل کی بنیاد پر اس سے مستثنیٰ ہے۔
یاد رہے، یہاں صاحب استطاعت سے مراد صاحب نصاب نہیں ہے جس طرح کئی لوگوں کا خیال ہے کہ جس پر زکوۃ فرض ہو اس پر قربانی فرض ہے۔ یہ خیال غلط ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کوئی دلیل ثابت نہیں ہے۔
قربانی کرنے والے کے لیے بالوں اور ناخنوں کا کاٹنا :
ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد جانور قربانی کرنے تک، قربانی کرنے والے شخص کے لیے اپنے بالوں اور ناخنوں کا کاٹنا اور تراشنا حرام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا رأيتم هلال ذي الحجة وأراد أحدكم أن يضحي فليمسك عن شعره وأظفاره
”کہ جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھو اور تم میں سے کوئی شخص ارادہ رکھتا ہو کہ وہ قربانی کرے گا، تو لازم ہے کہ وہ اپنے بالوں اور ناخنوں سے رک جائے۔“
(صحیح مسلم: 1977)
ایک دوسری روایت میں الفاظ ہیں :
فلا يأخذن من شعره ولا من أظفاره شيئا حتى يضحي
”کہ وہ اپنے بالوں اور ناخنوں میں سے کچھ بھی ہرگز نہ کاٹے، یہاں تک کہ وہ قربانی کرلے۔“
(صحیح مسلم: 1977)
عشرہ ذی الحجہ میں حجامت وغیرہ نہ کروانے کا حکم صرف قربانی کا ارادہ رکھنے والے افراد کے لیے ہے۔ چونکہ ایک گھر کے تمام افراد کی طرف سے ایک جانور کی قربانی کفایت کر جاتی ہے۔ اس لیے ایسی صورت میں یہ پابندی بھی تمام افراد خانہ پر عائد ہوگی۔
لمحر فکریہ :
بہت سارے بھائی ذوالحجہ کا چاند نظر آنے سے قربانی کرنے تک تو اس پابندی کا بحمد اللہ پوری طرح اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن قربانی کرنے کے بعد حجامت کرواتے ہوئے دوسرے بالوں کے ساتھ اپنی داڑھی بھی کٹوا یا منڈوا لیتے ہیں، انھیں اللہ کے لیے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ذوالحجہ کے ابتدائی دنوں میں انھوں نے داڑھی سمیت باقی بالوں اور ناخنوں کو کس کا حکم سمجھ کر نہیں کاٹا؟ یقیناً اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم سمجھ کر، تو پھر انھیں سوچنا چاہیے کہ کیا قربانی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی مونڈھنے یا کاٹنے کی اجازت دی ہے ؟ یقیناً نہیں، بلکہ آپ کی سنت کا حکم ہے آپ نے فرمایا :
خالفوا المشركين وأوفوا اللحى
”کہ مشرکوں کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو بڑھاؤ۔“
(صحیح بخاری: 5892)
دوسری روایت میں آپ کا فرمان یوں مذکور ہے، فرمایا :
انهكوا الشوارب وأعفوا اللحى
”کہ مونچھوں کو اچھی طرح کاٹو اور داڑھیوں کو بڑھاؤ۔“
(بخاري: 5893)
ایک اور حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جروا الشوارب وأرخوا اللحى، خالفوا المجوس
”کہ مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں لٹکاؤ، مجوسیوں کی مخالفت کرو۔“
(مسلم: 260)
ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی بڑھانے کو دس اعمال فطرت میں سے شمار کیا ہے۔
(مسلم: 261)
مذکورہ بالا روایات اور ان کے علاوہ اس حکم پر دلالت کرنے والی بیسیوں روایات یہ بات واضح کرتی ہیں کہ مسلمانوں پر داڑھی بڑھانا فرض ہے اور اسے کٹوانا یا منڈوانا حرام ہے نیز اس میں کسی زمانے یا وقت کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ذوالحجہ کے ابتدائی دنوں میں کٹوائیں یا قربانی کے بعد، برابر کا جرم اور گناہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ مشرکوں، یہودیوں اور مجوسیوں کے ساتھ مشابہت ہے، بالوں کا مثلہ ہے۔ ایسے بھائیوں سے گزارش ہے کہ وہ اللہ کے لیے اس سے باز آ جائیں، اللہ کے دشمنوں کا طریقہ چھوڑ کر انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت اپنائیں۔ اس میں خیر و فلاح پوشیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
قربانی کے جانور کی عمر :
تمام حالات میں قربانی کرتے ہوئے اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری میں سے صرف ”مسنہ“ (دو دانتا) جانور ہی قربان کیا جائے گا۔ اس سے کم عمر کا جانور کفایت نہیں کرے گا۔ لیکن اگر دو دانتا جانور کے حصول میں دشواری پیش آ جائے کہ وہ مل ہی نہ رہا ہو یا مل تو رہا ہو، لیکن بہت مہنگا ہو۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دنبے، چھترے اور بھیڑ کی جنس میں سے ”جذعہ“ (کھیرا جانور) قربان کرنے کی اجازت دی ہے۔ چنانچہ آپ کا فرمان ہے، فرمایا :
لا تذبحوا إلا مسنة إلا أن يعسر عليكم فتذبحوا جذعة من الضأن
”کہ دو دانت والے کے علاوہ کسی اور جانور کی قربانی نہ کرو، مگر یہ کہ تم پر مشکل ہو جائے تو بھیڑ، چھترے، دنبے والی جنس سے جذعہ ذبح کر لو۔“
(مسلم: 1963)
بھیڑ کے جذعہ (جس کو دشواری کی صورت میں دو دانتا جانور کی جگہ قربان کرنے کی مندرجہ بالا حدیث میں اجازت دی گئی ہے) کی عمر کے متعلق اہل علم کے مختلف اقوال ہیں۔ صحیح ترین بات یہ ہے کہ جذعہ وہ ہے کہ جس کی عمر ایک سال پوری ہو چکی ہو، جمہور اہل علم بھی اس بات کے قائل ہیں۔
(فتح الباری: 5/10)
یہاں یہ خیال رہے کہ اونٹ، گائے اور بکری کی جنس میں سے کھیرا (جذعہ) کسی صورت قربانی کے لیے جائز نہیں ہے۔ چاہے وہ خوب موٹا، تازہ، صحت مند اور گھر کا پالا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔ بلکہ دو دانتا ہونا لازمی اور ضروری ہے، اس سلسلے میں پوری طرح خبر دار رہنا چاہیے اور جانور بیچنے والوں کی باتوں کا کسی صورت اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔
قربانی کے لیے موٹا، تازہ اور خوبصورت جانور :
قربانی کا جانور خوبصورت، موٹا، تازہ اور صحت مند ہونا چاہیے۔ چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ کرتے تو دو بڑے بڑے، موٹے تازے، سینگوں والے، چتکبرے، خصی مینڈھے خریدتے۔ (سنن ابن ماجہ: 3122) اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی قربانی کے جانوروں کو (کھلا پلا کر) خوب موٹا تازہ کیا کرتے تھے۔ (بخاری تعلیقاً قبل الحدیث: 5553)
خصی جانور کی قربانی :
خصی اور غیر خصی دونوں قسم کے جانور قربانی کیے جا سکتے ہیں۔ خصی ہونا عیوب میں شامل نہیں۔ جیسا کہ مندرجہ بالا حدیث (ابن ماجہ: 3122) سے واضح ہے۔
قربانی سے مانع عیوب :
قربانی کا جانور خریدتے وقت خوب اچھی طرح دیکھ لینا چاہیے کہ اس میں کسی قسم کا کوئی عیب نہ ہو، عیب دار جانور خریدنے کے معاملہ میں کسی قسم کی نرمی یا رواداری سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ اس پر بھی قربانی کی قبولیت کا دارو مدار ہے۔ جو جانور اپنے عیوب کی وجہ سے قربانی نہیں کیے جا سکتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تفصیل بیان فرما دی ہے، چنانچہ علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نستشرف العين والأذن ، ولا نضحي بشرقاء ، ولا خرقاء ، ولا مقابلة ، ولا مدابرة
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (قربانی کے جانوروں کی) آنکھیں اور کان اچھی طرح دیکھ لیا کریں اور ایسے جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان چرا ہوا ہو، یا اس کے کان میں سوراخ ہو یا اس کا کان اگلی جانب سے کٹا ہو، اور نہ ایسے جانور کی قربانی کریں کہ جس کا کان پچھلی جانب سے کترا ہوا ہو۔
(مسند أحمد: 128/1 رقم الحدیث: 1065)
اسی طرح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى أن يضحى بأعضب القرن والأذن
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ٹوٹے سینگ والے اور کٹے ہوئے کان والے جانور کی قربانی کی جائے۔
(ابن ماجه: 3145ـ أبو داود: 2805- ترمذی: 1504)
خیال رہے کہ بعض اوقات سینگ کے اوپر سے خول اتر جاتا ہے، نیچے سینگ بالکل صحیح سلامت ہوتا ہے، ایسا جانور اس ممانعت میں شامل نہیں ہے۔ لیکن اگر سینگ ٹوٹ چکا ہے، تھوڑا یا زیادہ، دیوار پر ٹکر مارنے سے، جانور کی اپنی ہی زنجیر میں سینگ پھنسنے سے، مالک کے مارنے سے، یا جانوروں کی باہم لڑائی میں، خریدنے سے پہلے یا بعد میں تو ایسے جانور کا قربانی کرنا درست نہیں ہے۔
قربانی میں کفایت نہ کرنے والے جانوروں کی تفصیل ایک اور حدیث میں یوں مذکور ہے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے جب سوال کیا گیا کہ قربانی کرتے ہوئے کس کس جانور کی قربانی جائز نہیں ہے؟ تو انھوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا :
أربع لا تجوز فى الإضحية : العوراء بين عورها والمريضة بين مرضها والعرجاء بين طلعها والكسير التى لا تنقى
”چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں ہیں: یک چشم (کانا) کہ جس کا یک چشم ہونا واضح ہو، بیمار کہ جس کی بیماری نمایاں ہو، لنگڑا کہ جس کا لنگڑا پن واضح ہو اور ایسا لاغر، بے جان جانور کہ جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔“
(أبو داود: 2802 واللفظ له ترمذی: 1497 – نسائی: 4374۔ ابن ماجه: 3144)
خلاصہ کلام یہ کہ مندرجہ ذیل عیوب والے جانوروں کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے۔
① جس کا کان کسی طرح بھی کٹا ہوا ہو یا اس میں سوراخ کیا گیا ہو۔
② جس کا سینگ (تھوڑا یا زیادہ) ٹوٹ گیا ہو۔
③ کانا کہ جس کا کانا پن صاف معلوم ہو رہا ہو۔
④ بیمار کہ جس کی بیماری واضح محسوس ہو رہی ہو۔
⑤ لنگڑا کہ جس کا لنگڑا پن نمایاں ہو۔
⑥ انتہائی لاغر، کمزور، مریل، دبلا پتلا کہ جس کی ہڈیوں کا روغن اور گودا تک ختم ہو چکا ہو۔
قربانی کا وقت :
قربانی کا وقت نماز عید کی ادائیگی کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ نماز عید کی ادائیگی سے پہلے جانور قربان کرنے کی صورت میں قربانی نہیں ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
من ذبح قبل فإنما هو لحم قدمه لأهله ، ليس من النسك فى شيء
”جس شخص نے نماز عید سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کر لیا تو وہ تو صرف گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا ہے، قربانی میں سے کچھ نہیں ہے۔“
(صحیح بخاری: 5545۔ مسلم: 1961)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق نماز عید سے پہلے قربانی کرنے والے شخص کو اس قربانی کی جگہ نماز عید کے بعد دوسری قربانی کرنا ہوگی۔
(بخاری: 5562- مسلم: 1960)
خیال رہے کہ اس معاملہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر یا دیہات میں کوئی تفریق نہیں فرمائی، کوئی شخص شہر میں ہے یا دیہات میں، قربانی تبھی بنے گی جب وہ عید کی نماز پڑھنے کے بعد قربانی کا جانور ذبح کرے گا۔ یہ دعویٰ کہ دیہات یا گاؤں والے فجر کی نماز کے بعد بھی قربانی کر لیں تو ان کی قربانی ہو جائے گی، غلط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کی کوئی تفریق یا ایسا کوئی حکم ثابت نہیں ہے۔
قربانی کے دن اور سب سے زیادہ فضیلت والا دن:
قربانی عید الاضحی کے دن (یعنی 10 ذوالحجہ کو) کرنا بہت زیادہ فضیلت کا حامل ہے۔ کیونکہ عید کا دن ان ایام (ایام عشرہ) میں داخل ہے کہ جن میں کیا جانے والا نیک عمل اللہ کے نزدیک سال کے باقی تمام دنوں میں کیے جانے والے نیک عمل سے زیادہ محبوب اور افضل ہے۔ اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل بھی پہلے دن کا ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے 100 اونٹ نحر کیے، اور سب کے سب پہلے دن یعنی 10 ذوالحجہ کو نحر کیے۔
(مسلم: 1318)
باقی جہاں تک قربانی جائز ہونے کی بات ہے تو سارے ایام تشریق (گیارہ، بارہ، تیرہ ذوالحجہ) قربانی کے دن ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل أيام التشريق ذبح
”سارے ایام تشریق ذبح کے دن ہیں۔“
(مسند أحمد: 82/4 رقم الحدیث: 16756ـ صحیح ابن حبان: 3854- سنن الدارقطني: 4758 – سلسلة الاحادیث الصحیحة: 2476)
خلاصہ کلام یہ کہ 10 ذوالحجہ کو نماز عید کی ادائیگی کے بعد قربانی کا وقت شروع ہوتا ہے اور 13 ذوالحجہ کو سورج غروب ہونے تک رہتا ہے۔
رات کے وقت قربانی :
قربانی دن یا رات کسی وقت بھی کی جا سکتی ہے۔ رات کے وقت قربانی سے منع کی کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ہے۔
سارے گھر والوں کی طرف سے قربانی :
سارے گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی کفایت کر جاتی ہے۔ گھر کے ہر فرد کی طرف سے الگ الگ قربانی کرنا ضروری نہیں ہے۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ قربانیاں کیسے کرتے تھے؟ تو انھوں نے جواب دیا:
كان الرجل فى عهد النبى صلى الله عليه وسلم يضحي بالشاة عنه وعن أهل بيته
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بابرکت دور میں آدمی اپنی اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک قربانی دیا کرتا تھا۔
(ترمذی: 1505 ـ ابن ماجه: 3147)
قربانی کرتے ہوئے اونٹ یا گائے میں شراکت :
حج اور عمرہ کے موقع پر اونٹ اور گائے کی قربانی (ھدی) میں سات، سات افراد شریک ہو سکتے ہیں۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے لبیک پکارتے ہوئے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم سات آدمی ایک اونٹ یا گائے میں شریک ہو جائیں۔
(مسلم: 1213)
جبکہ حاجی یا معتمر کے علاوہ کی طرف سے کی جانے والی قربانی (اضحیۃ) کی صورت میں گائے میں سات اور اونٹ میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى سفر فحضر الأضحى فاشتركنا فى البقرة سبعة وفي البعير عشرة
”کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے کہ عید الاضحی آ گئی تو ہم گائے کی قربانی میں سات اور اونٹ کی قربانی میں دس افراد شریک ہوئے۔“
(ترمذی: 1501 – نسائی: 4397 و ابن ماجه: 3131)
جانور کو بوقت ذبح قبلہ رخ کرنا :
جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی سنت مطہرہ سے ثابت ہے۔
(ابوداؤد: 2795)
قربانی خود ذبح کرنا :
قربانی کا جانور کسی دوسرے سے ذبح کروانا بھی جائز ہے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول یہی تھا کہ آپ خود قربانی ذبح فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يضحي بكبشين أملحين أقرنين ووضع رجله على صفحتهما ويذبحهما بيده
”کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو چتکبرے، سینگوں والے مینڈھے قربان کرتے تھے، آپ اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھتے اور انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے۔“
(بخاری: 5564)
قربانی کی دعا :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے وقت بسم الله والله أكبر پڑھا کرتے تھے۔
(بخاری: 5565 – مسلم: 1966)
جانور ذبح كرنے كے آداب :
جانور کو ذبح کرنے کے لیے چھری کو خوب اچھی طرح تیز کر لینا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قربانی کے لیے مینڈھا لایا گیا تو آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے چھری منگوائی اور انھیں حکم دیا: إشحذيها بحجر ”اس کو پتھر کے ساتھ تیز کرو۔“
(صحیح مسلم: 1967)
اسی طرح شداد بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله كتب الإحسان على كل شيء ، فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرته فليرح ذبيحته
”یقیناً اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض کیا ہے، سو جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو اور تم میں سے ایک اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔“
(مسلم: 1955)
امام نووی رحمہ اللہ اسی حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ ذبح کرنے والا چھری تیز کرنے اور اسے تیزی سے چلانے کے ساتھ اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے اور مستحب ہے کہ ذبیحہ کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے اور ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح نہ کیا جائے اور جانور کو ذبح کرنے کی جگہ گھسیٹ کر نہ لے جایا جائے۔
(شرح النووی: 107/13)
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ذبح کے لیے بکری کو زمین پر ڈال رکھا تھا اور خود اپنی چھری تیز کر رہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ اسے کئی موتیں مارے تو نے اسے لٹانے سے پہلے اپنی چھری کو تیز کیوں نہ کیا؟
(مستدرك حاکم: 257/4 و سلسلة الأحادیث الصحیحة: 20/10، 3130)
ذبح کرنے کے بعد جانور کی گردن مروڑ کر اس کا منکا نہ توڑا جائے اور نہ ہی چھری کی نوک کو گردن کی ہڈی میں موجود حرام مغز میں مارا جائے۔ اس طرح جانور کا خون پوری طرح باہر نہیں نکل پاتا اور اس کا گوشت طبی طور پر نقصان دہ ہو جاتا ہے۔ ذبح کرنے کے بعد جانور کو تسلی سے ٹھنڈا ہونے دیں، اس کا خون اپنے طبعی بہاؤ سے باہر نکلنے دیں۔ جب تک جانور مکمل طور پر ساکت نہ ہو جائے، کھال اتارنے کا آغاز نہ کریں۔
قربانی میں وکالت :
قربانی خریدنے میں کسی دوسرے کو وکیل مقرر کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عروۃ بن ابی الجعد البارقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں قربانی کا جانور خریدنے کے لیے ایک دینار دیا۔ انھوں نے آپ کے لیے اس سے دو بکریاں خرید لیں۔ پھر ان دونوں میں سے ایک کو ایک دینار میں بیچ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دینار اور ایک بکری لے کر حاضر ہو گئے۔ آپ نے انھیں تجارت میں برکت کی دعا دی پھر اگر وہ مٹی بھی خریدتے تو انھیں اس میں نفع ہوتا۔
(بخاری: 3642)
اسی طرح قربانی ذبح کرنے اور گوشت وغیرہ تقسیم کرنے کا معاملہ بھی کسی دوسرے کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قربان کیے جانے والے (100) اونٹوں میں (63) اونٹ اپنے دست مبارک سے قربان کیے پھر علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو ذمہ داری سونپی تو باقی (37) اونٹ انھوں نے نحر کیے۔
(مسلم: 1318)
اسی طرح قربانی کا گوشت اور کھال تقسیم کرنے کی ذمہ داری بھی علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے نبھائی۔
(بخاری: 1716۔ مسلم: 1317)
لیکن اس میں یہ خیال لازم رکھنا چاہیے کہ وکیل (جسے قربانی کی رقم دے کر قربانی ذبح کرنے اور گوشت وغیرہ تقسیم کرنے کی ذمہ داری دی جا رہی ہے) قربانی سے متعلقہ مسائل و معاملات سے خوب واقف، نیک، صالح اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہو۔ کیونکہ قربانی ایک عبادت ہے اور یہ باتیں کسی بھی عبادت کے کرنے اور اس کے قبول ہونے میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
(وطن عزیز پاکستان میں ”فلاح انسانیت فاؤنڈیشن“ ہر سال عید الاضحی کے موقع پر قدرتی آفات (سیلاب، زلزلہ وغیرہ) سے متاثر لوگوں، غرباء، مساکین، مہاجرین، مجاہدین اور شہداء کے یتیم بچوں اور بیوگان تک قربانی پہنچانے کے لیے قربانی پروگرام کے تحت ملک بھر سے قربانی کے جانور یا ان کی خریداری کے لیے نقد رقوم اکٹھی کرتی ہے۔ اور پھر باقاعدہ ایک ترتیب کے ساتھ مستحقین تک قربانیاں پہنچاتی ہے۔ قربانیوں کی خریداری، تقسیم اور ذبح کرنے جیسے تمام معاملات میں شرعی حدود و قیود کا پورا خیال رکھا جاتا ہے۔ صاحب استطاعت حضرات بالخصوص ایک سے زیادہ قربانیاں کرنے والے لوگوں کو اس پروگرام میں ضرور شریک ہونا چاہیے اور بروقت قربانی کے جانور یا ان کی قیمت” فلاح انسانیت فاؤنڈیشن“ کے مراکز، دفاتر یا ذمہ داران و مسئولین کو جمع کروا کر مستحقین کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کرنا چاہیے۔)
قربانی کے گوشت کی تقسیم :
قرآن وسنت کی روشنی میں جائز ہے کہ قربانی کا گوشت خود کھائے، گھر والوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دیگر فقراء و مساکین کو کھلائے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ﴾
”سو ان ميں سے كهاؤ اور تنگ دست محتاج كو كهلاؤ.“
(الحج: 28)
دوسری جگہ فرمایا:
﴿فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ﴾
”تو ان سے کچھ کھاؤ اور قناعت کرنے والے کو کھلاؤ اور مانگنے والے کو بھی۔“
(الحج: 36)
قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنا :
قربانی کرنے والا قربانی کا گوشت ذخیرہ بھی کر سکتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال مفلوک الحال غریب بدوی لوگوں کے مدینہ آنے پر حکم دیا:
من ضحي منكم، فلا يصبحن بعد ثالثة وبقي فى بيته منه شيء
”کہ تم میں سے جس نے قربانی کرے، تو تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں اس قربانی کے گوشت میں سے کچھ باقی نہ ہو۔“
اگلے سال لوگوں نے عرض کی، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا اس سال بھی ہم اسی طرح کریں جس طرح پچھلے سال کیا تھا؟ آپ نے فرمایا:
كلوا وأطعموا وادخروا فإن ذلك العام كان بالناس جهد فأردت أن تعينوا فيها
”نہیں، بلکہ کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرو، پچھلے سال لوگ تنگی میں تھے، تو میں نے چاہا کہ تم ان کی اس تنگی میں مدد کرو۔“
(بخاری: 5569 – مسلم: 1974)
قربانی کی کھال بیچنا :
قربانی کرنے والے کے لیے قربانی کے گوشت کی طرح اپنی قربانی کی کھال بیچنا بھی منع ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من باع جلد أضحيته فلا أضحية له
”جس نے اپنی قربانی کی کھال فروخت کی، اس کی کوئی قربانی نہیں۔“
(مستدرك حاکم: 3468 – علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔ دیکھیے صحیح وضعیف الجامع الصغیر: 11063)
قربانی کا گوشت، کھال یا کوئی بھی چیز قصاب کی مزدوری میں دینا :
اگر قربانی کی کھال، قربانی کا گوشت یا قربانی کے جانور کی کوئی اور چیز سری، پائے، اوجھری، کلیجی وغیرہ قصاب کو بطور اجرت دینا حرام ہے۔ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم أمره أن يقوم على بدنه وأن يقسم بدنه كلها لحومها وجلودها وجلالها ولا يعطي فى حزارتها شيئا
کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ آپ کی قربانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور ان کی ہر چیز، ان کے گوشت، کھالیں اور جھول تقسیم کر دیں اور (ان میں سے) قصاب کی مزدوری میں کوئی چیز نہ دیں۔
(بخاری: 1717 – مسلم: 1317)
دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے اس پر مزید فرمایا:
نحن نعطيه من عندنا
”کہ ہم قصاب کو اس کی مزدوری اپنے پاس سے دے دیں گے۔“
(مسلم: 1317)
قربانی کی کھالوں کا مصرف :
مصرف قربانی کی کھال کا بھی وہی ہے جو قربانی کے گوشت کا ہے یعنی خود بھی استعمال کر سکتا ہے، احباب و اقرباء کو بھی دے سکتا ہے اور صدقہ بھی کر سکتا ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قربانی کے دنوں میں کچھ بدوی لوگ مدینہ میں آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین دن کے لیے گوشت رکھ کر باقی صدقہ کر دو۔ پھر جب اگلا سال آیا تو لوگوں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! لوگ اپنی قربانیوں (کی کھالوں) سے مشکیزے بناتے ہیں اور چربی پگھلاتے ہیں (کیا ہم بھی ایسا کر سکتے ہیں؟) آپ نے فرمایا تو مسئلہ کیا ہے؟ انھوں نے عرض کیا: ”آپ نے تین دن کے بعد قربانی کے گوشت کھانے سے منع کیا ہوا ہے“ تو آپ نے فرمایا: ”میں نے تو تمھیں صرف باہر سے آنے والے غرباء کی وجہ سے منع کیا تھا۔ اب تم کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔“
(مسلم: 1971)
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ قربانی کے گوشت کی طرح قربانی کی کھال خود استعمال کرتے ہوئے مشکیزہ اور مصلی وغیرہ بنا سکتا ہے، دوستوں اور رشتہ داروں کو دے سکتا ہے اور صدقہ بھی کر سکتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا عمل حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أهدى النبى صلى الله عليه وسلم مئة بدنة فأمرني بلحومها فقسمتها ثم أمرني بجلالها فقسمتها ثم بجنودها فقسمتها
”کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹ قربان کیے، پھر مجھے ان کے گوشت کے بارے میں حکم دیا تو میں نے اسے تقسیم کر دیا، پھر آپ نے مجھے ان کی جھولوں کے متعلق حکم دیا میں نے وہ بھی تقسیم کر دیں پھر آپ نے مجھے ان کی کھالوں کے متعلق حکم دیا تو میں نے وہ بھی تقسیم کر دیں۔ “
(بخاری: 1718)
دوسری روایت میں ہے:
وأمره أن يقسم بدنه كلها لحومها وجلودها وجلالها فى المساكين
”کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ کے قربانی کے اونٹوں کو کلی طور پر مساکین میں تقسیم کر دیں، ان کے گوشت کو، ان کی کھالوں کو اور ان کی جھولوں کو۔“
(مسلم: 1317)
معلوم ہوا کہ قربانی کی کھالیں خود استعمال نہ کرنی ہوں تو مساکین میں تقسیم کر دینا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی ہے۔ لیکن مساکین ایسے تلاش کرنے چاہییں جو صحیح العقیدہ، نمازی، پرہیزگار، اللہ کی حدوں کا خیال رکھنے والے اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد کرنے والے ہوں۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مساکین کو کھالیں دینے کا حکم دیا تھا وہ سب کے سب ان اوصاف سے متصف تھے۔ آپ کے دور مسعور میں کوئی مسلمان ایسا نہ تھا جو بے نماز ہو یا جہاد فی سبیل اللہ میں شریک نہ ہوتا ہو۔