مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عشاء کی جماعت کے وقت فوت شدہ مغرب کی ادائیگی کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی علمیہ، جلد1، كتاب الصلاة۔صفحہ 295

عشاء کی جماعت کے ساتھ مغرب کی نماز کا مسئلہ

سوال:

اگر کسی شخص کی مغرب کی نماز فوت ہوگئی ہو اور جب وہ مسجد پہنچے تو وہاں عشاء کی جماعت ہو رہی ہو، تو کیا وہ شخص مغرب کی نیت سے تین رکعت پڑھ کر سلام پھیر دے اور بعد میں جماعت کے ساتھ شامل ہو جائے؟ یا پھر عشاء کی نیت سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے اور بعد میں مغرب ادا کرے؟
(محمد شاہد میمن)

الجواب:

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

چونکہ عشاء کی نماز چار رکعت ہے، اس لیے اگر عشاء کی جماعت ہو رہی ہو تو:

◈ عشاء کی نیت سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ لے۔

◈ اس کے بعد فوت شدہ مغرب کی نماز علیحدہ سے ادا کرے۔

📌 یاد رکھیں:
مغرب کی نماز چونکہ تین رکعت ہے اور اس کی جماعت الگ ترتیب سے ہوتی ہے، اس لیے اسے عشاء کی جماعت کے دوران مغرب کی نیت سے ادا کرنا درست نہیں ہوگا۔

ھذا ما عندي، واللہ أعلم بالصواب۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔