مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون انسان کے سفرِ حیات کے تیسرے مرحلے قبر یا عالمِ برزخ سے متعلق ہے۔ انسان کی زندگی چار ادوار پر مشتمل ہے: ماں کے پیٹ کی زندگی، دنیا کی زندگی، قبر کی زندگی اور آخرت کی ابدی زندگی۔ دنیا میں انسان جو کچھ کماتا ہے، اس کا پہلا عملی نتیجہ قبر میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی اور نہایت اہم منزل ہے۔ اس مضمون میں ہم قبر کی حقیقت، اس کی سختی، قبر میں سوالات، نعمتیں اور عذاب، نیز ان اعمال کا ذکر کریں گے جو عذابِ قبر سے نجات کا سبب بنتے ہیں، جیسا کہ قرآن و صحیح احادیث سے ثابت ہے۔
قبر: آخرت کی پہلی منزل
انسان کے سفرِ آخرت کا آغاز موت سے ہوتا ہے اور موت کے فوراً بعد پہلی منزل قبر ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جس کے تصور سے ہی ایک سچے مومن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے غلام ہانی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب قبر پر کھڑے ہوتے تو اتنا روتے کہ داڑھی مبارک تر ہو جاتی۔ کسی نے پوچھا کہ آپ جنت و جہنم کا ذکر سن کر اتنا نہیں روتے جتنا قبر کو دیکھ کر روتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
(( إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الْآخِرَۃِ، فَإِنْ نَجَا مِنْہُ أَحَدٌ فَمَا بَعْدَہُ أَیْسَرُ مِنْہُ، وَإِنْ لَّمْ یَنْجُ مِنْہُ فَمَا بَعْدَہُ أَشَدُّ مِنْہُ ))
حوالہ: سنن الترمذی: 2308، ابن ماجہ: 4267، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
’’بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے۔ اگر انسان اس میں نجات پا گیا تو اس کے بعد آنے والی منزلیں آسان ہوں گی، اور اگر اس میں نجات نہ پا سکا تو بعد کی منزلیں اس سے زیادہ سخت ہوں گی۔‘‘
قبر کا میت کو دبانا (ضمّۃ القبر)
تدفین کے بعد قبر میت کو دباتی ہے، چاہے میت نیک اور صالح ہی کیوں نہ ہو۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:
(( ہٰذَا الَّذِیْ تَحَرَّکَ لَہُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَہُ أَبْوَابُ السَّمَائِ، وَشَہِدَہُ سَبْعُوْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ، لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّۃً ثُمَّ فُرِّجَ عَنْہُ ))
حوالہ: سنن النسائی: 2055، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
’’یہ وہ شخص ہے جس کے لیے رحمن کا عرش ہل گیا، جس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور جس کے جنازے میں ستر ہزار فرشتوں نے شرکت کی، اس کے باوجود اسے قبر نے دبایا، پھر اسے چھوڑ دیا گیا۔‘‘
اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
(( إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَۃً، لَوْ نَجَا مِنْہَا أَحَدٌ لَنَجَا مِنْہَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ ))
حوالہ: مسند احمد، البغوی، وصححہ الالبانی فی الصحیحۃ: 1695
ترجمہ:
’’بے شک قبر کا دبانا حق ہے، اگر کوئی اس سے بچ سکتا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ضرور بچ جاتے۔‘‘
علماء نے وضاحت کی ہے کہ قبر ہر نیک و بد کو دباتی ہے، لیکن مومن کے لیے یہ دبانا عارضی ہوتا ہے، پھر قبر اس کے لیے کشادہ کر دی جاتی ہے، جبکہ کافر کے لیے یہ عذاب کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
حوالہ: التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی: 234-235
قبر میں فرشتوں کے سوالات
اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ ہے کہ قبر میں میت سے سوالات کیے جاتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
حوالہ: سنن ابن ماجہ: 4268، وصححہ الالبانی
ترجمہ :
نیک مومن سے اس کے رب، دین اور نبی ﷺ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، وہ درست جواب دیتا ہے، اسے جنت کی نعمتیں دکھائی جاتی ہیں اور اس کی قبر کشادہ ہو جاتی ہے۔ جبکہ بدکار اور کافر جواب نہیں دے پاتا، اسے جہنم دکھائی جاتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے۔
قبر کی زندگی حق ہے
اور یہ دنیاوی زندگی کے بعد انسان کی پہلی آزمائش گاہ ہے۔ قرآن و حدیث میں قبر میں نعمتوں اور عذاب دونوں کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔ اس حصے میں ہم عذابِ قبر کی حقیقت، اس کے غیبی ہونے کی حکمت اور قرآن و سنت سے اس کے واضح دلائل پیش کریں گے۔
میت کو اس کا ٹھکانا صبح و شام دکھایا جاتا ہے
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَیْہِ مَقْعَدُہُ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ، إِنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فَمِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ، وَإِنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ النَّارِ فَمِنْ أَہْلِ النَّارِ، یُقَالُ: ہَذَا مَقْعَدُکَ حَتّٰی یَبْعَثَکَ اللّٰہُ إِلَیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ))
حوالہ: صحیح البخاری: 1379، صحیح مسلم: 2866
ترجمہ:
’’تم میں سے جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا صبح و شام اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت کا ٹھکانا اور اگر جہنمی ہے تو جہنم کا ٹھکانا۔ اور اس سے کہا جاتا ہے: یہی تمھارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمھیں قیامت کے دن اٹھائے۔‘‘
قبر کے لیے تیاری کرو
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(( یَا إِخْوَانِیْ! لِمِثْلِ ہٰذَا فَأَعِدُّوْا ))
حوالہ: سنن ابن ماجہ: 4195، وصححہ الالبانی فی الصحیحۃ: 1751
ترجمہ:
’’اے میرے بھائیو! ایسے ہی دن کے لیے تم بھی تیاری کر لو۔‘‘
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ قبر مقامِ عبرت ہے اور اس کے لیے تیاری صرف ایمان اور عملِ صالح کے ذریعے ممکن ہے۔
میت کے ساتھ جانے والی چیزیں
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:
(( یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ، فَیَرْجِعُ اثْنَانِ وَیَبْقٰی مَعَہُ وَاحِدٌ… ))
حوالہ: صحیح البخاری: 6514، صحیح مسلم: 296
ترجمہ:
’’میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں: اس کے گھر والے، اس کا مال اور اس کا عمل۔ پھر گھر والے اور مال واپس آ جاتے ہیں اور اس کا عمل اس کے ساتھ رہ جاتا ہے۔‘‘
عذابِ قبر: ایک غیبی حقیقت
عذابِ قبر غیبی امور میں سے ہے، جس کی حقیقت ہمیں صرف قرآن و حدیث کے ذریعے معلوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے زندہ لوگوں کو مردوں کے عذاب سے بے خبر رکھا ہے، تاکہ:
➊ زندہ لوگ شدید صدمے اور مایوسی میں مبتلا نہ ہوں
➋ میت کی رسوائی نہ ہو
➌ لوگ دفن کرنا ترک نہ کر دیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَوْ لَا أَنْ لَّا تَدَافَنُوْا لَدَعَوْتُ اللّٰہَ أَنْ یُّسْمِعَکُمْ مِّنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ))
حوالہ: صحیح مسلم: 2868
ترجمہ:
’’اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم مردوں کو دفنانا چھوڑ دو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمھیں عذابِ قبر میں سے کچھ سنا دے۔‘‘
عذابِ قبر برحق ہے (قرآنی دلائل)
➊ قرآن مجید
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿اَلنَّارُ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْہَا غُدُوًّا وَّعَشِیًّا وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ أَدْخِلُوْا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾
حوالہ: المؤمن: 40:46
ترجمہ:
’’وہ آگ ہے جس کے سامنے یہ ہر صبح و شام پیش کیے جاتے ہیں، اور جس دن قیامت قائم ہو گی (فرمان ہو گا): آلِ فرعون کو سخت ترین عذاب میں داخل کر دو۔‘‘
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
(وَہٰذِہِ الْآیَۃُ أَصْلٌ کَبِیْرٌ فِیْ اسْتِدْلَالِ أَہْلِ السُّنَّۃِ عَلیٰ عَذَابِ الْبَرْزَخِ)
حوالہ: تفسیر ابن کثیر: 4/82
عذابِ قبر پر احادیث کے دلائل
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(( إِنَّہُمَا لَیُعَذَّبَانِ… ))
حوالہ: صحیح البخاری: 1378، صحیح مسلم: 292
ترجمہ:
’’ان دونوں قبروں والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ کسی معمولی گناہ کی وجہ سے نہیں بلکہ بڑا گناہ ہے: ایک چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔‘‘
اسی سے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( أَکْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ مِنَ الْبَوْلِ ))
حوالہ: سنن ابن ماجہ: 348، صحیح الجامع: 1202
ترجمہ:
’’قبر کا زیادہ تر عذاب پیشاب سے نہ بچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔‘‘
نبی ﷺ کی عذابِ قبر سے پناہ کی دعا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
(( اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ… ))
حوالہ: صحیح البخاری: 1377
ترجمہ:
’’اے اللہ! میں عذابِ قبر، عذابِ جہنم، زندگی اور موت کے فتنوں اور مسیح دجال کے فتنہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‘‘
یہ حدیث اس بات کی صریح دلیل ہے کہ عذابِ قبر حق ہے۔
عذابِ قبر کی مختلف شکلیں
➊ لوہے کے ہتھوڑوں سے مارا جانا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِہٖ وَتَوَلّٰی عَنْہُ أَصْحَابُہُ، وَإِنَّہُ لَیَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِہِمْ… ))
حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر: 1374
ترجمہ:
’’جب بندے کو قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفنانے والے واپس لوٹ جاتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں، اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تم اس شخص (محمد ﷺ) کے بارے میں کیا کہتے تھے؟
مومن کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
تو اس سے کہا جاتا ہے: جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھو، اللہ نے اس کے بدلے تمھیں جنت کا ٹھکانا عطا کیا ہے۔
اور منافق و کافر سے جب یہی سوال کیا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے: مجھے نہیں معلوم، میں تو وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے۔
تو اسے کہا جاتا ہے: نہ تو نے جانا اور نہ پڑھا۔ پھر اس کے دونوں کانوں کے درمیان لوہے کے ہتھوڑوں سے ایسا مارا جاتا ہے کہ وہ چیخ اٹھتا ہے، اور اس کی چیخ جن و انس کے سوا سب سنتے ہیں۔‘‘
صحیح مسلم کی روایت میں اضافہ ہے کہ مومن کے لیے قبر ستر ہاتھ تک کشادہ کر دی جاتی ہے اور نعمتوں سے بھر دی جاتی ہے۔
حوالہ: صحیح مسلم: 2870
➋ قبر میں جہنم کی آگ کا بستر
➌ جہنم کی آگ کا لباس
➍ جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جانا
➎ قبر کو انتہائی تنگ کر دینا
➏ لوہے کی سلاخ سے مارا جانا
➐ آخرت کے شدید عذاب کی دھمکی دینا
یہ تمام صورتیں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی طویل اور مشہور حدیث میں بیان ہوئی ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کافر کی روح کو آسمان سے زمین کی طرف پھینکا جاتا ہے، پھر وہ جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ دو فرشتے آتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں:
❀ تمھارا رب کون ہے؟
❀ تمھارا دین کیا ہے؟
❀ تمھارا نبی کون ہے؟
وہ جواب نہیں دے پاتا۔ تو آسمان سے نداء آتی ہے کہ اس نے جھوٹ بولا ہے، لہٰذا اس کے لیے جہنم کا بستر بچھا دو، جہنم کا لباس پہنا دو اور جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔
اس کی قبر اس قدر تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسری میں پیوست ہو جاتی ہیں۔
پھر ایک بدصورت شخص آتا ہے اور کہتا ہے: میں تمھارا برا عمل ہوں۔
اس کے بعد ایک اندھا، بہرا اور گونگا فرشتہ اس پر مقرر کر دیا جاتا ہے جو لوہے کی سلاخ سے اسے مارتا ہے، اور وہ ایسی چیخ مارتا ہے جسے جن و انس کے سوا سب سنتے ہیں۔
حوالہ: سنن ابی داؤد: 4753، مسند احمد: 17803
وصححہ الالبانی فی احکام الجنائز: ص 156
➑ زمین میں دھنسا دیا جانا
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(( بَیْنَمَا رَجُلٌ یَجُرُّ إِزَارَہُ مِنَ الْخُیَلَاءِ خُسِفَ بِہٖ… ))
حوالہ: صحیح البخاری: 5343، صحیح مسلم: 3894
ترجمہ:
’’ایک شخص تکبر کے ساتھ اپنی چادر گھسیٹ رہا تھا تو اسے زمین میں دھنسا دیا گیا، اور وہ قیامت تک زمین میں دھنسایا جاتا رہے گا۔‘‘
➒ باچھوں کو گدی تک چیرنا
➓ سر کو پتھر سے کچلنا
⑪ آگ کے تنور میں جلانا
⑫ خون کی نہر میں پتھروں سے مارنا
یہ تمام عذاب رسول اللہ ﷺ کے خواب میں دکھائے گئے، جیسا کہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں آتا ہے۔
حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الجنائز: 1386، 7047
تشریح کے مطابق:
◈ باچھیں چیرے جانے والے: جھوٹ پھیلانے والے
◈ سر کچلے جانے والے: قرآن سیکھ کر اس پر عمل نہ کرنے والے
◈ تنور میں جلنے والے: زانی مرد و عورت
◈ خون کی نہر میں مارے جانے والے: سود خور
⑬ تانبے کے ناخنوں سے چہرے اور سینے نوچنا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
(( لَہُمْ أَظْفَارٌ مِنْ نُحَاسٍ یَخْمِشُوْنَ وُجُوْہَہُمْ وَصُدُوْرَہُمْ ))
حوالہ: سنن ابی داؤد: 4878، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
’’یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (غیبت کرتے تھے) اور ان کی عزتوں پر حملہ کرتے تھے۔‘‘
⑭ چوری شدہ مال کے ساتھ جلایا جانا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے موقع پر ایک شخص شہید ہوا، صحابہ نے کہا: اسے شہادت مبارک ہو، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’ہرگز نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، اس نے جو چادر غنیمت کے مال سے چرائی تھی، وہی اس پر آگ بن کر جل رہی ہے۔‘‘
حوالہ: صحیح البخاری: 4234، صحیح مسلم: 115
قبر میں مومن کو عطا کی جانے والی نعمتیں
عملِ صالح: قبر میں مومن کا ساتھی
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث میں مومن کے حال کا ذکر بھی موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’پھر مومن کی روح کو زمین کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اور وہ اس کے جسم میں واپس آ جاتی ہے۔ جب اس کے ساتھی اسے دفن کر کے واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں، اسے جھڑک کر بٹھاتے ہیں اور اس سے سوال کرتے ہیں:
تمھارا رب کون ہے؟
وہ جواب دیتا ہے: میرا رب اللہ ہے۔
تمھارا دین کیا ہے؟
وہ کہتا ہے: میرا دین اسلام ہے۔
وہ شخص کون ہے جسے تم میں نبی بنا کر بھیجا گیا؟
وہ کہتا ہے: وہ محمد ﷺ ہیں۔
پھر فرشتے کہتے ہیں: تمھیں یہ کیسے معلوم ہوا؟
وہ جواب دیتا ہے: میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔
پھر آسمان سے نداء آتی ہے: میرے بندے نے سچ کہا ہے، لہٰذا اس کے لیے جنت کا بستر بچھا دو، جنت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔‘‘
حوالہ: سنن ابی داؤد: 4753، مسند احمد: 17803
وصححہ الالبانی فی احکام الجنائز: ص 156
ترجمہ :
چنانچہ اس کے پاس جنت کی خوشبو اور نعمتیں آتی ہیں، اس کی قبر حدِ نگاہ تک کشادہ کر دی جاتی ہے۔ پھر اس کے پاس ایک خوبصورت چہرے والا شخص آتا ہے، جس کے کپڑے نہایت عمدہ اور خوشبو بہت پاکیزہ ہوتی ہے۔ وہ کہتا ہے: تمھیں اللہ کی رضا اور جنت کی خوشخبری ہو۔ یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔
مومن کہتا ہے: تمھیں بھی اللہ بھلائی کی خوشخبری دے، تم کون ہو؟
وہ کہتا ہے: میں تمھارا نیک عمل ہوں۔
قرآن کی روشنی میں مومن کا استقامت والا جواب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِیْ الْآخِرَۃِ﴾
حوالہ: ابراہیم: 14:27
ترجمہ:
’’اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے۔‘‘
مفسرین کے مطابق یہاں آخرت سے مراد قبر میں سوالات کا وقت بھی ہے۔
قبر میں نیکیوں کا پہرہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
’’جب مومن کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو نماز اس کے سر کی طرف، روزہ اس کی دائیں جانب، زکوٰۃ اس کی بائیں جانب اور دیگر نیک اعمال اس کے قدموں کی طرف آ جاتے ہیں۔ پھر جب کسی طرف سے عذاب آنا چاہتا ہے تو نیک اعمال کہتے ہیں: یہاں سے راستہ نہیں۔‘‘
حوالہ: الطبرانی، ابن حبان صحیح الترغیب والترہیب للألبانی: 3561
ترجمہ :
پھر اس سے نبی ﷺ کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، وہ صحیح جواب دیتا ہے، تو اسے کہا جاتا ہے: تم اسی پر زندہ رہے، اسی پر تمھاری موت آئی اور اسی پر تمھیں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔
پھر اس کے لیے جنت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس کی قبر ستر ہاتھ تک وسیع اور منور کر دی جاتی ہے۔
مومن کی قبر: سرسبز باغیچہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ الْمُؤْمِنَ فِیْ قَبْرِہٖ لَفِیْ رَوْضَۃٍ خَضْرَائَ ))
حوالہ: ابو یعلیٰ، ابن حبان صحیح الترغیب والترہیب للألبانی: 3552
ترجمہ:
’’بے شک مومن اپنی قبر میں ایک سرسبز باغیچے میں ہوتا ہے۔ اس کی قبر ستر ہاتھ تک کشادہ کر دی جاتی ہے اور اس میں چودھویں رات کے چاند جیسی روشنی کر دی جاتی ہے۔‘‘
منکر و نکیر کے سوالات اور مومن کی نیند
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
’’دو فرشتے آتے ہیں جنہیں منکر اور نکیر کہا جاتا ہے، وہ مومن سے سوال کرتے ہیں، اور جب وہ درست جواب دے دیتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے:
( نَمْ کَنَوْمَۃِ الْعَرُوْسِ )
یعنی: دولہے کی طرح سو جاؤ، جسے صرف اس کا محبوب ہی جگاتا ہے۔‘‘
حوالہ: سنن الترمذی: 1071 وحسنہ الالبانی
عذابِ قبر اور اس کی آزمائش سے نجات دلانے والے اعمال
➊ دشمن کی سرحد پر پہرہ دینا (رباط)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( رِبَاطُ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ خَیْرٌ مِّنْ صِیَامِ شَہْرٍ وَقِیَامِہٖ، وَإِنْ مَّاتَ جَرٰی عَلَیْہِ عَمَلُہُ الَّذِیْ کَانَ یَعْمَلُہُ، وَأُجْرِیَ عَلَیْہِ رِزْقُہُ، وَأُمِنَ الْفَتَّانَ ))
حوالہ: صحیح مسلم: 1913
ترجمہ:
’’اللہ کے راستے میں دشمن کی سرحد پر ایک دن اور ایک رات پہرہ دینا ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہتر ہے۔ اگر وہ اسی حالت میں فوت ہو جائے تو اس کا عمل جاری رہتا ہے، اس کا رزق جاری کر دیا جاتا ہے اور اسے قبر کی آزمائش سے محفوظ کر دیا جاتا ہے۔‘‘
➋ شہادت پانا
حضرت مقداد بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لِلشَّہِیْدِ عِنْدَ اللّٰہِ سِتُّ خِصَالٍ… وَیُجَارُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ))
حوالہ: سنن الترمذی: 1663، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
’’شہید کے لیے اللہ کے ہاں چھ انعامات ہیں:
① پہلے خون کے قطرے کے ساتھ ہی مغفرت
② جنت میں ٹھکانا دکھا دیا جانا
③ عذابِ قبر سے نجات
④ قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے حفاظت
⑤ سر پر تاجِ وقار
⑥ بہتر (۷۲) حوروں سے نکاح
اور اس کی ستر رشتہ داروں کے حق میں سفارش قبول کی جاتی ہے۔‘‘
یہ فضیلت شرعی شہید کے لیے ہے، جو کلمۃ اللہ کی سربلندی کیلئے میدانِ جہاد میں جان دے۔
➌ ہر رات سورۃ الملک کی تلاوت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ سُوْرَۃً مِّنَ الْقُرْآنِ ثَلَاثُوْنَ آیَۃً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتّٰی غُفِرَ لَہُ، وَہِیَ سُوْرَۃُ تَبَارَکَ ))
حوالہ: سنن الترمذی: 2891، ابو داؤد: 1400، ابن ماجہ: 3786، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
’’قرآن کی ایک سورت جس کی تیس آیات ہیں، اس نے ایک شخص کی سفارش کی یہاں تک کہ اس کی مغفرت ہو گئی، اور وہ سورۃ الملک ہے۔‘‘
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اثر:
’’جو شخص ہر رات سورۃ الملک پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے عذابِ قبر سے محفوظ رکھتا ہے۔‘‘
حوالہ: سنن النسائی، صحیح الترغیب والترہیب: 1475
➍ پیٹ کی بیماری سے موت
حضرت عبد اللہ بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نے نبی ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا:
(( مَنْ یَّقْتُلْہُ بَطْنُہُ فَلَنْ یُّعَذَّبَ فِیْ قَبْرِہٖ ))
حوالہ: سنن الترمذی: 1064، سنن النسائی: 2052، وصححہ الالبانی
ترجمہ:
’’جسے پیٹ کی بیماری سے موت آئے، اسے قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔‘‘
➎ جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات وفات پانا
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَّمُوْتُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ أَوْ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ إِلَّا وَقَاہُ اللّٰہُ فِتْنَۃَ الْقَبْرِ ))
حوالہ: سنن الترمذی: 1074، وحسنہ الالبانی
ترجمہ:
’’جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات فوت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے قبر کے فتنہ سے محفوظ فرما لیتا ہے۔‘‘
نتیجہ
برادرانِ اسلام!
ہم سب کو اپنی زندگیوں کا محاسبہ کرنا چاہیے، گناہوں سے توبہ، ایمان کی تجدید اور اعمالِ صالحہ میں سبقت لینی چاہیے، تاکہ ہماری قبریں منور ہوں، فرشتوں کے سوالات آسان ہوں اور ہمیں عذابِ قبر سے نجات نصیب ہو۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے، ہماری قبروں کو جنت کے باغیچوں میں بدل دے اور ہمیں عذابِ قبر، عذابِ جہنم اور ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔
آمین ثم آمین