مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عدت میں عورت کے تعزیت کے لیے جانے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال:

اگر کوئی عورت عدت میں ہو، تو کیا وہ کسی قریبی رشتہ دار کی تعزیت کے لیے جا سکتی ہے؟

جواب از فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ

صحیح بات یہی ہے کہ تعزیت کے لیے دعا اور استغفار کرنا کافی ہے، اور یہ عمل عورت گھر بیٹھ کر بھی کر سکتی ہے۔ دورانِ عدت گھر سے نہ جانا ہی بہتر اور اولیٰ ہے۔

البتہ، اگر کسی مجبوری کی صورت میں وہ دن کے وقت تعزیت کے لیے جانا چاہے، تو اس کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم، یہ ایسا عمل نہیں جو ضروری یا لازم ہو، کہ جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو۔ لہٰذا، عدت کے دوران عورت کا گھر میں رہنا ہی زیادہ مناسب ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔