سوال:
ایک یا دو طلاقیں دی، بیوی عدت میں ہے، کیا خاوند اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی رجوع کر سکتا ہے؟
جواب :
ایک یا دور جعی طلاقیں دیں۔ بیوی عدت میں ہے، خاوند اس کے نہ چاہتے ہوئے بھی رجوع کر سکتا ہے، خواہ عورت کا ولی بھی نہ چاہتا ہو، تو بھی رجوع کا حق رکھتا ہے۔ اس پر قرآن وحدیث اور اجماع امت سے دلائل ہیں ۔
قرآنی دلائل :
➊ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا
(2-البقرة:228)
”شوہر رجوع کا زیادہ حق رکھتے ہیں، اگر صلح کا ارادہ ہو۔ “
➋ قرآنی نص ہے:
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ
(2-البقرة:231)
” جب تم بیویوں کو طلاق دے دو اور وہ اپنی عدت کے قریب پہنچ جائیں، تو انہیں اچھے طریقے سے اپنے گھروں میں روک سکتے ہو۔“
➌ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ
(2-البقرة:229)
”طلاق (سنی) دو مرتبہ ہے۔ اس میں یا تو اچھے طریقے سے رجوع کر لیا جائے یا حق تلفی کیے بغیر رخصت کر دیا جائے ۔ “
حدیثی دلائل:
➊ سید نا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی تو ان کے والد سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مره فليراجعها، ثم ليمسكها حتى تطهر، ثم تحيض ثم تطهر، ثم إن شاء أمسك بعد، وإن شاء طلق قبل أن يمس، فتلك العدة التى أمر الله أن تطلق لها النساء .
نہیں کہیں کہ رجوع کرلیں، پھر طہر تک روکے رکھیں ، تا آنکہ بیوی حیض کے بعد دوبارہ طہر میں آ جائے ۔ پھر رکھنا چاہیں، تو رکھیں ، طلاق دینا چاہیں، تو طلاق دے دیں۔ اللہ کا مقرر کردہ انداز طلاق یہی ہے۔
(صحيح البخاري : 5251، صحیح مسلم : (1471)
➋ مطرف بن عبد اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إن عمران بن حصين، سئل عن الرجل يطلق امرأته، ثم يقع بها ، ولم يشهد على طلاقها، ولا على رجعتها، فقال : طلقت لغير سنة، وراجعت لغير سنة، أشهد على طلاقها، وعلى رجعتها، ولا تعد .
سید نا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے ایسے آدمی کی بابت پوچھا گیا، جو اپنی بیوی کو طلاق دے کر اس سے جماع کر لیتا ہے اور طلاق ورجوع پر کسی کو گواہ نہیں بنا تا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فتوی دیا کہ آپ نے طلاق ورجوع میں سنت کی مخالفت کی ہے۔ لہذا طلاق ر جوع پر گواہ بنائیں اور آئندہ ایسا مت کریں۔
(سنن أبي داؤد : 2186، سنن ابن ماجه : 2025، وسنده حسن)
حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید کہا ہے۔
(تحفة المحتاج : 488)
➌ سید نا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم طلق حفصة، ثم راجعها .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، بعد میں رجوع کرلیا۔“
(سنن أبي داؤد : 2283 ، السنن الكبرى للنسائي : 5723، سنن ابن ماجه : 2016، وسنده صحيح)
امام ابن حبان رحمہ اللہ (4275 ) نے صحیح کہا ہے۔
➍ سید نا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ۔
إن النبى صلى الله عليه وسلم لما طلق حفصة أمر أن يراجعها فراجعها .
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رجوع کرنے کا کہا گیا ، آپ نے رجوع کرلیا۔“
(الطبقات الكبرى لابن سعد : 67/8 ، وسنده حسن)
اجماع
❀ علامہ صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ ) فرماتے ہیں:
قد أجمع العلماء على أن الزوج رجعة .
علمائے کرام کا اجماع ہے کہ خاوند رجوع کا حق رکھتا ہے۔
(سُبل السلام : 348/3)