عدتِ وفات کے دوران نان و نفقہ کا شرعی حکم قرآن کی روشنی میں

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

وفات شوہر کی عدت کے دوران کیا عورت نان و نفقہ کی حق دار ہوگی؟

جواب:

عدت وفات شوہر والی عورت اگر حاملہ ہے تو وہ نان و نفقہ کی حق دار ہوگی، جس کی ادائیگی شوہر کی جائیداد سے کی جائے گی۔ اگر عورت حاملہ نہیں تو اس کا خرچہ کسی کے ذمہ نہیں۔
❀ فرمان الہی ہے:
﴿وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾
(الطلاق: 6)
”عورتیں حاملہ ہوں تو وضع حمل تک ان پر خرچ کریں۔“
❀ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو تین طلاقیں ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا نفقة لك إلا أن تكوني حاملا
”آپ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے الا کہ آپ حاملہ ہوتیں۔“
(سنن أبي داود: 2290، وسنده صحیح)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️