عدالتی خلع کے بعد عدت اور نکاح کا حکم حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

میری بھتیجی کا نکاح امریکہ میں مقیم عمران اعجاز سے ہوا، مگر امریکہ میں لڑکی سے اچھا سلوک نہ کیا گیا اور تقریباً پانچ ماہ بعد بذریعہ پولیس لڑکی واپس پاکستان آ گئی، میاں بیوی کے گھریلو حالات اس حد تک بگڑ گئے کہ صلح کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی، لہٰذا عدالت میں خلع کی درخواست دی گئی، چنانچہ عدالت نے لڑکی کے حق میں فیصلہ دے دیا اور نکاح کو فسخ قرار دے دیا؟ سوال یہ ہے کہ اس ڈگری کے جاری ہونے کے بعد لڑکی کے نکاح کا شرعی طریقہ کار کیا ہے؟

جواب:

کتاب و سنت کی نصوص مسلمہ و صریحہ کی رو سے خلع فسخ نکاح شمار ہوتا ہے اور عورت ایک ماہواری کی عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کروانے کی مجاز ہوتی ہے، کیونکہ خلع طلاق نہیں فسخ نکاح ہے اور اس کی عدت ایک حیض ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ابراہیم بن سعد بن ابی وقاص نے سوال کیا:
رجل طلق امرأته تطليقتين ثم اختلعت منه أيتزوجها؟ قال نعم ليس الخلع بطلاق ذكر الله الطلاق فى أول الآية وآخرها والخلع فيما بين ذلك فليس الخلع بشيء ثم قرأ: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ ثم قرأ : ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾
(تفسير ابن كثير بتحقيق عبد الرزاق المهدي 503/1)
’’ایک شخص نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، پھر عورت نے اس سے خلع لے لیا تو کیا اب وہ اس عورت سے شادی کر سکتا ہے؟ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں! خلع طلاق نہیں، اللہ تعالیٰ نے آیت کے شروع اور آخر میں طلاق کا ذکر کیا اور خلع اس کے درمیان ہے، لہٰذا خلع کوئی چیز نہیں۔‘‘
پھر انھوں نے آیت تلاوت کی: ”طلاق (رجعی) دو بار ہے، پھر اچھے طریقے سے روک لینا ہے، یا شائستگی سے چھوڑ دینا ہے۔“ پھر انھوں نے پڑھا اور اگر تیسری طلاق دے دے تو اس کے بعد عورت اس کے لیے حلال نہیں، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔“
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بات کا مطلب یہ ہے کہ طلاق والی آیت کریمہ کے شروع میں اللہ نے دو طلاقوں کا ذکر کیا ہے، پھر آگے تیسری طلاق کا ذکر ہے اور خلع ان کے درمیان میں بیان کیا ہے، اگر خلع کو طلاق شمار کیا جائے تو تین کی بجائے چار طلاقیں بن جاتی ہیں، جس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے، لہذا ثابت ہوا کہ خلع طلاق نہیں، بلکہ فسخ نکاح ہے اور اگر کوئی آدمی اپنی منکوحہ کو دو طلاقیں دے چکا ہے، پھر اس کے بعد عورت خلع کی ڈگری حاصل کر لیتی ہے تو اس کے بعد ان کا نکاح آپس میں ہو سکتا ہے، کیونکہ خلع کو تیسری طلاق شمار نہیں کیا جائے گا، اسے فسخ نکاح قرار دیا ئے گا۔ امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس کے بعد فرماتے ہیں:
هذا الذى ذهب إليه ابن عباس رضي الله عنهما أن الخلع ليس بطلاق وإنما هو فسخ هو رواية عن أمير المؤمنين عثمان بن عفان وابن عمر وهو قول طاووس وعكرمة وبه يقول أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه وأبو ثور وداود بن على الظاهري وهو مذهب الشافعي فى القديم وهو ظاهر الآية الكريمة
(ابن كثير 553/1)
”یہ وہ بات ہے جس کی طرف عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما گئے ہیں کہ خلع طلاق نہیں، فسخ نکاح ہے اور یہی روایت امیر المومنین عثمان بن عفان اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے ہے۔ امام طاؤس اور عکرمہ کا بھی یہی قول ہے اور یہی بات امام احمد، امام اسحاق بن راہویہ، امام ابوثور اور امام داؤد ظاہری کہتے ہیں۔ امام شافعی کا قدیم مذہب بھی یہی ہے اور یہی بات آیت کریمہ سے ظاہر ہوتی ہے۔“
بعض ائمہ کے نزدیک خلع طلاق بائن ہے، لیکن اس کی کوئی پختہ دلیل نہیں۔ قرآنی آیت کے ظاہر سے یہی معنی متبادر ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ خلع والی عورت کی عدت ایک حیض ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث ہے:
إن امرأة ثابت بن قيس اختلعت منه فجعل النبى صلى الله عليه وسلم عدتها حيضة
(أبو داؤد كتاب الطلاق باب في الخلع 2229، ترمذي كتاب الطلاق باب ما جاء في الخلع 1185، المستدرك على الصحيحين 206/2 ح2825)
’’بلاشبہ ثابت بن قيس کی بیوی نے ان سے خلع کیا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کی عدت ایک حیض قرار دی ہے ۔‘‘
امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا أصل على أن الخلع فسخ وليس بطلاق لأن الله تعالى قال ﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ فلو كانت هذه مطلقة لم يقتصر لها على قرء واحد
(معالم السنن (256/3)، تحفة الأمرزي (407/4)
”یہ سب سے بڑی دلیل ہے کہ خلع فسخ نکاح ہے، طلاق نہیں، اس لیے کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ” طلاق یافتہ عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں ۔“ اگر خلع لینے والی عورت مطلقہ شمار ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لیے عدت ایک حیض مقرر نہ کرتے ۔“
مذکورہ روایت کو بعض راویوں نے مرسل بھی بیان کیا ہے لیکن جب کوئی روایت ایک طریق سے مرسل اور دوسرے طریق سے موصول مروی ہو تو روایت موصول ہی سمجھی جاتی ہے اور یہ کوئی علت قادحہ نہیں ہوتی ، جیسا کہ اصول حدیث کی کتب میں واضح ہے۔
امام ترندی رحمہ اللہ اس مسئلہ میں اہل علم صحابہ کا اختلاف نقل کرنے کے ساتھ امام اسحاق بن را ہویہ کے قول کہ خلع یافتہ کی عدت ایک حیض ہے، کے بارے لکھتے ہیں:
وإن ذهب ذاهب إلى هذا فهو مذهب قوى
(ترمذی مع تحفه 408/1)
”اگر کوئی شخص اس پر عمل کرے تو یہ مذہب قوی ہے ۔“
ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔
أنها اختلعت على عهد النبى صلى الله عليه وسلم فأمرها النبى صلى الله عليه وسلم أو أمرت أن تعتد بحيضة
(ترمذي كتاب الطلاق واللعان باب ما جاء في الخلع 1185، ابن ماجه 2008، سنن النسائي 3528)
’’انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے دور میں اپنے شوہر سے خلع لیا تو نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ایک حیض تک عدت گزارے۔‘‘
یہ حدیث بھی صحیح ہے، امام ترندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
حديث الربيع بنت معوذ الصحيح أنها أمرت أن تعتد بحيضة
”ربیع بنت معوذ کی حدیث کہ انھیں حکم دیا گیا کہ وہ ایک حیض عدت گزارے ، صحیح ہے۔“
مذکورہ بالا دلائل مسلمہ و صریحہ سے یہ بات عیاں ہے کہ جس عورت نے اپنے شوہر سے خلع لے لیا ہو اس کی عدت ایک حیض ہے اور وہ ایک حیض عدت گزارنے کے بعد دوسرے آدمی سے شادی کر سکتی ہے، اس میں شرعی طور پر کوئی قباحت نہیں۔ مذہب قوی و درست یہی ہے۔ جو لوگ خلع کو طلاق شمار کرتے ہیں ان کے نزدیک تین حیض عدت گزار کر اس کا عقد ثانی ہو سکتا ہے ، مگر ان کے پاس کوئی واضح اور پختہ دلیل نہیں ہے۔