مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عبداللہ بن عمرؓ اور داڑھی ایک مٹھی سے زائد کاٹنے کا مسئلہ

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد 01، صفحہ 519

سوال

عبداللہ بن عمرؓ کا قول کہ داڑھی ایک مٹھی سے زائد کٹوانی جائز ہے، کیا یہ صحیح ہے یا نہیں؟ اگر صحیح ہے تو کیا کٹوانا درست ہے، جبکہ داڑھی سے متعلق روایات بھی انہی سے مروی ہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میری رائے میں یہ عبداللہ بن عمرؓ کا عمل ہے، نہ کہ قول۔ اور شرعی حجت راوی کی حدیث ہوتی ہے، نہ کہ اس کا ذاتی قول یا عمل۔

مثال کے طور پر:

✿ عبداللہ بن مسعودؓ آیت {فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا} کے ناقل ہیں، لیکن وہ فتویٰ دیتے ہیں کہ اگر جنبی کو پانی نہ ملے تو وہ نماز نہ پڑھے، بلکہ جب پانی مل جائے تو غسل کرے اور پھر نماز پڑھے۔
✿ اس کے باوجود ہم آیت کے حکم پر عمل کرتے ہیں، نہ کہ عبداللہ بن مسعودؓ کے اس فتویٰ پر۔

اسی طرح حدیث کے معاملے میں بھی اصول یہی ہے کہ عمل حدیث پر کیا جائے گا، نہ کہ حدیث کے راوی کے ذاتی قول یا عمل پر۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔